اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
۔ (۶۴۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَایَجُوْزُ شَھَادَۃُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَۃٍ وَلَا ذِیْ غِمْرٍ عَلٰی أَخِیْہِ، وَلَا تَجُوْزُ شَھَادَۃُ الْقَانعِ لِاَھْلِ الْبَیْتِ وَیَجُوْزُ شَہَادَتُہُ لِغَیْرِھِمْ۔)) وَالْقَانِعُ الَّذِیْیُنْفِقُ عَلَیْہِ أَھْلُ الْبَیْتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَرَدَّ شَھَادَۃَ الْقَانِعِ الْخَادِمِ التَّابِعِ لِاَھْلِ الْبَیْتِ وَاَجَازَھَا لِغَیْرِھِمْ۔) (مسند احمد: ۶۸۹۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خیانت کرنے والے مرد و زن کی شہادت جائز ہے اور نہ اس کی جس کے دل میں بھائی کے خلاف کینہ ہو، اسی طرح اس شخص کی شہادت بھی جائز نہیں ہے جو کسی خاندان کا خادم اور تابع ہو، ان کے علاوہ باقی سب افراد کی شہادت جائز ہو گی۔ اَلْقَانِع سے مراد وہ شخص ہے، جس پر گھر والے خرچ کرتے ہوں۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ فرد جو کسی گھر والوں کا خادم اور تابع ہو گھر والوں کے حق میں اس کی گواہی رد کی ہے اور باقی افراد کے حق میں جائز قرار دی ہے۔
Takhreej
(۶۴۲۷) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۰۰، ۳۶۰۱، ابن ماجہ: ۲۳۶۶ (انظر: ۶۸۹۹)
Explanation
فوائد:… خائن کا معاملہ واضح ہے، کینہ سے مراد وہ افراد ہیں کہ جن کے درمیان بظاہر دشمنی والا معاملہ ہو، زیادہ تر ایسے ہوتا ہے کہ کسی خاندان کا خادم اور تابع اس خاندان کے بارے میں عدل و انصاف کا ترازو قائم نہیں رکھ سکتا۔
6427
Sahih