TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4216 - Chapter: Bequeathing One-Third - The book of wills - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 10 in this chapter
Chapter: Bequeathing One-Third
ایک تہائی کی وصیت کرنا
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ، قَالُوا: مَرِضَ سَعْدٌ بِمَكَّةَ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ،
Humaid b. Abd al-Rahmin al-Himayri reported on the authority of the three of the sons of Sa'd: They said: Sa'd fell ill in Mecca. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) visited him to inquire after his health. The rest of the hadith is the same.
ہمیں حماد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ایوب نے عمرو بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان حمیری سے اور انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے تین بیٹوں سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ میں بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے ہاں تشریف لائے ۔ ۔ آگے ثقفی کی حدیث کے ہم معنی ہے
4216
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

1,606
1
Chapter: What has been Related About Willing One Third
باب: ایک تہائی مال کی وصیت کے جواز کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About A Will For Third And A Fourth
باب: تہائی یا چوتھائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Oath Along With A Witness
باب: ایک گواہ کے ساتھ مدعی قسم کھانا دعویٰ کو ثابت کرنا ہے
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What has been Related About Beginning With The Debt Before The Will
باب: قرض کی ادا کرنا وصیت پر مقدم ہے
Jam e Tirmazi
5
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
6
نماز خوف کی تیسری صورت ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
Musnad Ahmad
7
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
8
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
Musnad Ahmad
9
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
10
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
11
بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
12
سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
Musnad Ahmad
13
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
Musnad Ahmad
14
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
15
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا
Musnad Ahmad
16
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
17
فصل سوم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک سوال کرنا اور ان کا ان کو ڈانٹنا
Musnad Ahmad
18
باب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
Musnad Ahmad
19
(3) CHAPTER. Taking a bath with a Sa of water or so. (One Sa = 3 kilograms approx.)
اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
20
(88) CHAPTER. To clasp one's hands by interlocking the fingers in the mosque or outside the mosque.
مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
21
(102) CHAPTER. A man facing a man while offering Salat (prayer).
نماز پڑھتے وقت ایک نمازی کا دوسرے شخص کی طرف رخ کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
22
(86) CHAPTER. To raise one's hands after finishing the second Raka (on standing for the third Raka).
( چار رکعت نماز میں ) قعدہ اولٰی سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا
Sahih Bukhari
23
(22) CHAPTER. One Muadh-dhin on Friday.
جمعہ کے لیے ایک مؤذن مقرر کرنا
Sahih Bukhari
24
(9) CHAPTER. Whoever thought it sufficient to invoke Allah for rain in the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer).
پانی کی دعا کرنے میں جمعہ کی نماز کو کافی سمجھنا ( یعنی علیحدہ استسقاء کی نماز نہ پڑھنا اور اس کی نیت کرنا یہ بھی استسقاء کی ایک شکل ہے )
Sahih Bukhari
25
(73) CHAPTER. The burial of two or three men in one grave.
دو یاتین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرنا
Sahih Bukhari
26
(13) CHAPTER. Reception of the returning pilgrims; and the riding of three persons on one animal.
مکہ آنے والے حاجیوں کا استقبال کرنا اور تین آدمیوں کا ایک سواری پر چڑھنا
Sahih Bukhari
27
(1) CHAPTER. The Itikaf in the last ten days of Ramadan. And Itikaf may be practised in any mosque.
رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا اور اعتکاف ہر ایک مسجد میں درست ہے
Sahih Bukhari
28
(4) CHAPTER. The pledge of protection given to Abu Bakr (by someone) during the lifetime by Allah's Messenger .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( ایک مشرک کو ) امان دینا اور اس کے ساتھ آپ کا عہد کرنا
Sahih Bukhari
29
(17) CHAPTER. It is permissible to lend money for a fixed time or sell on credit for a fixed time.
ایک معین مدت کے وعدہ پر قرض دینا یا بیع کرنا
Sahih Bukhari
30
(6) CHAPTER. A legal heir has no right to inherit through a will.
وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے
Sahih Bukhari
31
(3) CHAPTER. The advice to take care of non-Muslims who have a covenant of Allah's Messenger (p.b.u.h).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کافروں کو امان دی ( اپنے ذمہ میں لیا ) ان کے امان کو قائم رکھنے کی وصیت کرنا
Sahih Bukhari
32
(10) CHAPTER. The asylum and protection granted by the Muslims should be respected and observed by all of them, even if it is granted by one of the lowest social status.
مسلمان سب برابر ہیں اگر ایک ادنیٰ مسلمان کسی کافر کو پناہ دے تو سب مسلمانوں کو قبول کرنا چاہئے
Sahih Bukhari
33
(19) CHAPTER. It is permissible to conclude a peace treaty of three days or any other fixed period.
تین دن یا ایک معین مدت کے لیے صلح کرنا
Sahih Bukhari
34
(88) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet during his fatal illness.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو مرضالموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا
Sahih Bukhari
35
(71) CHAPTER. Whoever gave a Walima (wedding banquet) of less than one sheep.
ایک بکری سے کم کا ولیمہ کرنا ۔
Sahih Bukhari
36
(72) CHAPTER. It is obligatory to accept the invitation to a Walima (wedding banquet) and other invitations.
ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرناحق ہے ۔
Sahih Bukhari
37
(75) CHAPTER. To accept the invitation to a wedding party or any other party.
ہر ایک دعوت قبول کرنا شادی کی ہو یا کسی اور بات کی ۔
Sahih Bukhari
38
(3) CHAPTER. To provide one's family with food sufficient for one year in advance. And how one should spend on his dependants.
مرد کا اپنی بچوں کے لیے ایک سال کا خرچ جمع کرناجائز ہے اور جورو بچوں پر کیوں کر خرچ کرے اس کا بیان ۔
Sahih Bukhari
39
(9) CHAPTER. To greet those whom one knows and those whom one does not know.
پہچان ہو یا نہ ہو ہر ایک مسلمان کو سلام کرنا
Sahih Bukhari
40
(45) CHAPTER. No two persons should talk secretly excluding a third person (who is present with them). And the Statement of Allah: O you who believe! When you hold secret counsel, do it not for sin and wrongdoing, and disobedience towards the Messenger (Muhammad ), but do it for Al-Birr (righteousness) and Taqwa (virtues and piety); and fear Allah unto Whom you shall be gathered. Secret counsels (conspiracies) are only from Satan, in order that he may cause grief to the believers. But he cannot harm them in the least, except as Allah permits, and in Allah let the believers put their trust. (V.58:9,10) And also the Statement of Allah: O you who believe! When you (want to) consult the Messenger (Muhammad) in private, spend something in charity before your private consultation. That will be better and purer for you. But if you find not (the means for it), then verily, Allah is Oft-Forgivind, Most Merciful. Are you afraid of spending in charity before your private consultation (with him)? If then you do it not, and Allah has forgive you, then (at least) perform Salat (prayers) (Iqamat-as-Salat) and give Zakat and obey Allah (i.e., do all what Allah and His Prophet order you to do). And Allah is All-Aware of what you do. (V.58:12,13)
کسی جگہ صرف تین آدمی ہوں تو ایک کو اکیلا چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کریں
Sahih Bukhari
41
(57) CHAPTER. To repeat the invocation.
دعا میں ایک ہی فقرہ باربار عرض کرنا
Sahih Bukhari
42
Chapter: Clarifying that no one will enter paradise but the believers; loving the believers is part of faith and spreading Salam is a means of attaining that
جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا مومنوں سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور اسلام کوعام کرنے اس محبت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: The amount of water with which it is recommended to perform ghusl in the case of janabah; a man and woman washing from a single vessel; one of them washing with the left-over water of the other
غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا
Sahih Muslim
44
Chapter: It is disliked to smooth the pebbles or make the dirt level during salat
نماز میں (ایک سے زیادہ بار )کنکریاں صاف کرنا اور مٹی کو برابر کرنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
45
ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرنا ‘ہذّ(کٹائی )یعنی تیزی میں حد سے بڑھ جانے سے اجتناب کرنا اور ایک رکعت میں دو اور اس سے زیادہ سورتیں پڑھنے کا جواز
Sahih Muslim
46
Chapter: If the Son of Adam had two valleys, he would desire a third
اگر ابن آدم کے پاس (مال کی بھری ہوئی )دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری وادی حاصل کرنا چاہے گا
Sahih Muslim
47
Chapter: Hajj is obligatory once in a lifetime
زندگی میں ایک بار حج کرنا فرض ہے
Sahih Muslim
48
Chapter: Ila', Keeping away from one's wives and giving them the choice, And the saying of Allah, The Most High: But if you help one another against him
ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا ‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور اگر تم دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ‘‘
Sahih Muslim
49
Chapter: Selling Camels and Stipulating that one may ride them
اونٹ فروخت کرنا اور (ایک خاص مقام تک)اس پر سوار ی کرمنے کو مستثنی ٰ کرنا
Sahih Muslim
50
Chapter: Not Making A Will For One Who Has Nothing To Be Bequeathed
اس شخص کا وصیت نہ کرنا جس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس میں وہ وصیت کر سکے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

72
Sahih Muslim
3490
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ: «فَبَارَكَ اللهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw the trace of yellowness on 'Abd al-Rahman b. 'Auf and said: What is this? Thereupon he said: Allah's Messenger, I have married a woman for a date-stone's weight of gold. He said: God bless you! Hold a wedding feast, even if only with a sheep.
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( کے لباس ) پر زرد ( زعفران کی خوشبو کا ) نشان دیکھا تو فرمایا : " یہ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں نے سونے کی ایک گٹھلی کے وزن پر ایک عورت سےشادی کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تمہیں برکت دے ۔ ولیمہ کرو ، خواہ ایک بکری سے کرو
Sahih Muslim
4073
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا، وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا»، قَالَ: فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَدًا بِيَدٍ؟ فَقَالَ: «هَكَذَا سَمِعْتُ».
Abd al-Rabman b. Abia Bakra reported on the authority of his father that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade the sale of gold for gold, and silver for silver except equal for equal, and commanded us to buy silver for gold as we desired and buy gold for silver as we desired. A person asked him (about the nature of payment), whereupon he said: It is to be made on the spot. This is what I heard (from Allah's Messenger (may peace be upon him ).
عباد بن عوام نے کہا : یحییٰ بن ابی اسحاق نے ہمیں خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے عوض چاندی اور سونے کے عوض سونے کی بیع سے منع فرمایا ، الا یہ کہ برابر برابر ہو اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کے عوض چاندی جیسے چاہیں خریدیں اور چاندی کے عوض سونا جیسے چاہیں خریدیں ۔ کہا : اس پر ایک آدمی نے ان سے سوال کیا اور کہا : دست بدست؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اسی طرح سنا ہے ۔
Sahih Muslim
4103
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي، قَالَ: فَنَخَسَهُ، فَوَثَبَ، فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ، فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «بِعْنِيهِ»، فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: «وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ»، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ، فَزَادَنِي وُقِيَّةً، ثُمَّ وَهَبَهُ لِي،
Jabir (Allah be pleased with him) reported: My camel had grown tired as Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to me. He goaded it and it began to jump. After that I tried to restrain its rein so that I could listen to his (Prophet's) words, but I could not do that. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) met me and said: Sell it to me, and I sold it for five 'uqiyas. I said: On the condition that I may use it as a ride (for going back) to Medina. He (the Holy Prophet) said: Well, you may use it as a ride up till Medina. When I came to Medina I handed over that to him and he made an addition of an uqiya (to that amount which had been agreed upon) and then presented that (camel) to me.
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا تو آپ نے اسے کچوکا لگایا ، وہ اچھل پڑا ۔ اس کے بعد میں اس کی لگام کھینچتا تاکہ آپ کی بات سنوں لیکن میں اس پر قابو نہ پا رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے تو فرمایا : " یہ مجھے بیچ دو ۔ " میں نے وہ ( اونٹ ) آپ کو پانچ اوقیہ ( چاندی جو ایک اوقیہ سونے کے برابر تھی ) کے عوض فروخت کر دیا ۔ میں نے کہا : اس شرط پر کہ مدینہ تک اس کی پیٹھ ( پر سواری ) میرے لیے ہو گی ۔ آپ نے فرمایا : " مدینہ تک اس کی پیٹھ ( پر سواری ) تمہاری ہو گی ۔ " کہا : جب میں مدینہ پہنچا ، اس ( اونٹ ) کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے مجھے ایک اوقیہ ( طے شدہ قیمت کا چوتھا حصہ ) زائد دیا ، پھر آپ نے مجھے ( اونٹ بھی ) ہبہ کر دیا ۔
Sahih Muslim
4246
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ: كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ، وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ، وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ: وَهِيَ نَاقَةٌ مُدَرَّبَةٌ
This hadith is narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters and a slight variation of words.
) حماد بن زید اور عبدالوہاب ثفقی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ، حماد کی حدیث میں ہے : انہوں نے کہا : عضباء اونٹنی بنو عقیل کے ایک آدمی کی تھی اور وہ حاجیوں کی سواریوں میں سب سے آگے رہنے والی اونٹنیوں میں سے تھی ( تیز رفتار تھی ۔ ) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے : اور وہ ( قیدی عورت ) سدھائی ہوئی مَشاق اونٹنی پر ( بیٹھ کر ) آئی ، اور ثقفی کی حدیث میں ہے : وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی ۔
Sahih Muslim
4530
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through some other Chains of transmitters.
ایوب اور صخر بن جویریہ دونوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی
Sahih Muslim
4802
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، وَهِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ»،
Another version of the tradition narrated on the same authority attributes the same words to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) except that it replaces kariha with ankhara and vice versa.
ماد بن زید نے کہا : ہمیں معلیٰ بن زیاد اور ہشام نے حسن سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سابقہ حدیث کی طرح ، البتہ اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " جس نے انکار کیا ، وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا ، وہ بچ گیا
Sahih Muslim
5941
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ. قَالَ: فَجَعَلْتُ «أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ»
Anas reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) called for water and he was given a vessel and the people began to perform ablution in that and I counted (the persons) and they were between fifty and eighty and I saw water which was spouting from his fingers.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا تو ایک کھلا ہوا پیالہ لایا گیا ، لوگ اس سے وضو کرنے لگے ، میں نے ساٹھ سے اسی تک کی تعداد کا اندازہ لگایا ، میں ( اپنی آنکھوں سے ) اس پانی کی طرف دیکھنے لگا ، وہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا ۔
Jam e Tirmazi
438
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَبِلَالٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَبُو بِشْرٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَاسْمُ أَبِي وَحْشِيَّةَ:‏‏‏‏ إِيَاسٌ.
Abu Hurairah narrated that: Allah's Messenger (S) said: The most virtuous fasting after the month of Ramadan is that of Allah's month of Al-Muharram. And the most virtuous Salat after the obligatory is the night prayer.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ( تہجد ) ہے“۔
Jam e Tirmazi
740
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
Abu Hurairah narrated that : the Messenger of Allah said: The most virtuous fasting after the month of Ramadan is Allah's month Al-Muharram.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے مہینے ۱؎ محرم کا روزہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے۔