TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن کا بیان - فضائل قرآن کا بیان - Book 8 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 8 of Mishkat, with 2 chapters and 114 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

114 Hadith · 2 Chapters
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ (حم) الدُّخَانِ فِي لَيْلَةٍ أَصْبَحَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب وَعمر بن أبي خَثْعَمٍ الرَّاوِي يُضَعَّفُ وَقَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْبُخَارِيَّ هُوَ مُنكر الحَدِيث
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رات کے وقت سورت حٰم الدخان کی تلاوت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، عمر بن ابی خثعم راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور محمد یعنی امام بخاری ؒ نے فرمایا : وہ منکر الحدیث ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۲۸۸۸) * عمر بن ابی خثعم : منکر الحدیث کما نقل الترمذی عن البخاری رحمھما اللہ ۔
2149
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ (حم) الدُّخَانِ فِي لَيْلَةِ الْجُمْعَةِ غُفِرَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَهِشَام أَبُو الْمِقْدَام الرَّاوِي يضعف
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص شب جمعہ کو سورۂ دخان کی تلاوت کرتا ہے تو اسے بخش دیا جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، نیز ہشام ابوالمقدام راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۲۸۸۹) * ھشام بن زیاد ابو المقدام : متروک ۔
2150
Zaeef
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ يَقُولُ: «إِنَّ فِيهِنَّ آيَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺسونے سے پہلے مسبحات (سورۂ الاسراء ، الحدید ، الحشر ، الصّف ، الجمعہ ، التغابن اور الاعلی) کی تلاوت کیا کرتے تھے ، آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ ان میں ایک آیت ہے جو کہ ہزار آیات سے بہتر ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۲۹۲۱ وقال : حسن غریب) و ابوداؤد (۵۰۵۷) [و احمد (۴ / ۱۲۸) و البیھقی فی شعب الایمان (۲۵۰۳)] ۔
2151
Sahih
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ مُرْسَلًا وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
امام دارمی ؒ نے خالد بن معدان سے اسے مرسل روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الدارمی (۲ / ۴۵۸ ح ۳۴۲۷) [و النسائی فی الکبریٰ (۱۰۵۵۱)] * السند مرسل ولہ شواھد منھا الحدیث السابق (۲۱۵۱) ۔
2152
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِيَ: (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن میں تیس آیات کی ایک سورت ہے اس نے ایک آدمی کے بارے میں سفارش کی حتیٰ کہ اسے بخش دیا گیا اور وہ سورۃ الملک ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲ / ۲۹۹ ح ۷۹۶۲) و الترمذی (۲۸۹۱ وقال : حسن) و ابوداؤد (۱۴۰۰) و النسائی (فی الکبریٰ ۱۱۶۱۲) و ابن ماجہ (۳۷۸۶) [و صححہ ابن حبان (۱۷۶۶) و الحاکم (۲ / ۴۹۷ ۔ ۴۹۸) و وافقہ الذھبی] ۔
2153
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَرَبَ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِبَاءَهُ عَلَى قَبْرٍ وَهُوَ لَا يَحْسَبُ أَنَّهُ قَبْرٌ فَإِذَا فِيهِ إِنْسَان يَقْرَأُ سُورَةَ (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) حَتَّى خَتَمَهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ الْمَانِعَةُ هِيَ الْمُنْجِيَةُ تُنْجِيهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے ایک صحابی نے کسی قبر کی جگہ پر اپنا خیمہ نصب کیا جبکہ انہیں پتہ نہیں تھا وہ قبر ہے ، اس میں ایک انسان سورۃ الملک پڑھ رہا تھا حتیٰ کہ اس نے اسے مکمل کیا ، پس وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس کے متعلق بتایا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ مانعہ ‘‘ اور ’’ منجیہ ‘‘ ہے اسے اللہ کے عذاب سے بچائے گی ۔‘‘ ترمذی اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۸۹۰) * قال البیھقی :’’ تفرد بہ یحیی بن عمرو بن مالک وھو ضعیف ‘‘ (اثبات عذاب القبر : ۱۴۶ بتحقیقی) ۔
2154
Zaeef
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ: (آلم تَنْزِيل) و (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ. وَكَذَا فِي شرح السّنة. وَفِي المصابيح
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ، سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے ۔ احمد ، ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے ۔ جبکہ مصابیح میں ہے کہ یہ غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۳ / ۳۴۰ ح ۱۴۷۱۴) و الترمذی (۲۸۹۲) و الدارمی (۲ / ۴۵۵ ح ۳۴۱۴) و البغوی فی شرح السنۃ (۴ / ۴۷۲ ح ۱۲۰۷) و ذکرہ فی مصابیح السنۃ (۲ / ۱۲۳ ح ۱۵۵۴) * ابو الزبیر مدلس و عنعن ۔
2155
Zaeef
وَعَن ابْن عَبَّاس وَأنس بن مَالك رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذا زلزلت) تعدل نصف الْقُرْآن (قل هُوَ الله أحد) تعدل ثلث الْقُرْآن و (قل يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) تَعْدِلُ رُبْعَ الْقُرْآنِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ اور انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۃ الزلزال نصف قرآن کے برابر ہے ، سورۃ الاخلاص تہائی قرآن کے برابرہے اور سورۃ الکافرون چوتھائی قرآن کے برابر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۸۹۴ وقال : غریب) * یمان بن المغیرۃ : ضعیف ، وقال الذھبی فی تلخیص المستدرک (۱ / ۵۶۶) :’’ ضعفوہ ‘‘ ۔
2156
Zaeef
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ (الْحَشْرِ) وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا. وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
معقل بن یسار ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ ((اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم)) اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پڑھتا ہے تو اللہ اس کے لے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے ، جو شام تک اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں ، اور اگر وہ اسی روز فوت ہو جائے تو وہ شہادت کی موت مرتا ہے ، اور جو شخص شام کے وقت انہیں پڑھتا ہے تو اسے بھی یہی منزلت و فضیلت حاصل ہو جاتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۹۲۲) و الدارمی (۲ / ۴۵۸ ح ۳۴۲۸) * خالد بن طھمان : ضعیف من جھۃ حفظہ و لم یثبت بانہ حدث بھذا الحدیث قبل اختلاطہ ۔
2157
Zaeef
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَتَيْ مَرَّةٍ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) مُحِيَ عَنْهُ ذُنُوبُ خَمْسِينَ سَنَةً إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَتِهِ «خَمْسِينَ مَرَّةٍ» وَلَمْ يَذْكُرْ «إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دين»
انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہر روز دو سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتا ہے تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، دارمی اور ان کی روایت میں پچاس مرتبہ کا ذکر ہے ، اور انہوں نے ((الا ان یکون علیہ دین)) کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۸۹۸) و الدارمی (۲ / ۴۶۱ ح ۳۴۴۱) * حاتم بن میمون : ضعیف ۔
2158
Zaeef
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ عَلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ عَلَى يَمِينِهِ ثُمَّ قَرَأَ مِائَةَ مَرَّةٍ (قل هُوَ الله أحد) إِذا كَانَ يَوْم الْقِيَامَةِ يَقُولُ لَهُ الرَّبُّ: يَا عَبْدِي ادْخُلْ عَلَى يَمِينِكَ الْجَنَّةَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں :’’ جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے اور اپنے دائیں پہلو پر لیٹ کر سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھ کر سو جائے تو روز قیامت رب اسے فرمائے گا : میرے بندے ! اپنی دائیں جانب سے جنت میں داخل ہو جاؤ ۔‘‘ ترمذی اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۸۹۸ وقال : غریب) * حاتم بن میمون ضعیف کما تقدم (۲۱۵۸) ۔
2159
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) فَقَالَ: «وَجَبَتْ» قُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ؟ قَالَ: «الْجنَّة» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو سورۂ اخلاص پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا :’’ واجب ہو گئی ۔‘‘ میں نے عرض کیا : کیا واجب ہو گئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ مالک (۱ / ۲۰۸ ح ۴۸۷) و الترمذی (۲۸۹۷ وقال : حسن صحیح غریب) و النسائی (۲ / ۱۷۱ ح ۹۹۵) [و صححہ الحاکم (۱ / ۵۶۶) و وافقہ الذھبی] ۔
2160
Sahih
وَعَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي. فَقَالَ: «اقْرَأْ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي
فروہ بن نوفل ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں کہ جب میں بستر پر لیٹوں تو اسے پڑھ لیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سورۃ الکافرون پڑھا کرو کیونکہ وہ شرک سے براءت (اور توحید کا اعلان) ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۳۴۰۳) و ابوداؤد (۵۰۵۵) و الدارمی (۲ / ۴۵۹ ح ۳۴۳۰) ۔
2161
Sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا سير مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَالْأَبْوَاءِ إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ ب (أعوذ بِرَبّ الفلق) و (أعوذ بِرَبِّ النَّاسِ) وَيَقُولُ: «يَا عُقْبَةُ تَعَوَّذْ بِهِمَا فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں جحفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہا تھا کہ اچانک آندھی اور شدید تاریکی ہم پر چھا گئی تو رسول اللہ ﷺ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے ذریعے پناہ طلب کرنے لگے ، اور آپ ﷺ فرمانے لگے :’’ عقبہ ! ان دونوں (سورتوں) کے ذریعے پناہ طلب کرو ، کسی پناہ طلب کرنے والے نے ان دونوں جیسی پناہ نہیں پائی ۔‘‘ سندہ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۴۶۳) * ابن اسحاق مدلس و عنعن و حدیث ابی داود (۱۴۶۲) یغنی عنہ ۔
2162
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبِيبٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكْنَاهُ فَقَالَ: «قُلْ» . قُلْتُ مَا أَقُولُ؟ قَالَ: « (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُصْبِحُ وَحِينَ تُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
عبداللہ بن خبیب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم برسات میں ایک شدید تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلے تو ہم نے آپ کو پا لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں کیا کہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم صبح و شام تین مرتبہ سورۂ اخلاص اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھا کرو ، وہ تمہیں ہر چیز کے لیے کافی ہو جائیں گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن : رواہ الترمذی (۳۵۷۵ وقال : حسن صحیح غریب) و ابوداؤد (۵۰۸۲) و النسائی (۸ / ۲۵۱ ح ۵۴۳۲ ۔ ۵۴۳۳) ۔
2163
Sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ سُورَةَ (هُودٍ) أَوْ سُورَةَ (يُوسُفَ) ؟ قَالَ: لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا میں سورۂ ہود پڑھوں یا سورۂ یوسف ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اللہ کے ہاں سورۃ الفلق سے بلیغ تر کوئی چیز نہیں پڑھ سکو گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۴ / ۱۴۹ ح ۱۷۴۷۴) و النسائی (۲ / ۱۵۸ ح ۹۵۴) و الدارمی (۲ / ۴۶۱ ۔ ۴۶۲ ح ۳۴۴۲) [و صححہ ابن حبان (۱۷۷۶ ۔ ۱۷۷۷) و الحاکم (۲ / ۵۴۰) و وافقہ الذھبی] ۔
2164
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ وَاتَّبِعُوا غَرَائِبَهُ وَغَرَائِبُهُ فَرَائِضُهُ وَحُدُودُهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قرآن کے معانی بیان کرو اور اس کے ’’ غرائب ‘‘ کی اتباع کرو ، اس کے ’’ غرائب ‘‘ اس کے فرائض و حدود ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۲۹۳ ، نسخۃ محققۃ : ۲۰۹۵) * فیہ معارک بن عباد : ضعیف ، عن عبداللہ بن سعید بن ابی سعید المقبری : متروک ۔
2165
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ دوران نماز قراءت قرآن ، نماز کے علاوہ قراءت قرآن سے افضل ہے ، اور نماز کے علاوہ قراءت قرآن ، تسبیح و تکبیر سے افضل ہے ، اور تسبیح (سبحان اللہ کہنا) صدقہ سے افضل ہے ، صدقہ روزہ سے افضل ہے جبکہ روزہ جہنم سے ڈھال ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۲۴۳ ، نسخۃ محققۃ : ۲۰۴۹) * فیہ فضیل بن سلیمان النمیری : ضعیف فی غیر الصحیحین و ضعفہ الجمھور عن رجل من بنی مخزوم : مجھول ، عن ابیہ عن جدہ عن عائشۃ الخ ۔
2166
Zaeef
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قِرَاءَةُ الرَّجُلِ الْقُرْآنَ فِي غَيْرِ الْمُصْحَفِ أَلْفُ دَرَجَةٍ وَقِرَاءَتُهُ فِي الْمُصحف تضعف عل ذَلِك إِلَى ألفي دَرَجَة» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کا زبانی قرآن پڑھنا ہزار درجے رکھتا ہے ، جبکہ اس کا قرآن کریم سے دیکھ کر پڑھنا زبانی پڑھنے سے دو ہزار درجے رکھتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۲۱۸ ، نسخۃ محققۃ : ۲۰۲۶) [و ابن عدی فی الکامل (۷ / ۲۷۵۴] * فیہ عثمان بن عبداللہ بن اوس : روی عنہ جماعۃ و وثقہ ابن حبان و قال الذھبی :’’ محلہ الصدق و لکن فی ادراکہ جد نظر ‘‘ (!) و ابو سعید بن عوذ : رجاء بن الحارث المکی المکتب : ضعیف ضعیفہ ابن معین و الجمھور ۔
2167
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ تَصْدَأُ كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: «كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ دل زنگ آلودہو جاتے ہیں جس طرح لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہو جاتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ان کی چمک کس طرح آتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا ۔‘‘ بیہقی نے چاروں احادیث کو شعب الایمان میں ذکر کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۰۱۴) * لہ سندان ، فی احدھما عبد الرحیم بن ھارون : کذاب ، و فی الثانی عبداللہ بن عبدالعزیز بن ابی داود : ضعیف جداً ۔
2168
Zaeef