حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ .
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
Do not sell fruits until they have ripened. And he forbade (both) the seller and the purchaser (to engage in such a transaction).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو، آپ نے اس سے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ۱؎۔
Takhreej
سنن النسائی/البیوع ۲۶ (۴۵۲۶)،(تحفة الأشراف:۸۳۰۲)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ۸ (۱۴۸۶)، البیوع ۸۲ (۲۱۸۳)،۸۵ (۲۱۹۴)،۸۷ (۲۱۹۹)، صحیح مسلم/البیوع ۱۳ (۱۵۳۴)،۱۴ (۱۵۳۴)، سنن ابی داود/البیوع ۲۳ (۳۳۶۷)، سنن الترمذی/البیوع ۱۵ (۱۲۲۶)، موطا امام مالک/البیوع ۸ (۱۰)، مسند احمد (۲/۷،۸،۱۶،۴۶،۵۶،۵۹،۶۱،۸۰،۱۳۳)، سنن الدارمی/البیوع ۲۱ (۲۵۹۷)
Explanation
یعنی درخت پر جو پھل لگے ہوں ان کا بیچنا اس وقت تک جائز نہیں، جب تک کہ وہ پھل استعمال کے قابل نہ ہو جائیں، موجودہ دور میں کئی سالوں کے لئے باغات بیچ لیے جاتے ہیں جب کہ نہ پھول کا پتہ ہے نہ پھل کا، یہ بالکل حرام ہے، مسلمانوں کو اس طرح کی تجارت سے بچنا چاہئے اور حدیث کے مطابق جب پھل قابل استعمال ہو تب بیچنا چاہئے۔
2214
Sahih