TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 671 - Chapter: The ruling on semen - The book of purification - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 6 in this chapter
Chapter: The ruling on semen
منی کاحکم
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
Hammam narrated the hadith from A'isha like the (above-mentioned) traditions.
ابن عیینہ نے منصور سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے ہمام سے ، انہوں نے حضرت عائشہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
671
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

151
1
(64) CHAPTER. The washing out of semen with water and rubbing it off (when it is dry) and the washing out of what comes out of women (i.e. discharge).
منی کا دھونا اور اس کا کھرچنا ضروری ہے ۔ نیز جو چیز عورت سے لگ جائے اس کا دھونا بھی ضروری ہے
Sahih Bukhari
2
(65) CHAPTER. If the (traces of) Janaba (semen) or other spots are not removed completely on washing.
اگر منی یا کوئی اور نجاست ( مثلاً حیض کا خون ) دھوئے اور ( پھر ) اس کا اثر نہ جائے ( تو کیا حکم ہے ؟ )
Sahih Bukhari
3
Chapter: At the beginning of Islam, intercourse did not necessitate ghusl unless semen was emitted, then that was abrogated and ghusl becomes obligatory for intercourse
پانی ( سے غسل) صرف (منی کے ) پانی ( کی وجہ ) سے ہے
Sahih Muslim
4
Chapter: The ruling on coitus interrupts ('Azl)
عزل (انزال کے وقت علیحدہ ہو جانے کےبارے میں)شریعت کاحکم
Sahih Muslim
5
Chapter: Verification Of Hadith And The Ruling On Writing Down Knowledge
حدیث کے بارے میں احتیاط وتحقیق اور علم کی کتابت کاحکم
Sahih Muslim
6
(81)Chapter: What Has Been Related That 'Water Is For Water'
باب: منی نکلنے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
(83)Chapter: What Has Been Related About Al-Mani And Al-Madhi
باب: منی اور مذی کا بیان
Jam e Tirmazi
8
(85)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mani That Touches The Garment
باب: کپڑے میں منی لگ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
(86)Chapter: Washing AI-Mani From The Garment
باب: منی کے کپڑے سے دھونے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Leaving For Mina And Staying There
باب: منیٰ جانے اور وہاں قیام کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About: Mina Is A Resting Place For Whoever Arrives
باب: منیٰ اسی کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Shortening The Salat At Mina
باب: منیٰ میں نماز قصر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Muhajir Staying In Makkah For Three Days After Returning (From Mina)
باب: منیٰ سے لوٹنے کے بعد مکہ اور قریش کے مہاجرین
Jam e Tirmazi
14
باب: ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
منی کا بیان
Musnad Ahmad
18
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
Musnad Ahmad
19
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
20
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
Musnad Ahmad
21
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
Musnad Ahmad
22
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
23
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
Musnad Ahmad
25
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
Musnad Ahmad
26
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
27
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
Musnad Ahmad
28
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
29
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
Musnad Ahmad
30
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
31
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
Musnad Ahmad
33
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
Musnad Ahmad
34
تاریخ کی ابتداء اور اس بارے میں امیر المؤمنین سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صحابہ کرام سے مشاورت کا بیان
Musnad Ahmad
35
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ جویرہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
37
غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
Musnad Ahmad
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ شادی کرنے اور پردے والی آیت کے نازل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
39
عمرۂ قضاء اور اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
Musnad Ahmad
40
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
41
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
42
دس ذوالحجہ کو منیٰ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان،یہ خطبہ حج والے خطبہ سے الگ ہے
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اولاد،اہل بیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج امہات المؤمنین کا تذکرہ سیدہ فاطمہ زہراء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
دوسری زوجۂ رسول ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
Musnad Ahmad
45
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چوتھی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
Musnad Ahmad
47
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چھٹی زوجہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
Musnad Ahmad
48
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساتویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
Musnad Ahmad
49
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یہ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ تھیں
Musnad Ahmad
50
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دسویں زوجہ ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,453
Sunnan Abu Dawood
2847
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَتُمْسِكُ عَلَيَّ أَفَآكُلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَرْسَلْتَ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلْنَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَأُصِيبُ أَفَآكُلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَأَصَابَ فَخَرَقَ فَكُلْ وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ .
Narrated Adi bin Hatim: I asked the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, and said: I set off my trained dogs, and they catch (something) for me: may I eat (it)? He said: When you set off trained dogs and mention Allah's name, eat what they catch for you. I said: Even if they killed (the game)? He said: Even if they killed (the game) as long as another dog does not join it. I said: I shoot with a featherless arrow, and it strikes the target, may I eat (it) ? He said: If you shoot with a featherless arrow and mention Allah's name, and it strikes the aim, and pierce it, eat it ; and if it strikes with its middle, do not eat (it).
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتا ہے تو کیا میں اسے کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑو، اور اللہ کا نام اس پر لو تو ان کا شکار جس کو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں کھاؤ ۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ شکار کو قتل کر ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ قتل کر ڈالیں جب تک دوسرا غیر شکاری کتا اس کے قتل میں شریک نہ ہو ، میں نے پوچھا: میں لاٹھی یا بے پر اور بے کانسی کے تیر سے شکار کرتا ہوں ( جو بوجھ اور وزن سے جانور کو مارتا ہے ) تو کیا اسے کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لاٹھی، یا بے پر، اور بے کانسی کے تیر اللہ کا نام لے کر مارو، اور وہ تیر شکار کے جسم میں گھس کر پھاڑ ڈالے تو کھاؤ، اور اگر وہ شکار کو چوڑا ہو کر لگے تو مت کھاؤ ۔
Sunnan Nisai
4310
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ،‏‏‏‏ فَتُمْسِكُ عَلَيَّ فَآكُلُ مِنْهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَرْسَلْتَ الْكِلَابَ يَعْنِي الْمُعَلَّمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ فَكُلْ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلْنَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مِنْهَا ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَإِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ بِالْمِعْرَاضِ فَأُصِيبُ فَآكُلُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمَّيْتَ فَخَزَقَ فَكُلْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ .
t was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: I said: 'O Messenger of Allah, I release my trained dogs and they catch (the game) for me - should I eat of it? he said: 'If you release your trained dogs, and mention the name of Allah, and they catch it for your, then eat.' I said: 'Even if they kill it?' He said: 'Even if they kill it, so long as another, strange dog has not joined them 'I said: 'And I shoot the game with the Mirad and I hit it - should I eat?' He said: ''If you shoot the and it penetrates (the target), then eat, but if it hits it with its broad edge, then do not6 eat it.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتے ہیں، کیا میں اس سے کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کتے دوڑاؤ یا چھوڑو، ( یعنی سدھائے ہوئے ) اور اللہ کا نام لے لو اور وہ تمہارے لیے شکار پکڑ لائیں تو تم کھاؤ“۔ میں نے عرض کیا: اور اگر وہ اسے مار ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں جب تک کہ اس میں کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان کتوں میں سے نہیں تھا“۔ میں نے عرض کیا: میں «معراض» ( بے پر کے تیر ) سے شکار کرتا ہوں اور مجھے شکار مل جاتا ہے تو کیا میں کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم «معراض» ( بغیر پر والا تیر ) پھینکو اور «بسم اللہ» پڑھ لو اور وہ ( شکار کو ) چھید ڈالے تو کھاؤ اور اگر وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ“ ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1465
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ،‏‏‏‏ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّا نُرْسِلُ كِلَابًا لَنَا مُعَلَّمَةً،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلْنَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ قَتَلْنَ،‏‏‏‏ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ غَيْرُهَا ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَا خَزَقَ فَكُلْ،‏‏‏‏ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ وَسُئِلَ عَنِ الْمِعْرَاضِ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Adi bin Hatim: I said: 'O Messenger of Allah! We send our trained dogs to catch game for us.' He said: 'Eat what it catches for you.' I said: 'O Messenger of Allah, and if they kill it?' He said: 'Even if they kill it, as long as they are not accompanied by some other dogs besides them.' He said: I said: 'O Messenger of Allah! We hunt with the Mir'ad.' He said: 'Eat of the game what the Mir'ad pierces, but whatever is struck by its broad side, then do not eat it.'
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اپنے سدھائے ۱؎ ہوئے کتے ( شکار کے لیے ) روانہ کرتے ہیں ( یہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”وہ جو کچھ تمہارے لیے روک رکھیں اسے کھاؤ“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ ( شکار کو ) مار ڈالیں ( پھر بھی حلال ہے ) جب تک ان کے ساتھ دوسرا کتا شریک نہ ہو“، عدی بن حاتم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ «معراض» ( ہتھیار کی چوڑان ) سے شکار کرتے ہیں، ( اس کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”جو ( ہتھیار کی نوک سے ) پھٹ جائے اسے کھاؤ اور جو اس کے عرض ( بغیر دھاردار حصے یعنی چوڑان ) سے مر جائے اسے مت کھاؤ۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث روایت کی گئی ہے، مگر اس میں ہے «وسئل عن المعراض» ”یعنی آپ سے معراض کے بارے میں پوچھا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2026
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا يُبَلِّغُ الْأُمَرَاءَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ حُذَيْفَةُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ وَالْقَتَّاتُ:‏‏‏‏ النَّمَّامُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Hammam bin Al-Harith said: Aman passed by Hudhaifah bin Al-Yaman and it was said to him: This person conveys news about the people to the leaders.' So Hudaifah said: 'The Messenger of Allah said: 'The Qatat shall not enter paradise.' (Sahih)Sufyan said: The Qatat is the Nammam.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، ان سے کہا گیا کہ یہ شخص حکام کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے، تو حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”چغل خور جنت میں نہیں داخل ہو گا“ ۱؎۔ سفیان کہتے ہیں: «قتات»،‏‏‏‏ «نمام» ”چغل خور“ کو کہتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sahih Muslim
0
لْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ، وَصَلَّى الله عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، وَعَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّكَ يَرْحَمُكَ اللهُ بِتَوْفِيقِ خَالِقِكَ، ذَكَرْتَ أَنَّكَ هَمَمْتَ بِالْفَحْصِ عَنْ تَعَرُّفِ جُمْلَةِ الْأَخْبَارِ الْمَأْثُورَةِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُنَنِ الدِّينِ وَأَحْكَامِهِ، وَمَا كَانَ مِنْهَا فِي الثَّوَابِ وَالْعِقَابِ، وَالتَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ صُنُوفِ الْأَشْيَاءِ بِالْأَسَانِيدِ الَّتِي بِهَا نُقِلَتْ، وَتَدَاوَلَهَا أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَا بَيْنَهُمْ، فَأَرَدْتَ، أَرْشَدَكَ اللهُ أَنْ تُوَقَّفَ عَلَى جُمْلَتِهَا مُؤَلَّفَةً مُحْصَاةً، وَسَأَلْتَنِي أَنْ أُلَخِّصَهَا لَكَ فِي التَّأْلِيفِ بِلَا تَكْرَارٍ يَكْثُرُ، فَإِنَّ ذَلِكَ زَعَمْتَ مِمَّا يَشْغَلُكَ عَمَّا لَهُ قَصَدْتَ مِنَ التَّفَهُّمِ فِيهَا، وَالِاسْتِنْبَاطِ مِنْهَا، وَلِلَّذِي سَأَلْتَ أَكْرَمَكَ اللهُ حِينَ رَجَعْتُ إِلَى تَدَبُّرِهِ، وَمَا [ص:4] تَؤُولُ بِهِ الْحَالُ إِنْ شَاءَ اللهُ عَاقِبَةٌ مَحْمُودَةٌ وَمَنْفَعَةٌ مَوْجُودَةٌ، وَظَنَنْتُ حِينَ سَأَلْتَنِي تَجَشُّمَ ذَلِكَ أَنْ لَوْ عُزِمَ لِي عَلَيْهِ، وَقُضِيَ لِي تَمَامُهُ، كَانَ أَوَّلُ مِنْ يُصِيبُهُ نَفْعُ ذَلِكَ إِيَّايَ خَاصَّةً قَبْلَ غَيْرِي مِنَ النَّاسِ لِأَسْبَابٍ كَثِيرَةٍ يَطُولُ بِذِكْرِهَا الْوَصْفُ، إِلَّا أَنَّ جُمْلَةَ ذَلِكَ أَنَّ ضَبْطَ الْقَلِيلِ مِنْ هَذَا الشَّأْنِ، وَإِتْقَانَهُ، أَيْسَرُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ مُعَالَجَةِ الْكَثِيرِ مِنْهُ، وَلَا سِيَّمَا عِنْدَ مَنْ لَا تَمْيِيزَ عِنْدَهُ مَنِ الْعَوَامِّ، إِلَّا بِأَنْ يُوَقِّفَهُ عَلَى التَّمْيِيزِ غَيْرُهُ، فَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ فِي هَذَا كَمَا وَصَفْنَا، فَالْقَصْدُ مِنْهُ إِلَى الصَّحِيحِ الْقَلِيلِ أَوْلَى بِهِمْ مِنَ ازْدِيَادِ السَّقِيمِ، وَإِنَّمَا يُرْجَى بَعْضُ الْمَنْفَعَةِ فِي الِاسْتِكْثَارِ مِنْ هَذَا الشَّأْنِ، وَجَمْعِ الْمُكَرَّرَاتِ مِنْهُ لِخَاصَّةٍ مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ رُزِقَ فِيهِ بَعْضُ التَّيَقُّظِ، وَالْمَعْرِفَةِ بِأَسْبَابِهِ وَعِلَلِهِ، فَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللهُ يَهْجُمُ بِمَا أُوتِيَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى الْفَائِدَةِ فِي الِاسْتِكْثَارِ مِنْ جَمْعِهِ، فَأَمَّا عَوَامُّ النَّاسِ الَّذِينَ هُمْ بِخِلَافِ مَعَانِي الْخَاصِّ مِنْ أَهْلِ التَّيَقُّظِ وَالْمَعْرِفَةِ، فَلَا مَعْنَى لَهُمْ فِي طَلَبِ الْكَثِيرِ، وَقَدْ عَجَزُوا عَنْ مَعْرِفَةِ الْقَلِيلِ‘ثُمَّ إِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ مُبْتَدِئُونَ فِي تَخْرِيجِ مَا سَأَلْتَ وَتَأْلِيفِهِ، عَلَى شَرِيطَةٍ سَوْفَ أَذْكُرُهَا لَكَ، وَهُوَ إِنَّا نَعْمِدُ إِلَى جُمْلَةِ مَا أُسْنِدَ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَقْسِمُهَا عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ، وَثَلَاثِ طَبَقَاتٍ مِنَ النَّاسِ عَلَى غَيْرِ تَكْرَارٍ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ مَوْضِعٌ لَا يُسْتَغْنَى فِيهِ عَنْ تَرْدَادِ حَدِيثٍ فِيهِ زِيَادَةُ مَعْنًى، أَوْ إِسْنَادٌ يَقَعُ إِلَى جَنْبِ إِسْنَادٍ، لِعِلَّةٍ تَكُونُ هُنَاكَ، لِأَنَّ الْمَعْنَى الزَّائِدَ فِي الْحَدِيثِ الْمُحْتَاجَ [ص:5] إِلَيْهِ يَقُومُ مَقَامَ حَدِيثٍ تَامٍّ، فَلَا بُدَّ مِنْ إِعَادَةِ الْحَدِيثِ الَّذِي فِيهِ مَا وَصَفْنَا مِنَ الزِّيَادَةِ، أَوْ أَنْ يُفَصَّلَ ذَلِكَ الْمَعْنَى مِنْ جُمْلَةِ الْحَدِيثِ عَلَى اخْتِصَارِهِ إِذَا أَمْكَنَ، وَلَكِنْ تَفْصِيلُهُ رُبَّمَا عَسُرَ مِنْ جُمْلَتِهِ، فَإِعَادَتُهُ بِهَيْئَتِهِ إِذَا ضَاقَ ذَلِكَ أَسْلَمُ، فَأَمَّا مَا وَجَدْنَا بُدًّا مِنْ إِعَادَتِهِ بِجُمْلَتِهِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ مِنَّا إِلَيْهِ، فَلَا نَتَوَلَّى فِعْلَهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فَأَمَّا الْقِسْمُ الْأَوَّلُ، فَإِنَّا نَتَوَخَّى أَنْ نُقَدِّمَ الْأَخْبَارَ الَّتِي هِيَ أَسْلَمُ مِنَ الْعُيُوبِ مِنْ غَيْرِهَا، وَأَنْقَى مِنْ أَنْ يَكُونَ نَاقِلُوهَا أَهْلَ اسْتِقَامَةٍ فِي الْحَدِيثِ، وَإِتْقَانٍ لِمَا نَقَلُوا، لَمْ يُوجَدْ فِي رِوَايَتِهِمْ اخْتِلَافٌ شَدِيدٌ، وَلَا تَخْلِيطٌ فَاحِشٌ، كَمَا قَدْ عُثِرَ فِيهِ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ، وَبَانَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِهِمْ‘، وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنَزِّلَ النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ مَعَ مَا نَطَقَ بِهِ الْقُرْآنُ، مِنْ قَوْلِ اللهُ تَعَالَى: {وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ} [يوسف: 76]، فَعَلَى نَحْوِ مَا ذَكَرْنَا مِنَ الْوُجُوهِ، نُؤَلِّفُ مَا سَأَلْتَ مِنَ الْأَخْبَارِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:7]، فَأَمَّا مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ قَوْمٍ هُمْ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مُتَّهَمُونَ، أَوْ عِنْدَ الْأَكْثَرِ مِنْهُمْ، فَلَسْنَا نَتَشَاغَلُ بِتَخْرِيجِ حَدِيثِهِمْ، كَعَبْدِ اللهِ بْنِ مِسْوَرٍ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيِّ، وَعَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، وَعَبْدِ الْقُدُّوسِ الشَّامِيِّ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَصْلُوبِ، وَغِيَاثِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي دَاوُدَ النَّخَعِيِّ، وَأَشْبَاهِهِمْ مِمَّنِ اتُّهِمَ بِوَضْعِ الْأَحَادِيثِ، وَتَوْلِيدِ الْأَخْبَارِ وَكَذَلِكَ، مَنِ الْغَالِبُ عَلَى حَدِيثِهِ الْمُنْكَرُ، أَوِ الْغَلَطُ أَمْسَكْنَا أَيْضًا عَنْ حَدِيثِهِمْ، وَعَلَامَةُ الْمُنْكَرِ فِي حَدِيثِ الْمُحَدِّثِ، إِذَا مَا عُرِضَتْ رِوَايَتُهُ لِلْحَدِيثِ عَلَى رِوَايَةِ غَيْرِهِ مَنْ أَهْلِ الْحِفْظِ وَالرِّضَا، خَالَفَتْ رِوَايَتُهُ رِوَايَتَهُمْ، أَوْ لَمْ تَكَدْ تُوَافِقُهَا، فَإِذَا كَانَ الْأَغْلَبُ مِنْ حَدِيثِهِ كَذَلِكَ كَانَ مَهْجُورَ الْحَدِيثِ، غَيْرَ مَقْبُولِهِ، وَلَا مُسْتَعْمَلِهِ، فَمِنْ هَذَا الضَّرْبِ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ الْمِنْهَالِ أَبُو الْعَطُوفِ، وَعَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، وَحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، وَعُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ، وَمَنْ نَحَا نَحْوَهُمْ فِي رِوَايَةِ الْمُنْكَرِ مِنَ الْحَدِيثِ، فَلَسْنَا نُعَرِّجُ عَلَى حَدِيثِهِمْ، وَلَا نَتَشَاغَلُ بِهِ، لِأَنَّ حُكْمَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَعْرِفُ مِنْ مَذْهَبِهِمْ فِي قَبُولِ مَا يَتَفَرَّدُ بِهِ الْمُحَدِّثُ مِنَ الْحَدِيثِ أَنْ يَكُونَ قَدْ شَارَكَ الثِّقَاتِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْحِفْظِ فِي بَعْضِ مَا رَوَوْا، وَأَمْعَنَ فِي ذَلِكَ عَلَى الْمُوَافَقَةِ لَهُمْ، فَإِذَا وُجِدَ كَذَلِكَ، ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا لَيْسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ قُبِلَتْ زِيَادَتُهُ، فَأَمَّا مَنْ تَرَاهُ يَعْمِدُ لِمِثْلِ الزُّهْرِيِّ فِي جَلَالَتِهِ، وَكَثْرَةِ أَصْحَابِهِ الْحُفَّاظِ الْمُتْقِنِينَ لِحَدِيثِهِ وَحَدِيثِ غَيْرِهِ، أَوْ لِمِثْلِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَحَدِيثُهُمَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مَبْسُوطٌ مُشْتَرَكٌ، قَدْ نَقَلَ أَصْحَابُهُمَا عَنْهُمَا حَدِيثَهُمَا عَلَى الِاتِّفَاقِ مِنْهُمْ فِي أَكْثَرِهِ، فَيَرْوِي عَنْهُمَا، أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا الْعَدَدَ مِنَ الْحَدِيثِ مِمَّا لَا يَعْرِفُهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِمَا، وَلَيْسَ مِمَّنْ قَدْ شَارَكَهُمْ فِي الصَّحِيحِ مِمَّا عِنْدَهُمْ، فَغَيْرُ جَائِزٍ قَبُولُ حَدِيثِ هَذَا الضَّرْبِ مِنَ النَّاسِ وَاللهُ أَعْلَمُ‘«قَدْ شَرَحْنَا مِنْ مَذْهَبِ الْحَدِيثِ وَأَهْلِهِ بَعْضَ مَا يَتَوَجَّهُ بِهِ مَنْ أَرَادَ سَبِيلَ الْقَوْمِ، وَوُفِّقَ لَهَا، وَسَنَزِيدُ، إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى شَرْحًا وَإِيضَاحًا فِي مَوَاضِعَ مِنَ الْكِتَابِ عِنْدَ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الْمُعَلَّلَةِ، إِذَا أَتَيْنَا عَلَيْهَا فِي الْأَمَاكِنِ الَّتِي يَلِيقُ بِهَا الشَّرْحُ وَالْإِيضَاحُ، إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَبَعْدُ، يَرْحَمُكَ اللهُ، فَلَوْلَا الَّذِي رَأَيْنَا مِنْ سُوءِ صَنِيعِ كَثِيرٍ مِمَّنْ نَصَبَ نَفْسَهُ مُحَدِّثًا، فِيمَا يَلْزَمُهُمْ مِنْ طَرْحِ الْأَحَادِيثِ الضَّعِيفَةِ، وَالرِّوَايَاتِ الْمُنْكَرَةِ، وَتَرْكِهِمُ الِاقْتِصَارَ عَلَى الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ الْمَشْهُورَةِ مِمَّا نَقَلَهُ الثِّقَاتُ الْمَعْرُوفُونَ بِالصِّدْقِ وَالْأَمَانَةِ، بَعْدَ مَعْرِفَتِهِمْ وَإِقْرَارِهِمْ بِأَلْسِنَتِهِمْ أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا يَقْذِفُونَ بِهِ إِلَى الْأَغْبِيَاءِ مِنَ النَّاسِ هُوَ مُسْتَنْكَرٌ، وَمَنْقُولٌ عَنْ قَوْمٍ غَيْرِ مَرْضِيِّينَ مِمَّنْ ذَمَّ الرِّوَايَةِ عَنْهُمْ أَئِمَّةُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِثْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَغَيْرِهِمْ مِنَ الْأَئِمَّةِ، لِمَا سَهُلَ عَلَيْنَا الِانْتِصَابُ لِمَا سَأَلْتَ مِنَ التَّمْيِيزِ، وَالتَّحْصِيلِ، وَلَكِنْ مِنْ أَجْلِ مَا أَعْلَمْنَاكَ مِنْ نَشْرِ الْقَوْمِ الْأَخْبَارِ الْمُنْكَرَةِ بِالْأَسَانِيدِ الضِّعَافِ الْمَجْهُولَةِ، وَقَذْفِهِمْ بِهَا إِلَى الْعَوَامِّ الَّذِينَ لَا يَعْرِفُونَ عُيُوبَهَا، خَفَّ عَلَى قُلُوبِنَا إِجَابَتُكَ إِلَى مَا سَأَلْتَ
In the Name of Allah, the Merciful, the Beneficent- All praise is due to Allah, Lord of the worlds, and the [praiseworthy] end is for those who fear Him; and may Allah send blessings upon Muhammad, seal of the Prophets, and upon all the Prophets and Messengers. As for what follows: Indeed you mentioned, may Allah have mercy on you, by the guidance of your Creator, that you were interested in an examination of what is known of all the transmitted reports on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings upon him, regarding traditions of the Dīn, its rulings, and everything from it regarding rewards, punishments, motivations, admonishments, and other descriptive topics through chains of narration which were related by and circulated between Ahl ul-Ilm. Thus you wished, may Allah guide you aright, to be informed about all of [the transmitted reports] in the form of a calculated composition and you asked me to abridge [it] for you in writing without a great amount of repetition. You allege that [much repetition] would distract you from what you intended in terms of understanding and deriving rulings from [the reports]. And because of that which you have asked, may Allah be generous with you, when I am attributed to its successful management and whatever condition can be construed by it, if Allah wills, (it will lead to) a praiseworthy ending and obtainable benefit. I thought at the time you asked me to undertake that [task]- if it was determined for me to do so, and preordained for me to complete it- that the first to benefit from that would be me specifically before anyone else and this is due to a great number of reasons which are too lengthy to describe except [to say] that in summary, having precision regarding a select few [narrations], and accuracy in them, is easier for a person than to undertake of a great number of them, and especially for one who is indistinguishable in it from the common people [in this matter] unless someone else informs him of the distinction. If the matter is just as we described, then focusing on the few authentic narrations is worthier for them than seeking an abundance of weak narrations. Although indeed it is hoped for that some benefit is attained by seeking after a large number [of Ḥadīth] of this type, and gathering the repetitions for them, but only for the elite who are endowed with some awareness and knowledge in their means [of ascertaining authenticity] and defects. Thus that, if Allah wills, will happen through whatever will be brought to bear of that [awareness, distinction, knowledge of the means, and defects] on the advantage in seeking large numbers of [the various categories of Ḥadīth]. And as for the common people who are different from the elite in terms of awareness and knowledge, then it is senseless for them to seek large numbers [of various categories of Ḥadīth], while they are unaware of the few [Sahīh]. Then we, if Allah wills, will begin to extract and compose what you have asked upon conditions which we shall mention to you. We set ourselves upon the entirety of what is transmitted from the reports on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings upon him. Then we divided it up into three sections and three levels of people without repetition except: 1) When coming to a point where it was essential to repeat a narration in which there is an addition that clarifies the meaning of the first one; or 2) When there is a second chain that supports the first one in some hidden defect present since the additional significance in the second Ḥadīth assumes the position of a complete Ḥadīth. Repeating narrations which have the kind of ‘addition’ we described is inevitable [since it eliminates the perceived hidden defect of the first narration]; or that significance [of the addition] is separated from the entire narration by abbreviating it when it is possible [to understand the significance from a small part of the narration], however separating the relevant part of the narration from the rest might make it difficult to understand the link between them, so repeating it in its original form when that proves difficult is safest. Thus when we find that it is avoidable to repeat the narrations in their entirety we take care not to do so, if Allah wills. As for the first category, we aspired to advance the report which is safer from defects than any others, and is purified due to being related by people of integrity in Ḥadīth, and certitude for what they relate; there are no strong disputes found [compared to the reports of other Thiqāt] regarding their transmissions, and no excessive inconsistencies [in their own reports] - just as is the case regarding a great number of Muhaddithīn and which appears in their narrations. Thus when we examined reports of this description from the people, we also came across reports in whose chains there fell some of those who are not described with memorization and precision, like those of the previous description before them. Although they fell below what we described [from the first group], they still have the designation of protection [from ill-repute] and truthfulness; and they acquired knowledge, included among them are the likes of Atā’ bin is-Sā’ib, and Yazīd bin Abī Ziyād, and Layth bin Abī Sulaym, from among the carriers of Āthār and the relaters of Akhbār. So even though they possessed what we described of knowledge, protection and being known as scholars among Ahl ul-Ilm, their contemporaries who we mentioned as precise and sound in transmission were above them in status and rank because this [the first category] is a high rank and sublime characteristic according to Ahl ul-Ilm. Do you not see that when you weigh these three people we mentioned- Atā’, Yazīd, and Layth- with Mansūr bin il-Mu’tamir, Sulaymān al-A’mash and Ismā’īl bin Abī Khālid in regards to precision in Ḥadīth and soundness in it, you will find them distinct from others and not near them [in rank?]- there is no doubt regarding that among the people knowledgeable in Ḥadīth since the soundness of the memorization of Mansūr, al-A’mash, and Ismā’īl, and their precision in Ḥadīth was well-known among [the people knowledgeable in Ḥadīth] and they were not aware of examples of that from Atā’, Yazīd, and Layth. Upon the same course as the above, when you weigh between the two levels like Ibn Awn and Ayyūb as-Sakhtiyānī with Awf ibn Abī Jamīlah and Ash’ath al-Humrānī- and all 4 are companions of al-Hasan and Ibn Sīrīn- there is disparity between the two groups. Between these two groups is a distance in terms of perfection of virtue and soundness of reporting even though Awf and Ash’ath are not repelled from [the status] of truthfulness and honesty according to Ahl ul-Ilm, rather the situation is as we described regarding their position. We only mentioned these examples by way of naming them specifically so that their examples might be an indication for whoever is ignorant of the path to return to understanding of Ahl ul-Ilm regarding the ranking of its people. Thus there is no shortchanging the men of elevated rank any amount of what is due his level, and there is no elevation of those who are lower any amount of knowledge above his position- and each who possesses the right is given his right and is settled in his rank. It has been mentioned on authority of Ā’ishah, may Allah be pleased with her, that she said: ‘The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, ordered us to afford people their (rightful) positions according to what the Qur’ān states: {And above all who possess knowledge is another who is knowledgeable}[Yūsuf: 76] . Thus based on the example of what we mentioned [regarding the narrators of Hifẓ and Itqān, and narrations which lack excessive inconsistency or strong contradiction], we compiled what you asked for of [those kind] of reports on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him. As for anything of that wherein the people were charged [with some criticism] by the people of Ḥadīth, or by the majority of [the people of Ḥadīth], then we did not preoccupy ourselves with bringing forward their narrations, such as Abd Allah ibn Miswar Abī Ja’far il-Madā’inī, Amr bin Khālid, Abd il-Quddūs ash-Shāmī, Muhammad ibn Sa’īd il-Maslūb, Ghiyāth ibn Ibrāhīm, Sulaymān bin Amr Abī Dāwud an-Nakha’ī, and those like them whereof they were accused of fabricating narrations and manufacturing reports; and like that are those whose narrations are dominated with Munkar, or mistakes- we withheld from their narrations as well. An indication of Munkar in the narration of a Muhaddith is when his transmission differs with the transmission of a Muhaddith from the people of memorization and acceptance, or does not agree with it when the two are compared. When the majority of a person’s narrations are like that, he is abandoned [Mahjūr] in Ḥadīth, and not accepted in it, and his narrations are not acted upon. The following are those Muhaddithīn who are among this group: Abd Allah ibn Muharrar, Yahyā bin Abī Unaysah, Al-Jarrāh bin ul-Minhāl Abūl-Atūf, Abbād bin Kathīr, Husayn bin Abd Illah ibn Ḍumayrah, Umar bin Suhbān, and those of the same type in terms of transmission of Munkar Ḥadīth. We did not pause upon their narrations or preoccupy ourselves with them due to the ruling of Ahl ul-Ilm. That which we are aware of from their school of thought in accepting what is singularly reported by a Muhaddith from the narrations is that (the Muhaddith) took part along with the trustworthy narrators from Ahl ul-Ilm wal-Hifẓ in transmitting some of what they transmitted, and [the Muhaddith] is predominantly in agreement with them; when one is found like that, then if he adds to [the transmission] anything not found with his companions, then his addition is accepted. As for those who you see resorting to the likes of az-Zuhrī due to his greatness, and due to the great number of his companions being among the precise Huffāẓ, [resorting to] his Ḥadīth and the Ḥadīth of those like him, or to the likes of Hishām ibn Urwah, then their Ḥadīth are extensively shared among Ahl ul-Ilm. The greater majority of their companions related their Ḥadīth in agreement with one another [with few having contradictions]. Thus to transmit from [Urwah and az-Zuhrī], or one of them, from among the multitude of Ḥadīth, what is not known among any of their companions, and [the Rāwī] is not of those who share in the Sahīh narrations [found] among them, then it is not allowed to accept the narrations of this category of people, and Allah knows best. We have explained from the school of Ḥadīth and its people some of what those who wish to traverse the path of [the Muhaddithīn] should aim for, and be guided towards. We will, if Allah wills, add to the explanation and clarification in another place in this book upon the mention of defective reports [Mu’allalah] when we come to it, in the places where explanation and clarification are appropriate, if Allah wills. And what follows: May Allah have mercy on you, if not for that which we saw of an evil act, largely from those who claim to be Muhaddithīn, in what they were supposed to adhere to when putting forward weak narrations and abominable transmissions and their neglect for the investigation of famous Sahīh narrations related by the trustworthy narrators, well-known for their truthfulness and honesty, after knowledge of them and affirmation with their tongues, that a great many of [weak and abominable narrations] which were cast towards heedless people are denounced and spoken of as not acceptable whereof the A’immah of the people of Ḥadīth criticized their transmissions- A’immah like Mālik ibn Anas, Shu’bat bin al-Hajjāj, Sufyān bin Uyaynah, Yahyā bin Sa’īd al-Qattān, Abd ir-Rahman ibn Mahdī, and other A’immah- then the establishment of what you asked for of distinction [between the types of Ḥadīth] and collection [of those which were Sahīh] would be easy for us. However on account of what we informed you of regarding the people’s circulation of abominable reports with weak, unknown chains, and their casting them towards the common people who are not aware of their defects, responding to what you asked became lighter upon our hearts.
صحیح مسلم اردو ترجمہ کتا ب الایمان شروع سب سے زیادہ رحم کرنے والے ، ہمیشہ مہربانی کرنے والے اللہ کے نام سے ۔ تمام تر حمد وثنا سارے جہانوں کے پالنے والے اللہ کے لیے اور بہترین جزا تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے ہے ۔ اللہ خاتم النبیین محمدﷺ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور تمام نبیوں اور رسولوں پر بھی ۔ اس کے بع اللہ آپ رحم فرمائے! بلاشبہ آپ نے اپنے پیدا کرنے والے کی توفیق سے یہ ذکر کیا ہے کہ آپ دین کے طریقوں اور احکام کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے ( امت تک ) پہنچنے والی تمام احادیث کو ان کی منقولہ اسناد سمیت جاننا چاہتے ہیں اور ان احادیث کو بھی جو ثواب اور عذاب ، رغبت دلانے اور ڈرانے اور ان جیسی دوسری چیزوں کے بارے میں ہیں اور اہل علم نے ایک دوسرے سے لیں اور پہنچائیں ۔ اللہ آپ کی رہنمائی فرمائے ! آپ چاہتے ہیں کہ یہ تمام احادیث شمار کر کے مجموعے کی شکل میں آپ کی دسترس میں لائی جائیں ۔ آپ نے مجھ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ میں ان احادیث کو زیادہ تکرار کے بغیر آپ کے لیے ایک تالیف کی شکل میں ملخص کر دوں کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ( تکرار ) ان احادیث کو اچھی طرح سمجھنے اور ان سے استنباط کرنے میں آپ کے لیے رکاوٹ کا باعث بنے گا جو کہ آپ کا ( اصل ) مقصد ہے ( اللہ آپ کو عزت دے! ) آپ نے جس چیز کا ( مجھ سے ) مطالبہ کیا ہے ، جب میں نے اس کے اور اس سے حاصل ہونے والے ثمرات کے بارے میں غوروفکر کی طرف رجوع کیا تو ( مجھے یقین ہو گیا کہ ) ان شاء اللہ اس کے نتائج قابل تعریف اور فوائد یقینی ہوں گے ۔ اور جب آپ نے مجھ سے اس کام کی زحمت اٹھانے کا مطالبہ کیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اگر مجھے اس کی توفیق ملی اور اللہ کی طرف سے اس کے مکمل ہونے کا فیصلہ ہوا تو پہلا شخص ، جسے دوسرے لوگوں سے قبل اس سے خاص طور پر فائدہ ہو گا ، وہ میں خود ہوں گا ۔ اس کی وجوہات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا ذکر طوالت کا باعث ہو گا ، البتہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان خصوصیات کی حامل کم احادیث کو محفوظ رکھنا اور ان میں اچھی طرح مہارت حاصل کرنا انسان کے لیے کثیر احادیث کو سنبھالنے کی نسبت زیادہ آسان ہے ، خصوصاً عوام میں سے ایک ایسے شخص کے لیے جو اس وقت تک ان میں ( سے صحیح اور ضعیف کے بار ے میں بھی ) امتیاز نہیں کر سکتا جب تک کوئی دوسرا اسے اس فرق سے آگاہ نہ کرے ۔ جب معاملہ اسی طرح ہے جیسے ہم نے بیان کیا تو کم تعداد میں صحیح ( احادیث ) چن لینا کثیر تعداد میں ضعیف احادیث کو جمع کرنے سے کہیں بہتر ہے ۔ یہ بات ( اپنی جگہ ) درست ہے کہ بہت سی احادیث کو اکٹھا کرنے اور مکرر ( احادیث ) کو جمع کرنے کے بھی کچھ فوائد ہیں ، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جنہیں اس ( علم ) میں کسی قدر شعور اور اسباب وعلل کی معرفت سے نوازا گیا ہے ۔ اللہ کی مشیت سے ایسا انسان ان خصوصیات کی وجہ سے جو اسے عطا کی گئی ہیں ، کثیر احادیث کے مجموعے سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے لیکن جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے جو شعو ومعرفت رکھنے والے خواص سے مختلف ہیں ، وہ کم احادیث کی معرفت سے بھی عاجز ہیں تو ان کے لیے کثیر احادیث کے حصول میں کوئی فائدہ نہیں ۔ پھر آپ نے جس ( کتاب ) کا مطالبہ کیا ہم ان شاء اللہ اس التزام کے ساتھ اس کی اس کی تخریج ( مختلف پہلوؤں سے اس کی وضاحت ) اور تالیف کا آغاز کرتے ہیں جس کا میں آپ کے سامنے ذکر کرنے لگا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہم ان تمام احادیث کو لے لیں گے جو سنداً نبی اکرمﷺ سے بیان کی گئیں اور تکرار کے بغیر انہیں تین اقسام اور ( بیان کرنے والے ) لوگوں کے تین طبقوں کے مطابق تقسیم کریں گے ، الا یہ کہ کوئی ایسا مقام آ جائے جہاں کسی حدیث کو دوبارہ ذکر کیے بغیر چارہ نہ ہو ، ( مثلاً : ) اس میں کوئی معنیٰ زیادہ ہو یا کوئی سند ایسی ہو جو کسی علت یا سبب کی بنا پر دوسری سند کے پہلو بہ پہلو آئی ہو کیونکہ حدیث میں ایک زائد معنیٰ ، جس کی ضرورت ہو ، ایک مکمل حدیث کے قائم مقام ہوتا ہے ، اس لیے ایسی حدیث کو ، جس میں ہمارا بیان کردہ کوئی ( معنوی ) اضافہ پایا جاتا ہے ، دوبارہ لائے بغیر چارہ نہیں یا جب ممکن ہوا تو ہم اس معنیٰ کو اختصار کے ساتھ پوری حدیث سے الگ ( کر کے ) بیان کر دیں گے لیکن بسااوقات اسے پوری حدیث سے الگ کرنا مشکل ہوتا ہے اور جب اس کی گنجائش نہ ہو تو اسے اصل شکل میں دوبارہ بیان کرنا زیادہ محفوظ ہوتا ہے ، البتہ جہاں ہمارے لیے اسے مکمل طور پر دہرانے سے بچنا ممکن ہو گا اور ( کامل شکل میں ) ہمیں اس کی ضرورت نہ ہو گی تو ہم ان شاء اللہ اس سے اجتناب کریں گے ۔ جہاں تک پہلی قسم کا تعلق ہے ( اس میں ) ہم یہ کوشش کریں گے کہ انہی احادیث کو ترجیح دیں جو دوسری احادیث کی نسبت ( فنی ) خامیوں سے زیادہ محفوظ اور زیادہ پاک ہوں ، یعنی ان کے ناقلین ( راوی ) نقل حدیث میں صحت اور ثقاہت رکھنے والے ہوں ، ان کی روایت میں شدید اختلاف پایا جائے نہ ( الفاظ ومعانی کو ) بہت برے طریقے سے خلط ملط کیا گیا ہو جس طرح کہ بہت سے احادیث بیان کرنے والوں میں پایا گیا ہے اور ان کی روایت میں یہ چیز واضح ہوچکی ہے ۔ جب ہم اس قسم کے ( ثقہ ) لوگوں کی مرویات کا احاطہ کر لیں گے تو بعد ازیں ایسی روایات لائیں گے جن کی سندوں میں کوئی ایسے راوی موجود ہوں گے جو طبقہ اولیٰ جیسے ( راویوں کے ) حفظ واتقان سے متصف نہیں لیکن وہ بھی ( انہی میں سے ہیں ) چاہے ان صفات میں ان سے ذرا کم ہیں جن کو ان سے مقدم رکھا گیا ہے لیکن عفت ، صدق اور علم سے شغف رکھنے جیسی صفات ان میں عام ہوں ، جس طرح عطاء بن سائب ، یزید بن ابی زیاد ، لیث بن ابی سلیم اور ان کی طرح کے ( دیگر ) حاملین آثار اور ناقلین اخبار ہیں ۔ یہ حضرات اگرچہ اہل علم کے ہاں علم اور عفت ( جیسی صفات ) میں معروف ہیں لیکن ان کے ہم عصر لوگوں میں سے ( بعض ) دیگر حضرات ایسے ہیں جو اتقان اور روایت کی صحت کے معاملے میں اپنے مقام اور مرتبے کے اعتبار سے ان سے افضل ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل علم کے ہاں یہ ( حفظ واتقان ) ایک بہت اونچا مرتبہ اور ایک اعلیٰ ترین صفت ہے ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ ان تینوں حضرات : عطاء ، یزید اور لیث ، جن کا ہم نے ابھی نام لیا ، کا موازنہ حدیث کے حفظ و اتقان میں منصور بن معتمر ، سلیمان اعمش اور اسماعیل بن ابی خالد سے کریں تو انہیں آپ ان حضرات سے خاصے فاصلے پر پائیں گے ، یہ ان کے قریب بھی نہیں آ پاتے ۔ ماہرین علم حدیث کو اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ منصور ، اعمش اور اسماعیل کے ہاں حفظ کی صحت اور حدیث بیان کرنے میں مہارت کی جو صفات فراواں اہل علم کو نظر آتی ہیں ان کے نزدیک وہ عطاء ، یزید اور لیث کے ہاں اس طرح معروف نہیں ۔ اگر آپ ( دیگر ) ہمسروں کے درمیان موازنہ کریں تو ( بھی ) یہی ماجرا ( سامنے آتا ) ہے ، مثلاً آپ ابن عون اور ایوب سختیانی کا ( موازنہ ) عوف بن ابی جمیلہ اور اشعث حمرانی سے کریں ۔ یہ دونوں ( بھی اسی طرح ) حسن بصری اور ابن سیرین کے شاگرد ہیں جس طرح ابن عون اور ایوب ان کے شاگرد ہیں لیکن ان دونوں اور ان دونوں کے درمیان کمال فضل اور صحت نقل کے اعتبار سے بہت بڑا فاصلہ پایا جاتا ہے ۔ عوف اور اشعث بھی اگرچہ اہل علم کے ہاں صدق وامانت سے ہٹے ہوئے نہیں ( مانے جاتے ) لیکن جہاں تک مرتبے کا تعلق ہے تو اہل علم کے ہاں حقیقت وہی ہے جو ہم نے بیان کی ۔ ہم نے نام ذکر کر کے مثال اس لیے دی ہے تاکہ اس شخص کے لیے ، جو اہل علم کے ہاں حاملین حدیث کی درجہ کے طریقے سے ناواقف ہے ، یہ مثال ایسا واضح نشان ثابت ہو جس کے ذریعے سے وہ مکمل واقفیت حاصل کر لے اور اونچا درجہ رکھنے والے کو اس کے مرتبے سے گھٹائے اور نہ کم درجے والے کو اس کے مرتبے سے بڑھائے ، ہر ایک کو اس کا حق دے اور اس کے مرتبے پر رکھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت بیان کی گئی ، انہوں نے کہا : ہمیں رسول اللہﷺ نے حکم دیا تھا کہ کہ ہم لوگوں کو ان کے مرتبوں پر رکھیں ۔ اس کے ساتھ ہی اللہ کا حکم جو قرآن نے بیان فرمایا : ’’ہر علم والے سے اوپر ایک علم رکھنے والا ہے ۔ ‘ ‘ ہم احادیث رسولﷺ کو اپنی ذکر کردہ صورتوں کے مطابق تالیف کریں گے ۔ جو احادیث ان لوگوں سے مروی ہیں جو ( تمام ) ماہرین علم حدیث یا ان میں سے اکثر کے نزدیک متہم ہیں ، ہم ان کی روایات سے کوئی سروکار نہ رکھیں گے ، جیسے : عبد اللہ بن مسور ابو جعفر مدائنی ، عمرو بن خالد ، عبد القدوس شامی ، محمد بن سعید مصلوب ، غیاث بن ابراہیم ، سلیمان بن عمرو نخعی اور ان جیسے دیگر لوگوں کی مرویات سے بھی ، جن پر وضع احادیث اور روایات سازی کے الزامات ہیں ۔ اسی طرح وہ لوگ جن کی مرویات کی غالب تعداد منکر اور غلط ( احادیث ) پر مشتمل ہے ، ہم ان کی احادیث سے بھی احتراز کریں گے ۔ کسی حدیث بیان کرنے والے کی منکر روایت کی نشانی یہ ہے کہ جب اس کی روایت کردہ حدیث کا دوسرے اصحاب حفظ اور مقبول ( محدثین ) کی روایت سے موازنہ کیا جائے تو وہ ان کی روایت کے مخالف ہو یا ان کے ساتھ موافق نہ ہو پائے ۔ جب کسی کی اکثر مرویات اس طرح کی ہوں تو وہ متروک الحدیث ہوتا ہے ، اس کی روایات غیر مقبول ہوتی ہیں ، ( اجتہاد واستنباط کے لیے ) استعمال نہیں ہوتیں ۔ اس قسم کے راویان حدیث میں عبد اللہ بن محرر ، یحییٰ بن ابی انیسہ ، جراح بن منہال ابو عطوف ، عباد بن کثیر ، حسین بن عبد اللہ بن ضمیرہ ، عمر بن صہبان اور اس طرح کے دیگر منکر روایات بیان کرنے والے لوگ شامل ہیں ، ہم ان کی روایت کا رخ نہیں کرتے نہ ان روایات سے کوئی سروکار ہی رکھتے ہیں ۔ کیونکہ حدیث میں متفرد راوی کی روایت قبول کرنے کے متعلق اہل علم کا معروف مذہب اور ان کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر وہ ( راوی ) عام طور پر اہل علم وحفظ ثقات کی موافقت کرتا ہے اور اس نے گہرائی میں جا کر ان کی موافقت کی ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ ( متفرد ) کوئی ایسا اضافہ بیان کرتا ہے جو اس کے دوسرے ہم مکتبوں کے ہاں نہیں ہے تو اس کا یہ اضافہ ( محدثین کے ہاں ) قبول کیا جائے گا لیکن جس ( حدیث بیان کرنے والے ) کو آپ دیکھیں کہ وہ امام زہری جیسے جلیل القدر ( محدث ) سے روایت بیان کرتا ہے جن کے کثیر تعداد میں ایسے شاگر د ہیں جو حفاظ ( حدیث ) ہیں ، ان کی اور دوسرے ( محدثین ) کی روایت کے ماہر ہیں یا وہ ہشام بن عروہ جیسے ( امام التابعین ) سے روایت کرتا ہے ۔ ان دونوں کی احادیث تو اہل علم کے ہاں خوب پھیلی ہوئی ہیں ، وہ سب ان کی روایت میں ( ایک دوسرے کے ساتھ ) اشتراک رکھتے ہیں اور ان دونوں کی اکثر احادیث میں ان کے شاگرد ایک دوسرے سے متفق ہیں اور یہ شخص ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک سے متعدد ایسی احادیث روایت کرے جن میں ان کے شاگردوں میں سے اس کے ساتھ کوئی اور شریک نہیں تو اس جیسے لوگوں سے اس قسم کی کوئی حدیث قبول کرنا جائز نہیں ۔ اللہ ( ہی ) زیادہ جاننے والا ہے ۔ ہم نے حدیث اور اصحاب حدیث ( محدثین ) کے طریق کار کا کچھ حصہ ہر اس شخص کی توجہ کےلیے جو ان کے راستے پر چلنا چاہتا ہے اور جسے اس کی توفیق نصیب ہوتی ہے ، تفصیل سے بیان کر دیا ہے ۔ ان شاء اللہ ہم ( اس طریق کار کی ) مزید شرح اور وضاحت کتاب کے ان مقامات پر کریں گے جہاں معلول احادیث ( جن میں کوئی خفیہ علت پائی جاتی ہے ) کا ذکر ہو گا ، ( یعنی ) جب ہم وہاں پہنچیں گے جہاں اس ( موضوع ) کی شرح اور وضاحت کا مناسب موقع ہو گا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس ( وضاحت ) کے بعد ، اللہ آپ پر رحم فرمائے! ( ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ) اگر ہم نے اپنے آپ کو محدث کے منصب پر فائز کرنے والے بہت سےلوگوں کی ضعیف احادیث اور منکر روایات کے بیان کو ترک کرنے جیسے معاملات میں ، جن کا التزام ان کے لیے لازم تھا ، غلط کارروائیاں نہ دیکھی ہوتیں ، اور اگر انہوں نے صحیح روایات کے بیان پر اکتفا کو ترک نہ کیا ہوتا ، جنہیں ان ثقہ راویوں نے بیان کیا جو صدق وامانت میں معروف ہیں ، وہ بھی ان کے اس اعتراف کے بعد کہ جو کچھ وہ ( سیدھے سادھے ) کم عقل لوگوں کے سامنے بے پروائی سے بیان کیے جا رہے ہیں ، اس کا اکثر حصہ غیر مقبول ہے ، ان لوگوں سے نقل کیا گیا ہے جن سے لینے پر اہل علم راضی نہیں اور جن سے روایت کرنے کو ( بڑے بڑے ) ائمہ حدیث ، مثلاً مالک بن انس ، شعبہ بن حجاج ، سفیان بن عیینہ ، یحییٰ بن سعید قطان ، عبد الرحمن بن مہدی وغیرہم قابل مذمت سمجھتے ہیں ۔ اگر ہم نے یہ سب نہ دیکھا ہوتا تو آپ نے ( صحیح وضعیف میں ) امتیاز اور ( صرف صحیح کے ) حصول کے حوالے سے جو مطالبہ کیا ہے اسے قبول کرنا آسان نہ ہوتا ۔ لیکن جس طرح ہم نے آپ کو قوم کی طرف سے کمزور اور مجہول سندوں سے ( بیان کی گئی ) منکر حدیثوں کو بیان کرنے اور انہیں ایسے عوام میں ، جو ان ( احادیث ) کے عیوب سے ناواقف ہیں ، پھیلانے کے بارے میں بتایا تو ( صرف ) اسی بنا پر ہمارے دل کے لیے آپ کے مطالبے کو تسلیم کرنا آسان ہوا ۔
Sahih Muslim
670
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، ح، وَحَدَّثَنِي ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَمُغِيرَةَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي حَتِّ الْمَنِيِّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ
Qutaiba b. Sa'id, Ishaq b. Ibrahim, Ibn Abi 'Aruba, Abu Ma'shar, Abu Bakr b. Abu Shaiba, Mansur and Mughira have all transmitted from Ibrahim, who transmitted it on the authority of A'isha's narration pertaining to the scraping off of the (drop) of semen from the garment of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) like the hadith of Khalid on the authority of Abu Ma'shar.
( خالد کی بجائے ) ابومعشر کے دوسرے شاگرد ہشام بن حسان اور ابن ابی عروبہ نے خالد کے ہم معنی روایت کی ۔ اسی طرح ابراہیم نخعی کےمتعدد دیگر شاگردوں مغیرہ ، واصل احدب اور منصور نے اپنی اپنی مختلف سندوں سے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے ابو اسود کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کھرچنے کی روایت حضرت عائشہ ؓ سے اسی طرح بیان کی جس طرح خالد کی ابو معشر سے روایت ( : 668 ) ہے ۔
Sahih Muslim
2596
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ: بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ وَلَمْ يَذْكُرْ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ
A hadith like this has been narrated on the authority of Muhammad b. Muslim al-Zuhri with the same chain of transmitters, and he said: There was brought an 'araq containing dates, an 'araq being a huge basket. But in this hadith no mention has been made of (the fact) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) laughed till his molar teeth became visible.
اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، منصور ، حضرت محمد بن مسلم زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے اور راوی نے کہا کہ اس میں اس ٹوکرے کا ذکر نہیں ہے ۔ جس میں کھجوریں تھیں ۔ یعنی زنبیل اور وہ یہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھیں ظاہرہوگئیں ۔
Sahih Muslim
2651
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْكُلُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: «قَدْ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، تُرِكَ، فَإِنْ كُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ»
Alqama reported that Ash'ath b. Qais went to Ibn Mas'udd while he was eating on the day of Ashura. Thereupon he said: Abu Abd al-Rahman, it is the day of 'Ashura (and you are eating). Upon this he said: Fast was observed on (this day) before the (fasting) in Ramadan was made obligatory, but when it was made obligatory, (fasting on the day of 'Ashura) was abandoned. So if you are not fasting, then take food.
محمد بن حاتم ، اسحاق بن منصور ، اسرائیل ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، اشعث بن قیس ، علی ابن مسعود ، حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن مسعود کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھاناکھارہے تھے توانہوں نے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمان! آج تو عاشورہ ہے؟تو ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتاتھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا ۔
Sahih Muslim
4972
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ، فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ، وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلْ»، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَتَلْنَ، مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا» قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ، فَأُصِيبُ، فَقَالَ: «إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ، فَلَا تَأْكُلْهُ
Adi b. Hatim reported: I said: Messenger of Allah, I set off trained dogs and they catch for me (the game) and I recite the name of Allah over it (I slaughter the game by reciting Bismillah-i-Allah-o-Akbar), whereupon he said: When you set off your trained dogs, if you recited the name of Allah (while setting them off), then eat (the game). I said: Even if they (the trained dogs) kill that (the game)? He (the Holy Prophet) said: Even if these kill, but (on the condition) that no other dog, which you did not set off (along with your dogs), participates (in catching the game). I said to him: I throw Mi'rad, a heavy featherless blunt arrow, for hunting and killing (the game). Thereupon he said: When you throw Mi'rad, and it pierces, then eat, but if it falls flatly (and beats the game to death), then do not eat that.
ہمام بن حارث نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں ۔ وہ میرے لئے شکار کو قابو کرلیتے ہیں ۔ اور میں اس پر اللہ کا نام بھی لیتا ہوں ۔ ( بسم اللہ پڑھتا ہوں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو پھر اس کو کھالو ۔ " میں نے کہا : خواہ وہ کتے شکار کو مار ڈالیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خواہ وہ شکار کو مارڈالیں ، جب تک کوئی اور کتا ، جو ان کے ساتھ نہیں ( بھیجا گیا ) ، اُن کے ساتھ شریک نہ ہوجائے ۔ " میں نے عرض کی : میں شکار کو موٹی لکڑی کے نوکدار بغیر پروں کے تیر کا نشان بناتا ہوں اور اسے مار لیتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم بغیر پروں والا تیر مارو اور وہ اس کے جسم کو چھید دے ( خون نکل جائے ) تو اس کو کھالو اور اگر وہ اسے چوڑائی کی طرف سے نشانہ بنائے اور مارڈ الے تو مت کھاؤ ۔ "