حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْيَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، مَا أَنَا قُلْتُ: مَنْ أَصْبَحَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلْيُفْطِرْ، مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ .
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr Al-Qari said:
“I heard Abu hurairah say: ‘No, by the Lord of the Ka’bah! I did not say: “Whoever wakes up in a state of sexual impurity (and wants to fast) then he must not fast.” Muhammad (ﷺ) said it.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رب کعبہ کی قسم! یہ بات کہ کوئی جنابت کی حالت میں صبح کرے تو روزہ توڑ دے، میں نے نہیں کہی بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۵۸۳، ومصباح الزجاجة:۱۷۰۲)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ۲۲ (۱۹۲۶)، صحیح مسلم/الصیام ۱۳ (۱۱۰۹)، موطا امام مالک/الصیام ۴ (۹)، مسند احمد (۲/۲۴۸،۲۸۶)
Explanation
یہ حکم یا تو منسوخ ہے یا مرجوح کیونکہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے کہ رسول اللہﷺ کو فجر پا لیتی اور آپ اپنی بیوی سے جماع کی وجہ سے حالت جنابت میں ہوتے نہ کہ احتلام کی وجہ سے، پھر طلوع فجر کے بعد غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے، اور صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے خصائص میں سے نہیں ہے، اور صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو انھوں نے اس سے رجوع کر لیا۔
1702
Sahih