حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا .
It was narrated from Salim from his father:
Zaid bin Thabit narrated to me that the Messenger of Allah (ﷺ) gave a concession regarding the sale of 'Araya.”
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں رخصت دی ہے ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/البیوع ۷۵ (۲۱۷۳)، صحیح مسلم/البیوع ۱۴ (۱۵۳۹)، سنن الترمذی/البیوع ۶۲ (۱۳۰۰،۱۳۰۲)، سنن النسائی/البیوع ۳۱ (۴۵۴۱)،(تحفة الأشراف:۳۷۲۳)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع ۲۰ (۳۳۶۲)، موطا امام مالک/البیوع ۹ (۱۴)، مسند احمد (۵/۱۸۱،۱۸۲،۱۸۸،۱۹۲)، سنن الدارمی/البیوع ۲۴ (۲۶۰۰)
Explanation
بیع عرایا: یہ بیع بھی بیع مزابنہ ہے، لیکن نبی کریم ﷺ نے عرایا کی اجازت فقراء اور مساکین کے فائدے اور آرام کے لئے دی ہے، عرایا جمع ہے عریہ کی، یعنی کوئی آدمی اپنے باغ میں سے دو تین درخت کسی کو ہبہ کر دے، پھر اس کا باغ میں بار بار آنا پریشانی کا سبب بن جائے، اس لئے مناسب خیال کر کے ان درختوں کا پھل خشک پھل کے بدلے اس سے خرید لے، اور ضروری ہے کہ یہ پھل پانچ وسق (۷۵۰ کلو) سے کم ہو
2268
Sahih