TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3877 - عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے - The book of transactions - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 26 in this chapter
عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ»، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ سَوَاءً
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not buy the fruit until their condition is clear, and do not buy the fresh dates. A hadith like this has been reported by Ibn 'Umar through another chain of transmitters.
ابن شہاب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" پھل ( پکنے ) کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے مت خریدو اور نہ خشک کھجور کے عوض ( درخت پر لگا ) پھل خریدو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمرو نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، بالکل اسی کے مانند
3877
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

169
1
نا معلوم مقدار میں کھجور کے ڈھیر کو (متعین مقدار کی )کھجور وں کے عوض بیچنا حرام ہے
Sahih Muslim
2
(41) CHAPTER. Fresh dates and dry dates.
تازہ کھجور اورخشک کھجور کے بیان میں ۔
Sahih Bukhari
3
عرایا کی بیع یعنی کھجور کے درخت کو انداز ے سے خشک کھجور کے بدلے خریدنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
باب: تازہ کھجور کے بدلے خشک کھجور خریدنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About Eating Melon With Fresh Dates
باب: تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Mixing Unripe Dates And Dates
باب: گدر (ادھ پکی) کھجور اور خشک کھجور ملا کر نبیذ بنانے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
(20) CHAPTER. Selling of mixed dates.
مختلف قسم کی کھجور ملا کر بیچنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
8
(74) CHAPTER. Selling of dates for dates.
کھجور کو کھجور کے بدلہ میں بیچنا
Sahih Bukhari
9
(86) CHAPTER. The sale of date-palms (date trees) before their benefit is evident. (i.e., their dates are ripe).
جب تک کھجور پختہ نہ ہو اس کا بیچنا منع ہے
Sahih Bukhari
10
(91) CHAPTER. The sale of unharvested crops for a measured quantity of foodstuff.
کھیتی کا اناج جو ابھی درختوں پر ہو ماپ کے رو سے غلہ کے عوض بیچنا
Sahih Bukhari
11
(92) CHAPTER. The sale of date-palms completely (with roots and stems).
کھجور کے درخت کو جڑ سمیت بیچنا
Sahih Bukhari
12
(94) CHAPTER. The sale and eating of spadix (edible pith growing at the upper part of the trunk of a palm tree).
کھجور کا گابھا بیچنا یا کھانا ( جو سفید سفید اندر سے نکلتا ہے )
Sahih Bukhari
13
(104) CHAPTER. The selling of the pictures of inanimated objects having no souls and what is hated from that.
غیر جاندار چیزوں کی تصویر بیچنا اور اس میں کون سی تصویر حرام ہے
Sahih Bukhari
14
(39) CHAPTER. The eating of snake cucumber with fresh dates.
تازہ کھجور اور ککڑی ایک ساتھ کھانا ۔
Sahih Bukhari
15
Chapter: The prohibition of selling surplus water which is in the wilderness and is needed to take care of the pasture. The prohibition of not allowing others to use it. The prohibition of Stud fees
ایسا زائد پانی بیچنا حرام ہے جو بیابان میں ہو اور گھاس چرانے کے لیے اس کی ضرورت ہو‘اسے استعمال کرنے سے روکنا (بھی)حرام ہے ‘اور نرکی جفتی کی اجرت لینا حرام ہے
Sahih Muslim
16
Chapter: The prohibition of Khamr, which may be made from the juice of grapes, dried dates, unripe dates, raisins and other things that intoxicate
شراب کی حرمت اور اس بات کا بیان کہ شراب انگور،خشک کھجور ،ادھ کچی اور کشمش وغیرہ کے رس سے بنتی ہے جو نشہ آور ہو تی ہے
Sahih Muslim
17
Chapter: Eating cucumbers with fresh dates
تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھانا
Sahih Muslim
18
«رطب» (تازہ کھجور) کو سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
19
ککڑی اور تازہ کھجور کو ملا کر کھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
20
کچی کھجور کو خشک کھجور کے ساتھ ملا کر کھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
21
باب: کھجور کی گٹھلی برابر سونے کے عوض شادی کرانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
باب: عاریت والی بیع میں اندازہ کر کے خشک کھجور دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
باب: عاریت والی بیع میں تازہ کھجور دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
باب: تازہ اور ادھ کچی کھجور کے مخلوط مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: ادھ کچی اور تازہ کھجوروں سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
باب: تازہ کھجور اور کشمش سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
Chapter: What Has Been Related About Purchasing Date-Palms After Pollination And A Slave That Has Property
باب: پیوند کاری کے بعد کھجور کے درخت کو بیچنے کا اور ایسے غلام کو بیچنے کا بیان جس کے پاس مال ہو
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Food Until It has Been Acquired
باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: Something Else About That
باب: بیع عرایا سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Payment In Advance For Food And Fruit
باب: غلے اور کھجور میں بیع سلف (پیشگی قیمت ادا کرنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Land That Is Owned By Partners When One Of Them Wants To Sell His Share
باب: مشترکہ زمین جس کا حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Not Cutting The Hand For (Date) Fruits Or Palm Marrow
باب: پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: About It being Disliked To Sell The Spoils Of War Until It Has Been Distributed
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take To Dates At Once
باب: دو دو کھجور ایک لقمے میں کھانے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Recommending Dates
باب: کھجور کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Eating Snake Cucumber With Fresh Dates
باب: کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان
Jam e Tirmazi
38
کھجور اور انگور کی فصل کا اندازہ لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
39
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
Musnad Ahmad
40
اصولیعنی درختوں اور پھلوں کو فروخت کرنے کے بارے میں ابواب پیوند کاری کیا ہواکھجور کا درخت فروخت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
Musnad Ahmad
42
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
Musnad Ahmad
43
ولیمہ میں کھجوروں وغیرہ کو بکھیرنے اور پھر ان کو لوٹنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
45
عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان
Musnad Ahmad
46
اس امر کا بیان کہ جمادات اور حیوانات کا گفتگو کرنا اور کھجور کے تنے کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی میں رونابھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ہے
Musnad Ahmad
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جدائی میں غمگین ہونے پر کھجور کے تنے کا گریہ
Musnad Ahmad
48
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
Musnad Ahmad
49
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
50
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

135
Sahih Muslim
4007
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهِ الْكَلَأَ»
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Do not withhold excess of water, so that you may prevent the growth of herbage.
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " زائد پانی نہ روکو کہ اس کے ذریعے سے تم گھاس روک دو ۔ "
Sahih Muslim
1226
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
Abu Huraira and Abu Sa'id narrated that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw sputum, and the rest of the hadith is the same.
( سفیان کے بجائے ) یونس اور ابراہیم نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے بلغم ملا تھوک دیکھا ........ ( ٖآگے ) ابن عینہ کی حدیث کے مانند ہے ۔
Sahih Muslim
1375
وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَالسِّيَاقُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، أَوْ مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا»، وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّكْعَةُ
A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who finds a prostration before sunset or at dawn (prayer) before the rising (of the sun) he in fact finds that (prayer), and prostration implies a rak'ah.
حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز کا ایک سجدہ پالیا سورج کے نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کا تو یقینا اس نے اس نماز کو پالیا ۔ ‘ ‘ ( ان شہاب نے کہا : ) سجدے سے مراد رکعت ہی ہے ۔
Sahih Muslim
2729
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ وَهْبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقُولُ: لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ، مَا عِشْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِكَ؟» فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ، يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَنَمْ وَقُمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ» قَالَ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ» قَالَ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ» قَالَ قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ» قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: «لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي»
Abdullah b. 'Amr b. al-'As reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was informed that he could stand up for (prayer) throughout the night and observe fast every day so long as he lived. Thereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Is it you who said this? I said to him: Messenger of Allah, it is I who said that. Thereupon the Messenger of Allah may peace be upon him) said: You are not capable enough to do so. Observe fast and break it; sleep and stand for prayer, and observe fast for three days during the month; for every good is multiplied ten times and this is like fasting for ever. I said: Messenger of Allah. I am capable of doing more than this. Thereupon he said: Fast one day and do not fast for the next two days. I said: Messenger of Allah, I have the strength to do more than that. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said: Fast one day and break on the other day. That is known as the fasting of David (peace be upon him) and that is the best fasting. I said: I am capable of doing more than this. Thereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is nothing better than this. 'Abdullah b. 'Amr (Allah be pleased with them) said: Had I accepted the three days (fasting during every month) as the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said, it would have been more dear to me than my family and my property.
ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ وہ ( عبداللہ ) کہتاہے : میں جب تک زندہ ہوں ( مسلسل ) رات کا قیام کروں گا اور دن کا روزہ رکھوں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم ہی ہو جو یہ باتیں کرتے ہو؟ "" میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !واقعی میں نے ہی یہ کہا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم یہ کام نہیں کرسکو گے ، لہذا روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو ۔ نیند بھی کرو اور قیام بھی کرو ، مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی ( کا اجر ) دس گنا ہے ۔ اس طرح یہ سارے وقت کے روزوں کی طرح ہے ۔ "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو ۔ "" کہا : "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اورایک دن نہ رکھو ۔ "" یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ اور یہ روزوں کا سب سے منصفانہ ( طریقہ ) ہے ۔ "" کہا : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس سے افضل کوئی صورت نہیں ۔ "" عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ بات مجھے اپنے اہل وعیال سے بھی زیاد عزیز ہے کہ میں ( مہینے میں ) تین دنوں کی بات تسلیم کرلیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی ۔
Sahih Muslim
4030
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا، لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا مَاشِيَةٍ، وَلَا أَرْضٍ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ»، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي الطَّاهِرِ: وَلَا أَرْضٍ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who kept a dog which is neither meant for hunting nor for watching the anitmals nor for watching the fields would lose two qirat every day out of his reward; and there is no mention of the fields in the hadith transmitted by Abu Tahir.
ابوطاہر اور حرملہ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : "" جس شخص نے کتا پالا جو شکاری ہے ، نہ مویشیوں کے لیے ہے اور نہ ہی زمین کے لیے ، اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے ۔ "" ابوطاہر کی حدیث میں "" نہ زمین کے لیے "" کے الفاظ نہیں ہیں ۔
Sahih Muslim
4391
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا، وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ، وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ»، مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ
Abu Huraira reported that two women of the tribe of Hudhail fought with each other and one of them flung a stone at the other, killing her and what was in her womb. The case was brought to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he gave judgment that the diyat (indemnity) of her unborn child is a male or a female slave of the best quality, and he also decided that the diyat of the woman is to be paid by her relative on the father's side, and he (the Holy Prophet) made her sons and those who were with them her heirs. Hamal b. al-Nabigha al-Hudhali said: Messenger of Allah, why should I play blood-wit for one who neither drank, nor ate, nor spoke, nor made any noise; it is like a nonentity (it is, therefore, not justifiable to demand blood-wit for it). Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He seems to be one of the brothers of soothsavers on account of the rhymed speech which he has composed.
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہذیل کی دو عورتیں باہم لڑ پڑیں تو ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اسے قتل کر دیا اور اس بچے کو بھی جو اس کے پیٹ میں تھا ، چنانچہ وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جنین کی دیت ایک غلام ، مرد یا عورت ہے اور آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کی دیت اس ( قاتلہ ) کے عاقلہ کے ذمے ہے اور اس کا وارث اس کے بیٹے اور ان کے ساتھ موجود دوسرے حقداروں کو بنایا ۔ اس پر حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں اس کا تاوان کیسے دوں جس نے نہ پیا ، نہ کھایا ، نہ بولا ، نہ آواز نکالی ، ایسا ( خون ) تو رائیگاں ہوتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے ۔ " اس کی سجع ( قافیہ دار کلام ) کی وجہ سے ، جو اس نے جوڑی تھی
Sahih Muslim
4467
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
A hadith like this has been transmitted on the authority of Abu Huraira.
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب اور عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
Sahih Muslim
5849
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: أَفِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ؟
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: An ant had bitten a Prophet (one amongst the earlier Prophets) and he ordered that the colony of the ants should be burnt. And Allah revealed to him: Because of an ant's bite you have burnt a community from amongst the communities which sings My glory.
سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( پہلے ) انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی کو کسی چیونٹی نے کا ٹ لیا ، انھوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کے بارے میں حکم دیا تو وہ جلا دی گئی ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے ان کے طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے آپ نے امتوں میں سے ایک ایسی امت ( بڑی آبادی ) کو ہلا ک کر دیا ۔ جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی؟ "
Sahih Muslim
5920
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ، أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، لَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي»
Abu Huraira reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who saw me in a dream would soon see me in the state of wakefulness, or as if he saw me in a state of wakefulness, for the satan does not appear in my form.
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا ، " جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا وہ عنقریب بیداری میں بھی مجھے دیکھ لے گا یا ( فرما یا : ) گو یا اس نے مجھ کو بیداری کے عالم میں دیکھا ، شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔ "