TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب مَا يُوجب الْوضُوء - وجوب وضو کے اسباب کا بیان - پاکیزگی کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 1 of پاکیزگی کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 13 · 34 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
وَعَن طلق بن عَليّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ. قَالَ: «وَهَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحوه قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَذَا مَنْسُوخٌ لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ بَعْدَ قدوم طلق
طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، آدمی کے وضو کر لینے کے بعد اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا گیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ (شرم گاہ) بھی اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ۔‘‘ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ منسوخ ہے ، کیونکہ ابوہریرہ ؓ طلق ؓ کی آمد کے بعد مسلمان ہوئے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۱۸۲) و الترمذی (۸۵) و النسائی (۱ / ۱۰۱ ح ۱۶۵) و ابن ماجہ (۴۸۳) ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۱۸۲) و الترمذی (۸۵) و النسائی (۱ / ۱۰۱ ح ۱۶۵) و ابن ماجہ (۴۸۳) * کلام محیی السنۃ فی مصابیح السنۃ (۲۲۱) ۔
320
Sahih
وَقد روى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا شَيْءٌ فَلْيَتَوَضَّأْ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ والدراقطني
ابوہریرہ ؓ کی سند سے رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو لگائے جبکہ اس (ہاتھ) اور اس (شرم گاہ) کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ وضو کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ الشافعی (۱ / ۱۹) و الدار قطنی (۱ / ۱۴۷ ح ۵۲۵) و ابن حبان (۱۱۱۵) المستدرک (۱ / ۱۳۸ تحت ح ۴۷۹) و النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الشافعی فی الام (۱ / ۱۹) و الدارقطنی (۱ / ۱۴۷ ح ۵۲۵) و ابن حبان (الاحسان : ۱۱۱۵) و الطبرانی فی الصغیر بلفظ : اذا افضی احدکم بیدہ الی فرجہ ولیس بینھما ستر ولا حجاب فلیتوضأ ، (۱ / ۴۲ ح ۱۰۳) اللفظ لابن حبان و سندہ حسن ۔ و انظر المستدرک (۱ / ۱۳۸ تحت ح ۴۷۹) * فیہ یزید بن عبدالملک النوفلی وھو ضعیف ولکن تابعہ نافع بن ابی نعیم القاری وھو حسن الحدیث فالحدیث حسن ، و رواہ النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) نحوالمعنی عن مروان موقوفًا و سندہ صحیح فائدۃ : حدیث طلق رضی اللہ عنہ محمول علی مس الذکر من غیر ستر ولا حجاب ۔
321
Sahih
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ بُسْرَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يذكر: «لَيْسَ بَينه بَينهَا شَيْء»
امام نسائی نے اسے بسرہ ؓ سے روایت کیا ہے ، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ’’ اس کے اور اس کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو ۔‘‘ لم اجدہ ۔
Takhreej
لم اجدہ ، رواہ النسائی (لم اجدہ بھذا اللفظ وھو باطل) و انظر ح ۳۱۹ ۔
322
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا بِحَالٍ إِسْنَادُ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَأَيْضًا إِسْنَادُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْهَا وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسل وَإِبْرَاهِيم التَّيْمِيّ لم يسمع من عَائِشَة
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی ﷺ اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ، پھر آپ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : عروہ عن عائشہ ؓ ، اور ابراہیم التیمی عن عائشہ ؓ کی سند سے یہ حدیث ہمارے اصحاب کے ہاں صحیح نہیں ، اور ابوداؤد ؒ نے فرمایا : یہ حدیث مرسل ہے ، اور ابراہیم التیمی نے عائشہ ؓ سے نہیں سنا ۔ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۷۸ ، ابراھیم التیمی لم یسمع من عائشۃ رضی اللہ عنھا ۱۷۹ ، الاعمش و حبیب بن ابی ثابت مدلسان و حبیب لم یسمعہ من عروۃ فالسند معلول) و الترمذی (۸۶ ، الاعمش و حبیب عنعنا) و النسائی (۱ / ۱۰۴ ح ۱۷۰ ، ابراھیم التیمی عن عائشۃ منقطع) و ابن ماجہ (۵۰۲ ، الاعمش و حبیب عنعنا) * و للحدیث شاھد ضعیف عند الدار قطنی (۱ / ۱۳۷ ح ۴۸۶) و البزار (انظر نصب الرایۃ ۱ / ۱۷۱) حدیث عبد الکریم بن مالک الجزری عن عطاء حدیث ردی فالسند ضعیف ، و لہ شاھد آخر عند الدارقطنی (۱ / ۱۳۶ ح ۴۸۲) فیہ حاجب بن سلیمان ، قال الدارقطنی : تفرد بہ حاجب عن وکیع و وھم فیہ ۔
323
Zaeef
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَده بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه وَأحمد
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دستی کا گوشت کھایا ، پھر اپنے نیچے بچھی ہوئی چادر سے اپنا ہاتھ صاف کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۸۹) و ابن ماجہ (۴۸۸) * سماک عن عکرمۃ سلسلۃ ضعیفۃ ۔
324
Zaeef
وَعَن أم سَلمَة أَنَّهَا قَالَتْ: قَرَّبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے بھنی ہوئی پسلی (چانپ) نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کی تو آپ ﷺ نے اس میں سے تناول فرمایا ، پھر نماز کے لیے اٹھے اور وضو نہیں کیا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۶ / ۳۰۷ ح ۲۷۱۵۷) [و الترمذی (۱۸۲۹ وقال : حسن صحیح غریب) و النسائی الکبری (۴۶۹۰)] 797
325
Sahih
عَن أبي رَافع قَالَ: أَشْهَدُ لَقَدْ كُنْتُ أَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ الشَّاةِ ثُمَّ صلى وَلم يتَوَضَّأ. رَوَاهُ مُسلم
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بکری کی کلیجی اور دل وغیرہ بھونا کرتا تھا ، (آپ نے اسے کھایا) پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۹۴ / ۳۵۷) ۔
326
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ ثُمَّ قَالَ ناولني الذِّرَاع الآخر فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتُّ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ فَاهُ وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً. رَوَاهُ أَحْمد
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، انہیں ایک بکری ہدیہ کے طور پر دی گئی ، تو انہوں نے اسے ہنڈیا میں ڈال دیا ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا :’’ ابورافع ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک بکری ہمیں بطور ہدیہ دی گئی تھی تو میں نے اسے ہنڈیا میں پکایا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابورافع ! مجھے دستی دو ۔‘‘ میں نے دستی آپ کو دے دی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے دوسری دستی دو ۔‘‘ میں نے دوسری دستی بھی آپ کو دے دی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اور دستی دو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! بکری کی صرف دو دستیاں ہوتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ اگر تم خاموش رہتے اور جب تک خاموش رہتے تو مجھے یکے بعد دیگرے دستی ملتی رہتی ۔‘‘ پھر آپ نے پانی منگوایا ، کلی کی اور اپنی انگلیوں کے کنارے دھوئے ، پھر کھڑے ہوئے تو نماز پڑھی ، پھر دوبارہ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کے ہاں ٹھنڈا گوشت پایا تو اسے کھایا ، پھر آپ مسجد میں تشریف لے گئے تو نماز پڑھی ، اور پانی کو ہاتھ تک نہ لگایا ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۶ / ۳۹۲ ح ۲۷۷۳۷) * شرجیل بن سعد ـ : ضعیف ضعفہ الجمھور و انظر الحدیث الآتی (۳۲۸) ۔
327
Zaeef
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ إِلَى آخِرِهِ
دارمی نے ابوعبید سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے :’’ پھر پانی منگایا ۔‘‘ سے آخر تک ذکر نہیں کیا ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱ / ۲۲ ح ۴۵) [و احمد (۳ / ۴۸۴ ، ۴۸۵ ح ۱۶۰۶۳) و الترمذی فی الشمائل (۱۶۸)] * فیہ قتادۃ مدلس و عنعن و انظر الحدیث السابق (۳۲۷) ۔
328
Zaeef
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ فَقَالَا لِمَ تَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا فَقَالَا أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْك. رَوَاهُ أَحْمد
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ، ابی بن کعب اور ابوطلحہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے ، پس ہم نے گوشت روٹی کھائی ، پھر میں نے وضو کے لیے پانی منگایا ، تو ان دونوں نے کہا : تم وضو کیوں کرتے ہو ؟ میں نے کہا : اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے ، تو انہوں نے کہا : کیا تم پاکیزہ چیزوں سے وضو کرتے ہو ؟ یہ چیزیں کھا کر تو اس شخصیت (یعنی نبی ﷺ) نے وضو نہیں کیا جو تم سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۴ / ۳۰ ح ۱۶۴۷۹) ۔
329
Sahih
وَعَن ابْن عمر كَانَ يَقُولُ: قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسُّهَا بِيَدِهِ مِنَ الْمُلَامَسَةِ. وَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَعَلَيهِ الْوضُوء. رَوَاهُ مَالك وَالشَّافِعِيّ
ابن عمر ؓ کہا کرتے تھے : آدمی کا اپنی اہلیہ کا بوسہ لینا اور اسے اپنے ہاتھ سے چھونا ملامسہ کے زمرے میں ہے ، اور جو شخص اپنی اہلیہ کا بوسہ لے یا اسے اپنے ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو کرنا لازم ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک و الشافعی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ مالک فی الموطا (۱ / ۴۳ ح ۹۳) و الشافعی فی الام (۱ / ۱۵) ۔
330
Sahih
وَعَن ابْن مَسْعُود كَانَ يَقُولُ: مِنْ قُبْلَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ الْوُضُوءُ. رَوَاهُ مَالك
ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے : اپنی اہلیہ کا بوسہ لینے سے وضو کرنا ضروری ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ مالک فی الموطا (۱ / ۴۴ ح ۹۴) * و اخرجہ البیھقی (۱ / ۱۲۴) بسند حسن عن ابن مسعود بہ وللاثر طرق ۔
331
Sahih
وَعَن ابْن عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِن الْقبْلَة من اللَّمْس فتوضؤوا مِنْهَا
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : بے شک بوسہ لینا ، لمس کے زمرے میں آتا ہے ، پس اس (وجہ) سے وضو کرو ۔ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف رواہ الدارقطنی (۱ / ۱۴۴) * الزھری مدلس و عنعن و فیہ آخری و الصواب انہ من قول ابن عمر کما رواہ مالک عن نافع عنہ بہ ، انظر الحدیث السابق (۳۳۰) ۔
332
Zaeef
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ تَمِيمِ الدَّارِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ» . رَوَاهُمَا الدَّارَقُطْنِيُّ وَقَالَ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَلَا رَآهُ وَيَزِيدُ بن خَالِد وَيزِيد بن مُحَمَّد مَجْهُولَانِ
عمر بن عبدالعزیز ؒ تمیم داری ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر قسم کے بہتے خون کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے ۔‘‘ دونوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیا ، اور انہوں نے کہا : عمر بن عبدالعزیز ؒ نے تمیم داری ؓ سے سنا نہ انہیں دیکھا ، جبکہ یزید بن خالد اور یزید بن محمد دونوں مجہول ہیں ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الدارقطنی (۱ / ۱۵۷ ح ۵۷۱) * بقیۃ مدلس و عنعن و زیزید بن خالد و یزید بن محمد مجھولان و فیہ علل أخری ۔
333
Zaeef