TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان - نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان - محبت اور صحبت کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of محبت اور صحبت کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 10 · 10 Hadith
۔ (۹۴۳۶)۔ عَنْ ثَابِتِ نِ الْبَنَانِیِّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَعْمَلَ کَعَمَلِہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔))، فَقَالَ اَنَسٌ: فَمَا رَاَیْتُ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرِحُوْا بِشَیْئٍ قَطُّ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ الْاِسْلَامَ مَافَرِحُوْا بِھٰذَا مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَنَسٌ: فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَعْمَلَ کَعَمَلِہِ، فَاِذَا کُنَّا مَعَہُ فَحَسْبُنَا۔(مسند احمد: ۱۳۳۴۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک شخص کسی آدمی سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس کے عمل جیسے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ محبت کرتا ہو گا۔ پس میں نے صحابہ کرام کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کسی چیز کی وجہ سے اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے خوش ہوئے، ما سوائے اسلام کے۔ پھر سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محبت کرتے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل جتنے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، پس جب ہمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتھ مل جائے گا تو وہی کافی ہو گا۔
Takhreej
(۹۴۳۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۳۳۱۶)
Explanation
فوائد:… اس میں اہل خیر و صلاح لوگوں کے ساتھ محبت رکھنے کی فضیلت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا بھی بیان ہے کہ وہ ان سے محبت رکھنے کی وجہ سے ان سے کم مرتبہ لوگوں کو بھی بلند تر درجوں پر فائز کر کے محبوبین کے ساتھ ملا دے گا۔ لیکن اس بشارت کے ساتھ ساتھ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے وعید بھی ہے جو بدکردار لوگوں کے ساتھ خصوصی تعلق اور محبت رکھتے ہیں اور حقیقی محبت نہ ہونے کی صورت میں خوشامد، چاپلوسی اور دو رخی سے کام لیتے ہوئے پرخلوص محبتوں کے دعوے کرتے ہیں، ممکن ہے کہ ان کا حشر بھی ان کے ساتھ ہو۔
9436
Sahih
۔ (۹۴۳۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہِ، فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِطُ۔)) وقَالَ مُؤْمِلٌ: مَنْ یُخَالِلُ۔ (مسند احمد: ۸۰۱۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، پس ہر ایک کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی اختیار کیے ہوئے ہے۔
Takhreej
(۹۴۳۷) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ ابوداود: ۴۸۳۳، والترمذی: ۲۳۷۸ (انظر: ۸۰۲۸)
Explanation
فوائد:… ضرب المثل ہے: خربوزہ، خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے ہر دوست کو اپنے دوست کا طرزِ حیات، عادات و اطوار اور طریقہ و سیرت اختیار کرنا پڑتا ہے، نمازی لوگ بے نمازوں کی مجلسوں میں جانے کی وجہ سے اپنی نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر گانا اور موسیقی سن کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنی پڑتی ہے، اس لیے دوستی لگاتے وقت غور و فکر کرنا چاہیے، اگر کسی کا دین اور اخلاق پسند ہے تو اسے دوست بنا لیا جائے۔ اچھا آدمی اس وجہ سے بدنام ہو جاتا ہے کہ برے لوگ اس کے دوست ہوتے ہیں۔ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ برے آدمی کو سمجھانے کے لیے اس سے حسنِ اخلاق سے پیش آنا اور بات ہے اور کسی سے دوستی لگانا اور بات ہے۔
9437
Sahih
۔ (۹۴۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سمَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا تَصْحَبْ اِلَّا مُؤْمِنًا وَلَایَاْ کُلْ طَعَامَکَ اِلَّا تَقِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو صرف مؤمن کا ساتھی بن اور تیرا کھانا نہ کھائے، مگر متقی آدمی۔
Takhreej
(۹۴۳۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۸۳۲، والترمذی: ۲۳۹۵ (انظر: ۱۱۳۳۷)
Explanation
فوائد:… مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ صاحب ِ ایمان لوگ اس کے دوست ہوں اور پرہیزگار لوگ اس کے مہمان بنیں،یہ بات علیحدہ ہے کہ ہر مہمان کی میزبانی کرنی چاہیے۔
9438
Sahih
۔ (۹۴۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! الرَّجُل یُحِبُّ الْقَوْمَ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَعْمَلَ بِاَعْمَالِھِمْ، قَالَ: ((اَنْتَ یَااَبَاذَرٍّ! مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَاِنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ یُعِیْدُھَا مَرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۰۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس جیسے عمل کر نے کی طاقت نہیں رکھتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت رکھے گا۔ میں نے کہا: تو بیشک میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے ایکیا دو دفعہ یہ بات دوہرائی۔
Takhreej
(۹۴۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۵۱۲۶ ۲۱۳۷۹ (انظر: )
9439
Sahih
۔ (۹۴۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ رَجُلًا اَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا یَلْحَقْ بِھِمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۹)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن ان کو مل نہیں پاتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔
Takhreej
(۹۴۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۴۱ (انظر: ۱۹۶۲۸)
Explanation
فوائد:… جو آدمی اخلاص کے ساتھ نیک لوگوں سے محبت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے دل کے قرب کو دیکھ کر ان ہی لوگوں میں اس کا شمار کر لیتا ہے، اس میں نیک لوگوں سے محبت دینے کی ترغیب ہے۔ لیکن ان روایات سے یہ مفہوم کشید کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ اگر نیک لوگوں سے محبت ہو تو اعمالِ صالحہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
9440
Sahih
۔ (۹۴۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، رِوَایَۃً، قَالَ: ((اَلْمُؤُمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِیَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ اِنْ لَمْ یُحْذِکَ مِنْ عِطْرِہِ عَلِقَکَ مِنْ رِیْحِہِ، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ السَّوْئِ مَثَلُ الْکِیْرِ اِنْ لَمْ یُحْرِقْکَ نَالَکَ مِنْ شَرَرِہِ، وَالْخَازِنُ الْاَمِیْنُ الَّذِیْیُؤَدِّیْ مَا اُمِرَ بِہٖمُؤْتَجِرًااَحْدُالْمُتَصَدِّقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۴)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا بعض بعض کو مضبوط کرتا ہے، اور نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی طرح ہے کہ اگر اس نے تجھے کوئی عطر نہ دیا تو تیرے ساتھ اس کی خوشبو لگ جائے گی، اور برے ہم مجلس کی مثال لوہار کی دھونکنی کی سی ہے کہ اگر اس نے تجھے جلا نہ دیا تو اس کی چنگاریاں تجھ پر ضرور پڑیں گے، اور وہ امانت دار خزانچی بھی صدقہ کرنے والوں میں ایک ہے، جو بنیّت ِ ثواب وہ کچھ دے دیتا ہے، جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۴۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ بعضہ البخاری: ۲۱۰۱، ومسلم: ۲۶۲۸ (انظر: ۱۹۶۲۴)
9441
Sahih
۔ (۹۴۴۲)۔ (وَمِنْ طریقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَامُوْسٰی الْاَشْعَرِیَّیَقُوْلُ : عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ کَمَثَلِ الْعَطَّارِ۔))، فَذَکَرَ نَحْوَہُ مُخْتَصَرًا۔ (مسند احمد: ۱۹۸۹۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا تھا کہ نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی ہے۔ پھر اختصار کے ساتھ اوپر والی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۹۴۴۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… نیک ہم نشین نیکیوں کا سبب بنے گا اور برا ہم مجلس برائیوں کا۔
9442
Sahih
۔ (۹۴۴۳)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ، قَالَ: وَفَدْتُ فِیْ خَلَافَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَاِنّمَا حَمَلَنِیْ عَلَی الْوِفَادَۃِ لُقِیُّ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَاَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَقِیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)فَقُلْتُ لَہُ: ھَلْ رَاَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَغَزَوْتُ مَعَہُ اِثْنَتَیْ عَشَرَۃَ غَزَوَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۵۹)
۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں کہیں روانہ ہوا، اس روانگی پر آمادہ کرنے والی چیز سیدنا ابی بن کعب اور دوسرے صحابہ کی ملاقات تھی، پس میں سیدنا صفوان بن عسال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ میں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بارہ غزوے بھی کیے ہیں۔
Takhreej
(۹۴۴۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۳۶۱ (انظر: ۱۸۰۹۰)
Explanation
فوائد:… صحابۂ کرام سے محبت نے زِرّ بن حبیش کو آنے پر مجبور کیا۔
9443
Sahih
۔ (۹۴۴۴)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَانَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعْنَا لَہُ غِسْلًا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ اَتَیْنَاہُ بِمِلْحَفَۃٍ وَرْسِیَّۃٍ، فَاشْتَمَلَ بِھَا، فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی اَثَرِ الْوَرْسِ عَلٰی عُکَنِہِ، ثُمَّ اَتَیْنَاہُ بِحِمَارٍ لِیَرْکَبَ فَقَالَ: ((صَاحِبُ الْحِمَارِ اَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِہِ)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالْحِمْارُ لَکَ ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۴۵)
۔ سیدنا قیس بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غسل کا پانی رکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کیا، پھر ہم زرد سرخی مائل چادر لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اپنے جسم پر لپیٹ لیا، گویا کہ اب بھی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس بوٹی کے نشان دیکھ رہا ہوں، پھر ہم سواری کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک گدھا لائے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گدھے کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پس یہ گدھا ہے ہی آپ کے لیے۔
Takhreej
(۹۴۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن ابی لیلی ضعیف سییء الحفظ، ومحمد بن شرحبیل مجھول، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۶۶، ۳۶۰۴ (انظر: ۲۳۸۴۴)
Explanation
فوائد:… درج ذیل حدیث صحیح ہے۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِی جَاء َ رَجُلٌ وَمَعَہُ حِمَارٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اِرْکَبْ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِکَ مِنِّی إِلَّا أَنْ تَجْعَلَہُ لِی۔)) قَالَ فَإِنِّی قَدْ جَعَلْتُہُ لَکَ فَرَکِبَ۔ … رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیدل چل رہے تھے کہ ایک آدمی آیا، جبکہ اس کے ساتھ گدھا بھی تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سوار ہو جائیں، پھر وہ خود پیچھے ہٹ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تو خود اپنے جانور کے اگلے حصے پر بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے، الا یہ کہ تو اس کو میرے لیے کر دے۔ اس نے کہا: جی میں نے اس حصے کو آپ کے لیے کر دیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار ہو گئے۔ (ابوداود: ۲۲۰۸، ترمذی: ۲۷۷۳) ایک طرف نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تواضع اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا، دوسری طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اکرام کا حق ادا کر دیا۔
9444
Zaeef
۔ (۹۴۴۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَنْ اَذَلَّ لِیْ وَلِیًّا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَنْ آذٰی لِیْ وَلِیًّا) فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِیْ، وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِمِثْلِ اَدَائِ الْفَرَائِضِ، وَمَا یَزَالُ الْعَبْدُ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہُ اِنْ سَاَلَنِیْ اَعْطَیْتُہُ، وَاِنْ دَعَانِیْ اَجَبْتُہُ، مَاتَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْئٍ اَنَا فَاعِلُہُ تَرَدُّدِیْ عَنْ وَفَاتِہِ، لِاَنَّہُ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَاَکْرَہُ مَسَائَ تَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۲۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛ جس نے میرے دوست کی توہین کی، ایک روایت میں ہے: جس نے میرے دوست کو تکلیف دی، اس نے میرے ساتھ لڑنے کو حلال سمجھ لیا ہے، اور فرائض کی ادائیگی سے ہی میرا بندہ میرا قرب حاصل کر سکتا ہے، لیکن بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں، پھر جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں اور مجھے جتنا تردّد مؤمن کی وفات پر ہوتا ہے، اتنا کسی اور کام پر نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے غم کو پسند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۹۴۴۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، وللحدیث شاھد أخرجہ البخاری: ۶۵۰۲ عن ابی ھریرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، أخرجہ البزار: ۳۶۲۷، والطبرانی فی الاوسط : ۹۳۴۸ (انظر: ۲۶۱۹۳)
Explanation
فوائد:… ولی اس پرہیز گار مومن کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی پیروی کرتا ہے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَا ٓ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْف’‘ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْایَتَّقُوْنَ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ } … خبردار! بیشک اللہ تعالیٰ کے اولیائ، نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے، وہ لوگ جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے تھے، دنیوی اور اخروی دونوں زندگیوں میں ان کے لیے خوشخبری ہے۔ (سورۂ یونس: ۶۴) اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا اکرام ضروری ہے، ان کی توہین کرنا اللہ تعالیٰ سے لڑنے کے مترادف ہے۔ انسان مرنا نہیں چاہتا، اللہ کی حکمت مصلحت یہ ہے لوگ مرتے ہیں اور نئے آتے رہیں۔ اللہ نے اس کیفیت کو تردد سے تعبیر کیا۔ اس اظہار میں اللہ کا بندے کے ساتھ لطف و کرم ہے۔ پھر اللہ کی مصلحت و حکمت غالب آتی ہے اور اللہ بندے کو بعض عوارض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جس سے اس کی موت کے لیے کراہت ختم ہو جاتی ہے تو اللہ اسے فوت کر لیتا ہے۔ یا فرشتوں کا تردد مراد ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف ملک الموت کو بھیجنے والا واقعہ ہے۔ (مزید دیکھیں: فتح الباری جلد:۱، ص: ۳۴۵ اور مترجم سلسلہ صحیحہ جلد: ۱، ص: ۱۶۵)
9445
Sahih

Chapters

10
01
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
7 Hadith
02
نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
5 Hadith
03
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
10 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
8 Hadith
05
اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان
6 Hadith
06
آدمی کا اپنے محبوب کو محبت کے بارے میں بتلانے کا بیان
2 Hadith
07
اللہ تعالیٰ کے لیے صحبت اور بھائی چارے کے حقوق کا بیان
3 Hadith
08
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
4 Hadith
09
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
9 Hadith
10
مریض کے لیے دعائیہ کلمات کہنے کی اور وہ کلمات ادا کرنے کی ترغیب کا بیان،جو مریض خود کہے گا
6 Hadith
No chapter matched that.