حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ: وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ .
It was narrated from Sakhr Al-Ghamidi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
O Allah, bless my nation in their early mornings (i.e., what they do early in the morning). (Hasan)He said: When he sent out a raiding party or an army, he would send them at the beginning of the day. He said: (1) Sakhr was a man engaged in trade, and he used to send his goods out at the beginning of the day, and his wealth grew and increased.
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسے دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ فرماتے ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: غامدی صخر تاجر تھے، وہ اپنا مال تجارت صبح سویرے ہی بھیجتے تھے بالآخر وہ مالدار ہو گئے، اور ان کی دولت بڑھ گئی۔
Takhreej
سنن ابی داود/الجھاد ۸۵ (۲۶۰۶)، سنن الترمذی/البیوع ۶ (۱۲۱۲)،(تحفة الأشراف:۴۸۵۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۱۶،۴۱۷،۴۳۲،۴/۳۸۴،۳۹۰)، سنن الدارمی/السیر ۱ (۲۴۷۹)
Explanation
سویرے سے مراد یہ ہے کہ صبح کی نماز کے بعد شروع دن میں کرے، یہ وقت برکت کا ہے، جو کام اس وقت کرے گا امید ہے کہ اس میں برکت ہو گی۔
2236
Sahih