TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْغسْل الْمسنون - غسل مسنون کا بیان - پاکیزگی کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 11 of پاکیزگی کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 13 · 8 Hadith
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی (نماز) جمعہ کے لیے آئے تو وہ غسل کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۸۷۷) و مسلم (۲ / ۸۴۴) ۔ 1951
537
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ»
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر واجب ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۸۷۹) و مسلم (۵ / ۸۴۶) ۔ 1957
538
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَقُّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا يَغْسِلُ فِيهِ رَأسه وَجَسَده»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہفتہ میں ایک روز غسل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ، جس میں وہ اپنا سر اور جسم (اچھی طرح) دھوئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۸۹۷) و مسلم (۹ / ۸۴۹) ۔ 1963
539
Sahih
عَن سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ والدارمي
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے جمعہ کے روز وضو کیا تو اس نے اچھا کیا ، اور جس نے غسل کیا تو غسل کرنا افضل ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و النسائی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۵ / ۸ ح ۲۰۳۴۹) و ابوداؤد (۳۵۴) و الترمذی (۴۹۷ وقال : حسن) و النسائی (۳ / ۹۴ ح ۱۳۸۱) و الدارمی (۱ / ۳۶۱ ، ۳۶۲ ح ۱۵۴۸) [و صححہ ابن خزیمۃ (۱۷۵۷) فائدہ : الحسن البصریئ صرح بالسماع عند الطواسی فی مختصر الاحکام (۳ / ۱۰ ح ۳۳۴ / ۴۶۷) و حدیثہ عن سمرۃ صحیح ولو لم یصرح بالسماع لانہ یروی عن کتاب سمرۃ و الروایۃ عن کتاب : صحیحۃ مالم یثبت الجرح فیہ و الحمدللہ ۔]
540
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ: «وَمَنْ حمله فَليَتَوَضَّأ»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص میت کو غسل دے تو وہ خود بھی غسل کرے ۔‘‘ ابن ماجہ ، احمد ، ترمذی اور ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جو شخص اسے کندھا دے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ صحیح ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابن ماجہ (۱۴۶۳) و احمد (۲ / ۲۷۲ ح ۷۶۷۵) و الترمذی (۹۹۳ وقال : حسن) و ابوداؤد (۳۱۶۱ ، ۳۱۶۲) [و للحدیث طرق و شواھد] ۔
541
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَربع: من الْجَنَابَة وَمن يَوْم الْجُمُعَة وَمن الْحجام وَمن غسل الْمَيِّت. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ چار چیزوں : جنابت ، جمعہ کے دن ، سینگی لگوانے اور میت کو غسل دینے ، سے غسل کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۴۸ و ۳۱۶۰) [و ابن خزیمۃ (۲۵۶) و الحاکم (۱ / ۱۶۳ ح ۵۸۲) علی شرط الشیخین و وافقہ الذھبی] * مصعب بن شیبۃ وثقہ الجمھور و حدیثہ لا ینزل عن درجہ الحسن ۔
542
Sahih
وَعَن قيس بن عَاصِم: أَنَّهُ أَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
قیس بن عاصم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پانی میں بیری کے پتے ڈال کر غسل کریں ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۶۰۵ وقال : حسن) و ابوداؤد (۳۵۵) و النسائی (۱ / ۱۰۹ ح ۱۸۸ و سندہ حسن) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۵۴ ، ۲۵۵) و ابن حبان (۲۳۲) و ابن الجارود (۱۴) و غیرھم و للحدیث شواھد ،]
543
Sahih
عَن عِكْرِمَة: إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَاءُوا فَقَالُوا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَرَى الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ أَطْهَرُ وَخَيْرٌ لِمَنِ اغْتَسَلَ وَمَنْ لَمْ يَغْتَسِلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ. وَسَأُخْبِرُكُمْ كَيْفَ بَدْءُ الْغُسْلِ: كَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَعْمَلُونَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَكَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ إِنَّمَا هُوَ عَرِيشٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَرِقَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الصُّوفِ حَتَّى ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ آذَى بِذَلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا. فَلَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الرّيح قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ جَاءَ اللَّهُ بِالْخَيْرِ وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوفِ وَكُفُوا الْعَمَلَ وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمُ وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِي كَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنَ الْعَرَقِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عکرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل عراق سے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے عرض کیا : ابن عباس ! کیا آپ جمعہ کے روز غسل کرنا واجب سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، لیکن پاکیزگی کا باعث اور بہتر ہے ، اور جو شخص غسل نہ کرے تو اس پر واجب نہیں ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل کا آغاز کیسے ہوا ، لوگ محنت کش تھے ، اونی لباس پہنتے تھے ، وہ اپنی کمر پر بوجھ اٹھاتے تھے ، ان کی مسجد تنگ تھی اور چھت اونچی نہیں تھی ، بس وہ ایک چھپر سا تھا ، رسول اللہ ﷺ گرمیوں کے دن تشریف لائے تو لوگ اس اونی لباس میں پسینے سے شرابور تھے ، حتیٰ کہ ان سے بو پھیل گئی اور وہ ایک دوسرے کے لیے باعث اذیت بن گئی ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بو محسوس کی تو فرمایا :’’ لوگو ! جب یہ (جمعہ کا) دن ہو تو غسل کرو اور جو بہترین تیل اور خوشبو میسر ہو وہ استعمال کرو ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : پھر اللہ نے مال عطا کر دیا تو انہوں نے غیر اونی کپڑے پہن لیے ، کام کرنے کی ضرورت نہ رہی ۔ ان کی مسجد کی توسیع کر دی گئی اور ایک دوسرے کو اذیت پہنچانے والی وہ پسینے کی بو جاتی رہی ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۵۳) [و صححہ ابن خزیمۃ (۱۷۵۵) و الحاکم علی شرط البخاری (۱ / ۲۸۰ ، ۲۸۱) و وافقہ الذھبی (!) و حسنہ الحافظ فی فتح الباری (۲ / ۳۶۲)] ۔
544
Sahih