TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان - نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان - محبت اور صحبت کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of محبت اور صحبت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 10 · 5 Hadith
۔ (۹۴۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا قَالَ: یَا جِبْرِیْلُ! اِنِّیْ اُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ، فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ فِی السَّمٰوَاتِ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ، فَیُلْقٰی حُبُّہُ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ فَیُحِبُّ، وَاِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا قَالَ: یَاجِبْرِیْلُ! اِنِّیْ اُبْغِضُ فُلانًا فَاَبْغِضُوْہُ، فَیُلْقِیْ جِبْرِیْلُ فِیْ السَّمٰوَاتِ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُبْغِضُ فُلانًا فَاَبْغِضُوْہُ، فَیُوْضَعُ لَہُ الْبُغْضُ لِاَھْلِ الْاَرْضِ فَیُبْغَضُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۲۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس جبریل آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پاس تم بھی اس سے محبت کرو، پھر اس کی محبت اہل زمین میں ڈال دی جاتی ہے اور وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو وہ کہتا ہے: اے جبریل! میں فلاں بندے سے بغض رکھتا ہوں، پس تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر جبریل آسمانوں میں یہ اعلان کر تے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر اہل زمین میں بھی اس کا بغض رکھ دیا جاتا ہے اور وہ بھی اس سے بغض کرنے لگ جاتے ہیں۔
Takhreej
(۹۴۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۴۸۵، ومسلم: ۲۶۳۷ (انظر: ۱۰۶۱۵)
9431
Sahih
۔ (۹۴۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ اِذَا اَحَبَّ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِیْلَ: اَنِّیْ اُحِبُّ فُلانًا فَاَحِبَّہُ، فَیَقُوْلُ جِبْرِیْلُ لِاَھْلِ السَّمَائِ: اَنَّ رَبَّکُمْ یُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْہُ، قَالَ: فَیُحِبُّہُ اَھْلُ السَّمَائِ قَالَ: وَیُوْضَعُ لَہُ الْقَبُوْلُ فِی الْاَرْضِ، قَالَ: وَاِذَا اَبْغَضَ فَمِثْلُ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۷۶۱۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل علیہ السلام اہل آسمان سے کہتے ہیں: بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہو، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں بھی وہ آدمی مقبول ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس آدمی سے بغض رکھتا ہو، اس کے ساتھ اسی قسم کا معاملہ پیش آتا ہے ۔
Takhreej
(۹۴۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… غور کریں کہ کسی مسلمان کی قبولیت اور عدم قبولیت کے فیصلے عرش پر کیے جاتے ہیں اور پھر ان کو نشر کر دیا جاتا ہے، جس آدمی کے عمل میں اخلاص نہیں ہو گا، اس کا عمل اس کے لیے مذمت کا سبب بنے گا، کیونکہ ایسا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہیںہے۔
9432
Sahih
۔ (۹۴۳۳)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ اِذَا رَضِیَ عَنِ الْعَبْدِ اَثْنٰی عَلَیْہِ سَبْعَۃَ اَصْنَافٍ مِنَ الْخَیْرِ لَمْ یَعْمَلْہُ، وَاِذَا سَخِطَ عَلَی الْعَبْدِ اَثْنٰی عَلَیْہِ سَبْعَۃَ اَصْنَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ یَعْمَلْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو خیر کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی تعریف کرتا ہے، جن پر ابھی تک اس نے عمل نہیں کیا ہوتا، اسی طرح جب وہ کسی بندے سے ناراض ہو جاتا ہے تو شرّ کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی مذمت کرتا ہے، جن کا ابھی تک اس نے ارتکاب نہیں کیا ہوتا۔
Takhreej
(۹۴۳۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۳۱، وابن حبان: ۳۶۸ (انظر: ۱۱۳۳۸)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ اس کو سات قسم کی نیکیاں کرنے کی توفیق دے گا، لیکن ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا تذکرۂ خیر لوگوں میں عام کر دے گا، اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے۔ دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں لوگوں کی معائب و نقائص پر پردہ تو ڈالا جا سکتا ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کی نیکیوں کو مخفی نہیں رہنے دیتا، اگرچہ ان کو خلوت میں سر انجام دیا گیا ہو، جب کسی بندۂ خدا کے سوانح عمری قلم بند کیے جاتے ہیں تو لکھاری اس کی زندگی کے تمام گوشے منظرِ عام پر لے آتے ہیں۔
9433
Zaeef
۔ (۹۴۳۴)۔ حَدَّثَنَا اَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ نِ الْوَاسِطِیِّ، عَنْ اَبِیْ طَیْبَۃَ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمِقَۃَ مِنَ اللّٰہِ، قَالَ شَرِیْکٌ: ھِیَ الْمَحَبَّۃُ وَالصَّیْتُ مِنَ السَّمَائِ، فَاِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا، قَالَ لِجِبْرِیْلَ: اِنِّیْ اُحِبُّ فُلانًا، فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَمِقُیَعْنِیْیُحِبُّ فُلانًا فَاَحِّبُوْہُ، اَرٰی شَرِیْکًا قَدْ قَالَ: فَیَنْزِلُ لَہُ الْمَحَبَّۃُ فِیالْاَرْضِ، وَ اِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا، قَالَ لِجِبْرِیْلَ: اِنِّیْ اُبْغِضُ فُلانًا فَاَبْغِضْہُ، قَالَ: فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ: اِنَّ رَبَّکُمْ یُبْغِضُ فُلَانًا فَاَبْغِضُوْہُ، قَالَ: اَرٰی شَرِیْکًا قَدْ قَالَ: فَیَجْرِیْ لَہُ الْبُغْضُ فِی الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۲۶)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک محبت اور شہرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے آتی ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے محبت کرتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، پس جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم سب اس سے محبت کرو، پھر زمین میں بھی اس کی محبت اتر آتی ہے، اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی سے بغض رکھتا ہے تو وہ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہوں، پس تو بھی اس سے بغض رکھ، پھر جبریل علیہ السلام اعلان کرتے ہیں کہ بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہو، لہٰذا تم بھی اس سے بغض رکھو، پھر زمین میں بھی اس کے لیے بغض اتار دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۴۳۴) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۲۲۷۰)
9434
Sahih
۔ (۹۴۳۵)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ صَبِیٌّ عَلٰی ظَھْرِ الطَّرِیْقِ، فَمَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ نَاسٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ،فَلَمَّارَاَتْاَمُّالصَّبِیِّ الْقَوْمَ خَشِیَتْ اَنْ یُوْطَاَ اِبْنُھَا، فَسَعَتْ وَحَمَلَتْہُ، وَقَالَتْ: اِبْنِیْ اِبْنِیْ، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا کَانَتْ ھٰذِہِ لِتُلْقِیَ اِبْنَھَا فِی النَّارِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ولَا یُلْقِی اللّٰہُ حَبِیْبَہُ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۰۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بچہ راستے پر پڑا تھا، وہاں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ہوا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صحابہ بھی تھے، جب اس بچے کی ماں نے لوگوں کو دیکھا تو اسے یہ ڈر محسوس ہونے لگا کہ بچہ روند دیا جائے گا، پس وہ یہ کہتے ہوئے دوڑی کہ میرا بیٹا، میرابیٹا اور پھر اس کو اٹھا لیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ماں اپنے بچے کو آگ میں تو نہیں ڈالے گی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں ڈالے گی اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔
Takhreej
(۹۴۳۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البزار: ۳۴۷۶، وابویعلی: ۳۷۴۷، والحاکم: ۱/ ۵۸(انظر: ۱۳۴۶۷)
Explanation
فوائد:… کوئی اللہ تعالیٰ سے محبت کر کے تو دیکھے، اس کی طرف سے جوابی کاروائی محبت کرنے والے کی سوچ سے بڑھ کر ہوتی ہے۔
9435
Sahih

Chapters

10
01
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
7 Hadith
02
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
5 Hadith
03
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
10 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
8 Hadith
05
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
6 Hadith
06
آدمی کا اپنے محبوب کو محبت کے بارے میں بتلانے کا بیان
2 Hadith
07
اللہ تعالیٰ کے لیے صحبت اور بھائی چارے کے حقوق کا بیان
3 Hadith
08
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
4 Hadith
09
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
9 Hadith
10
مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
6 Hadith
No chapter matched that.