TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 451 - بَاب مُخَالطَة الْجنب - پاکیزگی کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 23 in this chapter
بَاب مُخَالطَة الْجنب
جنبی شخص سے میل جول رکھنے اور اس کے لیے مباح امور کا بیان
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَخَذَ بِيَدِي فمشيت مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَة» فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجَسُ» . هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ مَعْنَاهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ. وَكَذَا البُخَارِيّ فِي رِوَايَة أُخْرَى
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی مجھ سے ملاقات ہوئی میں اس وقت جنبی تھا ، پس آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑا تو میں نے آپ کے ساتھ چلنا شروع کیا حتیٰ کہ آپ بیٹھ گئے تو میں وہاں سے چپکے سے اٹھا اور گھر آ کر غسل کر کے پھر خدمت میں حاضر ہوا تو آپ وہیں تشریف فرما تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! تم کہاں تھے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! مومن نجس نہیں ہوتا ۔‘‘ یہ بخاری کے الفاظ ہیں ۔ اور مسلم کی روایت بھی اس کے ہم معنی ہے ۔ اور انہوں نے ’’ میں نے آپ ﷺ کو بتایا ‘‘ کے بعد درج ذیل کا اضافہ نقل کیا ہے :’’ جب آپ ﷺ مجھے ملے تو میں جنبی تھا ، پس میں نے غسل کیے بغیر آپ ﷺ کے ساتھ ہم نشین ہونا ناپسند کیا ۔‘‘ بخاری کی دوسری روایت بھی اسی طرح ہے ۔ متفق علیہ ۔
451
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۵) و مسلم (۱۱۵ / ۳۷۱) ۔ 824

Related Chapters

408
1
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
2
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
3
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
4
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
Musnad Ahmad
5
(39) CHAPTER. The superiority of that person who leaves all doubtful (unclear) things for the sake of his religion.
اس شخص کی فضیلت کے بیان میں جو اپنا دین قائم رکھنے کے لیے گناہ سے بچ گیا
Sahih Bukhari
6
Chapter: The Virtue of Fasting for in the cause of Allah, for those who are able to without suffering any harm or neglecting other duties
اس شخص کےلیے اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت جو نقصان اور حق کو ضائع کیے بغیر ‘اس کی طاقت رکھتا ہو
Sahih Muslim
7
Chapter: Prohibition of Fasting for a lifetime for the one who will be harmed by that or who will neglect other duties, or does not break his fast on the two 'Ids or during the days of At-Tashriq; It is better to fast alternate days
اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
8
جو شخص شہرت اور ناموری کے لیے پہنے اس پر وارد وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
9
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْمَالِ وَالْعُمُرِ لِلطَّاعَةِ
اللہ کی اطاعت و عبادت کے لیے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان
Mishkat
10
مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
11
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
12
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
Musnad Ahmad
14
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
15
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
Musnad Ahmad
16
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
17
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
Musnad Ahmad
19
باب پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا محاصرہ اور اس موقع پر ان کی طرف سے اور ان سے کی جانے والی گفتگو کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: محاصرہ کے دنوں میں بعض صحابہ کے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف میلان رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
(42) CHAPTER. To love for Allah's sake (only).
اللہ کے لیے محبت رکھنے کی فضیلت
Sahih Bukhari
21
Chapter: It is permissible to observe a voluntary fast with an intention formed during the day before the sun reaches its Zenith, and it is permissible for one who is observing a voluntary fast to break his fast with no excuse, although it is better for him to complete it
زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کرنے اور نفلی روزہ رکھنے والے کے لیے عذر کے بغیر افطار کرنے کا جواز(روزے کو )پورا کرنا افضل ہے
Sahih Muslim
22
Chapter: Give The Shares Of Inheritance To Those Who Are Entitled To Them, And Whatever Is Left Goes To The Closest Male Relative
مقررہ حصے والوں کو انم کے حصےے دو اور جو بچ جائے وہ سب سے قریبی رشتہ رکھنے والے مرد کے لیے ہے
Sahih Muslim
23
Chapter: The Prohibition Of Using Vessels Of Gold And Silver For Drinking Etc., For Men And Women
پینے (کھانے ،کچھ رکھنے) وغیرہ کے لیے سونے اور چاندی کے برتنوں کا استعمال مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے
Sahih Muslim
24
جس کا بچہ نہ ہوا ہو اس کےلیے کنیت رکھنے کا جواز اور چھوٹے بچے کی کنیت
Sahih Muslim
25
CHAPTER: What Has Been Ordered Regarding Keeping The Army Close Together (When Camping).
باب: لشکر کو اکٹھا رکھنے اور دوسروں کے لیے جگہ چھوڑنے کا حکم ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Using A Dog For Hunting And Other Than That.
باب: شکار یا کسی اور کام کے لیے کتا رکھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Making Endowments Of The Lands Of As-Sawad, And The Lands That Were Conquered By Force.
باب: کافروں سے جنگ میں ہاتھ آ نے والی نیز سواد نامی علاقے کی زمینوں کو مصالح عامہ کے لیے روک رکھنے اور اسے غنیمت میں تقسیم نہ کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
کھانے پینے کے لیے جنبی کا صرف ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے
Sunnan Ibn e Maja
29
رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
30
اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے رکھنے کا ثواب
Sunnan Ibn e Maja
31
قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
Sunnan Ibn e Maja
32
سر پر کتنا پانی بہانا جنبی کے لیے کافی ہو گا ؟
Sunnan Nisai
33
جنبی کے لیے سر پر کتنا پانی بہانا کافی ہے ؟
Sunnan Nisai
34
پہلے تشہد کے لیے بیٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
باب: طاقت نہ رکھنے والے شخص کی طرف سے عمرہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
باب: عرفہ کے دن (حاجی کے لیے) روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
(87)Chapter: [What Has Been Related] About The Person Who Is Junub Sleeping Before performing Ghusl
باب: جنبی غسل کرنے سے پہلے سوئے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
38
(88)Chapter: : [What Has Been Related] About Wudu For The Person Who Is Junub When He Wants To Sleep
باب: جنبی جب سونا چاہے تو وضو کر لے
Jam e Tirmazi
39
(89)Chapter: What Has Been Related About Shaking Hands With The Junub Person
باب: جنبی سے مصافحہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
(92)Chapter: [What has Been Related] About Tayammum For The Junub Person When He Does Not Find Water
باب: پانی نہ پانے پر جنبی تیمم کر لے
Jam e Tirmazi
41
(98)Chapter: What Has Been Related About The Junub And The Menstruating Persons That They Do Not Recite The Qur'an
باب: جنبی اور حائضہ کے قرآن نہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
(107)Chapter: What Has Been Related [About The Junub Person] When He Wants To Repeat (Sexual Relations) He Should Perform Wudu
باب: بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرنے پر جنبی وضو کر لے
Jam e Tirmazi
43
(111)Chapter: What Has Been Related About A Man Reciting The Qur'an Under Any Circumstances As Long As He Is Not Junub
باب: آدمی ہر حال میں قرآن پڑھ سکتا ہے جب تک کہ وہ جنبی نہ ہو
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Spreading The Fingers With The Takbir
باب: اللہ اکبر کہتے وقت انگلیاں کھلی رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Placing The Right Hand Over The Left During the Salat
باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Placing the Hands On The Knees While Bowing
باب: رکوع میں دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Him (pbuh) holding His Forearms Away From His Sides While Bowing.
باب: رکوع میں اپنے ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Placing The Knees (On The Ground) Before The Hands For Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ سے پہلے دونوں گھٹنے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Holding The Forearms Away From The Sides During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے جدا رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

25
Sahih Bukhari
285
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَقَالَ : أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle came across me and I was Junub He took my hand and I went along with him till he sat down I slipped away, went home and took a bath. When I came back. he was still sitting there. He then said to me, O Abu Huraira! Where have you been?' I told him about it The Prophet said, Subhan Allah! O Abu Huraira! A believer never becomes impure.
ہم سے عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بکر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابورافع سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ اس وقت میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔
Musnad Ahmad
473
۔ (۴۷۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: لَقِیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَیْتُ مَعَہُ حَتّٰی قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَیْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَھُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: ((أَیْنَ کُنْتَ؟)) فَقُلْتُ: لَقِیْتَنِیْ وَأَنَا جُنُبٌ فَکَرِہْتُ أَنْ أَجْلِسَ اِلَیْکَ وَأَنَا جُنُبٌ فْانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ، اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۵۶)
ابوہریرہؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ملا، جبکہ میں جنابت کی حالت میں تھا، بہرحال میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیٹھ گئے اور میں وہاں سے کھسک گیا اور گھر پہنچ کر غسل کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آگیاجبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: جی آپ مجھے ملے تھے جبکہ میں جنبی تھا اور میں نے اس جنابت والی حالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بیٹھنے کو ناپسند کیا، اس لیے میں نے جاکر غسل کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: سبحان اللہ!بیشک مؤمن ناپاک نہیںہوتا۔
Jam e Tirmazi
121
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ وَهُوَ جُنُبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْبَجَسْتُ أَيْ فَانْخَنَسْتُ فَاغْتَسَلْتُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جِئْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ كُنْتَ أَوْ أَيْنَ ذَهَبْتَ ؟ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ فَانْخَنَسْتُ يَعْنِي:‏‏‏‏ تَنَحَّيْتُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُصَافَحَةِ الْجُنُبِ وَلَمْ يَرَوْا بِعَرَقِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ بَأْسًا
Abu Hurairah narrated that : the Prophet met him while he was Junub. He said: [So I slipped away from him - meaning:] I withdrew - to perform Ghusl. Then he returned, so he said: 'Where have you been?' Or: 'Where did you go?' I replied: 'I was Junub.' So he said: 'Indeed the believer is not defiled.'''
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان سے ملے اور وہ جنبی تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ یا: کہاں چلے گئے تھے ( راوی کو شک ہے ) ۔ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا۔ آپ نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ان کے قول «فانخنست» کے معنی «تنحیت عنہ» کے ہیں ”یعنی میں نظر بچا کر نکل گیا“، ۴- بہت سے اہل علم نے جنبی سے مصافحہ کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں ۱؎۔
Musnad Ahmad
384
۔ (۳۸۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: أَجْنَبْتُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَۃٍ فَفَضَلَتْ فَضْلَۃٌ فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیَغْتَسِلَ مِنْہَا فَقُلْتُ: اِنِّی قَدِ اغْتَسَلْتُ مِنْہَا، فَقَالَ: ((اِنَّ الْمَائَ لَیْسَ عَلَیْہِ الْجَنَابَۃُ)) أَوْ ((لَا یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔)) فْاغْتَسَلَ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۳۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ نے کہا: مجھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو جنابت لاحق ہو گئی، پس میں نے ایک ٹب سے غسل کیا اور کچھ پانی بچ گیا، پس جب رسول اللہ غسل کے لیے تشریف لائے تو میں نے کہا: میں نے اس پانی سے (جنابت والا) غسل کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اس سے پانی پر جنابت کا حکم نہیں آتا۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی چیز پانی کو پلید نہیں کرتی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے غسل کیا۔
Musnad Ahmad
474
۔ (۴۷۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: لَقِیَنِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ طَرِیْقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِیْنَۃِ فَانْخَنَسْتُ فَذَہَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ (فَذَکَرَ مِثْلَہُ فِیْہِ) فَقَالَ: ((اِنَّ الْمُسْلِمَ لَا یَنْجُسُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۰۸۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مجھے ملے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مدینہ کے کسی راستے میں تھے، پس میں کھسک گیا اور جا کر غسل کر کے دوبارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آگیا۔ پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔
Musnad Ahmad
949
۔ (۹۴۹)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ثَوْبِہِ، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ: ((أَنَفِسْتِ؟)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَجَدْتُّ مَا تَجِدُ النِّسَائُ، قَالَ: ((ذَاکِ مَا کُتِبَ عَلٰی بَنَاتِ آدَمَ۔)) قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِیْ فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ ثُمَّ جِئْتُ مَعَہُ فِی لِحَافِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۶۰)
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں میں اس وقت حائضہ ہو گئی، جب میں اوررَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک کپڑے میں تھے، پس میں کھسک گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں اسی چیز میں مبتلا ہو گئی ہوں، جس میں خواتین ہو جاتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ چیز تو پھر بناتِ آدم پر لکھ دی گئی ہے۔ بہرحال میں چلی گئی اور اپنی حالت کو سنوار کر ایک کپڑے سے لنگوٹ کس لیا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ لحاف میں آ کر لیٹ گئی۔
Musnad Ahmad
950
۔ (۹۵۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: حِضْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فِرَاشِہِ فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ لِیْ: ((أَحِضْتِ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَشُدِّیْ عَلَیْکِ اِزَارَکِ ثُمَّ عُوْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۰۳۰)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ بستر پر تھی کہ میں حائضہ ہو گئی، اس لیے میں وہاں سے کھسک گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھ سے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اپنا ازار اپنے اوپر کس لے اور پھر واپس آ جا۔
Musnad Ahmad
999
۔ (۹۹۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِسْمٰعِیْلُ ثَنَا أَیُّوْبُ عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنْ بَنِیْ قُشَیْرٍ) قَالَ: کُنْتُ کَافِرًا فَہَدَانِیَ اللّٰہُ لِلْاِسْلَامِ وکُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَائِ وَمَعِیَ أَہْلِیْ فَتُصِیْبُنِیْ الْجَنَابَۃُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلَا أَجِدُ الْمَائَ فَأَتَیَمَّمُ) فَوَقَعَ ذٰلِکَ فِیْ نَفْسِیْ وَقَدْ نُعِتَ لِیْ أَبُوْ ذَرٍّ فَحَجَجْتُ فَدَخَلْتُ مَسْجِدَ مِنًی فَعَرَفْتُہُ بِالنَّعْتِ فَاِذَا شَیْخٌ مَعْرُوْقٌ آدَمُ عَلَیْہِ حُلَّۃٌ قِطْرِیٌّ فَذَہَبْتُ حَتَّی قُمْتُ اِلٰی جَنْبِہِ وَھُوَ یُصَلِّیْ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ، ثُمَّ صَلّٰی صَلَاۃً أَتَّمَہَا وَأَحْسَنَہَا وَأَطْوَلَہَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَدَّ عَلَیَّ، قُلْتُ: أَنْتَ أَبُوْذَرٍّ؟ قَالَ: اِنَّ أَہْلِیْ لَیَزْعُمُوْنَ ذٰلِکَ، قَالَ: کُنْت کَافِرًا فَہَدَانِیَ اللّٰہُ لِلْاِسْلَامِ وَأَہَمَّنِی دِیْنِیْ وَکُنْت أَعْزُبُ عَنْ الْمَائِ وَمَعِیْ أَہْلِیْ فَتُصِیْبُنِیْ الْجَنَابَۃُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلَبِثْتُ أَیَّامًا أَتَیَمَّمُ) فَوَقَعَ ذٰلِکَ فِیْ نَفْسِیْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَأَشْکَلَ عَلَیَّ) قَالَ: ھَلْ تَعْرِفُ أَبَا ذَرٍّ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّی اجْتَوَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ، قَالَ أَیُّوْبُ: أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا، فَأَمَرَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِذَوْدٍ مِنْ اِبِلٍ وَغَنَمٍ، فَکُنْتُ أَکُوْنُ فِیْھَا فکُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَائِ وَمَعِیْ أَہْلِیْ فَتُصِیْبُنِی الْجَنَابَۃُ فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ أَنِّیْ قَدْ ہَلَکْتُ فَقَعَدْتُ عَلَی بَعِیْرٍ مِنْہَا، فَانْتَہَیْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِصْفَ النَّہَارِ وَھُوَ جَالِسٌ فِیْ ظِلِّ الْمَسْجِدِ فِیْ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِہِ فَنَزَلَتُ عَنِ الْبَعِیْرِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَالَ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ! أَبُوْ ذَرٍّ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ وقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلَکُتُ، قَالَ: ((وَمَا أَہْلَکَکَ؟)) فَحَدَّثْتُہُ فَضَحِکَ فَدَعَا اِنْسَانًا مِنْ أَہْلِہِ فَجَائَ تْ جَارِیَۃٌ سَوْدَائُ بِعُسٍّ فِیْہِ مَائٌ مَا ہُوَ بِمَلْآنَ اِنَّہُ لَیَتَخَضْخَضُ فَاسْتَتَرْتُ بِالْبَعِیْرِ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ فَسَتَرَنِیْ، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَیْتُہُ، فَقَالَ: ((اِنَّ الصَّعِیْدَ الطَّیِّبَ طَہُوْرٌ مَا لَمْ تَجِدِ الْمَائَ وَلَوْ اِلٰی عَشْرِ حِجَجٍ، فَاِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمِسَّ بَشَرَتَکَ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَأَمْسِسْہُ بَشَرَتَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۲۹)
بنو عامر کا ایک آدمی (عمرو بن بجدان) کہتا ہے: میں کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی، میں پانی سے دور تھا، جبکہ میری بیوی میرے ساتھ تھی، پس مجھے جنابت لاحق ہو جاتی تھی اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کرتا تھا، لیکن میرے دل میں شبہ سا پیدا ہوا اور سیدنا ابو ذر ؓ کے بارے میں بتلایا گیا، پس میں نے حج کیا اور مسجد ِ مِنٰی میں داخل ہوا اور اُن کو اُن کی صفات کی روشنی میں پہنچان لیا، وہ دبلے پتلے اور گندمی رنگ کے بزرگ تھے اور قطری حلہ زیب ِ تن کیا ہوا تھا، پس میں چلا، یہاں تک کہ میں ان کے پہلو کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور ان کو سلام کہا، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے، اس لیے انھوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، انھوں نے مکمل، خوبصورت اور طویل نماز پڑھی، جب وہ فارغ ہوئے تو میرے سلام کا جواب دیا، میں نے کہا: آپ ابو ذر ہیں؟ انھوں نے کہا: جی میرے اہل کا یہی خیال ہے (کہ میں ابو ذر ہوں)۔ میں نے کہا: میں کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دی ہے، لیکن میرے دین نے مجھے بے چین کیا ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ میں پانی سے دور ہوں اور میرے ساتھ میری بیوی بھی ہے، اس لیے مجھے جنابت لاحق ہو جاتی ہے اور کئی دنوں تک تیمم کرتا رہتا ہوں، اس سے میرے دل میں کھٹکا سا پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا: کیا تم ابو ذر کو پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے کہا: مدینہ منورہ کی آب و فضا مجھے موافق نہ آئی، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرے لیے چند اونٹوں اور بکریوں کا حکم دیا، پس میں ان میں ہوتا تھا اور پانی سے دور ہوتا تھا، جبکہ میرے ساتھ میری بیوی بھی ہوتی تھی، اس وجہ سے جنابت بھی لاحق ہو جاتی تھی، پس اس وجہ سے میرے دل میں کھٹکا سا پیدا ہوا، سو میں اونٹ پر بیٹھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس پہنچ گیا، یہ نصف النہار کا وقت تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ صحابہ کے ایک گروہ میں مسجد کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، پس میں اونٹ سے اترا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو سلام کہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: سبحان اللہ! ابو ذر؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ساری بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسکرائے اور اپنے گھر والوں میں سے میں ایک انسان کو بلایا، تو کالے رنگ کی ایک لونڈی پانی کا بڑا پیالہ لے کر آئی، وہ بھراہوا نہیں تھا اور اس میں پانی چھلک رہا تھا، پس میں نے اونٹ کے ساتھ پردہ کیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے قوم میں سے ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے میرے سامنے پردہ کیا، پس میں نے غسل کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک پاک مٹی اس وقت تک پاک کرنے والی ہے، جب تک تجھے پانی نہ ملے، اگرچہ دس سال نہ ملے، پھر جب تو پانی پا لے تو اس کو اپنے چمڑے پر لگا۔
Musnad Ahmad
10546
۔ (۱۰۵۴۶)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ طَالِبٍ أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اِنَّ عَمَّکَ الشَّیْخَ قَدْ مَاتَ، قَالَ: ((اِذْھَبْ فَوَارِہِ، ثُمَّّ لَا تُحْدِثْ شَیْئًا حَتّٰی تَأْتِیَنِیْ۔)) قَالَ: فَوَارَیْتُہُ ثُمَّّ اَتَیْتُہُ، قَالَ: ((اذْھَبْ فَاغْتَسِلْ، ثُمَّّ لَا تُحْدِثْ شَیْئًا حَتّٰی تَأْتِیَنِیْ۔)) قَال: فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّّ آتَیْتُہُ، قَالَ: فَدَعَا لِیْ بِدَعْوَاتٍ مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ لِیْ بِھَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُوْدَھَا، قَالَ: وَکَانَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِذَا اِغْتَسَلَ مَیِّتًا اِغْتَسَلَ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۴)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: جب ابو طالب فوت ہوا تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ کا بوڑھا چچا مر گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جا کر اس کو دفنا دے اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس آجانا۔ پس میں نے اس کو دفن کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جا اور غسل کر اور پھر کوئی کام کیے بغیر میرے پاس پہنچ جا۔ پس میں غسل کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے حق میں ایسی ایسی دعائیں کیں کہ مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ ان کی بجائے مجھے سرخ اور سیاہ اونٹ مل جائیں، اس کے بعد جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میت کو غسل دیتے تو اس سے خود غسل کرتے تھے۔