TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شہادتوںکے ابواب - شہادتوںکے ابواب - Book 108 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 108 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 13 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

13 Hadith · 5 Chapters
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
۔ (۶۴۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَجُوْزُ شَھَادَۃُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَۃٍ وَلَا ذِیْ غِمْرٍ عَلٰی أَخِیْہِ، وَلَا تَجُوْزُ شَھَادَۃُ الْقَانعِ لِاَھْلِ الْبَیْتِ وَیَجُوْزُ شَہَادَتُہُ لِغَیْرِھِمْ۔)) وَالْقَانِعُ الَّذِیْیُنْفِقُ عَلَیْہِ أَھْلُ الْبَیْتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَرَدَّ شَھَادَۃَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ التَّابِعِ لِاَھْلِ الْبَیْتِ وَاَجَازَھَا لِغَیْرِھِمْ۔) (مسند احمد: ۶۸۹۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے مرد و زن کی شہادت جائز ہے اور نہ اس کی جس کے دل میں بھائی کے خلاف کینہ ہو، اسی طرح اس شخص کی شہادت بھی جائز نہیں ہے جو کسی خاندان کا خادم اور تابع ہو، ان کے علاوہ باقی سب افراد کی شہادت جائز ہو گی۔ اَلْقَانِع سے مراد وہ شخص ہے، جس پر گھر والے خرچ کرتے ہوں۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ فرد جو کسی گھر والوں کا خادم اور تابع ہو گھر والوں کے حق میں اس کی گواہی رد کی ہے اور باقی افراد کے حق میں جائز قرار دی ہے۔
Takhreej
(۶۴۲۷) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۰۰، ۳۶۰۱، ابن ماجہ: ۲۳۶۶ (انظر: ۶۸۹۹)
Explanation
فوائد:… خائن کا معاملہ واضح ہے، کینہ سے مراد وہ افراد ہیں کہ جن کے درمیان بظاہر دشمنی والا معاملہ ہو، زیادہ تر ایسے ہوتا ہے کہ کسی خاندان کا خادم اور تابع اس خاندان کے بارے میں عدل و انصاف کا ترازو قائم نہیں رکھ سکتا۔
6427
Sahih
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
۔ (۶۴۲۸)۔ ( وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَجُوْزُ شَھَادَۃُ خَائِنٍ وَلَا مَحْدُوْدٍ فِی الْاِسْلَامِ وَلَا ذِیْ غِمْرٍ عَلٰی أَخِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۴۰)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے کی شہادت جائز ہے، نہ اس شخص کی جس کو اسلام میں حد لگائی گئی ہو اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھتا ہو۔
Takhreej
(۶۴۲۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اگر واضح طور پر معلوم ہو رہا ہو کہ خائن اور حد والے آدمی نے توبہ کر لی ہے اور ان پر توبہ کے آثار دکھائی دے رہے ہوں تو ان شاء اللہ ان کی گواہی قبول کی جائے گی، بہرحال اس مسئلہ میں اختلاف موجود ہے۔
6428
Sahih
عورتوں کی گواہی کا بیان
۔ (۶۴۲۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: تَزَوَّجْتُ اِبْنَۃَ اَبِیْ إِھَابٍ، فَجَائَ تِ امْرَأَۃٌ سَوْدَائُ فَذَکَرَتْ اَنَّھَا أَرْضَعَتْنَا، فاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فََقُمْتُ بَیْنَیَدَیْہِ فَکَلَّمْتُہُ فأَعْرَضَ عَنِّیْ فََقُمْتُ عَنْ یَمِیْنِہِ فَأَعْرَضَ عَنِّیْ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّمَا ھِیَ سَوْدَائُ قَالَ: ((وَکَیْفَ وَقَدْ قِیْلَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۴۴)
۔ سیدنا عقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابواہاب کی بیٹی سے شادی کی، لیکن ہوا یوں کہ ایک سیاہ فام عورت آئی اور اس نے کہا کہ اس نے ہم (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے، یہ سن کر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بات بتلائی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اعراض کیا، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دائیں جانب آگیا، اور یہی بات کہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر مجھ سے اعراض کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ سیاہ فام عام سی عورت ہے، (اس کا کیا اعتبار ہے؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم کیسے اکٹھے رہ سکتے ہو، جبکہ یہ بات کہی جا چکی ہے۔
Takhreej
(۶۴۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۸، ۲۰۵۲، ۲۶۴۰، ۲۶۶۰ (انظر: ۱۹۴۲۴)
Explanation
فوائد:… عورت کے خاص مسائل میں اس اکیلی کی گواہی قبول کی جائے گی، مثلا: حمل، حیض اور رضاعت وغیرہ۔ مسلمانوں کے دوسرے معاملات میں اگر دو مرد گواہ نہ مل رہے ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی،یعنی دو عورتیں، ایک مرد کے قائم مقام ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَاسْتَشْھِدُوْا شَہِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّھَدَائِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰھُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدَاھُمَا الْاُخْرٰی}… ’’اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو، تاکہ ایک عورت کی بھول چوک کو دوسرییاد دلا دے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۲۸۲)
6429
Sahih
گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
۔ (۶۴۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَمْنَعَنَّ اَحَدَکُمْ ھَیْبَۃُ النَّاسِ اَنْ یَقُوْلَ فِیْ حَقٍّ (وَفِیْ لَفْظٍ: أَنْ یَتَکَلَّمَ بِالْحَقِّ) اِذَا رَآہُ أَوْ شَہِدَہُ أَوْ سَمِعَہٗ۔)) قَالَاَبُوْسَعِیْدٍ: وَدِدْتُّ اَنَّیْ لَمْ أَسْمَعْہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۳۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی حق کو دیکھ لے یا اس پر موجود ہو یا اس کو سن لے تو لوگوں کی ہیبت اس کو اس چیز سے نہ روکنے پائے کہ وہ حق بات بیان کرے۔ ابو سعید نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔
Takhreej
(۶۴۳۰) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۹۱، و ابن ماجہ: ۴۰۰۷(انظر: ۱۱۰۱۷)
Explanation
فوائد:… ابو سعیدیہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس حدیث پر عمل کرنا بہت مشکل کام ہے، اس لیے اگر ان کو اس حدیث کا علم نہ ہوتا تو بہتر تھا۔
6430
Sahih
گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
۔ (۶۴۳۱)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ الشُّہَدَائِ الَّذِیْیَأْتِی بِشَہَادَتِہِ قَبْلَ أَنْ یُسْئَلَہَا أَوْ یُخْبِرُ بِشَہَادَتِہِ قَبْلَ أَنْ یُسْئَلَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۲۵)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلا نہ دوں کہ سب سے بہتر گواہ کون ہے، وہ وہ ہے جو مطالبہ کیے جانے سے پہلے گواہی دے دے۔
Takhreej
(۶۴۳۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۱۹(انظر: ۲۱۶۸۳)
6431
Sahih
گواہی دینے والے کو لوگوں کے ڈر کی وجہ سے حق چھپانے سے ممانعت کا بیان اور (بغیر مطالبے کے) ثواب حاصل کرنے کے لیے شہادت دینے والے کی گواہی کا بیان
۔ (۶۴۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ الشَّھَادَۃِ مَا شَہِدَ بِہَا صَاحِبُہَا قَبْلَ أَنْ یُسْئَلَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۱۳)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین گواہی وہ ہے جو گواہ مطالبے سے پہلے خود ہی پیش کردے۔
Takhreej
(۶۴۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… آپa نے ان احادیث میں جس شہادت کو بہتر قرار دیا ہے، اس کے دو محل ہیں: (۱) جب کسی کا حق غصب ہورہا ہو، جبکہ اس کے پاس کوئی اور گواہ نہ ہو تو جس آدمی کو معاملے کاعلم ہو، وہ از خود گواہی دے دے۔ (۲) اس شہادت کا تعلق طلاق، آزادی، وقف، عام وصیتوں اور حدود وغیرہ سے ہے، یعنی جس شخص کو امور کا علم ہو اور حاکم کے ہاں وضاحت کی ضرورت پڑ جائے تو وہ از خود حاکم کے پاس گواہی دے۔ جس شہادت کا تعلق محض کسی کے عیب کو ظاہر کرنے کے ساتھ ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنی چاہیے، البتہ جہاں تک ممکن ہو، اس آدمی کو سمجھا دینا چاہیے۔
6432
Sahih
بغیر مطالبے کے گواہی دینے والے کی مذمت کا بیان
۔ (۶۴۳۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ أُمَّتِی الْقَرْنُ الَّذِیْ بُعِثْتُ فِیْہِمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ (وَاللّٰہُ أَعْلَمُ! أَ قَالَ الثَّالِثَۃَ أَمْ لَا) ثُمَّ یَجِیئُ قَوْمٌ یُحِبُّوْنَ السَّمَانَۃَ،یَشْہَدُوْنَ قَبْلَ أَنْ یُسْتَشْھَدُوْا۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں میں موجود ہوں، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، پھر اس کے بعد والے لوگوں کا زمانہ، (راوی کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا تھا یا نہیں)،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی کے مطالبے سے پہلے گواہی دیں گے۔
Takhreej
(۶۴۳۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۳۴(انظر: ۷۱۲۳)
Explanation
فوائد:… موٹاپے کو پسند کرنے سے مراد عیش پرستی اور زیادہ مقدار میں کھانا پینا ہے، جس کا نتیجہ موٹاپے کی صورت میں نکلتا ہے۔ پچھلے باب کی احادیث میں مطالبے سے پہلے گواہی دینے کو سراہا گیا ہے، جبکہ اس حدیث میں مذمت کی جا رہی ہے۔ جمع وتطبیقیہ ہے کہ جب ایک آدمی کو اپنے حق کے بارے میں علم ہو، لیکن پھر بھی اس کے مطالبے کے بغیر اس کے حق میں گواہی دے دی جائے، یہ مذموم گواہی ہو گی، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنا حق معاف کرنا چاہتا ہو، یا کم از کم لوگوں کے سامنے اس کا ذکر نہ کرنا چاہتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس حدیث میں مذموم گواہی سے مراد جھوٹی گواہی لی ہے۔
6433
Sahih
بغیر مطالبے کے گواہی دینے والے کی مذمت کا بیان
۔ (۶۴۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ ثُمَّ یَاْتِیْ بَعْدَ ذٰلِکَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَاتُہُمْ اَیْمَانَہُمْ وَاَیْمَانُہُمْ شَہَادَاتِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۹۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہترین میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا جو میرے بعد ہوں گے، پھر ان کاجوان کے بعد ہوں گے، پھر ان کا جو ان کے بعد ہوں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہیاں ان کی قسموں سے آگے بڑھیں گی اور ان کی قسمیں ان کی گواہیوں سے آگے۔
Takhreej
(۶۴۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۲۹، ومسلم: ۲۵۳۳(انظر: ۳۵۹۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے آخری جملے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں، ایکیہ کہ گواہی کے ساتھ قسم اٹھانا مذموم ہے اور دوسرا یہ کہ قسم و شہادت میں غیر محتاط انداز اختیار نہ کیا جائے، بلکہ پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ ان امور کی ضرورت بھی ہے یا نہیں،یا صرف قسم کی ضرورت یا صرف شہادت کی، نیز کون سے مواقع پر قسم اور شہادت مذموم ہیں اور کہا ممدوح۔
6434
Sahih
جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان
۔ (۶۴۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ عَلٰی مُسْلِمٍ شَھَادَۃً لَیْسَ لَھَا بِأَھْلٍ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۲۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دیتا ہے کہ وہ مسلمان اس گواہی کا اہل نہیں ہوتا توہ ایسا شخص اپنا ٹھکانہ دوزخ سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۶۴۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن ابی ھریرۃ ولضعف خداش بن عیاش العبدی البصری۔ أخرجہ الطیالسی: ۲۵۹۴(انظر: ۱۰۶۱۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کے بارے میں فاسق یا بدکار ہونے کی گواہی دی جائے، جبکہ وہ اس سے بری ہو۔
6435
Zaeef
جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان
۔ (۶۴۳۶)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمُ ثَنَا الْجُرَیْرِیُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: ذُکِرَ الْکَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ: ((وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ أَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ۔)) فَمَا زَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا: لَیْتَہُ سَکَتَ، وَقَالَ مَرَّۃً: أَنَا الْجُرَیْرِیُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ! اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی)) فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۶۵)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ آپ یہ بات ٹیک لگا کر بیان کر رہے تھے، پھر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا: اور جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی گواہی دینایا جھوٹی با ت کہنا (بھی کبیرہ گنا ہ ہے)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کلمے کو اتنی دفعہ دوہرایا کہ ہم یہ کہنے لگ گئے کہ کاش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو جائیں۔ ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی اطلاع نہ دے دوں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، …۔ الحدیث
Takhreej
(۶۴۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن ابی ھریرۃ ولضعف خداش بن عیاش العبدی البصری۔ أخرجہ الطیالسی: ۲۵۹۴(انظر: ۱۰۶۱۷)
Explanation
فوائد:… قابل غور بات ہے کہ آپ a نے شرک اور والدین نافرمانی کا ذکر ایک بار کیا اور جھوٹی گواہی کی مذمت کو واضح کرنے کے لیے اس کا بار بار ذکر کیا۔
6436
Sahih
جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان
۔ (۶۴۳۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنْ الْکَبَائِر فَقَالَ: ((اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَقَتْلُ النَّفْسِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) وَقَالَ: ((اَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟)) قَالَ: ((قَوْلُ الزُّوْرِ۔))أَوْ قَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: أَکْبَرُ ظَنِّیْ أَنَّہُ قَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔))۔ (مسند احمد: ۱۲۳۶۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کبیرہ گناہوں کاذکر کیایا کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کر دوں اور وہ ہے جھوٹی بات کرنا یا جھوٹی گواہی دینا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میرا زیادہ خیالیہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جھوٹی گواہی کی بات کی تھی۔
Takhreej
(۶۴۳۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۷۷، ومسلم: ۸۸(انظر: ۱۲۳۳۶)
6437
Sahih
جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان
۔ (۶۴۳۸)۔ عَنْ أَیْمَنَ بْنِ خُرَیْمٍ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا فَقَالَ: ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ! عُدِلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ إِشْرَاکًا بِاللّٰہِ۔)) ثَلَاثًا ثُمَّ قَرَأَ: {فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ} (الحج: ۳۰)۔ (مسند احمد: ۱۸۲۰۸)
۔ ایمن بن خریم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے سامنے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو!جھوٹی گواہی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہ جملہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ دہرایا اور پھریہ آیت تلاوت فرمائی: بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔
Takhreej
(۶۴۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، ایمن بن خریم مخلتف فی صحبتہ، وفاتک بن فضالۃ مجھول۔ أخرجہ الترمذی: ۲۲۹۹(انظر: ۱۸۰۴۴)
6438
Zaeef
جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان
۔ (۶۴۳۹)۔ عَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ الْاَسَدِیِّ قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ: ((عَدَلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ الْاِشْرَاکَ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَلَا ھٰذہِ الْآیَۃَ: {وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَائَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہِ} (الحج: ۳۰) (مسند احمد: ۱۹۱۰۵)
۔ سیدنا خریم بن فاتک اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا: جھوٹی گواہی کو اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: جھوٹی بات سے بچو، اللہ تعالیٰ کے لئے یکطرفہ ہوجائو اور اس کے ساتھ شرک کرنے والے نہ بن جائو۔
Takhreej
(۶۴۳۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ والد سفیان العصفری وحبیب بن النعمان الاسدی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۹۹، والترمذی: ۲۳۰۰، وابن ماجہ: ۲۳۷۲ (انظر: ۱۸۸۹۸)
6439
Zaeef