TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3326 - Chapter: The virtue of Al-Madinah and the Prophet's Prayer for it to be blessed. Its sanctity and the sanctity of its game and trees. The Boundaries of its sanctuary - The book of pilgrimage - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 14 of 23 in this chapter
Chapter: The virtue of Al-Madinah and the Prophet's Prayer for it to be blessed. Its sanctity and the sanctity of its game and trees. The Boundaries of its sanctuary
مدینہ کی فضیلت ‘اس میں برکت کےلیے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا ‘مدینہ کی حرمت ‘اس کے شکار اور اس کے درختوں کی حرمت اور حرم کی حدود کا بیان
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ»
Anas b. Malik (Allah he pleased with him) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O Allah, increase in Medina twice the blessings (Thou showered) on Mecca.
زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اے اللہ !مدینہ میں اس سے دگنی برکت رکھ جتنی مکہ میں ہے ۔
3326
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

769
1
(89) CHAPTER. The mosques which are on the way to Al-Madina and the places where the Prophet had offered Salat (prayers).
ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے
Sahih Bukhari
2
(1) CHAPTER. The virtues of the Companions of the Prophet.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
3
Chapter: The Prophet saws foretold that the people will abandon Al-Madinah when it is the best it ever was
مدینہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود لوگوں کے اسے چھوڑدینے کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی پشین گوئی
Sahih Muslim
4
Chapter: The virtue of the area between the prophet's grave and his Minbar, and the virtue of the spot where his minbar is
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی قبر اور منبر کے درمیان والی جگہ کی فضیلت اور منبر کی جگہ کی فضیلت
Sahih Muslim
5
Chapter: The Masjid whose foundation was founded upon piety is the Masjid of the Prophet saws in Al-Madinah
جس مسجدکی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ‘وہ مدینہ کی مسجد نبوی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ہے
Sahih Muslim
6
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
Musnad Ahmad
8
(1) CHAPTER. The superiority of offering As-Salat (the prayer) in the Mosque of Makkah (Al-Masjid-al-Haram) and Al-Madina (the Mosque of the Prophet ).
مکہ اور مدینہ ( زاد ہما اللہ شرفاً وتعظیماً ) کی مساجد میں نماز کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
9
(5) CHAPTER. The superiority of the place between the pulpit and the grave (of the Prophet ).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرشریف اور منبر مبارک کے درمیانی حصہ کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
10
(11) CHAPTER. The dislike of the Prophet that Al-Madina should be vacated.
مدینہ کا ویران کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار تھا
Sahih Bukhari
11
(4) CHAPTER. The merits of Abu Bakr as next to those of the Prophet (in excellence).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضیاللہعنہ کی ( دوسرے صحابہ ) پر فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
12
(20) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Khadija ا and her superiority.
حضرت خدیجہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
13
(44) CHAPTER. The marriage of the Prophet with Aishah, and Aishah,s arrival at Al-Madina, and the Prophet,s consummation of that marriage.
حضرت عائشہ رضیاللہعنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کرنا اور آپ کامدینہ میں تشریف لانا اور حضرت عائشہ رضیاللہعنہا کی رخصتی کا بیان
Sahih Bukhari
14
(45) CHAPTER. The emigration of the Prophet and hiscompanions to Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
Sahih Bukhari
15
(46) CHAPTER. The arrival of the Prophet and his companions at Al-Madina.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہکرام کا مدینہ میں آنا
Sahih Bukhari
16
(52) CHAPTER. The coming of the Jews to the Prophet on his arrival at Al-Madina.
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان
Sahih Bukhari
17
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
مدینہ منورہ کا صاع ( ایک پیمانہ ) اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مد ( ایک پیمانہ ) اور اس میں برکت ، اور بعدمیں بھی اہلمدینہ کو نسلاً بعد نسل جو صاع اور مد ورثہ میں ملا اس کا بیان
Sahih Bukhari
18
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
Sahih Bukhari
19
Chapter: How Long He (SAW) Lived, And How Long He Stayed In Makkah And Al-Madinah
مکہ اور مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کتنا عرصہ رہے؟
Sahih Muslim
20
Chapter: How Long Did The Prophet ft Stay In Makkah And Al-Madinah?
اللہ تعالیٰ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اورشدید خشیت رکھنا:۔
Sahih Muslim
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
22
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
23
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
24
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
25
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
Musnad Ahmad
26
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
Musnad Ahmad
28
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
29
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
30
یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
Musnad Ahmad
31
عمرۂ جعرانہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا بیان
Musnad Ahmad
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب کی فضیلت اور پاکیزگی کے بیان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ
Musnad Ahmad
33
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
34
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
Musnad Ahmad
35
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
Musnad Ahmad
36
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
Musnad Ahmad
37
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
38
(1) CHAPTER. The superiority of Jihad.
جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں
Sahih Bukhari
39
Chapter: The Virtue of Fasting for in the cause of Allah, for those who are able to without suffering any harm or neglecting other duties
اس شخص کےلیے اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت جو نقصان اور حق کو ضائع کیے بغیر ‘اس کی طاقت رکھتا ہو
Sahih Muslim
40
Chapter: The virtue of praying in the Masajid of Makkah and Al-Madinah
مکہ اور مدینہ کی دونوں مسجدوں(مسجد حرام اور مسجد نبوی )میں نماز پڑھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
41
Chapter: The virtue of the dates of Al-Madinah
مدینہ منورہ کی کھجوروں کی فضیلت
Sahih Muslim
42
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی فضیلت اور بعثت سے پہلے آپ کو پتھر کا سلام کرنا:۔
Sahih Muslim
43
Chapter: The Prohibition Of Playing Nardashir
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوقات پر فضیلت:۔
Sahih Muslim
44
Chapter: His Generosity
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں اور عیال پر شفقت ،آپ کی تواضع اور اس کی فضیلت:۔
Sahih Muslim
45
Chapter: His Grey Hairs
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اور مکہ اورمدینہ میں آپ کا قیام:۔
Sahih Muslim
46
Chapter: Respecting Him And Not Asking Him Unnecessary Questions
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے اور اس کی تمنا کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
47
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے نکاح کا بیان اور اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جائز قرار دیا اور اپنی مخلوق کو منع کیا تاکہ ساری مخلوق پر آپ کی بزرگی اور فضیلت ظاہر ہو سکے۔
Sunnan Nisai
48
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Spending In The Cause Of Allah
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

336
Jam e Tirmazi
621
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ فَلَمَّا قُبِضَ، ‏‏‏‏‏‏عَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ حَتَّى قُبِضَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ فِيهِ فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي خَمْسَ عَشَرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ فَجَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الشَّاءِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا زَادَتْ فَثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِائَةِ شَاةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَ مِائَةِ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ. وقَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ قَسَّمَ الشَّاءَ أَثْلَاثًا:‏‏‏‏ ثُلُثٌ خِيَارٌ وَثُلُثٌ أَوْسَاطٌ وَثُلُثٌ شِرَارٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخَذَ الْمُصَدِّقُ مِنَ الْوَسَطِ وَلَمْ يَذْكُرْ الزُّهْرِيُّ الْبَقَرَ. وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ وَأَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا رَفَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ.
Az-Zuhri narrated from Salim from his father: The Messenger of Allah had a letter written about charity, but he had not dispatched it to his governors until he died; he kept it with him along with his sword. When he died, Abu Bakr implemented it until he died, as did Umar until he died. In it was: 'A sheep (is due) on five camels, two sheeps on ten, three sheeps on fifteen, four sheeps for twenty, a Bint Makhad on twenty-five to thirty-five. When it is more than that, then a Bint Labun, (is due, till the number of the camels reaches) forty-five. When it is more than that, then a Hiqqah until sixty. When it is more than that, then a Jadhah until seventy-five. When it is more than one hundred and twenty, then a Hiqqah on every fifty, and a Bint Labun on every forty. For sheep; one sheep (is due) for every forty sheeps until one hundred and twenty. When it is more than that, then two sheeps until two hundred. When it is more than that, then three sheeps until three hundred sheep. When it is more than three hundred sheep, then a sheep on every hundred sheep. Then there is nothing until it reaches four hundred. There is no combining the (property of) individuals nor separating the collective (property) fearing Sadaqah. And fr whatever is mixed together that two own, then they are to refer to the total. Neither an old or defective (animal) may be taken for charity.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کی دستاویز تحریر کرائی، ابھی اسے عمال کے پاس روانہ بھی نہیں کر سکے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی، اور اسے آپ نے اپنی تلوار کے پاس رکھ دیا ۱؎، آپ وفات فرما گئے تو ابوبکر رضی الله عنہ اس پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے، ان کے بعد عمر رضی الله عنہ بھی اسی پر عمل پیرا رہے، یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے، اس کتاب میں تحریر تھا: ”پانچ اونٹوں میں، ایک بکری زکاۃ ہے۔ دس میں دو بکریاں، پندرہ میں تین بکریاں اور بیس میں چار بکریاں ہیں۔ پچیس سے لے کر پینتیس تک میں ایک سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پینتالیس تک میں دو سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ساٹھ تک میں تین سال کی ایک اونٹنی کی زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پچہتر تک میں چار سال کی ایک اونٹنی کی زکاۃ ہے اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو نوے تک میں دو سال کی دو اونٹوں کی زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک سو بیس تک تین سال کی دو اونٹوں کی زکاۃ ہے۔ جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو ہر پچاس میں تین سال کی ایک اونٹنی اور ہر چالیس میں دو سال کی ایک اونٹنی زکاۃ میں دینی ہو گی۔ اور بکریوں کے سلسلہ میں اس طرح تھا: چالیس بکریوں میں ایک بکری کی زکاۃ ہے، ایک سو بیس تک، اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو دو سو تک میں دو بکریوں کی زکاۃ ہے، اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو تک میں تین بکریوں کی زکاۃ ہے۔ اور جب تین سو سے زیادہ ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری کی زکاۃ ہے۔ پھر اس میں کچھ نہیں یہاں تک کہ وہ چار سو کو پہنچ جائیں، اور ( زکاۃ والے ) متفرق ( مال ) کو جمع نہیں کیا جائے گا ۲؎ اور جو مال جمع ہو اسے صدقے کے خوف سے متفرق نہیں کیا جائے گا ۳؎ اور جن میں دو ساجھی دار ہوں ۴؎ تو وہ اپنے اپنے حصہ کی شراکت کے حساب سے دیں گے۔ صدقے میں کوئی بوڑھا اور عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا“۔ زہری کہتے ہیں: جب صدقہ وصول کرنے والا آئے تو وہ بکریوں کو تین حصوں میں تقسیم کرے، پہلی تہائی بہتر قسم کی ہو گی، دوسری تہائی اوسط درجے کی اور تیسری تہائی خراب قسم کی ہو گی، پھر صدقہ وصول کرنے والا اوسط درجے والی بکریوں میں سے لے۔ زہری نے گائے کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن ہے، ۲- یونس بن یزید اور دیگر کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث زہری سے، اور زہری نے سالم سے روایت کی ہے، اور ان لوگوں نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ صرف سفیان بن حسین ہی نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، ۳- اور اسی پر عام فقہاء کا عمل ہے، ۴- اس باب میں ابوبکر صدیق بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ معاویۃ بن حیدۃ قشیری ہے ابوذر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1102
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ فِيهِ اخْتِلَافٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، وَشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق. وَقَدْ رُوِيَ عن يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي إِسْحَاق، عنْ أَبِي بُرْدَةَ، عنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا. وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى وَلَا يَصِحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏عِنْدِي أَصَحُّ لِأَنَّ سَمَاعَهُمْ مِنْ أَبِي إِسْحَاق فِي أَوْقَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيُّ أَحْفَظَ وَأَثْبَتَ مِنْ جَمِيعِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ رِوَايَةَ هَؤُلَاءِ عِنْدِي أَشْبَهُ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيَّ سَمِعَا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي إِسْحَاق فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ مَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَسْأَلُ أَبَا إِسْحَاق:‏‏‏‏ أَسَمِعْتَ أَبَا بُرْدَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَلَّ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى أَنَّ سَمَاعَ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ وَإِسْرَائِيلُ هُوَ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏ثَبْتٌ فِي أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا فَاتَنِي مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق الَّذِي فَاتَنِي، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا لَمَّا اتَّكَلْتُ بِهِ عَلَى إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ كَانَ يَأْتِي بِهِ أَتَمَّ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ هُوَ حَدِيثٌ عِنْدِي حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ ثُمَّ لَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ فَأَنْكَرَهُ فَضَعَّفُوا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَجْلِ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ:‏‏‏‏ وَسَمَاعُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ لَيْسَ بِذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا صَحَّحَ كُتُبَهُ عَلَى كُتُبِ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا سَمِعَ مِنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَضَعَّفَ يَحْيَى رِوَايَةَ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَشُرَيْحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا يَقُولُ:‏‏‏‏ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Aishah narrated that: The Messenger of Allah said: Whichever woman married without the permission of her Wali her marriage is invalid, her marriage is invalid, her marriage is invalid. If he entered into her, then the Mahr is for her in lieu of what he enjoyed from her private part. If they disagree, then the Sultan is the Wali for one who has no Wali.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس نے اس سے دخول کر لیا ہے تو اس کی شرمگاہ حلال کر لینے کے عوض اس کے لیے مہر ہے، اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری، اور کئی حفاظ حدیث نے اسی طرح ابن جریج سے روایت کی ہے، ۳- ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی ( پچھلی ) حدیث میں اختلاف ہے، اسے اسرائیل، شریک بن عبداللہ، ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اور اسباط بن محمد اور زید بن حباب نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۵- اور ابوعبیدہ حداد نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اس میں انہوں نے ابواسحاق کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۶- نیز یہ حدیث یونس بن ابی اسحاق سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے بسند «أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۷- اور شعبہ اور سفیان ثوری بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“، اور سفیان ثوری کے بعض تلامذہ نے بسند «سفيان عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں کی روایت، جنہوں نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ابواسحاق سبیعی سے ان لوگوں کا سماع مختلف اوقات میں ہے اگرچہ شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرنے والے تمام لوگوں سے زیادہ پختہ اور مضبوط حافظہ والے ہیں پھر بھی ان لوگوں ( یعنی شعبہ و ثوری کے علاوہ دوسرے رواۃ ) کی روایت اشبہ ( قریب تر ) ہے۔ اس لیے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے یہ حدیث ابواسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے، ( اور ان کے علاوہ رواۃ نے مختلف اوقات میں ) اس کی دلیل شعبہ کا یہ بیان ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو ابواسحاق سے پوچھتے سنا کہ کیا آپ نے ابوبردہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری کا مکحول سے اس حدیث کا سماع ایک ہی وقت میں ہے۔ اور ابواسحاق سبیعی سے روایت کرنے میں اسرائیل بہت ہی ثقہ راوی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ مجھ سے ثوری کی روایتوں میں سے جنہیں وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں، کوئی روایت نہیں چھوٹی، مگر جو چھوٹی ہیں وہ صرف اس لیے چھوٹی ہیں کہ میں نے اس سلسلے میں اسرائیل پر بھروسہ کر لیا تھا، اس لیے کہ وہ ابواسحاق کی حدیثوں کو بطریق اتم بیان کرتے تھے۔ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث: ”بغیر ولی کے نکاح نہیں“ میرے نزدیک حسن ہے۔ یہ حدیث ابن جریج نے بطریق: «سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم»،‏‏‏‏ نیز اسے حجاج بن ارطاۃ اور جعفر بن ربیعہ نے بھی بطریق: «الزهري، عن عروة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ نیز زہری نے بطریق: «هشام بن عروة، عن أبيه عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ بعض محدثین نے زہری کی روایت میں ( جسے انہوں نے بطریق: «عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ) کلام کیا ہے، ابن جریج کہتے ہیں: پھر میں زہری سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن جریج سے اس بات کو اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کے علاوہ کسی اور نے نہیں نقل کیا ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں: اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کا سماع ابن جریج سے نہیں ہے، انہوں نے اپنی کتابوں کی تصحیح عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کی ان کتابوں سے کی ہے جنہیں عبدالمجید نے ابن جریج سے سنی ہیں۔ یحییٰ بن معین نے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کی روایت کو جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے ضعیف قرار دیا ہے۔ ۸- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «لا نكاح إلا بولي» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ”پر ہے جن میں عمر، علی، عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ بھی شامل ہیں، اسی طرح بعض فقہائے تابعین سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں۔ ان میں سعید بن مسیب، حسن بصری، شریح، ابراہیم نخعی اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ ہیں۔ یہی سفیان ثوری، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
2781
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بِالْمَدِينَةِ يَخْطُبُ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ هَذِهِ الْقُصَّةِ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ.
Narrated Humaid bin 'Abdur-Rahman: that he heard Mu'awiyah giving a Khutbah in Al-Madinah, and saying: Where are your scholars, O people of Al-Madinah? [Indeed] I heard the Messenger of Allah (ﷺ) forbidding from these locks (of hair), and saying: 'The Children of Isra'il were only ruined when their women used them.'
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو مدینہ میں خطبہ کے دوران کہتے ہوئے سنا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان زائد بالوں کے استعمال سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور آپ کہتے تھے: ”جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے اسے اپنا لیا تو وہ ہلاک ہو گئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے معاویہ رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے۔
Sahih Bukhari
1046
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَكَبَّرَ ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَالَ : فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ، ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ، وَكَانَ يُحَدِّثُ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يُحَدِّثُ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ : إِنَّ أَخَاكَ يَوْمَ خَسَفَتْ بِالْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ الصُّبْحِ ، قَالَ : أَجَلْ لِأَنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ .
Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet (p.b.u.h) In the lifetime of the Prophet the sun eclipsed and he went to the Mosque and the people aligned behind him. He said the Takbir (starting the prayer) and prolonged the recitation (from the Qur'an) and then said Takbir and performed a prolonged bowing; then he (lifted his head and) said, Sami allahu liman hamidah (Allah heard him who sent his praises to Him). He then did not prostrate but stood up and recited a prolonged recitation which was shorter than the first recitation. He again said Takbir and then bowed a prolonged bowing but shorter than the first one and then said, Sami`a l-lahu Lyman hamidah Rabbana walak-lhamd, (Allah heard him who sent his praises to Him. O our Sustainer! All the praises are for You) and then prostrated and did the same in the second rak`a; thus he completed four bowing and four prostrations. The sun (eclipse) had cleared before he finished the prayer. (After the prayer) he stood up, glorified and praised Allah as He deserved and then said, The sun and the moon are two of the signs of Allah. They do not eclipse because of the death or the life (i.e. birth) of someone. When you see them make haste for the prayer. Narrated Az-Zuhri: I said to 'Urwa, When the sun eclipsed at Medina your brother (`Abdullah bin Az-Zubair) offered only a two-rak`at prayer like that of the morning (Fajr) prayer. 'Urwa replied, Yes, for he missed the Prophet's tradition (concerning this matter).
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے احمد بن صالح نے بیان کیا کہ ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا، اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور بہت دیر قرآن مجید پڑھتے رہے پھر تکبیر کہی اور بہت لمبا رکوع کیا پھر «سمع الله لمن حمده‏» کہہ کر کھڑے ہو گئے اور سجدہ نہیں کیا ( رکوع سے اٹھنے کے بعد ) پھر بہت دیر تک قرآن مجید پڑھتے رہے۔ لیکن پہلی قرآت سے کم، پھر تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے گئے اور دیر تک رکوع میں رہے، یہ رکوع بھی پہلے رکوع سے کم تھا۔ اب «سمع الله لمن حمده‏» اور «ربنا ولك الحمد‏» کہا پھر سجدہ میں گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا ( ان دونوں رکعتوں میں ) پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو چکا تھا۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا لیکن جب تم گرہن دیکھا کرو تو فوراً نماز کی طرف لپکو۔ زہری نے کہا کہ کثیر بن عباس اپنے بھائی عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے تھے وہ سورج گرہن کا قصہ اس طرح بیان کرتے تھے جیسے عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا۔ زہری نے کہا میں نے عروہ سے کہا تمہارے بھائی عبداللہ بن زبیر نے جس دن مدینہ میں سورج گرہن ہوا صبح کی نماز کی طرح دو رکعت پڑھی اور کچھ زیادہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہاں مگر وہ سنت کے طریق سے چوک گئے۔
Sahih Bukhari
1885
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ ، تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ يُونُسَ .
Narrated Anas: The Prophet said, O Allah! Bestow on Medina twice the blessings You bestowed on Mecca.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے یونس بن شہاب سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اے اللہ! جتنی مکہ میں برکت عطا فرمائی ہے مدینہ میں اس سے دگنی برکت کر۔ جریر کے ساتھ اس روایت کی متابعت عثمان بن عمر نے یونس کے واسطہ کے ساتھ کی ہے۔
Sahih Bukhari
2301
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كِتَابًا بِأَنْ يَحْفَظَنِي فِي صَاغِيَتِي بِمَكَّةَ ، وَأَحْفَظَهُ فِي صَاغِيَتِهِ بِالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا ذَكَرْتُ الرَّحْمَنَ ، قَالَ : لَا أَعْرِفُ الرَّحْمَنَ ، كَاتِبْنِي بِاسْمِكَ الَّذِي كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَكَاتَبْتُهُ عَبْدَ عَمْرٍو ، فَلَمَّا كَانَ فِي يَوْمِ بَدْرٍ خَرَجْتُ إِلَى جَبَلٍ لِأُحْرِزَهُ حِينَ نَامَ النَّاسُ ، فَأَبْصَرَهُ بِلَالٌ ، فَخَرَجَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَجْلِسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ : لَا نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ ، فَخَرَجَ مَعَهُ فَرِيقٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي آثَارِنَا ، فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَلْحَقُونَا ، خَلَّفْتُ لَهُمُ ابْنَهُ لِأَشْغَلَهُمْ ، فَقَتَلُوهُ ، ثُمَّ أَبَوْا حَتَّى يَتْبَعُونَا ، وَكَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا ، فَلَمَّا أَدْرَكُونَا ، قُلْتُ لَهُ : ابْرُكْ ، فَبَرَكَ ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ نَفْسِي لِأَمْنَعَهُ فَتَخَلَّلُوهُ بِالسُّيُوفِ مِنْ تَحْتِي ، حَتَّى قَتَلُوهُ وَأَصَابَ أَحَدُهُمْ رِجْلِي بِسَيْفِهِ ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُرِينَا ذَلِكَ الْأَثَرَ فِي ظَهْرِ قَدَمِهِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : سَمِعَ يُوسُفُ صَالِحًا ، وَإِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ .
Narrated `Abdur-Rahman bin `Auf: I got an agreement written between me and Umaiya bin Khalaf that Umaiya would look after my property (or family) in Mecca and I would look after his in Medina. When I mentioned the word 'Ar64 Rahman' in the documents, Umaiya said, I do not know 'Ar-Rahman.' Write down to me your name, (with which you called yourself) in the Pre-Islamic Period of Ignorance. So, I wrote my name ' `Abdu `Amr'. On the day (of the battle) of Badr, when all the people went to sleep, I went up the hill to protect him. Bilal(1) saw him (i.e. Umaiya) and went to a gathering of Ansar and said, (Here is) Umaiya bin Khalaf! Woe to me if he escapes! So, a group of Ansar went out with Bilal to follow us (`Abdur-Rahman and Umaiya). Being afraid that they would catch us, I left Umaiya's son for them to keep them busy but the Ansar killed the son and insisted on following us. Umaiya was a fat man, and when they approached us, I told him to kneel down, and he knelt, and I laid myself on him to protect him, but the Ansar killed him by passing their swords underneath me, and one of them injured my foot with his sword. (The sub narrator said, `Abdur-Rahman used to show us the trace of the wound on the back of his foot. )
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یوسف بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے باپ نے، اور ان سے صالح کے دادا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے امیہ بن خلف سے یہ معاہدہ اپنے اور اس کے درمیان لکھوایا کہ وہ میرے بال بچوں یا میری جائیداد کی جو مکہ میں ہے، حفاظت کرے اور میں اس کی جائیداد کی جو مدینہ میں ہے حفاظت کروں۔ جب میں نے اپنا نام لکھتے وقت رحمان کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ میں رحمن کو کیا جانوں۔ تم اپنا وہی نام لکھواؤ جو زمانہ جاہلیت میں تھا۔ چنانچہ میں نے عبد عمرو لکھوایا۔ بدر کی لڑائی کے موقع پر میں ایک پہاڑ کی طرف گیا تاکہ لوگوں سے آنکھ بچا کر اس کی حفاظت کر سکوں، لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور فوراً ہی انصار کی ایک مجلس میں آئے۔ انہوں نے مجلس والوں سے کہا کہ یہ دیکھو امیہ بن خلف ( کافر دشمن اسلام ) ادھر موجود ہے۔ اگر امیہ کافر بچ نکلا تو میری ناکامی ہو گی۔ چنانچہ ان کے ساتھ انصار کی ایک جماعت ہمارے پیچھے ہو لی۔ جب مجھے خوف ہوا کہ اب یہ لوگ ہمیں آ لیں گے تو میں نے اس کے لڑکے کو آگے کر دیا تاکہ اس کے ساتھ ( آنے والی جماعت ) مشغول رہے، لیکن لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور پھر بھی وہ ہماری ہی طرف بڑھنے لگے۔ امیہ بہت بھاری جسم کا تھا۔ آخر جب جماعت انصار نے ہمیں آ لیا ا تو میں نے اس سے کہا کہ زمین پر لیٹ جا۔ جب وہ زمین پر لیٹ گیا تو میں نے اپنا جسم اس کے اوپر ڈال دیا۔ تاکہ لوگوں کو روک سکوں، لیکن لوگوں نے میرے جسم کے نیچے سے اس کے جسم پر تلوار کی ضربات لگائیں اور اسے قتل کر کے ہی چھوڑا۔ ایک صحابی نے اپنی تلوار سے میرے پاؤں کو بھی زخمی کر دیا تھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اس کا نشان اپنے قدم کے اوپر ہمیں دکھایا کرتے تھے۔
Sahih Bukhari
3364
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاس : أَوَّلَ مَا اتَّخَذَ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لَتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُرْضِعُهُ حَتَّى وَضَعَهُمَا عِنْدَ الْبَيْتِ عِنْدَ دَوْحَةٍ فَوْقَ زَمْزَمَ فِي أَعْلَى الْمَسْجِدِ وَلَيْسَ بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ فَوَضَعَهُمَا هُنَالِكَ وَوَضَعَ عِنْدَهُمَا جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ وَسِقَاءً فِيهِ مَاءٌ ، ثُمَّ قَفَّى إِبْرَاهِيمُ مُنْطَلِقًا فَتَبِعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ ، فَقَالَتْ : يَا إِبْرَاهِيمُ أَيْنَ تَذْهَبُ وَتَتْرُكُنَا بِهَذَا الْوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيهِ إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ لَهُ : ذَلِكَ مِرَارًا وَجَعَلَ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ لَهُ : آللَّهُ الَّذِي أَمَرَكَ بِهَذَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : إِذًا لَا يُضَيِّعُنَا ثُمَّ رَجَعَتْ فَانْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الثَّنِيَّةِ حَيْثُ لَا يَرَوْنَهُ اسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْبَيْتَ ثُمَّ دَعَا بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ حَتَّى بَلَغَ يَشْكُرُونَ سورة إبراهيم آية 37 وَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِيلَ وَتَشْرَبُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا فِي السِّقَاءِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُهَا وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتَلَوَّى أَوْ ، قَالَ : يَتَلَبَّطُ فَانْطَلَقَتْ كَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْهِ فَوَجَدَتْ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ فِي الْأَرْضِ يَلِيهَا فَقَامَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتِ الْوَادِيَ تَنْظُرُ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَهَبَطَتْ مِنْ الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ، ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ حَتَّى جَاوَزَتِ الْوَادِيَ ، ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَذَلِكَ سَعْيُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَى الْمَرْوَةِ سَمِعَتْ صَوْتًا فَقَالَتْ صَهٍ تُرِيدُ نَفْسَهَا ، ثُمَّ تَسَمَّعَتْ فَسَمِعَتْ أَيْضًا ، فَقَالَتْ : قَدْ أَسْمَعْتَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ غِوَاثٌ فَإِذَا هِيَ بِالْمَلَكِ عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ أَوْ ، قَالَ : بِجَنَاحِهِ حَتَّى ظَهَرَ الْمَاءُ فَجَعَلَتْ تُحَوِّضُهُ وَتَقُولُ بِيَدِهَا هَكَذَا وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فِي سِقَائِهَا وَهُوَ يَفُورُ بَعْدَ مَا تَغْرِفُ ، قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ : لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا ، قَالَ : فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ وَلَدَهَا ، فَقَالَ لَهَا : الْمَلَكُ لَا تَخَافُوا الضَّيْعَةَ فَإِنَّ هَا هُنَا بَيْتَ اللَّهِ يَبْنِي هَذَا الْغُلَامُ وَأَبُوهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَهْلَهُ وَكَانَ الْبَيْتُ مُرْتَفِعًا مِنَ الْأَرْضِ كَالرَّابِيَةِ تَأْتِيهِ السُّيُولُ فَتَأْخُذُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ فَكَانَتْ كَذَلِكَ حَتَّى مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ مِنْ جُرْهُمَ أَوْ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ جُرْهُمَ مُقْبِلِينَ مِنْ طَرِيقِ كَدَاءٍ فَنَزَلُوا فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ فَرَأَوْا طَائِرًا عَائِفًا ، فَقَالُوا : إِنَّ هَذَا الطَّائِرَ لَيَدُورُ عَلَى مَاءٍ لَعَهْدُنَا بِهَذَا الْوَادِي وَمَا فِيهِ مَاءٌ فَأَرْسَلُوا جَرِيًّا أَوْ جَرِيَّيْنِ فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ فَرَجَعُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِالْمَاءِ فَأَقْبَلُوا ، قَالَ : وَأُمُّ إِسْمَاعِيلَ عِنْدَ الْمَاءِ ، فَقَالُوا : أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَنْزِلَ عِنْدَكِ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ وَلَكِنْ لَا حَقَّ لَكُمْ فِي الْمَاءِ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُحِبُّ الْإِنْسَ فَنَزَلُوا وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ فَنَزَلُوا مَعَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ بِهَا أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْهُمْ وَشَبَّ الْغُلَامُ وَتَعَلَّمَ الْعَرَبِيَّةَ مِنْهُمْ وَأَنْفَسَهُمْ وَأَعْجَبَهُمْ حِينَ شَبَّ فَلَمَّا أَدْرَكَ زَوَّجُوهُ امْرَأَةً مِنْهُمْ وَمَاتَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَجَاءَ إِبْرَاهِيمُ بَعْدَمَا تَزَوَّجَ إِسْمَاعِيلُ يُطَالِعُ تَرِكَتَهُ فَلَمْ يَجِدْ إِسْمَاعِيلَ فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ ، فَقَالَتْ : خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا ثُمَّ سَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ ، فَقَالَتْ : نَحْنُ بِشَرٍّ نَحْنُ فِي ضِيقٍ وَشِدَّةٍ فَشَكَتْ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَإِذَا جَاءَ زَوْجُكِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقُولِي لَهُ يُغَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِهِ فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِيلُ كَأَنَّهُ آنَسَ شَيْئًا ، فَقَالَ : هَلْ جَاءَكُمْ مِنْ أَحَدٍ ، قَالَتْ : نَعَمْ جَاءَنَا شَيْخٌ كَذَا وَكَذَا فَسَأَلَنَا عَنْكَ فَأَخْبَرْتُهُ وَسَأَلَنِي كَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا فِي جَهْدٍ وَشِدَّةٍ ، قَالَ : فَهَلْ أَوْصَاكِ بِشَيْءٍ ، قَالَتْ : نَعَمْ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ ، قَالَ : ذَاكِ أَبِي وَقَدْ أَمَرَنِي أَنْ أُفَارِقَكِ الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَطَلَّقَهَا وَتَزَوَّجَ مِنْهُمْ أُخْرَى فَلَبِثَ عَنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ بَعْدُ فَلَمْ يَجِدْهُ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ فَسَأَلَهَا عَنْهُ ، فَقَالَتْ : خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا ، قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ وَسَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ ، فَقَالَتْ : نَحْنُ بِخَيْرٍ وَسَعَةٍ وَأَثْنَتْ عَلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : مَا طَعَامُكُمْ ، قَالَتْ : اللَّحْمُ ، قَالَ : فَمَا شَرَابُكُمْ ، قَالَتْ : الْمَاءُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي اللَّحْمِ وَالْمَاءِ ، قَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ يَوْمَئِذٍ حَبٌّ وَلَوْ كَانَ لَهُمْ دَعَا لَهُمْ فِيهِ ، قَالَ : فَهُمَا لَا يَخْلُو عَلَيْهِمَا أَحَدٌ بِغَيْرِ مَكَّةَ إِلَّا لَمْ يُوَافِقَاهُ ، قَالَ : فَإِذَا جَاءَ زَوْجُكِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلَامَ وَمُرِيهِ يُثْبِتُ عَتَبَةَ بَابِهِ فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : هَلْ أَتَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ أَتَانَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَأَثْنَتْ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِي عَنْكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَسَأَلَنِي كَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا بِخَيْرٍ ، قَالَ : فَأَوْصَاكِ بِشَيْءٍ ، قَالَتْ : نَعَمْ هُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُثْبِتَ عَتَبَةَ بَابِكَ ، قَالَ : ذَاكِ أَبِي وَأَنْتِ الْعَتَبَةُ أَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَكِ ثُمَّ لَبِثَ عَنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِسْمَاعِيلُ يَبْرِي نَبْلًا لَهُ تَحْتَ دَوْحَةٍ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ فَلَمَّا رَآهُ قَامَ إِلَيْهِ فَصَنَعَا كَمَا يَصْنَعُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ وَالْوَلَدُ بِالْوَالِدِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا إِسْمَاعِيلُ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ ، قَالَ : فَاصْنَعْ مَا أَمَرَكَ رَبُّكَ ، قَالَ : وَتُعِينُنِي ، قَالَ : وَأُعِينُكَ ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ هَا هُنَا بَيْتًا وَأَشَارَ إِلَى أَكَمَةٍ مُرْتَفِعَةٍ عَلَى مَا حَوْلَهَا ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنْ الْبَيْتِ فَجَعَلَ إِسْمَاعِيلُ يَأْتِي بِالْحِجَارَةِ وَإِبْرَاهِيمُ يَبْنِي حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ جَاءَ بِهَذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَهُ لَهُ فَقَامَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبْنِي وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ وَهُمَا ، يَقُولَانِ : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة البقرة آية 127 ، قَالَ : فَجَعَلَا يَبْنِيَانِ حَتَّى يَدُورَا حَوْلَ الْبَيْتِ وَهُمَا يَقُولَانِ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة البقرة آية 127 .
Narrated Ibn `Abbas: The first lady to use a girdle was the mother of Ishmael. She used a girdle so that she might hide her tracks from Sarah. Abraham brought her and her son Ishmael while she was suckling him, to a place near the Ka`ba under a tree on the spot of Zamzam, at the highest place in the mosque. During those days there was nobody in Mecca, nor was there any water So he made them sit over there and placed near them a leather bag containing some dates, and a small water-skin containing some water, and set out homeward. Ishmael's mother followed him saying, O Abraham! Where are you going, leaving us in this valley where there is no person whose company we may enjoy, nor is there anything (to enjoy)? She repeated that to him many times, but he did not look back at her Then she asked him, Has Allah ordered you to do so? He said, Yes. She said, Then He will not neglect us, and returned while Abraham proceeded onwards, and on reaching the Thaniya where they could not see him, he faced the Ka`ba, and raising both hands, invoked Allah saying the following prayers: 'O our Lord! I have made some of my offspring dwell in a valley without cultivation, by Your Sacred House (Ka`ba at Mecca) in order, O our Lord, that they may offer prayer perfectly. So fill some hearts among men with love towards them, and (O Allah) provide them with fruits, so that they may give thanks.' (14.37) Ishmael's mother went on suckling Ishmael and drinking from the water (she had). When the water in the water-skin had all been used up, she became thirsty and her child also became thirsty. She started looking at him (i.e. Ishmael) tossing in agony; She left him, for she could not endure looking at him, and found that the mountain of Safa was the nearest mountain to her on that land. She stood on it and started looking at the valley keenly so that she might see somebody, but she could not see anybody. Then she descended from Safa and when she reached the valley, she tucked up her robe and ran in the valley like a person in distress and trouble, till she crossed the valley and reached the Marwa mountain where she stood and started looking, expecting to see somebody, but she could not see anybody. She repeated that (running between Safa and Marwa) seven times. The Prophet said, This is the source of the tradition of the walking of people between them (i.e. Safa and Marwa). When she reached the Marwa (for the last time) she heard a voice and she asked herself to be quiet and listened attentively. She heard the voice again and said, 'O, (whoever you may be)! You have made me hear your voice; have you got something to help me? And behold! She saw an angel at the place of Zamzam, digging the earth with his heel (or his wing), till water flowed from that place. She started to make something like a basin around it, using her hand in this way, and started filling her water-skin with water with her hands, and the water was flowing out after she had scooped some of it. The Prophet added, May Allah bestow Mercy on Ishmael's mother! Had she let the Zamzam (flow without trying to control it) (or had she not scooped from that water) (to fill her water-skin), Zamzam would have been a stream flowing on the surface of the earth. The Prophet further added, Then she drank (water) and suckled her child. The angel said to her, 'Don't be afraid of being neglected, for this is the House of Allah which will be built by this boy and his father, and Allah never neglects His people.' The House (i.e. Ka`ba) at that time was on a high place resembling a hillock, and when torrents came, they flowed to its right and left. She lived in that way till some people from the tribe of Jurhum or a family from Jurhum passed by her and her child, as they (i.e. the Jurhum people) were coming through the way of Kada'. They landed in the lower part of Mecca where they saw a bird that had the habit of flying around water and not leaving it. They said, 'This bird must be flying around water, though we know that there is no water in this valley.' They sent one or two messengers who discovered the source of water, and returned to inform them of the water. So, they all came (towards the water). The Prophet added, Ishmael's mother was sitting near the water. They asked her, 'Do you allow us to stay with you? She replied, 'Yes, but you will have no right to possess the water.' They agreed to that. The Prophet further said, Ishmael's mother was pleased with the whole situation as she used to love to enjoy the company of the people. So, they settled there, and later on they sent for their families who came and settled with them so that some families became permanent residents there. The child (i.e. Ishmael) grew up and learnt Arabic from them and (his virtues) caused them to love and admire him as he grew up, and when he reached the age of puberty they made him marry a woman from amongst them. After Ishmael's mother had died, Abraham came after Ishmael's marriage in order to see his family that he had left before, but he did not find Ishmael there. When he asked Ishmael's wife about him, she replied, 'He has gone in search of our livelihood.' Then he asked her about their way of living and their condition, and she replied, 'We are living in misery; we are living in hardship and destitution,' complaining to him. He said, 'When your husband returns, convey my salutation to him and tell him to change the threshold of the gate (of his house).' When Ishmael came, he seemed to have felt something unusual, so he asked his wife, 'Has anyone visited you?' She replied, 'Yes, an old man of so-and-so description came and asked me about you and I informed him, and he asked about our state of living, and I told him that we were living in a hardship and poverty.' On that Ishmael said, 'Did he advise you anything?' She replied, 'Yes, he told me to convey his salutation to you and to tell you to change the threshold of your gate.' Ishmael said, 'It was my father, and he has ordered me to divorce you. Go back to your family.' So, Ishmael divorced her and married another woman from amongst them (i.e. Jurhum). Then Abraham stayed away from them for a period as long as Allah wished and called on them again but did not find Ishmael. So he came to Ishmael's wife and asked her about Ishmael. She said, 'He has gone in search of our livelihood.' Abraham asked her, 'How are you getting on?' asking her about their sustenance and living. She replied, 'We are prosperous and well-off (i.e. we have everything in abundance).' Then she thanked Allah' Abraham said, 'What kind of food do you eat?' She said. 'Meat.' He said, 'What do you drink?' She said, 'Water. He said, O Allah! Bless their meat and water. The Prophet added, At that time they did not have grain, and if they had grain, he would have also invoked Allah to bless it. The Prophet added, If somebody has only these two things as his sustenance, his health and disposition will be badly affected, unless he lives in Mecca. The Prophet added, Then Abraham said Ishmael's wife, When your husband comes, give my regards to him and tell him that he should keep firm the threshold of his gate.' When Ishmael came back, he asked his wife, 'Did anyone call on you?' She replied, 'Yes, a good-looking old man came to me,' so she praised him and added. 'He asked about you, and I informed him, and he asked about our livelihood and I told him that we were in a good condition.' Ishmael asked her, 'Did he give you any piece of advice?' She said, 'Yes, he told me to give his regards to you and ordered that you should keep firm the threshold of your gate.' On that Ishmael said, 'It was my father, and you are the threshold (of the gate). He has ordered me to keep you with me.' Then Abraham stayed away from them for a period as long as Allah wished, and called on them afterwards. He saw Ishmael under a tree near Zamzam, sharpening his arrows. When he saw Abraham, he rose up to welcome him (and they greeted each other as a father does with his son or a son does with his father). Abraham said, 'O Ishmael! Allah has given me an order.' Ishmael said, 'Do what your Lord has ordered you to do.' Abraham asked, 'Will you help me?' Ishmael said, 'I will help you.' Abraham said, Allah has ordered me to build a house here,' pointing to a hillock higher than the land surrounding it. The Prophet added, Then they raised the foundations of the House (i.e. the Ka`ba). Ishmael brought the stones and Abraham was building, and when the walls became high, Ishmael brought this stone and put it for Abraham who stood over it and carried on building, while Ishmael was handing him the stones, and both of them were saying, 'O our Lord! Accept (this service) from us, Verily, You are the All-Hearing, the All-Knowing.' The Prophet added, Then both of them went on building and going round the Ka`ba saying: O our Lord ! Accept (this service) from us, Verily, You are the All-Hearing, the All-Knowing. (2.127)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی اور کثیر بن کثیر بن مطلب بن ابی وداعہ نے۔ یہ دونوں کچھ زیادہ اور کمی کے ساتھ بیان کرتے ہیں، وہ دونوں سعید بن جبیر سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، عورتوں میں کمر پٹہ باندھنے کا رواج اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( ہاجرہ علیہا السلام ) سے چلا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے کمر پٹہ اس لیے باندھا تھا تاکہ سارہ علیہا السلام ان کا سراغ نہ پائیں ( وہ جلد بھاگ جائیں ) پھر انہیں اور ان کے بیٹے اسماعیل کو ابراہیم ( علیہما السلام ) ساتھ لے کر مکہ میں آئے، اس وقت ابھی وہ اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے دونوں کو کعبہ کے پاس ایک بڑے درخت کے پاس بٹھا دیا جو اس جگہ تھا جہاں اب زمزم ہے۔ مسجد کی بلند جانب میں۔ ان دنوں مکہ میں کوئی انسان نہیں تھا۔ اس لیے وہاں پانی نہیں تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان دونوں کو وہیں چھوڑ دیا اور ان کے لیے ایک چمڑے کے تھیلے میں کھجور اور ایک مشک میں پانی رکھ دیا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام ( اپنے گھر کے لیے ) روانہ ہوئے۔ اس وقت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کے پیچھے پیچھے آئیں اور کہا کہ اے ابراہیم! اس خشک جنگل میں جہاں کوئی بھی آدمی اور کوئی بھی چیز موجود نہیں، آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کئی دفعہ اس بات کو دہرایا لیکن ابراہیم علیہ السلام ان کی طرف دیکھتے نہیں تھے۔ آخر ہاجرہ علیہا السلام نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں۔ اس پر ہاجرہ علیہا السلام بول اٹھیں کہ پھر اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرے گا، وہ ہم کو ہلاک نہیں کرے گا۔ چنانچہ وہ واپس آ گئیں اور ابراہیم علیہ السلام روانہ ہو گئے۔ جب وہ ثنیہ پہاڑی پر پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو ادھر رخ کیا، جہاں اب کعبہ ہے ( جہاں پر ہاجرہ اور اسماعیل علیہما السلام کو چھوڑ کر آئے تھے ) پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی کہ اے میرے رب! میں نے اپنی اولاد کو اس بےآب و دانہ میدان میں تیری حرمت والے گھر کے پاس ٹھہرایا ہے ( سورۃ ابراہیم ) «يشكرون‏» تک۔ ادھر اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کو دودھ پلانے لگیں اور خود پانی پینے لگیں۔ آخر جب مشک کا سارا پانی ختم ہو گیا تو وہ پیاسی رہنے لگیں اور ان کے لخت جگر بھی پیاسے رہنے لگے۔ وہ اب دیکھ رہی تھیں کہ سامنے ان کا بیٹا ( پیاس کی شدت سے ) پیچ و تاب کھا رہا ہے یا ( کہا کہ ) زمین پر لوٹ رہا ہے۔ وہ وہاں سے ہٹ گئیں کیونکہ اس حالت میں بچے کو دیکھنے سے ان کا دل بے چین ہوتا تھا۔ صفا پہاڑی وہاں سے نزدیک تر تھی۔ وہ ( پانی کی تلاش میں ) اس پر چڑھ گئیں اور وادی کی طرف رخ کر کے دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی انسان نظر نہیں آیا، وہ صفا سے اتر گئیں اور جب وادی میں پہنچیں تو اپنا دامن اٹھا لیا ( تاکہ دوڑتے وقت نہ الجھیں ) اور کسی پریشان حال کی طرح دوڑنے لگیں پھر وادی سے نکل کر مروہ پہاڑی پر آئیں اور اس پر کھڑی ہو کر دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ اس طرح انہوں نے سات چکر لگائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( صفا اور مروہ کے درمیان ) لوگوں کے لیے دوڑنا اسی وجہ سے مشروع ہوا۔ ( ساتویں مرتبہ ) جب وہ مروہ پر چڑھیں تو انہیں ایک آواز سنائی دی، انہوں نے کہا، خاموش! یہ خود اپنے ہی سے وہ کہہ رہی تھیں اور پھر آواز کی طرف انہوں نے کان لگا دئیے۔ آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی پھر انہوں نے کہا کہ تمہاری آواز میں نے سنی۔ اگر تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو تو کرو۔ کیا دیکھتی ہیں کہ جہاں اب زمزم ( کا کنواں ) ہے، وہیں ایک فرشتہ موجود ہے۔ فرشتے نے اپنی ایڑی سے زمین میں گڑھا کر دیا، یا یہ کہا کہ اپنے بازو سے، جس سے وہاں پانی ابل آیا۔ ہاجرہ نے اسے حوض کی شکل میں بنا دیا اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کر دیا ( تاکہ پانی بہنے نہ پائے ) اور چلو سے پانی اپنے مشکیزہ میں ڈالنے لگیں۔ جب وہ بھر چکیں تو وہاں سے چشمہ پھر ابل پڑا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ! ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر زمزم کو انہوں نے یوں ہی چھوڑ دیا ہوتا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چلو سے مشکیزہ نہ بھرا ہوتا تو زمزم ایک بہتے ہوئے چشمے کی صورت میں ہوتا۔ بیان کیا کہ پھر ہاجرہ علیہ السلام نے خود بھی وہ پانی پیا اور اپنے بیٹے کو بھی پلایا۔ اس کے بعد ان سے فرشتے نے کہا کہ اپنے برباد ہونے کا خوف ہرگز نہ کرنا کیونکہ یہیں اللہ کا گھر ہو گا، جسے یہ بچہ اور اس کا باپ تعمیر کریں گے اور اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا، اب جہاں بیت اللہ ہے، اس وقت وہاں ٹیلے کی طرح زمین اٹھی ہوئی تھی۔ سیلاب کا دھارا آتا اور اس کے دائیں بائیں سے زمین کاٹ کر لے جاتا۔ اس طرح وہاں کے دن و رات گزرتے رہے اور آخر ایک دن قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وہاں سے گزرے یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) قبیلہ جرہم کے چند گھرانے مقام کداء ( مکہ کا بالائی حصہ ) کے راستے سے گزر کر مکہ کے نشیبی علاقے میں انہوں نے پڑاؤ کیا ( قریب ہی ) انہوں نے منڈلاتے ہوئے کچھ پرندے دیکھے، ان لوگوں نے کہا کہ یہ پرندہ پانی پر منڈلا رہا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے جب بھی ہم اس میدان سے گزرے ہیں یہاں پانی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آخر انہوں نے اپنا ایک آدمی یا دو آدمی بھیجے۔ وہاں انہوں نے واقعی پانی پایا چنانچہ انہوں نے واپس آ کر پانی کی اطلاع دی۔ اب یہ سب لوگ یہاں آئے۔ راوی نے بیان کیا کہ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ اس وقت پانی پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ہمیں اپنے پڑوس میں پڑاؤ ڈالنے کی اجازت دیں گی۔ ہاجرہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں ہو گا۔ انہوں نے اسے تسلیم کر لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ام اسماعیل کو پڑوسی مل گئے۔ انسانوں کی موجودگی ان کے لیے دلجمعی کا باعث ہوئی۔ ان لوگوں نے خود بھی یہاں قیام کیا اور اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلوا لیا اور وہ سب لوگ بھی یہیں آ کر ٹھہر گئے۔ اس طرح یہاں ان کے کئی گھرانے آ کر آباد ہو گئے اور بچہ ( اسماعیل علیہ السلام جرہم کے بچوں میں ) جوان ہوا اور ان سے عربی سیکھ لی۔ جوانی میں اسماعیل علیہ السلام ایسے خوبصورت تھے کہ آپ پر سب کی نظریں اٹھتی تھیں اور سب سے زیادہ آپ بھلے لگتے تھے۔ چنانچہ جرہم والوں نے آپ کی اپنے قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کر دی۔ پھر اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( ہاجرہ علیہا السلام ) کا انتقال ہو گیا ) ۔ اسماعیل علیہ السلام کی شادی کے بعد ابراہیم علیہ السلام یہاں اپنے چھوڑے ہوئے خاندان کو دیکھنے آئے۔ اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہیں تھے۔ اس لیے آپ نے ان کی بیوی سے اسماعیل علیہ السلام کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ روزی کی تلاش میں کہیں گئے ہیں۔ پھر آپ نے ان سے ان کی معاش وغیرہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حالت اچھی نہیں ہے، بڑی تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے۔ اس طرح انہوں نے شکایت کی۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا شوہر آئے تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔ پھر جب اسماعیل علیہ السلام واپس تشریف لائے تو جیسے انہوں نے کچھ انسیت سی محسوس کی اور دریافت فرمایا، کیا کوئی صاحب یہاں آئے تھے؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں ایک بزرگ اس اس شکل کے یہاں آئے تھے اور آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، میں نے انہیں بتایا ( کہ آپ باہر گئے ہوئے ہیں ) پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر اوقات کا کیا حال ہے؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ہماری گزر اوقات بڑی تنگی سے ہوتی ہے۔ اسماعیل علیہ السلام نے دریافت کیا کہ انہوں نے تمہیں کچھ نصیحت بھی کی تھی؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں مجھ سے انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو سلام کہہ دوں اور وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ بزرگ میرے والد تھے اور مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں جدا کر دوں، اب تم اپنے گھر جا سکتی ہو۔ چنانچہ اسماعیل علیہ السلام نے انہیں طلاق دے دی اور بنی جرہم ہی میں ایک دوسری عورت سے شادی کر لی۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا، ابراہیم علیہ السلام ان کے یہاں نہیں آئے۔ پھر جب کچھ دنوں کے بعد وہ تشریف لائے تو اس مرتبہ بھی اسماعیل علیہ السلام اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔ آپ ان کی بیوی کے یہاں گئے اور ان سے اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے لیے روزی تلاش کرنے گئے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا تم لوگوں کا حال کیسا ہے؟ آپ نے ان کی گزر بسر اور دوسرے حالات کے متعلق پوچھا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا حال بہت اچھا ہے، بڑی فراخی ہے، انہوں نے اس کے لیے اللہ کی تعریف و ثنا کی۔ ابراہیم علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کھاتے کیا ہو؟ انہوں نے بتایا کہ گوشت! آپ نے دریافت کیا فرمایا کہ پیتے کیا ہو؟ بتایا کہ پانی! ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے دعا کی، اے اللہ ان کے گوشت اور پانی میں برکت نازل فرما۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں انہیں اناج میسر نہیں تھا۔ اگر اناج بھی ان کے کھانے میں شامل ہوتا تو ضرور آپ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ صرف گوشت اور پانی کی خوراک میں ہمیشہ گزارہ کرنا مکہ کے سوا اور کسی زمین پر بھی موافق نہیں پڑتا۔ ابراہیم علیہ السلام نے ( جاتے ہوئے ) اس سے فرمایا کہ جب تمہارے شوہر واپس آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہہ دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ باقی رکھیں۔ جب اسماعیل علیہ السلام تشریف لائے تو پوچھا کہ کیا یہاں کوئی آیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں ایک بزرگ، بڑی اچھی شکل و صورت کے آئے تھے۔ بیوی نے آنے والے بزرگ کی تعریف کی پھر انہوں نے مجھ سے آپ کے متعلق پوچھا ( کہ کہاں ہیں؟ ) اور میں نے بتا دیا، پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر بسر کا کیا حال ہے۔ تو میں نے بتایا کہ ہم اچھی حالت میں ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے تمہیں کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا جی ہاں، انہوں نے آپ کو سلام کہا تھا اور حکم دیا تھا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بزرگ میرے والد تھے، چوکھٹ تم ہو اور آپ مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں۔ پھر جتنے دنوں اللہ تعالیٰ کو منظور رہا، کے بعد ابراہیم علیہ السلام ان کے یہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اسماعیل زمزم کے قریب ایک بڑے درخت کے سائے میں ( جہاں ابراہیم انہیں چھوڑ گئے تھے ) اپنے تیر بنا رہے ہیں۔ جب اسماعیل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان کی طرف کھڑے ہو گے اور جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹا اپنے باپ کے ساتھ محبت کرتا ہے وہی طرز عمل ان دونوں نے بھی ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کیا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، اسماعیل اللہ نے مجھے ایک حکم دیا ہے۔ اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا، آپ کے رب نے جو حکم آپ کو دیا ہے آپ اسے ضرور پورا کریں۔ انہوں نے فرمایا اور تم بھی میری مدد کر سکو گے؟ عرض کیا کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسی مقام پر اللہ کا ایک گھر بناؤں اور آپ نے ایک اور اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا کہ اس کے چاروں طرف! کہا کہ اس وقت ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیاد پر عمارت کی تعمیر شروع کی۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے اور ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے جاتے تھے۔ جب دیواریں بلند ہو گئیں تو اسماعیل یہ پتھر لائے اور ابراہیم علیہ السلام کے لیے اسے رکھ دیا۔ اب ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر دیتے جاتے تھے اور یہ دونوں یہ دعا پڑھتے جاتے تھے۔ ہمارے رب! ہماری یہ خدمت تو قبول کر بیشک تو بڑا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ فرمایا کہ یہ دونوں تعمیر کرتے رہے اور بیت اللہ کے چاروں طرف گھوم گھوم کر یہ دعا پڑھتے رہے۔ ”اے ہمارے رب! ہماری طرف سے یہ خدمت قبول فرما۔ بیشک تو بڑا سننے والا بہت جاننے والا ہے۔“
Sahih Muslim
1582
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ
Anas b. Malik is reported to have said: I observed four rak'ahs in the noon prayer with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) at Medina, and said two rak'ahs in the afternoon prayer at Dhu'l-Hulaifa.
محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ دونوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور آ پ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔
Sahih Muslim
3336
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَا تَفْعَلْ، الْزَمِ الْمَدِينَةَ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ - حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فَقَالَ النَّاسُ: وَاللهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ، وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ؟» - مَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ - «وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ - أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - لَقَدْ هَمَمْتُ - أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ - لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ»، وَقَالَ: «اللهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَمًا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ، وَلَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا»، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: «ارْتَحِلُوا»، فَارْتَحَلْنَا، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ - الشَّكُّ مِنْ حَمَّادٍ - مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ
Abu Sa'id Maula al-Mahri reported that they were hard pressed by the distress and hardship of Medina, and he come to AbU Sa'Id al-Khudri and said to him: I have a large family (to support) and we are enduring hardships; I have, therefore, made up my mind to take my family to some fertile land. Thereupon Abu Sa'id said: Don't do that, stick to Medina, for we have come out with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and (I think that he also said) until we reached 'Usfan, and he (the Prophet along with his Companions) stayed there for some nights. There the people said: By Allah, we are lying here idle, whereas our children are unprotected behind us, and we do not feel secure about them. This (apprehension of theirs) reached Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), whereupon he said: What is this matter concerning you that has reached me? (I do not retain how he said it, whether he said like this: ) By Him (in the name of Whom) I take oath, (or he said like this: ) By Him in Whose Hand is my life, I made up my mind or if you like (I do not retain what word did he actually say), I should command my camel to proceed and not to let it halt until it comes to Medina and then said: Ibrahim declared Mecca as the sacred territory and it became sacred, and I declare Medina as the sacred territory-the area between the two mountains ('Air and Uhud). Thus no blood is to be shed within its (bounds) and no weapon is to be carried for fighting, and the leaves of the trees there should not be beaten off except for fodder. O Allah, bless us in our city; O Allah, bless us in our sil; O Allah, bless us in our mudd; O Allah, bless us in our sa; O Allah, bless us in our mudd. O Allah, bless us in our city. O Allah, bless with this blessing two more blessings. By Him in Whose Hand is my life, there is no ravine or mountain path of Medina which is not protected by two angels until you reach there. (He then said to the people: ) Proceed, and we, therefore, proceeded and we came to Medina By Him (in Whose name) we take oath and (in Whose name) oath is taken (Hammad is in doubt about it), we had hardly put down our camel saddles on arriving at Medina that we were attacked by the people of the tribe of 'Abdullah b. Ghatafan but none dared to do it before.
حماد بن اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ہمیں حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے وہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انھوں نےمہری کےمولیٰ ابو سعید سے حدیث بیان کی کہ انھیں مدینہ میں بدحالی اورسختی نےآلیا ، وہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا : میں کثیر العیال ہوں اورہمیں تنگدستی نے آلیا ہے ، میرا ارادہ ہے کہ میں ا پنے افراد خانہ کو کسی سر سبز وشاداب علاقے کی طرف منتقل کردوں ۔ تو ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ایسا مت کرنا ، مدینہ میں ہی ٹھہرے رہو ، کیونکہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر پر ) نکلے ۔ میرا خیال ہے انھوں نےکہا ۔ حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں چند راتیں قیام فرمایا ، تو لوگوں نے کہا : ہم یہاں کسی خاص مقصد کے تحت نہیں ٹھہر ے ہوئے ، اور ہمارے افراد خانہ پیچھے ( اکیلے ) ہیں ہم انھیں محفوظ نہیں سمجھتے ، ان کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کیا بات ہے جو تمھاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ " ۔ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکس طرح فرمایا ۔ " اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں ۔ " یا ( فرمایا ) " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں نےارادہ کیایا ( فرمایا ) اگرتم چاہو ۔ میں نہیں جانتا کہ آپ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ ارشاد فرمایا : میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم د وں ، پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤں ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اے اللہ!بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا ، اور اسے حرم بنایا ، اور میں نے مدینہ کو اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کو حرمت والا قرار دیا کہ اس میں خون نہ بہایا جائے ، اس میں لڑائی کے لئے اسلحہ نہ اٹھایا جائے اور اس میں چارے کے سوا ( کسی اورغرض سے ) اس کے درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اور اس برکت کے ساتھ دو برکتیں ( مزید عطا ) کردے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!مدینہ کی کوئی گھاٹی اور درہ نہیں مگر اس پر دوفرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے یہاں تکہ کہ تم اس میں واپس آجاؤ ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا " کوچ کرو ۔ " تو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ آگئے ۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں! یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے ۔ یہ شک حماد کی طرف سےہے ۔ مدینہ میں داخل ہوکر ہم نے اپنی سواریوں کے پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کردیا اور اس سے پہلے کوئی چیز انھیں مشتعل نہیں کررہی تھی ۔