TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الظُّلم - ظلم کا بیان - آداب کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 21 of آداب کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 22 · 14 Hadith
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الظُّلْمُ ظُلْمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ظلم روز قیامت کئی اندھیروں کا باعث ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۴۴۷) و مسلم (۵۷ / ۲۵۷۹) ۔ 6577
5123
Sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يفلته» ثمَّ يقْرَأ (وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظالمة) الْآيَة. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے لیکن وہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے چھوڑتا نہیں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ تیرے رب کی پکڑ اسی طرح ہوتی ہے جب وہ بستی کے ظالموں کو پکڑتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۶۸۶) و مسلم (۶۱ / ۲۵۸۳) ۔ 6581
5124
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ: «لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ» ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى اجتاز الْوَادي. مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب مقام حجر کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ تم ان مساکن میں ، جہاں کے باشندوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، روتے ہوئے داخل ہونا کیونکہ جس عذاب میں وہ مبتلا ہوئے کہیں تم بھی اس میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور رفتار تیز کر دی حتیٰ کہ وہ وادی سے گزر گئے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۴۱۹) و مسلم (۳۹ / ۲۹۸۰) ۔ 7465
5125
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص پر اپنے (مسلمان) بھائی کا ، اس کی عزت سے متعلق یا کسی اور چیز سے متعلق کوئی حق ہو تو وہ (دنیا میں) ، اس سے معافی تلافی کروا لے قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جب اس کے پاس درہم و دینار نہیں ہوں گے ، اگر اس کے پاس عمل صالح ہوں گے تو وہ اس سے اس کے ظلم کے بقدر لے لیے جائیں گے ، اور اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو حق دار کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۴۴۹) ۔
5126
Sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟» . قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ: «إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْم الْقِيَامَة بِصَلَاة وَصِيَام وَزَكَاة وَيَأْتِي وَقَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا. وَأَكَلَ مَالَ هَذَا. وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرح فِي النَّار» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جس شخص کے پاس درہم ہوں نہ مال و متاع ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہے جو روز قیامت نماز ، روزے اور زکوۃ لے کر آئے گا اور وہ بھی آ جائے گا جسے اس نے گالی دی ہو گی ، جس کسی پر بہتان لگایا ہو گا ، جس کسی کا مال کھایا ہو گا ، جس کسی کا خون بہایا ہو گا اور جس کسی کو مارا پیٹا ہو گا ، اس (مظلوم) کو اس کی نیکیوں میں سے نیکیاں دے دی جائیں گی ، اور اگر اس کے ذمے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان (حق داروں) کے گناہ لے کر اس شخص پر ڈال دیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۹ / ۲۵۸۱) ۔ 6579
5127
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: «اتَّقَوُا الظُّلم» . فِي «بَاب الإِنفاق»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم روز قیامت حق داروں کو ان کے حقوق ضرور ادا کرو گے ، حتیٰ کہ سینگوں والی بکری سے سینگوں کے بغیر بکری کو بدلہ دلایا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور جابر ؓ سے مروی حدیث :’’ ظلم سے بچو ۔‘‘ باب الانفاق میں ذکر کی گئی ہے ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۰ / ۲۵۸۲) 0 حدیث جابر تقدم (۱۸۶۵) ۔ 6580
5128
Sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وإِن أساؤوا فَلَا تظلموا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ. وَيصِح وَقفه على ابْن مَسْعُود
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ امّعہ نہ بنو ، (وہ اس طرح کہ) تم کہو : اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے ، اور اگر انہوں نے ظلم کیا تو ہم بھی ظلم کریں گے ، بلکہ تم اپنے آپ سے عزم کرو کہ اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو تم بھی اچھا سلوک کرو گے اور اگر انہوں نے برا سلوک کیا تو تم ظلم نہیں کرو گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۰۰۷ وقال : حسن غریب) ۔
5129
Sahih
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي. فَكَتَبَتْ: سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «من التمَس رضى الله بسخط النَّاس كفاهُ اللَّهُ مؤونة النَّاس وَمن التمس رضى النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ» وَالسَّلَام عَلَيْك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ ؓ کے نام خط لکھا کہ آپ اختصار کے ساتھ مجھے وصیت لکھیں ، چنانچہ انہوں نے لکھا : سلام علیک ! امابعد ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص لوگوں کی ناراضی کے بدلے میں اللہ کی رضا تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے شر سے کافی ہو جاتا ہے ، اور جو شخص اللہ کی ناراضی کے بدلے میں لوگوں کی خوشی تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے ۔‘‘ والسلام علیک ! سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۴۱۴) * رجل من اھل المدینۃ مجھول و روی ابن حبان (الاحسان : ۲۷۷) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ان رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم قال : ((من ارضی الناس بسخط اللہ کفاہ اللہ و من اسخط اللہ برضا الناس و کلہ اللہ الی الناس)) و سند صحیح و رواہ احمد فی الزھد (ص ۱۶۴ ح ۹۰۸) عن عائشۃ موقوفًا و سندہ صحیح و حدیث ابن حبان و احمد یغنی عن حدث الترمذی ۔
5130
Zaeef
عَن ابْن مَسْعُود قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: (الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمانهم بظُلْم) شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا: يَا رَسُول اله: أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ ذَاكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهِ: (يَا بني لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ؟) فِي رِوَايَةٍ: «لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَان لِابْنِهِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی ۔‘‘ یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ پر گراں گزری اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے یہ مراد نہیں ، بلکہ اس سے مراد شرک ہے ، کیا تم نے لقمان ؑ کا قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا :’’ بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا ، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ ایسے نہیں جو تم گمان کرتے ہو ، یہ تو وہ ہے جیسے لقمان ؑ نے اپنے بیٹے سے فرمایا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۷۷۶) و مسلم (۱۹۷ / ۱۲۴) ۔ 327
5131
Sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدٌ أَذْهَبَ آخِرَتَهُ بِدُنْيَا غَيْرِهِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت مقام و مرتبے کے لحاظ سے وہ شخص بدترین ہو گا جس نے کسی کی دنیا (بنانے) کی خاطر اپنی آخرت ضائع کر لی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۳۹۶۶) [و حسنہ البوصیری المتاخر !] * فیہ عبد الحکیم السدوسی لم یوثقہ غیر ابن حبان من المتقدمین و روی عنہ جماعۃ ۔
5132
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الدَّوَاوِينُ ثَلَاثَةٌ: دِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ. يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ) وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ: ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ حَتَّى يَقْتَصَّ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بينَهم وبينَ الله فَذَاك إِلَى اللَّهِ فَذَاكَ إِلَى اللَّهِ: إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِن شَاءَ تجَاوز عَنهُ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اعمال نامے تین قسم کے ہیں ، ایک وہ اعمال نامہ جسے اللہ معاف نہیں فرمائے گا ، وہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ہے ، اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ بے شک اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ۔‘‘ ایک وہ اعمال نامہ ہے جسے اللہ نہیں چھوڑے گا ، وہ ہے بندوں کا آپس میں ظلم کرنا حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے سے بدلہ لے لیں ، اور ایک وہ نامہ اعمال ہے جس کی اللہ پرواہ نہیں کرے گا ، وہ ہے بندوں کا اپنے اور اللہ کے درمیان ظلم کرنا ، یہ اللہ کے سپرد ہے ، اگر وہ چاہے تو اسے عذاب دے دے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر فرمائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۷۴۷۳ ، نسخۃ محققۃ : ۷۰۶۹ ۔ ۷۰۷۰) [و احمد (۶ / ۲۴۰ ح ۲۶۵۵۹)] * صححہ الحاکم (۴ / ۵۷۵) فتعقبۃ الذھبی ، قال :’’ صدقۃ (بن موسی) ضعفوہ و ابن بابنوس فیہ جھالۃ ‘‘ و صححہ الحاکم مرۃ أخری حدیثہ الآخر (۲ / ۳۹۲) و وافقہ الذھبی ، قلت : صدقۃ بن موسی ضعفہ الجمھور فھو ضعیف ۔
5133
Zaeef
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّمَا يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى حَقَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمْنَعُ ذَا حق حَقه»
علی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مظلوم کی بددعا سے بچو ، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے اور بے شک اللہ حق دار سے اس کا حق نہیں روکتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۷۴۶۴ ، نسخۃ محققۃ : ۷۰۶۱) * فیہ صالح بن حسان (کما فی النسخۃ المحققۃ) : وھو متروک جدًا ۔
5134
Zaeef
وَعَن أوْسِ بن شَرحبيل أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَام»
اوس بن شرحبیل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ظالم کے ساتھ چلتا ہے تا کہ وہ اس کو تقویت پہنچائے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے ، ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۷۶۷۵ ، نسخۃ محققۃ : ۷۲۶۹) [و الطبرانی فی الکبیر (۶۱۹)] * قال الھیشمی :’’ و فیہ عیاش بن مؤنس ولم اجد من ترجمہ ‘‘ (مجمع الزوائد ۴ / ۲۰۵) قلت : وثقہ ابن حبان وحدہ فھو مجھول الحال و ابو الحسن نمران بن مخمر : مجھول الحال ۔
5135
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: إِنَّ الظَّالِمَ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: بَلَى وَاللَّهِ حَتَّى الْحُبَارَى لَتَمُوتُ فِي وَكْرِهَا هُزْلًا لِظُلْمِ الظَّالِمِ. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ظالم شخص اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے ، ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : ہاں ، اللہ کی قسم ! حتیٰ کہ سرخاب ظالم کے ظلم کی وجہ سے دبلی پتلی ہو کر اپنے آشیانے ہی میں مر جاتی ہے ۔ امام بیہقی نے چاروں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۷۴۷۹ ، نسخۃ محققۃ : ۷۰۷۵) * عمر بن جابر الحنفی : مقبول ای مجھول الحال و ثقہ ابن حبان وحدہ و اسماعیل بن حکیم الخزاعی لم اجد من و ثقہ و اما نعیم بن حماد فھو صدوق حسن الحدیث ولم یصب من ضعفہ ۔
5136
Zaeef

Chapters

22
01
بَاب السَّلَام
سلام کا بیان
39 Hadith
02
بَاب الاسْتِئْذَان
اجازت طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
03
بَاب المصافحة والمعانقة
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
18 Hadith
04
بَاب الْقيام
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
12 Hadith
05
بَاب الْجُلُوس وَالنَّوْم وَالْمَشْي
بیٹھنے ، سونے اور چلنے کا بیان
25 Hadith
06
[6] بَاب العطاس والتثاؤب
چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
13 Hadith
07
بَاب الضحك
ہنسنے کا بیان
5 Hadith
08
بَاب الْأَسَامِي
ناموں کا بیان
33 Hadith
09
بَاب الْبَيَان وَالشعر
بیان و شعر کا بیان
29 Hadith
10
بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
66 Hadith
11
بَاب الْوَعْد
وعدے کا بیان
6 Hadith
12
بَاب المزاح
مزاح (خوش طبعی) کا بیان
9 Hadith
13
بَاب الْمُفَاخَرَة
مفاخرت اور عصبیت کا بیان
18 Hadith
14
بَاب الْبر والصلة
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
36 Hadith
15
بَابُ الشَّفَقَةِ وَالرَّحْمَةِ
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
56 Hadith
16
بَابُ الْحُبِّ فِي
اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان
24 Hadith
17
بَابُ مَا يُنْهَى
ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان
26 Hadith
18
بَابُ الْحَذَرِ وَالتَّأَنِّي
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
15 Hadith
19
بَابُ الرِّفْقِ وَالْحَيَاءِ
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
36 Hadith
20
بَاب الْغَضَب وَالْكبر
غصے اور تکبر کا بیان
19 Hadith
21
بَاب الظُّلم
ظلم کا بیان
14 Hadith
22
بَاب الْأَمر بِالْمَعْرُوفِ
نیکی کا حکم دینے کا بیان
18 Hadith
No chapter matched that.