TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان - اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان - محبت اور صحبت کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of محبت اور صحبت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 10 · 8 Hadith
۔ (۹۴۴۶)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَیُّ عُرَی الْاِسْلَامِ اَوْسَطُ؟)) قَالُوْا: الصَّلاۃُ، قَالَ: ((حَسَنَۃٌ وَمَا ھِیَ بِھَا۔))، قَالُوْا: الزَّکَاۃُ، قَالَ: ((حَسَنَۃٌ وَمَا ھِیَ بِھَا۔))، قَالُوْا: صِیَامُ رَمَضَانَ، قَالَ: ((حَسَنٌ وَمَا ھُوَ بِہٖ۔))،قَالُوْا: الْحَجُّ،قَالَ: ((حَسَنٌوَمَاھُوَبِہٖ۔))،قَالُوْا: الْجِھَادُ،قَالَ: ((حَسَنٌ وَمَاھُوَ بِہٖ۔)) قَالَ: ((اِنَّ اَوْسَطَ عُرَی الْاِیْمَانِ اَنْ تُحِبَّ فِی اللّٰہِ وَتُبْغِضُ فِی اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۲۳)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام کا کون سا کڑا (یعنی نیک عمل) زیادہ ممتاز اور عالی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نماز ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز بھی اچھا عمل ہے اور اس کے بعد والا کون سا عمل ہے؟ لوگوں نے کہا: جی زکوۃ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زکوۃ بھی اچھا ہے اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: جی رمضان کے روزے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ عمل بھی اچھا ہے، اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: جی حج ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حج بھی اچھا عمل ہے اور اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی جہاد ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد بھی اچھا عمل ہے، اس کے بعد والا عمل کون سا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود فرمایا: ایمان کا سب سے ممتاز اور اعلی کڑا (یعنی نیک عمل) یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھے۔
Takhreej
(۹۴۴۶) تخریج: حدیث حسن بشواھدہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۱، والبیھقی فی الشعب : ۱۳ (انظر: ۱۸۵۲۴)
Explanation
فوائد:… محبت کی دو قسمیں ہیں: (۱) طبعی اور (۲) کسبی طبعي محبت وہ ہے جو انسان کو طبعی طور پر اپنے قرابتداروں اور محسنوں سے ہوتی ہے، یہ محبت انسان کا کمال اور طرۂ امتیاز نہیں، کیونکہ تقریبا تمام حیوانات بھی اس صفت سے متصف نظر آتے ہیں۔ کسبي محبت سے مراد مومنوں کا آپس میں تعلق اور دوستی ہے، جیسا کہ صحابہ کرام ،بالخصوص مہاجرین و انصار کے مابین تھی،یہ دینی محبت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہے، اس سے کوئی دنیوی مفاد اور غرض وابستہ نہیں ہوتی۔ ایسی محبت کو نہ صرف شریعت ِ اسلامیہ میں سراہا گیا ہے، بلکہ ایمان و ایقان کی علامت قرار دیا گیا ہے، یاد رہے کہ ایسی محبت و الفت صرف نیک اور صالح لوگوں سے ہوتی ہے۔ اس باب کی احادیث میں کسبی محبت کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں اور اس کو عزتیں عطا کرتے ہیں۔ یہ مسلمان کا طرۂ امتیاز ہے کہ اس کی دوستی اور دشمنی کا معیار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ اس معاملے میں رنگ و نسل، سیاست و سیادت، ذات پات اور قبیلہ و برادری کو ترجیح نہیں دیتا ہے، اگر اس نے کسی سے تعلق کو مضبوط کیا ہے تو اس بنا پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہے اور اگر کسی سے بغض رکھا تو وہ بھی اس بنا پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ عصرِ حاضر میں اس قسم کا تعلق انتہائی شاذ و نادر ہے، بلا شبہ ہر کوئی اپنی دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے، لیکن کسی کی بنیاد حسن و جمال ہے، کوئی برادری ازم کو ترجیح دیتا ہے، کوئی سکول کی کلاس اور علاقہ کو مد نظر رکھتا ہے، کوئی اپنے بڑوں کے تعلق کا لحاظ کر رہا ہے، کوئی اپنے پیشے کے لوگوں کو اپنی محبتوں کا مستحق سمجھ رہا ہے، غرضیکہ محض اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے دوسروں لوگوں سے محبت کرنے والے بہت کم لوگ ہیں۔ قارئین کرام! یہ نقطہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کسی برے آدمی سے بغض یا عدم دوستی کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے مکمل طور پر قطع تعلقی کی جائے یا جہاں وہ ملے اس سے اعراض کیا جائے۔ شریعت ِ اسلامیہ نے کافروں اور مشرکوں سے بھی حالات کے مطابق حسن سلوک اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غیر مسلموں کی دعوت بھی قبول کر لیا کرتے تھے۔ شریعت نے جس دوستی و دشمنی کی تعلیم دی ہے، اس کا تعلق دل سے ہے اور جنگ جیسے مخصوص زمان و مکاں میں ظاہری حالات سے بھی ہوتا ہے۔ اس چیز کو آپ اس مثال سے سمجھیں کہ آپ کے سامنے پانچ پانچ سال عمر کے دو بچے کھڑے ہیں، ایک آپ کا اپنا بچہ ہے اور دوسرا کسی ایسے آدمی کا ہے، جس کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ لیکن آپ شریعت کا لحاظ کر کے دونوں بچوں سے ظاہری طور پر برابر کا پیار کرتے ہیں، دونوں کے سروں پر دست ِ شفقت رکھتے ہیں، دونوں کو کھانے کے لیے برابر مقدار کی چیز دیتے ہیں، لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ کے دل میں جتنا پیار و محبت اپنے بچے کا ہے، اتنا کسی دوسرے کا نہیں ہو سکتا، آپ کو جو لطف اپنے بچے سے پیار کر کے ہو گا، وہ دوسروں کے بچوں کے ساتھ محبت کرنے سے محسوس نہیں ہوتا، بلکہ بعض لوگ اپنے غیر نمازی بچے کو دوسروں کے نمازی بچوں پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کے بارے میں ہے کہ آپ کے دل میں جو مقام مکمل مسلمان کا ہو، وہ ناقص مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کا نہیں ہو نا چاہیے۔ اب آپ درج ذیل احادیث ِ مبارکہ کا بغور مطالعہ کریں۔
9446
Sahih
۔ (۹۴۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ اِلَیْنَا رَسُوْلْ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ؟)) قَالَ قَائِلٌ: الصَّلَاۃُ وَالزَّکَاۃُ وَقَالَ قَائِلٌ: الْجِھَادُ، قَالَ: ((اِنَّ اَحَبَّ الْاَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ ایک آدمی نے کہا: نماز اور زکوۃ، اور کسی نے کہا کہ جہاد ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کی جائے اور اُسی کے لیے بغض رکھا جائے۔
Takhreej
(۹۴۴۶) تخریج: حدیث حسن بشواھدہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۱، والبیھقی فی الشعب : ۱۳ (انظر: ۱۸۵۲۴)
9447
Sahih
۔ (۹۴۴۸)۔ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ، عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ، اَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلٰی قَوْمٍ، فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ، فَرَدُّوْا عَلَیْہِ السَّلامَ، فَلَمَّا جَاوَزَھُمْ قَال رَجُلٌ مِنْھُمْ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُبْغِضُ ھٰذَا فِی اللّٰہِ، فَقَالَ اَھْلُ الْمَجْلِسِ: فَبِئْسَ وَاللّٰہِ مَا قُلْتَ، اَمَا وَاللّٰہِ لَنُنَبِّئَنَّہُ، قُمْ یَا فُلَانُ! رَجُلٌ مِنْھُمْ، فَاَخْبِرُہُ، قَالَ: فَاَدْرَکَہُ رَسُوْلُھُمْ فَاَخْبَرَہُ بِمَا قَالَ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتّٰی اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْھِمْ فُلانٌ فَسَلَّمْتُ عَلَیْھِمْ فَرَدُّوْا السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزْتُھُمْ اَدْرَکَنِیْ رَجُلٌ مِنْھُمْ فَاَخْبَرَنِیْ اَنَّ فُلَانًا قَالَ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُبْغِضُ ھٰذَا الرَّجُلَ فِی اللّٰہِ، فَادْعُہُ، فَسَلْہُ عَلٰی مَایُبْغِضُنِیْ؟ فَدَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَساَلَہُ عَمَّا اَخْبَرَہُ الرَّجُلُ، فَاعْتَرَفَ بِذٰلِکَ، وَقَالَ: قَدْ قُلْتُ لَہُ ذٰلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِمَ تُبْغِضُہُ؟)) قَالَ: اَنَا جَارُہُ وَاَنَا بِہٖخَابِرٌ،وَاللّٰہِمَارَاَیْتُہُیُصَلِّیْ صَلَاۃً قَطُّ اِلَّا ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ الَّتِیْیُصَلِّیْھَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ الرَّجُلُ: سَلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ رَآنِیْ قَطُّ اَخَّرْتُھَا عَنْ وَقْتِھَا، اَوْ اَسَأْتُ الْوُضُوْئَ لَھَا؟ اَوْ اَسَأْتُ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ فِیْھَا؟ فَساَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: واللّٰہِ! مَارَاَیْتُہُیَصُوْمُ قَطُّ اِلَّا ھٰذَا الشَّھْرَ الَّذِیْیَصُوْمُہُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: فَسَلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ رَآنِیْ قَطُّ اَفْطَرْتُ فِیْہِ، اَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّہِ شَیْئًا؟ فَسَالَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللّٰہِ مَارَاَیْتُہُیُعْطِیْ سَائِلًا قَطُّ، وَلَارَاَیْتُہُیُنْفِقُ مِنْ مالِہِ شَیْئًا فِیْ شَیْئٍ مِنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِخَیْرٍاِلَّا بِخَیْرٍ اِلَّا ھٰذِہِ الصَّدَقَۃَ الَّتِیْیُؤَدِّیْھَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: فَسَلْہُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ کَتَمْتُ مِنَ الزَّکَاۃِ شَیْئًا قَطُّ اَوْ مَاکَسْتُ فِیْھَا طَالِبَھَا؟ قَالَ: فَسَاَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: لا، فقَالَ َلہ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُمْ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہُ خَیْرٌ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۱۳)
۔ سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، اس نے سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جوا ب دیا، جب وہ آگے گزر گیا تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس آدمی سے بغض رکھتا ہوں، اہلِ مجلس نے کہا: اللہ کی قسم! تو نے بری بات کی ہے، اللہ کی قسم! ہم ضرور ضرور اس کو بتلائیں گے، او فلاں! کھڑا ہو اور اس کو بتلا کے آ، پس ان کے قاصد نے اس کو شخص کو پا لیا اور ساری بات اس کو بتلا دی، وہ آدمی وہاں سے پھرا اور سیدھا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا پہنچا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں مسلمانوں کی ایک مجلس سے گزرا، ان میں فلاں آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان کو سلام کہا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا، جب میں ان سے تجاوز کر گیا تو ان میں سے ایک آدمی مجھے پیچھے سے آ کر ملا اور کہا کہ فلاں آدمی کہہ رہا ہے کہ اللہ کی قسم ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے تجھ سے بغض رکھتا ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ اس کو بلائیں اور پوچھیں کہ کس وجہ سے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور اس آدمی کی بتائی ہوئی بات کے بارے میں پوچھا، اس نے اعتراف کر لیا اور کہا: جی اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتا کہ تو اس سے بغض کیوں رکھتا ہے؟ اس نے کہا: جی میں اس کا ہمسایہ ہوں اور اس کے بارے میں باخبر ہوں، اللہ کی قسم! میں نے اس کو دیکھا ہے، یہ صرف فرضی نماز ادا کرتا ہے، جو ہر نیک و بد پڑھ رہا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے ان نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کیا ہے؟ یا میں نے کبھی وضو میں کمی کی ہے؟ یا میں نے رکوع و سجود کو ناقص ادا کیا ہے؟ پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب اس سے یہ سوالات کیے تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنی واقعییہ بات تو ہے کہ یہ وقت پر اور مکمل نماز وضو کا اہتمام کرتا ہے)۔ پھر اس اعتراض کرنے والے نے کہا: اللہ کی قسم ہے، میں نے اس کو دیکھا کہ یہ صر ف ماہِ رمضان کے روزے رکھتا ہے، جس کے روزے ہر نیک و بد رکھتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے رمضان میں کبھی کوئی روزہ چھوڑا ہے، یا روزے کے حق میں کوئی کمی کی ہے؟ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے منفی میں جواب دیا (یعنییہ بات تو ٹھیک کہ یہ آدمی اچھے انداز میں روزے رکھتا ہے)۔ اعتراض کرنے والے نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کو نہیں دیکھا کہ اس نے کسی سائل کو کبھی کوئی چیز دی ہو، یا اللہ کے راستے میں کوئی مال خرچ کیا ہو، ما سوائے اس زکوۃ کے، جو ہر نیک و بد ادا کرتا ہے۔ لیکن اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ کیا میں نے زکوۃ میں سے کبھی کوئی چیز چھپائی ہے، یا زکوۃ لینے والے سے کمی کروائی ہے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھاتو اس نے منفی میں جواب دیا۔ اب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھڑا ہو جا تو، میں نہیں جانتا ہو سکتا ہے کہ وہ تجھ سے بہتر ہو۔
Takhreej
(۹۴۴۶) تخریج: حدیث حسن بشواھدہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۱، والبیھقی فی الشعب : ۱۳ (انظر: ۱۸۵۲۴)
Explanation
فوائد:… یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی نے بہتر ہونے کی امید ظاہر کی جو نماز، روزے اور زکوۃ کا بہترین انداز میں اہتمام کرتا تھا اور اعتراض کرنے والے کی حوصلہ شکنی کی،یہ الگ بات ہے کہ نفلی نماز، نفلی صدقہ اور نفلی روزوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
9448
Zaeef
۔ (۹۴۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَۃٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْھَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاکَرَ مِنْھَا اخْتَلَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۳۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھے کیے ہوئے لشکر ہیں، جن کی وہاں واقفیت ہو گئی، وہ ایک دوسرے سے مانوس ہو جاتی ہیں اور جن میں وہاں اجنبیت اور نا واقفیت ہو گئی، وہ مانوس نہیں ہوتیں۔
Takhreej
(۹۴۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۸ (انظر: ۱۰۸۲۴)
Explanation
فوائد:… انسانی مزاجوں میں حیران کن فرق پایا جاتا ہے، ایک آدمی دوسرے پر جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، جبکہ دوسرا اس سے بول کر بھی راضی نہیں ہوتا، کسی کو اپنے بیوی بچے اس قدر پیارے لگتے ہیں کہ وہ سارا وقت ان کے اندر گزارنا چاہتا ہوتا ہے، جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا سارا وقت گھر سے باہر دوستوں یاروں میں گزر جاتا ہے، غرضیکہ ہر آدمی کا میلان اور رجحان دوسرے سے مختلف ہے اور تقریباً ہر کوئی دوسرے کے مزاج پر نقد بھی کرتا ہے۔ دراصل عالَمِ اراوح میں اتفاق و اختلاف اور الفت و نفرت کی صورتیں اور شکلیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں، دنیوی زندگی تو صرف ان کا مظہر ثابت ہوتی ہے۔
9449
Sahih
۔ (۹۴۵۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اَحَبَّ (وَقَالَ ھَاشِمٌ: مَنْ سَرَّہُ) اَنْ یَجِدَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ، فَلْیُحِبَّ الْمَرْئَ وَ لَا یُحِبُّہُ اِلَّا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایمان کا ذائقہ پسند کرتا ہو یایہ چیز اس کو خوش کرتی ہو، وہ کسی شخص سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔
Takhreej
(۹۴۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۳۸ (انظر: ۱۰۸۲۴)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی ذات کو مد نظر رکھ کرکسی سے محبت رکھنا، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات کا پاس و لحاظ ہے، کیونکہ بیچ میں اس کی اطاعت کارفرما ہے۔
9450
Sahih
۔ (۹۴۵۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: اَیْنَ الْمُتَحَابُّوْنَ بِجَلَالِیْ؟ اَلْیَوْمَ اُظِلُّھُمْ فِیْ ظِلِّیْیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلِّیْ۔)) (مسند احمد: ۸۴۳۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے جلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں، آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا، جبکہ آج میرے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہے۔
Takhreej
(۹۴۵۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۶۶(انظر: ۸۴۵۵)
Explanation
فوائد:… میرے جلال کی وجہ سے، یعنی میری عظمت اور میری تعظیم کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
9451
Sahih
۔ (۹۴۵۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا،یَرْفَعُہُ قَالَ: ((لَا تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتَّی تُؤْمِنُوْا، وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتّٰی تَحَابُّوْا، اَلاَ اَدُلُّکُمْ عَلٰی رَاْسِ ذٰلِکَ اَوْ مَلَاکِ ذٰلِکَ؟ اَفْشُوْ السَّلَامَ بَیْنَکُمْ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ:) اَلا اَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیْئٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ؟ اَفْشُوْا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۹۰۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک ایمان نہیں لاؤ گے اور اس وقت تک ایمان نہیں لا سکو گے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے، کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں، جو اس محبت کی جڑ اور جوہر ہے؟ آپس میں سلام کو عام کر دو۔ ایک روایت میں ہے: کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جب تم اس کو کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔
Takhreej
(۹۴۵۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۴ (انظر: ۹۰۸۴)
Explanation
فوائد:… سلام کے ذریعے باہمی اور شرعی محبت اور دوسروں کے لیے دل میں وسعت پیدا ہوتی ہے، اس لیے بھرپور انداز میں اس نبوی نسخے کا استعمال ہونا چاہیے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ سلام کہنے میں بڑی سستی کرتے ہیں۔
9452
Sahih
۔ (۹۴۵۳)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ الْجَمُوْعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَحِقُّ الْعَبْدُ حَقَّ صَرِیْحِ الْاِیْمَانِ حَتّٰییُحِبَّ لِلّٰہِ وَیُبْغِضَ لِلّٰہِ، فَاِذَا اَحَبَّ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوَلَائَ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَ اِنَّ اَوْلِیَائِیْ مِنْ عِبَادِیْ وَاَحِبَّائِیْ مِنْ خَلْقِی الَّذِیْنَیُذْکَرُوْنَ بِذِکْرِیْ، وَاُذْکَرُ بِذِکْرِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۳۴)
۔ سیدنا عمرو بن جموع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک صریح ایمان کا حق ادا نہیں کر سکتا، جب تک اللہ تعالیٰ کے لیے محبت نہیں کرتا اور اُسی کے لیے بغض نہیں رکھتا، پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے اور اُسی کے لیے بغض رکھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت اور دوستی کا مستحق قرار پاتا ہے اور بیشک میرے اولیاء میرے بندوں میں سے ہوتے ہیں اور میری مخلوق میں سے وہ لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، جن کو میرے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے اور مجھے ان کے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۴۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف رشدین بن سعد، عبدِ اللہ بن الولید، ولانقطاعہ، ابو منصور مولی الانصار لم یلق عمرو بن الجموح (انظر: ۱۵۵۴۹)
9453
Zaeef

Chapters

10
01
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
7 Hadith
02
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
5 Hadith
03
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
10 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
8 Hadith
05
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
6 Hadith
06
آدمی کا اپنے محبوب کو محبت کے بارے میں بتلانے کا بیان
2 Hadith
07
اللہ تعالیٰ کے لیے صحبت اور بھائی چارے کے حقوق کا بیان
3 Hadith
08
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
4 Hadith
09
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
9 Hadith
10
مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
6 Hadith
No chapter matched that.