حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقَدَّمُوا صِيَامَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا بِيَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَيَصُومُهُ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
‘Do not anticipate Ramadan by fasting one or two days before, except for a man who has a habitual pattern of fasting, in which case let him fast.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے ۱؎۔
Takhreej
سنن النسائی/الصوم ۳۱ (۲۱۷۱،۲۱۷۲)،۳۸ (۲۱۸۹)،(تحفة الأشراف:۱۵۳۹۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ۱۴ (۱۹۱۴)، صحیح مسلم/الصوم ۳ (۱۰۸۲)، سنن ابی داود/الصوم ۱۱ (۲۳۳۵)، سنن الترمذی/الصوم ۲ (۶۸۵)، مسند احمد (۳/۲۳۴،۳۴۷،۴۰۸،۴۳۸،۷ ۷ ۴،۴۹۷،۵۱۳)، سنن الدارمی/الصوم ۴ (۱۷۳۱)
Explanation
مثلاً پہلے سے جمعرات یا سوموار (پیر) کے روزے رکھنے کا معمول ہو، اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دو یا ایک دن پہلے آ جائے تو اس کا روزہ رکھے کیونکہ یہ روزہ رمضان کے استقبال کے لیے نہیں ہے۔
1650
Sahih