TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن کا بیان - فضائل قرآن کا بیان - Book 8 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 8 of Mishkat, with 2 chapters and 114 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

114 Hadith · 2 Chapters
وَعَنْ أَيْفَعَ بْنِ عَبْدٍ الْكَلَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ سُورَةِ الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) قَالَ: فَأَيُّ آيَةٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُحِبُّ أَنْ تُصِيبَكَ وَأُمَّتَكَ؟ قَالَ: «خَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنَّهَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ تَحْتِ عَرْشِهِ أَعْطَاهَا هَذِهِ الْأُمَّةَ لَمْ تتْرك خيرا من يخر الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
ایفع بن عبدالکلاعی ؒ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! قرآن میں سب سے عظیم سورت کون سی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۃ الاخلاص ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : تو پھر قرآن میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آیۃ الکرسی ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! آپ کون سی آیت پسند فرماتے ہیں کہ وہ آپ کو اور آپ کی امت کو مل جائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۂ بقرہ کا آخری حصہ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اس کی رحمت کے خزانوں میں سے ہے جو اس نے اس امت کو عطا فرمائی ہے ، اور وہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں پر مشتمل ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۴۷ ح ۳۳۸۳) * ایفع : تابعی صغیر کما فی الاصابۃ (۱ / ۱۳۵) فالسند منقطع ۔
2169
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
عبدالملک بن عمیر مرسل روایت بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۂ فاتحہ میں ہر بیماری سے شفا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۴۵ ح ۳۳۷۳) و البیھقی فی شعب الایمان (۲۳۷۰) * سفیان بن عیینۃ مدلس و عنعن و الخبر مرسل ۔
2170
Zaeef
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ قَرَأَ آخِرَ آلِ عِمْرَانَ فِي لَيْلَة كتب لَهُ قيام لَيْلَة. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، جو شخص رات کے کسی حصہ میں سورۂ آل عمران کا آخری حصہ پڑھتا ہے ، اس کے لیے رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۲ ح ۳۳۹۹) * سفیان بن عیینۃ مدلس و عنعن و الخبر مرسل ۔
2171
Zaeef
وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ إِلَى اللَّيْل. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
مکحول بیان کرتے ہیں ، جو شخص جمعہ کے روز سورۂ آل عمران پڑھتا ہے تو رات تک فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۲ ح ۳۴۰۰ ، نسخۃ محققۃ : ۳۴۴۰) ۔
2172
Sahih
وَعَن جُبَير بن نفير رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ خَتَمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ بِآيَتَيْنِ أُعْطِيتُهُمَا مِنْ كَنْزِهِ الَّذِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَتَعَلَّمُوهُنَّ وَعَلِّمُوهُنَّ نِسَاءَكُمْ فَإِنَّهَا صَلَاةٌ وقربان وَدُعَاء» . رَوَاهُ الدِّرَامِي مُرْسلا
جبیر بن نفیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے سورۂ بقرہ کا اختتام دو آیتوں سے فرمایا ہے ، وہ مجھے عرش کے نیچے اس خزانے سے عطا کی گئی ہیں ، پس انہیں سیکھو اور انہیں اپنی خواتین کو سکھاؤ کیونکہ وہ باعث رحمت ، باعث تقرب اور دعا ہیں ۔‘‘ اسے دارمی نے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۰ ح ۳۳۹۳ ، نسخۃ محققۃ : ۳۴۳۳) [و ابوداؤد فی المراسیل (۹۱) و الحاکم (۱ / ۵۶۲ ح ۲۰۶۷) من حدیث جبیر بن نفیر رحمہ اللہ بہ] * السند مرسل ولہ لون آخر عند الحاکم (۱ / ۵۶۲ ح ۲۰۶۶) و سندہ ضعیف من اجل عبداللہ بن صالح المصری ۔
2173
Zaeef
وَعَن كَعْب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «اقرؤوا سُورَة هود يَوْم الْجُمُعَة» . رَوَاهُ الدِّرَامِي مُرْسلا
کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جمعہ کے روز سورۂ ھود پڑھا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۴ ح ۳۴۰۷ ، نسخۃ محققۃ : ۳۴۴۷) [و ابوداؤد فی المراسیل (۵۹) و البیھقی فی شعب الایمان (۲۴۳۸)] * سندہ صحیح الی کعب الاحبار رحمہ اللہ و لکنہ ضعیف لا رسالہ ۔
2174
Zaeef
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «من قَرَأَ سُورَة الْكَهْف فِي يَوْم الْجُمُعَة أَضَاء لَهُ النُّور مَا بَيْنَ الْجُمْعَتَيْنِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِير
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص جمعہ کے روز سورۃ الکہف پڑھتا ہے تو اس کے لیے دو جمعوں کی درمیانی مدت کے لیے نور چمکتا رہتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر (لم اجدہ ، و فی السنن الکبری ۳ / ۲۴۹ و سند حسن لذاتہ) [و صححہ الحاکم (۲ / ۳۶۸) فرد علیہ الذھبی و اخطا ، و الصواب فی نعیم بن حماد بانہ : حسن الحدیث و للحدیث شاھد موقوف عند الدارمی (۳۴۱۰) و سندہ صحیح] ۔
2175
Sahih
وَعَن خَالِد بن معدان قَالَ: اقرؤوا المنجية وَهِي (آلم تَنْزِيل) فَإِن بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَؤُهَا مَا يَقْرَأُ شَيْئًا غَيْرَهَا وَكَانَ كَثِيرَ الْخَطَايَا فَنَشَرَتْ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ قَالَتْ: رَبِّ اغْفِرْ لَهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَتِي فَشَفَّعَهَا الرَّبُّ تَعَالَى فِيهِ وَقَالَ: اكْتُبُوا لَهُ بِكُلِّ خَطِيئَةٍ حَسَنَةٍ وَارْفَعُوا لَهُ دَرَجَةً . وَقَالَ أَيْضًا: إِنَّهَا تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِهَا فِي الْقَبْرِ تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنْ كِتَابِكَ فَشَفِّعْنِي فِيهِ وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْ كِتَابِكَ فَامْحُنِي عَنْهُ وَإِنَّهَا تَكُونُ كَالطَّيْرِ تَجْعَلُ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ فَتَشْفَعُ لَهُ فَتَمْنَعُهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر وَقَالَ فِي (تبَارك) مثله. وَكَانَ خَالِد لَا يَبِيتُ حَتَّى يَقْرَأَهُمَا. وَقَالَ طَاوُوسُ: فُضِّلَتَا عَلَى كُلِّ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ بِسِتِّينَ حَسَنَةً. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
خالد بن معدان ؒ بیان کرتے ہیں ، منجیہ ، (عذاب قبر و حشر سے بچانے والی سورت) جو کہ سورۃ السجدہ ہے ، پڑھا کرو ، کیونکہ مجھے خبر ملی ہے کہ ایک آدمی صرف اسے ہی پڑھا کرتا تھا جبکہ وہ بہت گناہ گار تھا ، پس اس (سورت) نے اس پر اپنے پَر بچھا دیے اور عرض کیا ، رب جی ! اسے بخش دو ، کیونکہ وہ مجھے کثرت سے پڑھا کرتا تھا ، رب تعالیٰ نے اس کے متعلق اس کی سفارش قبول فرما لی ، اور فرمایا :’’ اس کی ہر غلطی کے بدلے اس کے لیے نیکی لکھ دو اور اس کا درجہ بلند کر دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔ اور انہوں (خالد بن معدان) نے یہ بھی کہا :’’ وہ اپنے پڑھنے والے کے متعلق قبر میں جھگڑا کرے گی اور کہے گی : اے اللہ ! اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو پھر اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما ، اور اگر میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو پھر مجھے اس سے ختم فرما دے ، اور وہ پرندے کی طرح ہو گی اور اس پر اپنے پر پھیلا دے گی ، وہ اس کی سفارش کرے گی اور اسے عذاب قبر سے بچا لے گی ۔‘‘ اور انہوں (خالد بن معدان) نے سورۃ الملک کے متعلق بھی اسی طرح بیان کیا ہے ، اور وہ ان دونوں سورتوں کو پڑھے بغیر نہیں سویا کرتے تھے ، اور طاؤس ؒ بیان کرتے ہیں ان دونوں سورتوں کو قرآن کی ہر سورت پر ساٹھ نیکیوں سے فضیلت دی گئی ہے ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۴ ۔ ۴۵۵ ح ۳۴۱۱ ، نسخۃ محققۃ : ۳۴۵۱) * ام عبداللہ عبدۃ بنت خالد بن معدان لم اجد من وثقھا ۔ 0 حدیث : انھا تجادل عن صاحبھا فی القبر ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۵ ح ۳۴۱۳ و سندہ حسن) و حدیث : قال طاؤس فضلنا علی کل سورۃ ،،، الدارمی (۲ / ۴۵۵ ح ۳۴۲۵ و سندہ ضعیف) فیہ لیث بن ابی سلیم : ضعیف ۔
2176
Zaeef
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ (يس) فِي صَدْرِ النَّهَارِ قضيت حَوَائِجه» رَوَاهُ الدَّارمِيّ مُرْسلا
عطاء بن ابی رباح ؒ بیان کرتے ہیں ، مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دن کے پہلے حصے میں سورۂ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کی تمام ضروریات پوری کر دی جاتی ہیں ۔‘‘ امام دارمی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۷ ح ۳۴۲۱ ، نسخۃ محققۃ : ۳۴۲۱) من حدیث عبد الرحمن بن الاسود رحمہ اللہ فالسند مرسل ۔
2177
Zaeef
وَعَن معقل بن يسَار الْمُزنِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ (يس) ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنبه فاقرؤوها عِنْدَ مَوْتَاكُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
معقل بن یسار مزنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر سورۂ یٰسین پڑھتا ہے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، اسے اپنے قریب المرگ افراد کے پاس پڑھا کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۴۵۸) * فیہ رجل : مجھول ۔
2178
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا وَإِنَّ لباب الْقُرْآن الْمفصل. رَوَاهُ الدَّارمِيّ
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے ، اور ہر چیز کا ایک مغز ہوتا ہے اور قرآن کا مغز مفصل سورتیں (سورۃ الحجرات سے الناس تک) ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۴۷ ح ۳۳۸۰ ، نسخۃ محققۃ : ۳۴۲۰) ۔
2179
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «لكل شَيْء عروس وعروس الْقُرْآن الرَّحْمَن» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ہر چیز کا حسن و جمال ہوتا ہے جبکہ قرآن کا حسن و جمال سورۃ الرحمن ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔
Takhreej
اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۴۹۴ ، نسخۃ محققۃ : ۲۲۶۵) * فیہ احمد بن الحسن : دبیس منکر الحدیث ، لیس بثقۃ و ابو عبد الرحمن السلمی الصوفی : ضعیف جداً و علی بن الحسین بن جعفر لعلہ ابن کرنیب البزار و کان کذاباً ۔
2180
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدًا» . وَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَأْمُرُ بَنَاتَهُ يَقْرَأْنَ بهَا فِي كل لَيْلَة. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہر رات سورۃ الواقعہ پڑھتا ہے تو وہ کبھی فاقے کا شکار نہیں ہو گا ۔ اور ابن مسعود ؓ اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ وہ ہر رات اسے پڑھا کریں ۔ امام بیہقی نے ان دونوں کو شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۴۹۸ ، نسخۃ محققۃ : ۲۲۶۹) * السند مظلم و فیہ شجاع : لم اعرفہ و ابو الاحوص اسماعیل بن ابراھیم الاسفرائینی ینظر فیہ ۔
2181
Zaeef
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يجب هَذِهِ السُّورَةَ (سَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الْأَعْلَى) رَوَاهُ أَحْمد
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اس سورت ، سورۃ الاعلی کو پسند کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد (۱ / ۹۶ ح ۷۴۲) * فیہ ثوبر بن ابی فاختۃ : ضعیف رمی بالرفض ۔
2182
Zaeef
وَعَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ (ألر) فَقَالَ: كَبُرَتْ سِنِّي وَاشْتَدَّ قَلْبِي وَغَلُظَ لِسَانِي قَالَ: فَاقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ (حم) فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ. قَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرِئْنِي سُورَةً جَامِعَةً فَأَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (إِذَا زُلْزِلَتْ الأَرْض) حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيد عَلَيْهَا أبدا ثمَّ أدبر الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے پڑھائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ الرٰٓ والی سورتوں (یونس ، ھود ، یوسف ، ابراہیم ، الحجر) میں سے تین سورتیں پڑھو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں ، میرا دل سخت ہو گیا ہے اور میری زبان موٹی ہو گئی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حٰم والی سورتوں (المومن ، الفصلت ، الشوری ، الزخرف ، الدخان ، الجاشیہ ، الاحقاف) میں سے تین سورتیں پڑھو ۔‘‘ اس نے پھر وہی عرض کیا ، اس آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی جامع سورت پڑھائیں ، تو پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے سورۃ الزلزال پوری پڑھائی تو اس آدمی نے عرض کیا ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، میں اس پر کبھی بھی اضافہ نہ کروں گا ، پھر وہ آدمی واپس چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا :’’ وہ آدمی فلاح پا گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲ / ۱۶۹ ح ۶۵۷۵ مختصراً) و ابوداؤد (۱۳۹۹) ۔
2183
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ؟» قَالُوا: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقْرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي كل يَوْم؟ قَالَ: أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ: (أَلْهَاكُمُ التكاثر) ؟) رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی ہر روز ہزار آیت پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہر روز ہزار آیت کون پڑھ سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی سورۃ التکاثر نہیں پڑھ سکتا ؟‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۵۱۸ ، نسخۃ محققۃ : ۲۲۸۷) * فیہ عقبۃ بن محمد عقبۃ : لم اجد من وثقہ و قال المنذری :’’ لا اعرفہ ‘‘ و قال الحاکم فی المستدرک (۱ / ۵۶۶ ۔ ۵۶۷) :’’ عقبۃ ھذا غیر مشھور ‘‘ و اقرہ الذھبی ۔
2184
Zaeef
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ (قل هُوَ الله أحد) عشر مَرَّات بني لَهُ بِهَا قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَ عِشْرِينَ مَرَّةً بُنِي لَهُ بِهَا قَصْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثِينَ مَرَّةً بُنِيَ لَهُ بِهَا ثَلَاثَةُ قُصُورٍ فِي الْجَنَّةِ» . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا لَنُكَثِّرَنَّ قُصُورَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَوْسَعُ من ذَلِك» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
سعید بن مسیب ؒ نبی ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے ، جو شخص بیس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت میں دو محل بنا دیے جاتے ہیں اور جو شخص تیس مرتبہ پڑھتا ہے تو اس کے لیے اس کے بدلہ میں جنت میں تین محل بنا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! تب تو ہم اپنے محل زیادہ کر لیں گے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس سے بھی زیادہ کشائش و فراخی والا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۹ ، ۴۶۰ ح ۳۴۳۲ ، نسخۃ محققۃ : ۳۴۷۲) * السند حسن الی سعید بن المسیب و الخبر مرسل ۔
2185
Zaeef
وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ لَمْ يُحَاجِّهِ الْقُرْآنُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ خَمْسَمِائَةً إِلَى الْأَلْفِ أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ مِنَ الْأَجْرِ» . قَالُوا: وَمَا الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: «اثْنَا عَشَرَ ألفا» . رَوَاهُ الدِّرَامِي
حسن بصری ؒ سے مرسل روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رات میں سو آیات تلاوت کرتا ہے تو اس رات قرآن اس سے جھگڑا نہیں کرتا ، جو شخص رات میں دو سو آیات پڑھتا ہے تو اس کے لیے رات بھر کا قیام لکھ دیا جاتا ہے ، اور جو شخص رات میں پانچ سو سے ہزار آیات تلاوت کرتا ہے تو صبح کے وقت اس کے لیے ڈھیروں اجر ہو گا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ڈھیروں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا :’’ بارہ ہزار ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۶۶ ح ۳۴۲۶ ، نسخۃ محققۃ : ۳۵۰۲) * السند مرسل و یونس بن عبید بن دینار العبدی البصری مدلس و عنعن ۔
2186
Zaeef
بَاب آدَاب التِّلَاوَة ودروس الْقُرْآن
(دروس قرآن اور تلاوت قرآن کے آداب کا بیان)
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهْوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا»
ابوموسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن کی خبر گیری کرتے رہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے ! وہ (قرآن سینوں سے) نکل جانے میں ، اس اونٹ کے نکل جانے سے بھی زیادہ تیز ہے جس کی رسی کھل چکی ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰۳۳) و مسلم (۲۳۱ / ۷۹۱) ۔ 1844
2187
Sahih
بَاب آدَاب التِّلَاوَة ودروس الْقُرْآن
(دروس قرآن اور تلاوت قرآن کے آداب کا بیان)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: بئس مالأحدهم أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسلم: «بعقلها»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی کے لیے یہ کہنا بہت ہی برا ہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا ہوں ، بلکہ (یوں کہے) مجھے بھلا دی گئی ہے ، قرآن یاد کرتے رہا کرو کیونکہ وہ آدمیوں کے سینوں سے نکل جانے میں کھلے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیز ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور امام مسلم نے : ((بعقلھا)) کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰۳۲) و مسلم (۲۲۸ / ۷۹۰) ۔ 1841
2188
Sahih