ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہفتہ میں ایک روز غسل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ، جس میں وہ اپنا سر اور جسم (اچھی طرح) دھوئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۸۹۷) و مسلم (۹ / ۸۴۹) ۔ 1963
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے جمعہ کے روز وضو کیا تو اس نے اچھا کیا ، اور جس نے غسل کیا تو غسل کرنا افضل ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و النسائی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۵ / ۸ ح ۲۰۳۴۹) و ابوداؤد (۳۵۴) و الترمذی (۴۹۷ وقال : حسن) و النسائی (۳ / ۹۴ ح ۱۳۸۱) و الدارمی (۱ / ۳۶۱ ، ۳۶۲ ح ۱۵۴۸) [و صححہ ابن خزیمۃ (۱۷۵۷)
فائدہ : الحسن البصریئ صرح بالسماع عند الطواسی فی مختصر الاحکام (۳ / ۱۰ ح ۳۳۴ / ۴۶۷) و حدیثہ عن سمرۃ صحیح ولو لم یصرح بالسماع لانہ یروی عن کتاب سمرۃ و الروایۃ عن کتاب : صحیحۃ مالم یثبت الجرح فیہ و الحمدللہ ۔]
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص میت کو غسل دے تو وہ خود بھی غسل کرے ۔‘‘ ابن ماجہ ، احمد ، ترمذی اور ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جو شخص اسے کندھا دے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ صحیح ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابن ماجہ (۱۴۶۳) و احمد (۲ / ۲۷۲ ح ۷۶۷۵) و الترمذی (۹۹۳ وقال : حسن) و ابوداؤد (۳۱۶۱ ، ۳۱۶۲) [و للحدیث طرق و شواھد] ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ چار چیزوں : جنابت ، جمعہ کے دن ، سینگی لگوانے اور میت کو غسل دینے ، سے غسل کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۴۸ و ۳۱۶۰) [و ابن خزیمۃ (۲۵۶) و الحاکم (۱ / ۱۶۳ ح ۵۸۲) علی شرط الشیخین و وافقہ الذھبی] * مصعب بن شیبۃ وثقہ الجمھور و حدیثہ لا ینزل عن درجہ الحسن ۔
قیس بن عاصم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پانی میں بیری کے پتے ڈال کر غسل کریں ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۶۰۵ وقال : حسن) و ابوداؤد (۳۵۵) و النسائی (۱ / ۱۰۹ ح ۱۸۸ و سندہ حسن) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۵۴ ، ۲۵۵) و ابن حبان (۲۳۲) و ابن الجارود (۱۴) و غیرھم و للحدیث شواھد ،]
عکرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل عراق سے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے عرض کیا : ابن عباس ! کیا آپ جمعہ کے روز غسل کرنا واجب سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، لیکن پاکیزگی کا باعث اور بہتر ہے ، اور جو شخص غسل نہ کرے تو اس پر واجب نہیں ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل کا آغاز کیسے ہوا ، لوگ محنت کش تھے ، اونی لباس پہنتے تھے ، وہ اپنی کمر پر بوجھ اٹھاتے تھے ، ان کی مسجد تنگ تھی اور چھت اونچی نہیں تھی ، بس وہ ایک چھپر سا تھا ، رسول اللہ ﷺ گرمیوں کے دن تشریف لائے تو لوگ اس اونی لباس میں پسینے سے شرابور تھے ، حتیٰ کہ ان سے بو پھیل گئی اور وہ ایک دوسرے کے لیے باعث اذیت بن گئی ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بو محسوس کی تو فرمایا :’’ لوگو ! جب یہ (جمعہ کا) دن ہو تو غسل کرو اور جو بہترین تیل اور خوشبو میسر ہو وہ استعمال کرو ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : پھر اللہ نے مال عطا کر دیا تو انہوں نے غیر اونی کپڑے پہن لیے ، کام کرنے کی ضرورت نہ رہی ۔ ان کی مسجد کی توسیع کر دی گئی اور ایک دوسرے کو اذیت پہنچانے والی وہ پسینے کی بو جاتی رہی ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۵۳) [و صححہ ابن خزیمۃ (۱۷۵۵) و الحاکم علی شرط البخاری (۱ / ۲۸۰ ، ۲۸۱) و وافقہ الذھبی (!) و حسنہ الحافظ فی فتح الباری (۲ / ۳۶۲)] ۔