TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن کا بیان - فضائل قرآن کا بیان - Book 8 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 8 of Mishkat, with 2 chapters and 114 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

114 Hadith · 2 Chapters
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لأَصْحَابه فِي صلَاتهم فيختم ب (قل هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ» فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لِأَنَّهَا صفة الرَّحْمَن وَأَنا أحب أَن أَقرَأ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْبِرُوهُ أَن الله يُحِبهُ»
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو کسی لشکر کا امیر بنا کر بھیجا ، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا تو قراءت کے آخر میں سورۂ اخلاص پڑھتا ، جب وہ واپس آئے تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا :’’ اس سے پوچھو کے وہ ایسے کیوں کرتا تھا ؟‘‘ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا : کیونکہ وہ رحمان کی صفت ہے ، اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اسے بتا دو کہ اللہ اسے پسند فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۳۷۵) و مسلم (۲۶۳ / ۸۱۳) ۔ 1890
2129
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ: (قُلْ هُوَ الله أحد) قَالَ: إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وروى البُخَارِيّ مَعْنَاهُ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سورۂ اخلاص سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا :’’ بے شک تمہاری اس سے محبت ہی تمہیں جنت میں لے جائے گی ۔‘‘ ترمذی ۔ اور امام بخاری نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے ۔ رواہ البخاری و الترمذی ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۷۷۴) و الترمذی (۲۹۰۱) ۔
2130
Sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتِ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ (قل أعوذ بِرَبّ الفلق) و (قل أعوذ بِرَبّ النَّاس) رَوَاهُ مُسلم
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج رات ایسی آیات نازل ہوئیں کہ ان جیسی پہلے نہیں دیکھی گئیں ، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۶۴ / ۸۱۴) ۔ 1891
2131
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا فَقَرَأَ فيهمَا (قل هُوَ الله أحد) و (قل أعوذ بِرَبّ الفلق) و (قل أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ) ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاث مَرَّات وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَابِ الْمِعْرَاج إِن شَاءَ الله تَعَالَى
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ اپنے بستر پر آرام کرتے تو آپ ہر رات اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کرتے ، پھر سورۂ اخلاص ، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر ہاتھوں پر پھونک مارتے ، پھر جہاں تک ممکن ہوتا انہیں اپنے جسم پر پھیرتے ، آپ ﷺ اپنے سر ، چہرے اور اپنے جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے اور آپ تین مرتبہ ایسا کرتے ۔ متفق علیہ ۔ رسول اللہ ﷺ کے معراج سے متعلق ابن مسعود ؓ سے مروی حدیث ، ہم ان شاء اللہ تعالیٰ باب المعراج میں ذکر کریں گے ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰۱۷) و مسلم (لم اجدہ) 0 حدیث ابن مسعود یاتی (۵۸۶۵) ۔
2132
Sahih
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ تَحْتَ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْقُرْآنُ يُحَاجُّ الْعِبَادَ لَهُ ظَهْرٌ وَبَطْنٌ وَالْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ تُنَادِي: أَلَا مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
عبدالرحمن بن عوف ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تین چیزیں روز قیامت عرش کے نیچے ہوں گی ، قرآن بندوں کی طرف سے جھگڑا کرے گا ، اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ، اور امانت بھی ، جبکہ رحم آواز دے گا ، سن لو ! جس نے مجھے ملایا ، اللہ اسے ملائے اور جس نے مجھے قطع کیا اللہ اسے قطع کرے ۔‘‘ امام بغوی ؒ نے اسے شرح السنہ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۳ / ۲۲ ۔ ۲۳ ح ۳۴۳۳) * فیہ کثیر بن عبداللہ الیشکری لم یوثقہ غیر ابن حبان (۷ / ۳۵۴) و اورادہ العقیلی فی الضعفاء و الحسن بن عبد الرحمن بن عوف : لم یوثقہ غیر ابن حبان ، فھو مجھول الحال ۔
2133
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارَتْقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَة تقرؤها . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حامل و عاملِ قرآن سے کہا جائے گا : پڑھتا جا اور چڑھتا جا ، اور ویسے ترتیل سے پڑھ جیسے تو دنیا میں ترتیل کے ساتھ پڑھا کرتا تھا ، اور تو جہاں آخری آیت پڑھے گا وہیں تیری منزل ہو گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲ / ۱۹۲ ح ۶۷۹۹) و الترمذی (۲۹۱۴ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۱۴۶۴) و النسائی (فی الکبریٰ ۵ / ۲۲ ح ۸۰۵۶ ، فضائل القرآن : ۸۱) [و صححہ ابن حبان (۱۷۹۰) و الذھبی فی تلخیص المستدرک (۱ / ۵۵۳)] ۔
2134
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيح
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پیٹ (دل) میں قرآن کا کچھ حصہ نہ ہو وہ بے آباد گھر کی طرح ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۹۱۳) و الدارمی (۲ / ۴۲۹ ح ۳۳۰۹) * قابوس : فیہ لین ۔
2135
Zaeef
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ. وَفَضْلُ كَلَامِ اللَّهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : قرآن نے جس شخص کو میرے ذکر اور مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا ہو میں اسے اس سے بہتر عطا کرتا ہوں جو سوال کرنے والوں کو دیا جاتا ہے ، اور اللہ کے کلام کو دیگر کلاموں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے جیسے اللہ کو اپنی مخلوق پر برتری حاصل ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ، بیہقی فی شعب الایمان ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۹۲۶) و الدارمی (۲ / ۴۴۱ ح ۳۳۵۹) و البیھقی فی شعب الایمان (۲ / ۳۵۳ ح ۲۰۱۵) * محمد بن الحسن بن ابی یزید : ضعیف و للحدیث شواھد ۔
2136
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا لَا أَقُولُ: آلم حَرْفٌ. أَلْفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب إِسْنَادًا
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن کریم کا ایک حرف پڑھتا ہے تو اسے اس کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے ، اور نیکی دس گنا بڑھ جاتی ہے ، میں نہیں کہتا کہ (الم) ایک حرف ہے ، بلکہ الف ایک حرف ہے ، لام ایک حرف ہے ، میم ایک حرف ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ سند کے لحاظ سے غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۹۱۰) و الدارمی (۲ / ۴۲۹ ح ۳۳۱۱ موقوف علی ابن مسعود رضی اللہ عنہ ۔
2137
Sahih
وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ: أَوَقَدْ فَعَلُوهَا؟ قلت نعم قَالَ: أما إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «أَلا إِنَّهَا سَتَكُون فتْنَة» . فَقلت مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «كتاب الله فِيهِ نبأ مَا كَانَ قبلكُمْ وَخبر مَا بعدكم وَحكم مَا بَيْنكُم وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ هُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلِقُ على كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلَا يَنْقَضِي عَجَائِبُهُ هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا (إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنا بِهِ) مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ وَفِي الْحَارِث مقَال
حارث اعور ؒ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد سے گزرا تو لوگ باتوں میں مشغول تھے ، میں علی ؓ کے پاس گیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا : کیا انہوں نے ایسے کیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : سن لو ! بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سن لو ! عنقریب فتنے پیدا ہوں گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی کتاب ، اس میں سابقہ قوموں کے احوال اور مستقبل کے اخبار اور تمہارے مسائل کا حل ہے ، وہ فیصلہ کن ہے ، بے فائدہ نہیں ، جس نے ازراہ تکبر اسے ترک کر دیا ، اللہ نے اسے ہلاک کر ڈالا ، جس نے اس کے علاوہ کسی اور چیز سے ہدایت تلاش کرنے کی کوشش کی تو اللہ نے اسے گمراہ کر دیا ، وہ اللہ کی مضبوط رسی (یعنی وسیلہ) ہے ، وہ ذکر حکیم اور صراط مستقیم ہے ، اس کی وجہ سے خواہیش ٹیڑھی ہوتی ہیں نہ زبانیں اختلاط و التباس کا شکار ہوتی ہیں اور نہ علما اس سے سیر ہوتے ہیں ، کثرت تکرار سے وہ پرانی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے عجائب ختم ہوتے ہیں ، وہ ایسی کتاب ہے کہ جسے سن کر جن بے ساختہ پکار اٹھے کہ ’’ہم نے عجب قرآن سنا ہے جو رشد و بھلائی کی طرف راہنمائی کرتی ہے لہذا ہم اس پر ایمان لے آئے ۔‘‘ جس نے اس کے حوالے سے کہا ، اس نے سچ کہا ، جس نے اس کے مطابق عمل کیا وہ اجر پا گیا ، جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے عدل کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا وہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت پا گیا ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : اس حدیث کی سند مجہول ہے اور حارث پر کلام کیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۲۹۰۶) و الدارمی (۲ / ۴۳۵ ح ۳۳۳۴ ، ۳۳۳۵) * الحارث الاعور : ضعیف جدًا ۔
2138
Zaeef
وَعَن معَاذ الْجُهَنِيّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا؟» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
معاذ جہنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس کے مطابق عمل کیا تو روز قیامت اس کے والدین کو ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی تمہارے دنیا کے گھروں میں چمکنے والے سورج کی روشنی سے زیادہ اچھی ہو گی ، تمہارا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اس کے مطابق عمل کیا ہو ! ‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۳ / ۴۴۰ ح ۱۵۷۳۰) و ابوداؤد (۱۴۵۳) * زبان ضعیف و صححہ الحاکم (۱ / ۵۶۷ ۔ ۵۶۸) فتعقبہ الذھبی بقولہ :’’زبان لیس بالقوی ‘‘ و روی الحاکم (۱ / ۵۶۷ ح ۲۰۸۶) عن بریدۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم من قرا القرآن و تعلمہ و عمل بہ البس یوم القیامۃ تاجًا من نور ضوؤہ مثل ضوء الشمس و بکسی و الدایہ حلتلان لا یقوم بھما الدنیا فیقولان : بما کسینا فیقال باخذ ولد کما القرآن ‘‘ و صححہ الحاکم علی شرط مسلم و وافقہ الذھبی و سندہ حسن و رواہ احمد (۵ / ۳۴۸ ح ۲۲۹۵۰) و البغوی فی شرح السنۃ (۴ / ۴۵۴ ح ۱۱۹۰) مطولاً و قال البغوی : حسن غریب ۔
2139
Zaeef
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ جُعِلَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّار مَا احْتَرَقَ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اگر قرآن کو چمڑے میں رکھ کر آگ میں ڈال دیا جائے تو وہ جلے گا نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۳۰ ح ۳۳۱۳) * ابن لھیعۃ صرح بالسماع و حدث بہ قبل اختلاطہ و الحمدللہ ۔
2140
Sahih
وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلِّهِمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب وَحَفْص بن سُلَيْمَان الرَّاوِي لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ يَضْعُفُ فِي الْحَدِيثِ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے قرآن پڑھا ، اسے یاد کیا اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام جانا تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے اہل خانہ کے ان دس افراد کے بارے میں اس کی سفارش قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی تھی ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور حفص بن سلیمان راوی قوی نہیں ، وہ حدیث میں ضعیف سمجھا جاتا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ [عبداللہ بن] احمد (۱ / ۱۴۸ ۔ ۱۴۹ ح ۱۲۷۸) و الترمذی (۲۹۰۵) و ابن ماجہ (۲۱۶) و الدارمی (لم اجدہ) * حفص بن سلیمان : متروک الحدیث مع امامتہ فی القراءۃ (ضعفہ الجمھور) و کثیر بن زاذان : مجھول ۔
2141
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ؟» فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أنزلت فِي التَّوْرَاة وَلَا فِي الْإِنْجِيل وَلَا فِي الزبُور وَلَا فِي الْفرْقَان مِثْلُهَا وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مِنْ قَوْلِهِ: «مَا أُنْزِلَتْ» وَلَمْ يَذْكُرْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا :’’ تم نماز میں کیسے قراءت کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے سورۂ فاتحہ پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس جیسی سورت تورات و انجیل میں اتری ہے نہ زبور و قرآن (یعنی باقی قرآن) میں ، وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔‘‘ ترمذی اور امام دارمی نے ((ماانزلت)) کے الفاظ سے حدیث بیان کی ہے اور انہوں نے ابی بن کعب کا ذکر نہیں کیا ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۸۷۵) و الدارمی (۲ / ۴۴۶ ح ۳۳۷۶) [و صححہ ابن خزیمۃ : ۵۰۰ ۔ ۵۰۱ ، ۸۶۱) و ابن حبان (۱۷۱۴) و الحاکم علی شرط مسلم (۲ / ۲۵۸ ، ۱ / ۵۵۷) و وافقہ الذھبی ۔ ولہ لون آخر عند ابن حبان (۱۷۱۴) و الحاکم (۱ / ۵۵۷)] ۔
2142
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاقْرَءُوهُ فَإِن مثل الْقُرْآن لمن تعلم وَقَامَ بِهِ كَمثل جراب محشو مسكا يفوح رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِئَ عَلَى مسك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن سیکھو اور اسے پڑھو ، کیونکہ قرآن سیکھنے والا ، اسے پڑھنے اور اس کا اہتمام کرنے والا کستوری سے بھری ہوئی تھیلی کی مانند ہے جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل جاتی ہے ، اور جس نے اسے سیکھا لیکن سویا رہا حالانکہ وہ حافظ ہے تو وہ کستوری کی بند تھیلی کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۸۷۶) و النسائی (فی الکبریٰ ۵ / ۲۲۸ ح ۸۷۴۹) و ابن ماجہ (۲۱۷) [و صححہ ابن خزیمۃ (۱۵۰۹ ، ۲۵۴۰) و ابن حبان (۱۷۸۹) و الحاکم علی شرط الشیخین (۱ / ۴۴۳) و وافقہ الذھبی] ۔
2143
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ (حم) الْمُؤْمِنَ إِلَى (إِلَيْهِ الْمَصِيرُ) وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ حِينَ يُصْبِحُ حُفِظَ بِهِمَا حَتَّى يُمْسِيَ. وَمَنْ قَرَأَ بِهِمَا حِينَ يُمْسِي حُفِظَ بهما حَتَّى يصبح . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدرامي وَقَالَ التِّرْمِذِيّ هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص سورۂ مومن کی پہلی آیات (الیہ المصیر) تک اور آیۃ الکرسی صبح کے وقت پڑھتا ہے تو وہ ان کے سبب شام تک محفوظ رہے گا ۔ اور جو شخص شام کے وقت انہیں پڑھے گا تو وہ ان کی وجہ سے صبح ہونے تک محفوظ رہے گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۸۷۹) و الدارمی (۲ / ۴۴۹ ح ۳۳۸۹) * عبد الرحمن الملیکی : ضعیف ۔
2144
Zaeef
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كتب كتابا قبل أَن يخلق السَّمَوَات وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ أَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ خَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَا تُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی ، اس سے دو آیتیں اتار کر سورۂ بقرہ کو مکمل کیا گیا ، اور جس گھر میں انہیں تین رات پڑھا جائے تو شیطان اس (گھر) کے قریب نہیں آتا ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۸۸۲) و الدارمی (۲ / ۴۴۹ ح ۳۳۹۰) [و صححہ ابن حبان (۱۷۲۶) و الحاکم (۱ / ۵۶۲ ، ۲ / ۲۶۰) و وافقہ الذھبی] ۔
2145
Sahih
وَعَن أبي الدَّرْدَاء قَالَ ك قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص سورۂ کہف کی پہلی تین آیتیں پڑھتا ہے وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۸۸۶) * ھذا شاذ ، اختلف الرواۃ فی قولھم : فی اول سورۃ الکھف اوفی آخر السورۃ ، وھو الراجح ۔
2146
Zaeef
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَقَلْبُ الْقُرْآنِ (يس) وَمَنْ قَرَأَ (يس) كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۂ یٰسین ہے ، جو شخص ایک مرتبہ سورۂ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی قراءت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۸۸۷) و الدارمی (۲ / ۴۵۶ ح ۳۴۱۹) * ھارون ابو محمد : مجھول ۔
2147
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَرَأَ (طه) و (يس) قبل أَن يخلق السَّمَوَات وَالْأَرْضَ بِأَلْفِ عَامٍ فَلَمَّا سَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ الْقُرْآنَ قَالَتْ طُوبَى لِأُمَّةٍ يَنْزِلُ هَذَا عَلَيْهَا وَطُوبَى لِأَجْوَافٍ تَحْمِلُ هَذَا وَطُوبَى لِأَلْسِنَةٍ تَتَكَلَّمُ بِهَذَا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے ہزار برس پہلے سورۂ طہ اور سورۂ یٰسین کی تلاوت فرمائی ، جب فرشتوں نے قرآن سنا تو انہوں نے کہا : اس امت کے لیے خوشخبری ہو جس پر یہ اتارا جائے گا ، ان مبارک دلوں کے لیے خوشخبری ہو جو اسے یاد کریں گے ، اور اسے پڑھنے والی زبان کے لیے خوشخبری ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۶ ح ۳۴۱۷) [و ابن حبان فی المجروحین (۱ / ۱۰۸) و ابن الجوزی فی الموضوعات (۱ / ۱۱۰) * ابراھیم بن مھاجر بن مسمار : ضعیف و عمر بن حفص بن ذکوان متروک ۔
2148
Zaeef