حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ .
It was narrated that Malik bin Aws bin Hadathan Nasri said:
I heard 'Umar bin Al-Khattab say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: Exchanging gold for gold is usury unless it is done on the spot. (Exchanging) wheat for wheat is usury, unless it is done on the spot. (Exchanging) barley for barley is usury unless it is done on the spot. (Exchanging) dates for dates is usury, unless it is done on the spot.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور کھجور کا کھجور سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/البیوع ۵۴ (۲۱۳۴)،۷۴ (۲۱۷۰)،۷۶ (۲۱۷۴)، صحیح مسلم/البیوع ۳۷ (۱۵۸۶)، سنن ابی داود/البیوع ۱۲ (۳۳۴۸)، سنن الترمذی/البیوع ۲۴ (۱۲۴۳)، سنن النسائی/البیوع ۳۹ (۴۵۶۲)،(تحفة الأشراف:۱۰۶۳۰)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ۱۷ (۳۸)، مسند احمد (۱/ ۲۴،۲۵،۴۵)، سنن الدارمی/البیوع ۴۱ (۲۶۲۰)
Explanation
اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے، لیکن ابوسعید کی روایت میں جو صحیحین میں وارد ہے، دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں تفاضل (کمی بیشی) اور نسیئہ (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو درست ہے، اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہو جائے گا۔
2253
Sahih