TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 442 - بَاب الْغسْل - پاکیزگی کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 13 of 21 in this chapter
بَاب الْغسْل
غسل کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مرد کی شرم گاہ عورت کی شرم گاہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، میں اور رسول اللہ ﷺ نے ایسے کیا تو ہم نے غسل کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی وابن ماجہ ۔
442
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۱۰۸ ، ۱۰۹ وقال : حسن صحیح) و ابن ماجہ ( ۶۰۸) [و صححہ ابن حبان الاحسان : ۱۱۷۲] ۔

Related Chapters

215
1
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
(76)Chapter: What Has Been Related About Ghusl For Janabah
باب: غسل جنابت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
(77)Chapter: Should A Woman Undo Her Hair For Ghusl?
باب: کیا عورت غسل کے وقت اپنے بال کھولے؟
Jam e Tirmazi
5
(79)Chapter: [What Has Been Related] About Wudu' After Ghusl
باب: غسل کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
(80)Chapter: What Has Been Related: When The Two Circumcised Organs Meet, Ghusl Is Required.
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
(81)Chapter: What Has Been Related That 'Water Is For Water'
باب: منی نکلنے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
(87)Chapter: [What Has Been Related] About The Person Who Is Junub Sleeping Before performing Ghusl
باب: جنبی غسل کرنے سے پہلے سوئے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
9
(91)Chapter: [What Has Been Related] About The Man Who Seeks The Warmth Of A Woman After Performing Ghusl
باب: غسل کرنے کے بعد مرد عورت سے چمٹ کر گرمی حاصل کرے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
10
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
11
(96)Chapter: What Has Been Related About Al-Mustahadah That She Is To Perform Ghusl For Every Salat
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے
Jam e Tirmazi
12
(106)Chapter: What Has Been Related About A Man Going To All Of His Women With One Ghusl
باب: کئی بیویوں سے صحبت کرنے کے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About 'All Of The Earth Is A Masjid, Except For The Graveyard And Washroom'
باب: قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے علاوہ پوری زمین سجدہ گاہ ہے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Performing Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن کے غسل کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of Ghusl On Friday
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: (What Has Been Mentioned) About A Man Performing Ghusl When He Accepts Islam
باب: قبول اسلام کے وقت غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Performing Ghusl When Assuming Ihram
باب: احرام کے وقت غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Performing Ghusl When Entering Makkah
باب: مکہ میں داخلہ کے لیے غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Washing The Dead
باب: میت کو غسل دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Performing Ghusl For The One Who Has Washed The Deceased
باب: میت کو غسل دینے سے غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: نظر بد کے حق ہونے اور اس کے لیے غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: غسل خانہ میں جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
بَاب الْغسْل الْمسنون
غسل مسنون کا بیان
Mishkat
24
بَاب غسل الْمَيِّت وتكفينه
میت کو غسل اور کفن دینے کا بیان
Mishkat
25
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم
Musnad Ahmad
27
وضواور غسل کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
28
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
Musnad Ahmad
29
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
Musnad Ahmad
30
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
Musnad Ahmad
31
غسل کے وقت پردہ کرنا
Musnad Ahmad
32
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
33
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
34
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
Musnad Ahmad
37
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
38
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
Musnad Ahmad
39
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
Musnad Ahmad
40
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
Musnad Ahmad
43
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
Musnad Ahmad
44
جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
45
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
47
شہید کو غسل نہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
48
میت کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
49
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
50
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

806
Jam e Tirmazi
108
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
Aishah narrated: When the circumcised meets the circumcised, then indeed Ghusl is required. Myself and Allah's Messenger did that, so we performed Ghusl.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام ( عضو تناسل ) عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sunnan Ibn e Maja
608
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:‏‏‏‏ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا .
It was narrated that 'Aishah the wife of the Prophet said: When the two circumcised parts meet, then bath is obligatory. The Messenger of Allah and I did that, and we bathed.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔
Jam e Tirmazi
416
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثَ عَائِشَةَ.
Aishah narrated that : Allah's Messenger (S) said: The two Rak'ah of Fajr are better than the world and what is in it.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر کی دونوں رکعتیں دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے ان سب سے بہتر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن عمر، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ جنہیں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ان میں پڑھتے تھے۔
Jam e Tirmazi
1525
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل التِّرْمِذِيُّ وَاسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ يُوسُفَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ،‏‏‏‏ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ،‏‏‏‏ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ،‏‏‏‏ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَفْوَانَ،‏‏‏‏ عَنْ يُونُسَ،‏‏‏‏ وَأَبُو صَفْوَانَ هُوَ:‏‏‏‏ مَكِّيٌّ،‏‏‏‏ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَنْهُ الْحُمَيْدِيُّ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ جُلَّةِ أَهْلِ الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وقَالَ:‏‏‏‏ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ،‏‏‏‏ وَلَا كَفَّارَةَ فِي ذَلِكَ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ.
Narrated 'Aishah: That the Prophet (ﷺ) said: There is no vowing in disobedience to Allah, and its atonement is the atonement of an oath.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی معصیت پر مبنی کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ابوصفوان کی اس حدیث سے جسے وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، زیادہ صحیح ہے، ۳- ابوصفوان مکی ہیں، ان کا نام عبداللہ بن سعید بن عبدالملک بن مروان ہے، ان سے حمیدی اور کئی بڑے بڑے محدثین نے روایت کی ہے، ۴- اہل علم صحابہ کی ایک جماعت اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: اللہ کی معصیت کے سلسلے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، ان دونوں نے زہری کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے وہ ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں، ۵- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں: معصیت میں کوئی نذر جائز نہیں ہے، اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں، مالک اور شافعی کا یہی قول ہے۔
Mishkat
323
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا بِحَالٍ إِسْنَادُ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَأَيْضًا إِسْنَادُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْهَا وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسل وَإِبْرَاهِيم التَّيْمِيّ لم يسمع من عَائِشَة
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی ﷺ اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ، پھر آپ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : عروہ عن عائشہ ؓ ، اور ابراہیم التیمی عن عائشہ ؓ کی سند سے یہ حدیث ہمارے اصحاب کے ہاں صحیح نہیں ، اور ابوداؤد ؒ نے فرمایا : یہ حدیث مرسل ہے ، اور ابراہیم التیمی نے عائشہ ؓ سے نہیں سنا ۔ ضعیف ۔
Mishkat
421
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِرْقَةٌ يُنَشِّفُ بِهَا أَعْضَاءَهُ بَعْدَ الْوُضُوءِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَأَبُو مُعَاذٍ الرَّاوِي ضَعِيف عِنْد أهل الحَدِيث
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا ، آپ اس کے ساتھ وضو کے بعد اپنے اعضاء صاف کیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث صحیح نہیں ، ابومعاذ راوی ، محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
441
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا قَالَ «يَغْتَسِلُ» وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنه قد احْتَلَمَ وَلم يَجِدُ بَلَلًا قَالَ: «لَا غُسْلَ عَلَيْهِ» قَالَتْ أم سَلمَة يَا رَسُول الله هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ غُسْلٌ قَالَ «نَعَمْ إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْله: «لَا غسل عَلَيْهِ»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا جو (اپنے جسم یا کپڑوں پر) نمی پاتا ہے لیکن اسے احتلام یاد نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ غسل کرے گا ۔‘‘ اور پھر اس شخص کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا جو سمجھتا ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ کوئی نمی نہیں پاتا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس پر غسل لازم نہیں ۔‘‘ ام سلیم ؓ نے عرض کیا : کیا آپ عورت پر بھی یہ غسل واجب سمجھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ عورتیں بھی (تخلیق و طبع میں) مردوں کی طرح ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی اور ابن ماجہ نے ((لا غسل علیہ)) تک روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
445
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يتَوَضَّأ بعد الْغسْل. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ۔ نبی ﷺ غسل کے بعد وضو نہیں کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Mishkat
1035
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: «سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ رات کے وقت سجدۂ تلاوت میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا ، جس نے اسے پیدا فرمایا ، اور اپنی قدرت و طاقت سے کان اور آنکھیں بنائیں ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ضعیف ۔