مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان

بَاب السّنَن وفضائلها

وَعَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ: كَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الْأَيْدِيَ عَلَى صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ وَكُنَّا نُصْلِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْس قبل صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْتُ لَهُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا. رَوَاهُ مُسلم

مختار بن فلفل ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس بن مالک ؓ سے نماز عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : عمر ؓ نماز عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے پر ہاتھوں پر مارا کرتے تھے ، اور ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ انہیں پڑھا کرتے تھے ؟ آپ ﷺ ہمیں انہیں پڑھتے دیکھا کرتے تھے لیکن آپ نے ہمیں حکم فرمایا نہ منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ فَرَكَعُوا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسَبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهمَا. رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم مدینہ میں تھے ، جب مؤذن نماز مغرب کے لیے اذان کہتا تو صحابہ ستونوں کی طرف دوڑتے اور دو رکعتیں پڑھتے ، حتیٰ کہ کوئی اجنبی شخص مسجد میں آتا تو وہ ان رکعتوں کو پڑھنے والوں کی کثرت دیکھ کر سمجھتا کہ نماز ہو چکی ہے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَن مرْثَد بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَتَيْتُ عُقْبَةَ الْجُهَنِيَّ فَقُلْتُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ؟ فَقَالَ عُقْبَةُ: إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قُلْتُ: فَمَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشّغل. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرثد بن عبداللہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں عقبہ جہنی ؓ کے پاس آیا تو میں نے کہا : کیا بنو تمیم کے متعلق میں تمہیں تعجب انگیز بات نہ بتاؤں کہ وہ نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہیں ، تو عقبہ ؓ نے فرمایا : ہم بھی رسول اللہ ﷺ کے دور میں ان پر عمل پیرا تھے ، میں نے کہا :اب تمہیں کون سی چیز مانع ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مشغولیت ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن كَعْب بن عجْرَة قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا فَقَالَ: «هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوتِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيِّ قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاة فِي الْبيُوت»

کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ بنو عبدالاشہل قبیلے کی مسجد میں تشریف لائے تو آپ نے وہاں نماز مغرب ادا کی ، جب وہ نماز پڑھ چکے تو آپ ﷺ نے اس کے بعد انہیں نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ یہ گھروں (میں پڑھی جانے) والی نماز ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی اور نسائی کی روایت میں ہے : لوگ کھڑے ہو کر نفل پڑھنے لگے نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم یہ نماز گھروں میں پڑھا کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ۔

وَعَنْ مَكْحُولٍ يَبْلُغُ بِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ رُفِعَتْ صَلَاتُهُ فِي عِلِّيِّينَ» . مُرْسلا

مکحول ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مغرب کے بعد کلام کرنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھتا ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ چار رکعتیں پڑھتا ہے ، تو اس کی نماز علیین میں بلند کی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت مرسل ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَن حُذَيْفَة نَحْوَهُ وَزَادَ فَكَانَ يَقُولُ: «عَجِّلُوا الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَإِنَّهُمَا تُرْفَعَانِ مَعَ الْمَكْتُوبَةِ» رَوَاهُمَا رَزِينٌ وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ الزِّيَادَةَ عَنْهُ نَحْوَهَا فِي شُعَبِ الْإِيمَان

حذیفہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے ، انہوں نے اضافہ نقل کیا ہے : آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ مغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھنے میں جلدی کیا کرو ، کیونکہ وہ فرض نماز کے ساتھ بلند کی جاتی ہیں ۔‘‘ یہ دونوں روایتیں رزین نے روایت کی ہیں ، بیہقی نے حذیفہ ؓ سے مروی زائد الفاظ شعب الایمان میں اسی طرح روایت کیے ہیں ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: إِنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تكلم أوتخرج فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ أَنْ لَا نُوصِلَ بِصَلَاةٍ حَتَّى نتكلم أَو نخرج. رَوَاهُ مُسلم

عمرو بن عطا ؒ بیان کرتے ہیں ، کہ نافع بن جبیر نے انہیں سائب کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے اس چیز کے متعلق پوچھے جو معاویہ ؓ نے ان سے دوران نماز دیکھی ، سائب ؓ نے فرمایا :ہاں ، میں نے معاویہ ؓ کے ساتھ مقصورہ (حکام کے لیے خاص کمرہ) میں نماز جمعہ ادا کی ، جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی اسی جگہ کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی ، جب وہ اپنے گھر تشریف لے گئے تو انہوں نے میری طرف پیغام بھیجتے ہوئے فرمایا : آیندہ ایسے نہ کرنا ، تم نے ایسے کیوں کیا ؟ جب تم نماز جمعہ پڑھ لو تو پھر تم کلام کر لینے یا وہاں سے چلے جانے تک کوئی نماز نہ پڑھو ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم (فرض) نماز کے ساتھ کوئی نفل نہ ملائیں حتیٰ کہ ہم بات چیت کر لیں یا وہاں سے کہیں اور چلے جائیں ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ بِمَكَّةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلَّى الْجُمُعَةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ فَقِيلَ لَهُ. فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَله) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: (رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ صلى بعد ذَلِك أَرْبعا)

عطا ء ؒ بیان کرتے ہیں ، جب ابن عمر ؓ مکہ میں نماز جمعہ ادا فرماتے تو تھوڑا سا آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر آگے بڑھ کر چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر تشریف لے جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نہ پڑھتے ، جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے : انہوں نے بیان کیا ، میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔