مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان

بَاب السّنَن وفضائلها

عَن أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ: أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمغرب وَرَكْعَتَيْنِ بعد الْعشَاء وَرَكْعَتَيْنِ قبل صَلَاة الْفَجْرِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ إِلَّا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي لاجنة أَوْ إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ»

ام حبیبہؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دن اور رات میں (فرض نماز کے علاوہ) بارہ رکعتیں پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے : ظہر سے پہلے چار اور اس کے بعد دو رکعتیں ، مغرب کے بعد دو رکعت ، عشاء کے بعد دو اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں ۔‘‘ ترمذی اور مسلم کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو مسلمان آدمی ہر روز فرائض کے علاوہ اللہ کی رضا کی خاطر بارہ رکعتیں نفل ادا کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے ، یا اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مسلم و الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد ، مغرب کے بعد دو رکعتیں آپ کے گھر پڑھیں اور دو رکعتیں عشاء کے بعد آپ کے گھر میں پڑھیں ، اور انہوں نے بیان کیا ، حفصہ ؓ (جو کہ آپ کی بہن تھیں) نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ فجر طلوع ہو جانے پر ہلکی سی دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن عبد الله بن شَقِيق قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَطَوُّعِهِ فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيصَلي رَكْعَتَيْنِ وَيُصلي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوَتْرُ وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدا وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِم وَإِذا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاة الْفجْر

عبداللہ بن شقیق ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز کے متعلق عائشہ ؓ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : آپ ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعتیں میرے گھر میں پڑھتے ، پھر نماز پڑھانے تشریف لے جاتے ، پھر آ کر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر آپ نماز مغرب پڑھاتے ، پھر گھر تشریف لا کر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر نماز عشاء پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لا کر دو رکعتیں پڑھتے ، آپ وتر سمیت نو رکعت نماز تہجد پڑھا کرتے تھے ، آپ رات دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے ، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے ، اور جب آپ بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر ہی کرتے ، اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ ﷺ دو رکعتیں پڑھتے ۔ مسلم ، اور امام ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : پھر آپ ﷺ نماز فجر پڑھانے کے لیے تشریف لے جاتے ۔ رواہ مسلم و ابوداؤد ۔

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» . رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ فجر کی دو رکعتیں ، دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ، سے بہتر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «صلوا قبل صَلَاة الْمغرب رَكْعَتَيْنِ صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ» . قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «لِمَنْ شَاءَ» . كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سنة

عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ، نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ۔‘‘ تیسری مرتبہ اس اندیشے کے پیش نظر کہ لوگ اسے سنت نہ بنا لیں ، فرمایا :’’ جو کوئی چاہے (پڑھے) ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي أُخْرَى لَهُ قَالَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبعا»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعت پڑھے ۔‘‘ مسلم اور انہی کی دوسری روایت میں ہے :’’ جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو وہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ۔ رواہ مسلم ۔

عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

ام حبیبہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعتوں اور اس کے بعد چار رکعتوں پر دوام اختیار کرتا ہے تو اللہ اسے جہنم پر حرام قرار دے دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ تُفَتَّحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاء» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ظہر سے پہلے چار رکعتوں کے لیے ، جن میں سلام نہ پھیرا گیا ہو ، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يُصَلِّي أَرْبَعًا بَعْدَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ وَقَالَ: «إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عبداللہ بن سائب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ زوال آفتاب کے بعد نماز ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ وہ گھڑی ہے جب آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی عمل صالح اوپر جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ امْرَءًا صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ ، عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھنے والے شخص پر رحم فرمائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عمر بن أَبِي خَثْعَمٍ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: هُوَ مُنكر الحَدِيث وَضَعفه جدا

ابوہریرہؓ بیان کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اور وہ ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو اس کے لیے بارہ سال کی عبادت کے برابر ثواب لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف عمر بن ابی خثعم سے مروی حدیث کے حوالے سے جانتے ہیں جبکہ میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری ؒ) کو فرماتے ہوئے سنا : وہ منکر حدیث ہے ، اور انہوں نے اسے بہت زیادہ ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔ اسنادہ موضوع ۔

وَعَنْهَا قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صلى أَربع رَكْعَات أَو سِتّ رَكْعَات. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ جب بھی عشاء پڑھ کر میرے پاس تشریف لاتے تو آپ چار یا چھ رکعت نماز نفل ادا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إدبار النُّجُوم الركعتان قبل الْفجْر وأدبار السُّجُود الركعتان بعد الْمغرب» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ستاروں کے ڈوبنے کے بعد سے مراد فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور سجدوں کے بعد سے مغرب کے بعد دو رکعتیں ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ تُحْسَبُ بِمِثْلِهِنَّ فِي صَلَاةِ السَّحَرِ. وَمَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَهُوَ يُسَبِّحُ اللَّهَ تِلْكَ السَّاعَةَ ثُمَّ قَرَأَ: (يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لَهُ وهم داخرون) رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ زوال آفتاب کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتوں کا ثواب نماز تہجد کی چار رکعتوں کے ثواب کے برابر ہے ، اس وقت ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ ان کے سائے دائیں سے اور بائیں سے لوٹتے رہتے ہیں ، اللہ کے سامنے جھکتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قطّ وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَتْ: وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَركهمَا حَتَّى لَقِي الله

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد دو رکعتیں میرے ہاں کبھی ترک نہیں کیں ۔ بخاری ۔ مسلم ، اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے ، انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو وفات دی ! آپ نے زندگی بھر یہ دو رکعتیں نہیں چھوڑیں ۔ متفق علیہ ۔