TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الأمل والحرص - امید اور حرص کا بیان - دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 2 of دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 8 · 16 Hadith
عَن عبد الله قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا فِي الْوَسَطِ خَارِجًا مِنْهُ وَخَطَّ خُطُطًا صِغَارًا إِلَى هَذَا الَّذِي فِي الْوَسَطِ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي فِي الْوَسَطِ وفقال: «هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ وَهَذَا الَّذِي هُوَ خَارِجُ أَمَلِهِ وَهَذِهِ الْخُطُوطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا نَهَسَهُ هَذَا وَإِنْ أخطأه هَذَا نهسه هَذَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے ایک مربع شکل خط کھینچا اور ایک خط (اس مربع کے) وسط میں اس سے باہر جاتا ہوا کھینچا اور کچھ اس وسط والے خط کے پہلو میں چھوٹے چھوٹے خط اور کھینچے اور فرمایا :’’ یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل (موت) ہے ، جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور جو باہر کی طرف نکل رہی ہے یہ اس کی امید ہے ، اور یہ چھوٹے چھوٹے خطوط پیش آمدہ حادثات ہیں ، اگر ایک اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ (دوسرا) اسے دبوچ لیتا ہے ، اور اگر یہ اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ اسے دبوچ لیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۴۱۷) ۔
5268
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَطَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطُوطًا فَقَالَ: «هَذَا الْأَمَلُ وَهَذَا أَجَلُهُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ الْخَطُّ الأقربُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے کچھ خط کھینچے تو فرمایا :’’ یہ امید ہے ، اور یہ اس کی موت ہے ، وہ اسی اثنا میں ہوتا ہے تو زیادہ قریب والا خط اچانک اس تک آ پہنچتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۴۱۸) ۔
5269
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ انسان بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں ، مال کی حرص اور عمر کی حرص ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۲۱) و مسلم (۱۱۵ / ۱۰۴۷) ۔ 2412
5270
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَزَالُ قَلْبُ الْكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَيْنِ: فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطول الأمل . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بوڑھے شخص کا دل دو چیزوں کے بارے میں جوان ہی رہتا ہے : دنیا کی محبت کے بارے میں اور لمبی خواہشوں کے بارے میں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۲۰) و مسلم (۱۱۴ / ۱۰۴۶) ۔ 2411
5271
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے اس شخص سے (توبہ نہ کرنے اور نیک عمل نہ کرنے کا) عذر زائل کر دیا جس کی اجل کو مؤخر کیا حتیٰ کہ اسے ساٹھ سال تک پہنچا دیا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۴۱۹) ۔
5272
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابن عباس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر انسان کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرتا ہے ، انسان کے پیٹ کو صرف (قبر کی) مٹی ہی بھرے گی ، اور اللہ توبہ کرنے والے شخص کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۳۶) و مسلم (۱۱۸ / ۱۰۴۹) ۔ 2418
5273
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ جَسَدِي فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سبيلٍ وعُدَّ نفسَكَ فِي أهل الْقُبُور» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے میرے جسم کے کسی حصے کو پکڑ کر فرمایا :’’ دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو اور اپنے آپ کو اہل قبور (مُردوں) میں سے شمار کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۴۱۶) ۔
5274
Sahih
عَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَأُمِّي نُطَيِّنُ شَيْئًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟» قُلْتُ شَيْءٌ نُصْلِحُهُ. قَالَ: «الْأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے تو میں اور میری والدہ (اپنے مکان کے) کسی حصہ کی لپائی کر رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عبداللہ ! کیا ہو رہا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ہم (مکان کے کسی) حصہ کی مرمت کر رہے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاملہ (موت) اس سے زیادہ تیز ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ احمد (۲ / ۱۶۱ ح ۶۵۰۲) و الترمذی (۲۳۳۵) ۔
5275
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُهَرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَيَمَّمُ بِالتُّرَابِ فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ يَقُولُ: «مَا يُدْرِينِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كتاب «الْوَفَاء»
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی پیشاب کرتے تو مٹی سے تیمم کرتے ، میں عرض کرتا ، اللہ کے رسول ! پانی تو آپ کے قریب ہی ہے ، آپ ﷺ فرماتے :’’ مجھے کیا پتہ شاید کہ میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں ۔‘‘ شرح السنہ ، اور ابن جوزی نے کتاب ’’الوفاء‘‘ میں اسے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۴ / ۲۳۲ ح ۴۰۳۱) [و احمد (۱ / ۲۸۸ و ابن المبارک فی الزھد : ۲۹۲) و الطبرانی فی الکبیر (۱۲ / ۲۳۸ ح ۱۲۹۸۷ ، بلون آخر) * ابن لھیعۃ مدلس و عنعن ۔
5276
Zaeef
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ» وَوَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ قَفَاهُ ثُمَّ بَسَطَ فَقَالَ: «وَثَمَّ أمله» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنی گدی کے پاس رکھا ، پھر کھولا تو فرمایا :’’ اور وہاں اس کی آرزوئیں ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۳۳۴ وقال : حسن صحیح) ۔
5277
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرَزَ عُودًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ إِلَى جَنْبِهِ وَآخَرَ أَبْعَدَ مِنْهُ. فَقَالَ: «أَتُدْرُونَ مَا هَذَا؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا الْأَجَلُ» أُرَاهُ قَالَ: «وَهَذَا الْأَمَلُ فَيَتَعَاطَى الْأَمَلَ فَلَحِقَهُ الْأَجَلُ دُونَ الْأَمَلِ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے سامنے ایک لکڑی گاڑی ، ایک اس کے پہلو میں اور ایک اس کے دور گاڑی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ انسان ہے اور یہ اجل ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ آرزوئیں ہیں ، وہ آرزوئیں حاصل کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے تو اس کی آرزو کے پورا ہونے سے پہلے اسے موت آ جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۴ / ۲۸۵ ح ۴۰۹۱) [و احمد (۳ / ۱۸ ح ۱۱۱۴۹)] ۔
5278
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُمُرُ أُمَّتِي مِنْ سِتِّينَ سَنَةً إِلَى سَبْعِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کی عمر ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۳۳۱) ۔
5279
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِتِّينَ إِلَى السَبْعِينَ وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَذُكِرَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بنِ الشِّخيرِ فِي «بَاب عِيَادَة الْمَرِيض»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہیں ، اور اس (ساٹھ ، ستر) سے تجاوز کرنے والے ان میں سے کم ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔ اور عبداللہ بن شخیر سے مروی حدیث باب عیادۃ المریض میں ذکر ہو چکی ہے ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۵۰ وقال : غریب حسن) و ابن ماجہ (۴۲۳۶) 0 حدیث عبداللہ بن الشخیر تقدم (۱۴۶۹) ۔
5280
Sahih
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْيَقِينُ وَالزُّهْدُ وَأَوَّلُ فَسَادِهَا الْبُخْلُ وَالْأَمَلُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس امت کی پہلی صلاح (آخرت کا) یقین اور دنیا سے بے رغبتی ہے ، جبکہ اس کا اول فساد بخل اور (لامحدود) آرزوئیں ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۰۸۴۴ ، نسخۃ محققۃ : ۱۰۳۵۰) * فیہ ابو عبد الرحمن السلمی ضعیف جدًا و عبداللہ بن لھیعۃ مدلس و عنعن ان صح السند الیہ و للحدیث لون آخر عند احمد (الزھد ص ۱۰ ص ۵۱) و سندہ ضعیف لانقطاعہ ۔
5281
Zaeef
وَعَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ قَالَ: لَيْسَ الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا بِلُبْسِ الْغَلِيظِ وَالْخَشِنِ وَأَكْلِ الْجَشِبِ إِنَّمَا الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا قِصَرُ الْأَمَلِ. رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
سفیان ثوری ؒ نے فرمایا :’’ موٹا ، جھوٹا کپڑا پہننے اور روکھا سوکھا کھانے کا نام دنیا سے بے رغبتی نہیں ، بلکہ آرزوؤں کا کم ہونا دنیا سے بے رغبتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۴ / ۲۸۶ بدون سند ولم اجد مسندًا) ۔
5282
Zaeef
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا وَسُئِلَ أَيُّ شَيْءٍ الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: طِيبُ الْكَسْبِ وَقِصَرُ الْأَمَلِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شعب الْإِيمَان»
زید بن حسین ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے امام مالک ؒ سے سنا ، ان سے دریافت کیا گیا ، دنیا سے بے رغبتی سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا : حلال کمائی اور امیدوں کا کم ہونا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۰۷۷۹ ، نسخۃ محققۃ : ۱۰۲۹۳) * زید بن الحسین مجھول : لم اجد من وثقہ ۔
5283
Zaeef