TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب مُخَالطَة الْجنب - جنبی شخص سے میل جول رکھنے اور اس کے لیے مباح امور کا بیان - پاکیزگی کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 6 of پاکیزگی کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 13 · 23 Hadith
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَخَذَ بِيَدِي فمشيت مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَة» فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجَسُ» . هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ مَعْنَاهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ. وَكَذَا البُخَارِيّ فِي رِوَايَة أُخْرَى
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی مجھ سے ملاقات ہوئی میں اس وقت جنبی تھا ، پس آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑا تو میں نے آپ کے ساتھ چلنا شروع کیا حتیٰ کہ آپ بیٹھ گئے تو میں وہاں سے چپکے سے اٹھا اور گھر آ کر غسل کر کے پھر خدمت میں حاضر ہوا تو آپ وہیں تشریف فرما تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! تم کہاں تھے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! مومن نجس نہیں ہوتا ۔‘‘ یہ بخاری کے الفاظ ہیں ۔ اور مسلم کی روایت بھی اس کے ہم معنی ہے ۔ اور انہوں نے ’’ میں نے آپ ﷺ کو بتایا ‘‘ کے بعد درج ذیل کا اضافہ نقل کیا ہے :’’ جب آپ ﷺ مجھے ملے تو میں جنبی تھا ، پس میں نے غسل کیے بغیر آپ ﷺ کے ساتھ ہم نشین ہونا ناپسند کیا ۔‘‘ بخاری کی دوسری روایت بھی اسی طرح ہے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۵) و مسلم (۱۱۵ / ۳۷۱) ۔ 824
451
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنه قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نم»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ وہ رات کو جنبی ہو جاتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ وضو کر ، استنجا کر اور سو جا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۹۰) و مسلم (۲۵ / ۳۰۶) ۔ 704
452
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ ينَام تَوَضَّأ وضوءه للصَّلَاة
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ جنبی ہوتے اور آپ کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو آپ نماز کے وضو جیسا وضو فرماتے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۸) و مسلم (۲۲ / ۳۰۵) ۔ 700
453
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَينهمَا وضُوءًا» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ سے جماع کرے اور پھر وہ دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وہ ان دونوں کے درمیان وضو کر لے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۷ / ۳۰۸) ۔ 707
454
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يطوف على نِسَائِهِ وَبِغسْلِ وَاحِد. رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے پاس غسل واحد کے ساتھ چکر لگا لیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۸ / ۳۰۹) ۔ 708
455
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ سَنَذْكُرُهُ فِي كِتَابِ الْأَطْعِمَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔ اور ابن عباس ؓ سے مروی حدیث ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ، کتاب الاطعمہ میں ذکر کریں گے ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۱۷ / ۳۷۳) 0 حدیث ابن عباس ، یأتی (۴۲۰۹) ۔ 826
456
Sahih
عَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ فَأَرَادَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِن يَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ «إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. وَرَوَى الدَّارمِيّ نَحوه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ نے ایک ٹب میں غسل کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے غسل کرنا چاہا تو انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں تو جنبی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پانی جنبی نہیں ہوتا ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، جبکہ دارمی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۶۵ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۶۸) و ابن ماجہ (۳۷۰) و الدارمی (۱ / ۱۸۷ ح ۷۴۰) * سلسلۃ سماک بن حرب عن عکرمۃ سلسلۃ ضعیفۃ ۔
457
Zaeef
وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ بِلَفْظِ المصابيح
شرح السنہ میں میمونہ عن ابن عباس ، مصابیح کے الفاظ سے مروی ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۲ / ۲۷ ح ۲۵۹ من روایۃ سماک عن عکرمۃ) [و اصلہ عند ابن ماجہ (۳۷۲) سماک عن عکرمۃ] * و انظر الحدیث السابق لعلتہ ۔
458
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِي قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وروى التِّرْمِذِيّ نَحوه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ غسل جنابت کیا کرتے پھر آپ مجھ سے گرمائش حاصل کرتے جبکہ میں نے ابھی غسل نہیں کیا ہوتا تھا ۔ ابن ماجہ ، ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۵۸۰) و الترمذی (۱۲۳ وقال : لیس بإسبادہ باس !) و البغوی فی شرح السنہ (۲ / ۳۰ ، ۳۱) * حریث بن ابی مطر : ضعیف ۔
459
Zaeef
وَعَن عَليّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَيُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْم وَلم يكن يَحْجُبْهُ أَوْ يَحْجُزْهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحوه
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو ہمیں قرآن پڑھاتے اور ہمارے ساتھ گوشت تناول فرماتے اور جنابت کے علاوہ کوئی اور چیز آپ ﷺ کو قرآن سے مانع نہیں تھی ۔ ابوداؤد ، نسائی ، جبکہ ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۲۹) و النسائی (۱ / ۱۴۴ ح ۲۶۶) و ابن ماجہ (۵۹۴) [و الترمذی : ۱۴۶ و صححہ] * اعل ھذا الحدیث بما لا یقدح و الحق انہ من قبل الحسن ، و صححہ ابن خزیمۃ (۲۰۸) و ابن حبان (۱۹۲ ، ۱۹۳) و ابن الجارود (۹۴) و الحاکم (۴ / ۱۰۷) و وافقہ الذھبی و للحدیث شواھد و قال الحافظ ابن حجر :’’ و الحق انہ من قبیل الحسن یصلح للحجۃ ‘‘ (فتح الباری (۱ / ۴۰۸ ح ۳۰۵) ۔
460
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حائضہ اور جنبی شخص قرآن سے کچھ نہ پڑھیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۳۱ ، و نقل عن البخاری قال : ان اسماعیل بن عیاش یروی عن اھل الحجاز و اھل العراق احادیث مناکیر) [و ابن ماجہ : ۵۹۵] * روایات اسماعیل بن عیاش عن الحجازیین ضعیفۃ و ھذا منھا ۔
461
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جنب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ان گھروں کے دروازے مسجد کے دوسری طرف کر لو ، کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال قرار نہیں دیتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن رواہ ابوداؤد (۲۳۲) [و صححہ ابن خزیمۃ : ۱۳۲۷] * لا ینزل حدیث جسرۃ عن درجۃ الحسن و اخطا من ضعف ھذا السند ۔
462
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تدخل الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جنب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس گھر میں تصویر ، کتا اور جنبی ہوں وہاں (رحمت و برکت کے) فرشتے نہیں جاتے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۲۷) و النسائی (۱ / ۱۴۱ ح ۲۶۲) [و ابن ماجہ (۳۶۵۰) و صححہ ابن حبان (الاحسان : ۱۲۰۲) و الحاکم (۱ / ۱۷۱) و وافقہ الذھبی] * و اعل بما لا یقدح ۔
463
Sahih
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ لَا تَقْرَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ جِيفَةُ الْكَافِرِ وَالْمُتَضَمِّخُ بِالْخَلُوقِ وَالْجُنُبُ إِلَّا أَن يتَوَضَّأ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عمار بن یاسر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگ ہیں کہ (رحمت و برکت کے) فرشتے ان کے قریب بھی نہیں جاتے ، کافر کی لاش ، خلوق (زعفران کی خوشبو) سے لتھڑے ہوئے شخص اور جنبی الا یہ کہ وہ وضو کر لے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۱۸۰) * الحسن البصری مدلس و عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ عند البزار (کشف الاستار ، ۱ / ۳۵۵) و غیرہ ۔
464
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لعَمْرو بن حزم: «أَن لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالدَّارَقُطْنِيُّ
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم کے نام جو خط لکھا اس میں تحریر تھا :’’ صرف پاک شخص ہی قرآن کو ہاتھ لگا سکتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک و الدار قطنی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ مالک فی الموطا (۱ / ۱۹۹ ح ۴۷۰) و الدارقطنی (۱ / ۱۲۱ ، ۱۲۲) ۔
465
Sahih
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَة إِلَى ابْن عَبَّاس فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ وَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ فَلَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ وَقَالَ: «إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَكُنْ على طهر» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
نافع بیان کرتے ہیں ، میں کسی کام کی غرض سے ابن عمر ؓ کے ساتھ گیا ، پس جب ابن عمر ؓ نے اپنا کام مکمل کر لیا تو انہوں نے اس دن ایک حدیث سنائی کہ ایک آدمی کسی گلی سے گزرا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے ملا جبکہ آپ بول و براز سے فارغ ہو کر آ رہے تھے ، اس شخص نے آپ کو سلام کیا ، لیکن آپ نے اسے جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ قریب تھا کہ وہ آدمی گلی میں سے اوجھل ہو جاتا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور انہیں اپنے چہرے پر ملا ، پھر دوبارہ ہاتھ مارے تو انہیں بازوؤں پر مل لیا ، پھر آپ ﷺ نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا ، اور فرمایا :’’ تمہارے سلام کا جواب دینے میں صرف یہی ایک رکاوٹ تھی کہ میں اس وقت با وضو نہیں تھا ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۳۰) * محمد بن ثابت العبدی : ضعیف ضعفہ الجمھور ، و الخبر منکر ۔
466
Zaeef
وَعَن المُهَاجر بن قنفذ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأ ثمَّ اعتذر إِلَيْهِ فَقَالَ: «إِنِّي كرهت أَن أذكر الله عز وَجل إِلَّا على طهر أَو قَالَ على طَهَارَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى النَّسَائِيُّ إِلَى قَوْلِهِ: حَتَّى تَوَضَّأَ وَقَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَيْهِ
مہاجر قنفذ ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے ، پس انہوں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے وضو کر لینے تک سلام کا جواب نہ دیا ، پھر آپ ﷺ نے اس سے معذرت کی اور فرمایا :’’ میں نے وضو کے بغیر اللہ کا ذکر کرنا نا پسند کیا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ ضعیف ۔ اور امام نسائی ؒ نے ((حتی توضا)) تک روایت کیا ، اور فرمایا : جب آپ ﷺ نے وضو کیا تو اس کے سلام کا جواب دیا ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۷) و النسائی (۱ / ۳۷ ح ۳۸) [و ابن ماجہ (۳۵۰) و صححہ ابن خزیمۃ (۲۰۶) و ابن حبان (الموارد : ۱۸۹) و الحاکم علی شرط الشیخین (۱ / ۱۶۷ ، ۳ / ۴۷۹) و وافقہ الذھبی (!)] * الزھری عنعن و للحدیث شواھد دون قولہ : حتی توضا ۔
467
Zaeef
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ ثُمَّ يَنْتَبِهُ ثُمَّ يَنَامُ. رَوَاهُ أَحْمد
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ جنبی ہو جاتے ، پھر سو جاتے ، پھر بیدار ہوتے اور پھر سو جاتے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۶ / ۲۹۸ ح ۲۷۰۸۷) * شریک القاضی : مدلس و عنعن ۔
468
Zaeef
وَعَنْ شُعْبَةَ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يفرغ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى سَبْعَ مِرَارٍ ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ فَسَأَلَنِي كم أفرغت فَقُلْتُ لَا أَدْرِي فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ وَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْرِيَ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جِلْدِهِ الْمَاءُ ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يتَطَهَّر. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
شعبہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ جب ابن عباس ؓ غسل جنابت کرتے تو وہ سات مرتبہ دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے ، پھر شرم گاہ دھوتے ، پس وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے کتنی مرتبہ پانی ڈالا ، انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا : میں نہیں جانتا ، انہوں نے کہا : تیری ماں نہ رہے ، تمہیں کس نے روکا کہ تم نہ جانو ، پھر وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ، پھر اپنے جسم پر پانی بہاتے ، پھر فرماتے : رسول اللہ ﷺ اسی طرح غسل کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۴۶) * شعبۃ مولی ابن عباس : ضعیف الجمھور ۔
469
Zaeef
وَعَن أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ وَعِنْدَ هَذِهِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا آخِرًا قَالَ: «هَذَا أَزْكَى وَأطيب وأطهر» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز اپنی ازواج مطہرات کے پاس گئے ، اور ہر ایک کے پاس جاتے وقت غسل فرمایا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں نہ آپ سب سے آخر پر ایک ہی غسل فرما لیتے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ زیادہ پاکیزہ ، زیادہ اچھا اور زیادہ صاف ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ احمد (۶ / ۸ ح ۲۴۳۶۳) و ابوداؤد (۲۱۹) [و ابن ماجہ : ۵۹۰] ۔
470
Sahih