TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم - شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم - نکاح کے موانع کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of نکاح کے موانع کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 19 · 8 Hadith
۔ (۷۰۰۰)۔ حَدَّثَنَا یَحْیٰی عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ نِکَاحِ الشِّغَارِ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: مَا الشِّغَارُ؟ قَالَ: یُزَوِّجُ الرَّجُلُ ابْنَتَہ، وَیَتَزَوَّجُ ابْنَتَہ،، وَیُزَوِّجُ الرَّجُلُ أُخْتَہ، وَیَتَزَوَّجُ اُخْتَہ، بِغَیْرِ صَدَاقٍ۔ (مسند احمد: ۴۶۹۲)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شغار سے منع فرمایاہے، راوی کہتے ہیں: میں نے نافع سے کہا: شغار کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا اور خود اس کی بیٹی سے نکاح کر لینا، اسی طرح ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بہن کا نکاح کرنا اور خود اس کی بہن سے نکاح کر لینا، جبکہ بیچ میں مہر نہ ہو۔
Takhreej
(۷۰۰۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۶۰، ومسلم: ۱۴۱۵ (انظر: ۴۶۹۲)
7000
Sahih
۔ (۷۰۰۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ الشِّغَارِ، قَالَ مَالِکٌ: وَالشِّغَارُ اَنْ یَقُوْلَ: أَنْکِحْنِی ابْنَتَکَ وَأُنْکِحُکَ ابْنَتِیْ۔ (مسند احمد: ۵۲۸۹)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایا، امام مالک کہتے ہیں:شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کر دے اور میں اپنی بیٹی کا تجھ سے نکاح کر دیتا ہوں۔
Takhreej
(۷۰۰۱) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۱۱۲، ومسلم: ۱۴۱۵(انظر: ۵۲۸۹)
7001
Sahih
۔ (۷۰۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الشِّغَارِ، قَالَ: وَالشِّغَارُ، اَنْ یَقُوْلَ الرَّجُلُ زَوِّجْنِی ابْنَتَکَ وَاُزَوِّجُکَ ابْنَتِیْ أَوْ زَوِّجْنِیْ اُخْتَکَ وَاُزَوِّجُکَ اُخْتِیْ، قَالَ: وَنَہٰی عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ وَ عَنِ الْحَصَاۃِ۔ (مسند احمد: ۱۰۴۴۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتا ہے: شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو مجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کر دے اور میں اپنی بیٹی کی تجھ سے شادی کر دیتا ہوں، یا تو مجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دے اور میں تجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دیتا ہوں نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دھوکا کی تجارت اور کنکری کی بیع سے بھی منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۰۰۲) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۴۱۶(انظر: ۱۰۴۳۹)
7002
Sahih
۔ (۷۰۰۳)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْأَعْرَجِ اَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ اَنْکَحَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ الْحَکَمِ اِبْنَتَہ، وَاَنْکَحَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنَتَہُ وَقَدْ کَانَا جَعَلَا صَدَاقًا فَکَتَبَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ اَبِیْ سُفْیَانَ وَھُوَ خَلِیْفَۃٌ اِلٰی مَرْوَانَ یَأْمُرُہُ بِالتَّفْرِیْقِ بَیْنَہُمَا، وَقَالَ فِیْ کِتَابِہِ: ھٰذَا الشِّغَارُ الَّذِیْ نَہٰی عَنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۱)
۔ عبد الرحمن بن ہرمزا عرج سے روایت ہے کہ عباس بن عبد اللہ بن عباس نے عبد الرحمن بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اور عبد الرحمن نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا، انہوں نے بیچ میں حق مہر کا تعین بھی کیا، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو خلیفہ تھے، نے مروان کیطرف خط لکھا اور اس کو حکم دیا کہ ان کے درمیان تفریق کرا دو، انہوں نے اپنے خط میںیہ وضاحت کی کہ یہ وہی شغارہے، جس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۰۰۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۰۷۵(انظر: ۱۶۸۵۶)
7003
Sahih
۔ (۷۰۰۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الشِّغَارِ۔ (مسند احمد:۱۴۷۰۲)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایاہے۔
Takhreej
(۷۰۰۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۱۷(انظر: ۱۴۶۴۸)
7004
Sahih
۔ (۷۰۰۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا شِغَارَ فِی الْْاِسْلَام)) (مسند احمد: ۴۹۱۸)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں کوئی شغار نہیں ہے۔
Takhreej
(۷۰۰۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۱۵(انظر: ۴۹۱۸)
7005
Sahih
۔ (۷۰۰۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاشِغَارَ فِی الْاِسْلَام۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۱۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار کا کوئی تصور نہیں ہے۔
Takhreej
(۷۰۰۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۸۵(انظر: ۱۲۶۸۶)
7006
Sahih
۔ (۷۰۰۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا شِغَارَ فِی الْاِسْلَام۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۰۴)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے۔
Takhreej
(۷۰۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۲۵۸۱، والنسائی: ۶/ ۲۲۸، والترمذی: ۱۱۲۳(انظر: ۱۹۹۶۲)
Explanation
فوائد:… باب کے شروع میں شغار کی تعریف گزر چکی ہے، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ شغار میں اصل چیز لڑکی کے بدلے لڑکی لینے کی شرط لگانا ہے، اگر اتفاقی طور پر مہر کا ذکر ہو بھی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جبکہ ہمارے ملک میں مہر کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ ہاں اگر کسی آدمی نے اپنے زیر ولایت لڑکی کا نکاح کسی دوسرے آدمی سے کر دیا اور جواب میں کسی رشتہ کی شرط نہیں لگائی، پھر بعد میں دوسرے آدمی کا پہلے آدمی کو رشتہ دینے کا پروگرام بن گیا اور دوسری شادی ہو گئی،یہ نہ شغار ہے اور نہ اس کی کوئی ممانعت ہے۔
7007
Sahih

Chapters

19
01
عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
11 Hadith
02
کسی شخص کا اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلینے کا بیان
5 Hadith
03
رضاعت کی وجہ سے نکاح کے حرام ہو جانے کے ابواب جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہی رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں
4 Hadith
04
کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
4 Hadith
05
حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
6 Hadith
06
رضاعت کی وہ مقدار جس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
7 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ رضاعت میں کس کی شہادت جائز ہو گی
3 Hadith
08
دودھ چھڑاتے وقت عورت کو کچھ دینے کے مستحب ہونے کا بیان
1 Hadith
09
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
5 Hadith
10
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
7 Hadith
11
حلالہ کرنے والے اور احرام والے آدمی کے نکاح کا حکم
4 Hadith
12
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
8 Hadith
13
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
2 Hadith
14
بانجھ خاتون سے نکاح کرنے کا حکم
1 Hadith
15
کسی عیب کی وجہ سے منکوحہ کو ردّ کر دینے کا بیان
1 Hadith
16
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
5 Hadith
17
ان کافر میاں بیوی کا بیان کہ جب ان میں سے ایک دوسرے سے پہلے مسلمان ہو جائے
3 Hadith
18
اس عورت کا بیان کہ جو مسلمان ہو کر شادی کر لے اور پھر اس کا خاوند اسلام قبول کرے، تو وہ اسی کی طرف لوٹائی جائے گی
1 Hadith
19
آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو
7 Hadith
No chapter matched that.