بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَالِ وَالْعُمُرِ لِلطَّاعَةِ - اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان - دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation
Chapter 3 of دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ایسے مالدار کو پسند فرماتا ہے جو پرہیزگار ، گم نام ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
اور ابن عمر ؓ سے مروی حدیث :’’ حسد صرف دو آدمیوں پر ہے ‘‘ باب فضائل القرآن میں بیان ہو چکی ہے ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۱ / ۲۹۶۵) 0 حدیث ابن عمر تقدم ۲۱۱۳) ۔ 7482
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کون سا آدمی بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کی عمر دراز ہو اور اس کا عمل اچھا (یعنی قرآن و سنت کے مطابق) ہو ۔‘‘ اس شخص نے عرض کیا ، سب سے برا شخص کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس کی عمر دراز ہو اور اس کا عمل برا ہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الدارمی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۴۰ ح ۲۰۶۸۶) و الترمذی (۲۳۳۰ وقال : حسن صحیح) و الدارمی (۲ / ۳۰۸ ح ۲۷۴۵ ۔ ۲۷۴۶) * علی بن زید بن جدعان ضعیف و حدیث الترمذی (۲۳۲۹) یغنی عنہ ۔
عبید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، ان میں سے ایک اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا ، پھر دوسرا اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد فوت ہو گیا ، صحابہ ؓ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اس کے لیے کیا دعا کی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس کی مغفرت فرمائے ، اس پر رحم فرمائے اور اسے اس کے ساتھی سے ملائے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی وہ نمازیں جو اس نے اس کی نمازوں کے بعد پڑھیں وہ کہاں گئیں ؟ اور اس نے اس کے بعد جو عمل کیے وہ کہاں گئے ؟‘‘ یا فرمایا :’’ اس نے اس کے بعد جو روزے رکھے تو وہ کہاں گئے ؟‘‘ ان دونوں کے مابین تو زمین و آسمان کے مابین فاصلے سے زیادہ فاصلہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۵۲۴) و النسائی (۴ / ۷۴ ح ۱۹۸۷) ۔
ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تین خصلتیں ہیں ، میں ان پر قسم اٹھاتا ہوں اور میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں ، تم اسے یاد کر لو ، وہ چیزیں جن پر میں قسم اٹھاتا ہوں یہ ہیں : صدقہ کرنے سے بندے کا مال کم نہیں ہوتا ، جس بندے کی حق تلفی کی جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اس کے بدلے میں اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے ، اور بندہ جب کسی سے سوال کرتا ہے تو اللہ اسے فقر میں مبتلا کر دیتا ہے ، رہی وہ بات جو میں تمہیں بتانے جا رہا ہوں اس کو خوب یاد رکھنا ۔‘‘ پس فرمایا :’’ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے : ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال اور علم عطا کیا ہو اور وہ اس (علم) کے بارے میں اپنے رب سے ڈرتا ہو ، صلہ رحمی کرتا ہو اور وہ اس (علم) کے مطابق اللہ کی خاطر عمل کرتا ہو ، یہ سب سے افضل درجہ ہے ۔ ایک وہ بندہ جسے اللہ نے علم دیا ہو لیکن اسے رزق نہ دیا ہو ، اور وہ نیت کا اچھا ہے ، وہ کہتا ہے : اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں (مالدار) شخص کی طرح خرچ کرتا ، ان دونوں کے لیے اجر برابر ہے ، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال عطا کیا لیکن علم نہیں دیا تو وہ علم کے بغیر اپنے مال کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے ، اور وہ نہ تو اپنے رب سے ڈرتا ہے اور نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اسے حق کے مطابق خرچ کرتا ہے ، یہ شخص انتہائی برے درجے پر ہے ، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال دیا نہ علم ، وہ کہتا ہے : اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح عمل (یعنی خرچ) کرتا ، وہ صرف نیت ہی کرتا ہے جبکہ دونوں کا گناہ برابر ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ سندہ ضعیف ، واہ الترمذی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۳۲۵) * یونس بن خباب ضعیف رافضی و للحدیث طریق آخر معلول (ضعیف) عند احمد (۴ / ۲۳۰ ح ۱۸۰۲) بمتن آخر ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے (اطاعت والے) کاموں پر لگا دیتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! وہ اسے کس طرح کام پر لگاتا ہے ؟ فرمایا :’’ موت سے پہلے اسے صالح عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دانا شخص وہ ہے جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا اور موت کے بعد کے لیے عمل کیے ، اور کم عقل شخص وہ ہے جس نے اپنے نفس کو خواہش کے تابع کیا اور اللہ پر امید باندھ لی (کہ وہ غفور و رحیم) ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۴۵۹) و ابن ماجہ (۴۲۶۰) * ابوبکر بن ابی مریم ضعیف مختلط ۔
نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم ایک مجلس میں تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ کے سر پر پانی (یعنی غسل) کے اثرات تھے ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کو خوش طبع دیکھ رہے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ٹھیک ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر لوگوں نے مال داری کے متعلق غور و خوض کرنا شروع کر دیا (کیا وہ جائز ہے یا ناجائز ؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے اس کے لیے مال داری میں کوئی مضائقہ نہیں ، تقویٰ والے شخص کے لیے صحت مال داری سے بہتر ہے ، اور حقیقی خوشی نعمتوں میں سے ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۳۷۲ ح ۲۳۵۴۵) [و ابن ماجہ (۲۱۴۱)] ۔
سفیان ثوری ؒ بیان کرتے ہیں ، ماضی میں مال ناپسندیدہ چیز تھی ، جبکہ آج وہ مومن کی ڈھال ہے ، اور فرمایا : اگر (ہمارے پاس) دینار نہ ہوتے تو یہ بادشاہ ہمیں بے وقعت سمجھتے ، اور فرمایا : جس شخص کے ہاتھ میں مال ہو وہ اسے کارآمد بنائے (ضائع نہ کرے) کیونکہ یہ ایسا دور ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہوا تو وہ پہلا شخص ہو گا جو (حصول دنیا کے لیے) اپنا دین بیچ ڈالے گا ، اور فرمایا : حلال فضول خرچی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ضعیف مردود ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
ضعیف مردود ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۴ / ۲۹۱ بعد ۴۰۹۸ بدون سند ولم اجدہ مسندًا ۔ وقولہ من اکن المال الی ترس المومن ، رواہ ابو نعیم فی حلیۃ الاولیاء (۶ / ۳۸۱) و سندہ ضعیف جدًا ۔ فیہ داود (رواد) بن الجراح وھو متروک و شطر الثانی رواہ ابو نعیم ایضًا فی الحلیہ (۶ / ۳۸۱) و سندہ ضعیف فیہ جماعۃ لم اجد لھم توثیقًا یعتمد علیہ) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت منادی کرنے والا منادی کرے گا : ساٹھ سالے کہاں ہیں ؟‘‘ اور یہ (ساٹھ سال) وہ عمر ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ کیا ہم نے تمہیں عمر عطا نہیں کی تھی ، جس نے نصیحت پکڑنی تھی وہ نصیحت پکڑتا ، اور تمہارے پاس آگاہ کرنے والے بھی آئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۰۲۵۴ ، نسخۃ محققۃ : ۹۷۷۳) * فیہ ابراھیم بن الفضل المخزومی : متروک و ابوبکر بن ابی دارم : کذاب و لکنہ توبع ، انظر المعجم الکبیر للطبرانی (۱۱ / ۱۷۷ ۔ ۱۷۸ ح ۱۱۴۱۵) ۔
عبداللہ بن شداد ؓ بیان کرتے ہیں ، بنو عذرہ کے تین آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کون ہے جو ان کے (کھانے پینے کی) مجھ سے ذمہ داری اٹھا لے ؟‘‘ طلحہ ؓ نے عرض کیا : میں ، چنانچہ وہ (تینوں) انہیں کہ پاس تھے کہ نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا تو ان میں سے ایک اس لشکر کے ساتھ ہو گیا اور وہ شہید ہو گیا ، پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا تو دوسرا شخص اس کے ساتھ گیا تو وہ بھی شہید ہو گیا ، پھر تیسرا شخص اپنے بستر پر فوت ہو گیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، طلحہ ؓ نے فرمایا : میں نے (خواب میں) تینوں کو جنت میں دیکھا اور بستر پر وفات پانے والے کو ان کے آگے دیکھا ، جو بعد میں شہید ہوا تھا وہ اس کے ساتھ تھا جبکہ پہلے شہید ہونے والا شخص اس دوسرے (شہید) کے ساتھ تھا ، چنانچہ اس سے مجھے اشکال پیدا ہوا تو میں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم کو اس سے کون سی چیز عجیب لگی ؟ اللہ کے ہاں اس مومن سے افضل کوئی شخص نہیں جسے اسلام میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر اور تہلیل ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ کہنے کے لیے طویل عمر دی جائے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۱ / ۱۶۳ ح ۱۴۰۱) * السند مرسل ولہ طریق آخر عند البزار (۹۵۴ کشف الاستار) و ابی یعلی (۶۳۴) و سندہ ضعیف ۔
محمد بن ابی عمیرہ ؓ جو کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے ، ان سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : اگر بندہ اپنے یوم پیدائش سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک اللہ کی اطاعت میں سجدہ ریز رہے تو وہ روز قیامت اس کو بھی حقیر سمجھے گا اور وہ آرزو کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تا کہ وہ اجر و ثواب میں اضافہ کر سکے ۔‘‘ دونوں روایات کو امام احمد نے نقل کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔