TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان - جھوٹی گواہی کی قباحت کا بیان - شہادتوںکے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of شہادتوںکے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 5 · 5 Hadith
۔ (۶۴۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ عَلٰی مُسْلِمٍ شَھَادَۃً لَیْسَ لَھَا بِأَھْلٍ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۲۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دیتا ہے کہ وہ مسلمان اس گواہی کا اہل نہیں ہوتا توہ ایسا شخص اپنا ٹھکانہ دوزخ سے تیار کر لے۔
Takhreej
(۶۴۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن ابی ھریرۃ ولضعف خداش بن عیاش العبدی البصری۔ أخرجہ الطیالسی: ۲۵۹۴(انظر: ۱۰۶۱۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کے بارے میں فاسق یا بدکار ہونے کی گواہی دی جائے، جبکہ وہ اس سے بری ہو۔
6435
Zaeef
۔ (۶۴۳۶)۔ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اِبْرَاہِیْمُ ثَنَا الْجُرَیْرِیُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: ذُکِرَ الْکَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ: ((وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ أَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ۔)) فَمَا زَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا: لَیْتَہُ سَکَتَ، وَقَالَ مَرَّۃً: أَنَا الْجُرَیْرِیُّ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ! اَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی)) فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۶۵)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ آپ یہ بات ٹیک لگا کر بیان کر رہے تھے، پھر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور فرمایا: اور جھوٹی گواہی دینا، جھوٹی گواہی دینایا جھوٹی با ت کہنا (بھی کبیرہ گنا ہ ہے)۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کلمے کو اتنی دفعہ دوہرایا کہ ہم یہ کہنے لگ گئے کہ کاش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو جائیں۔ ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کی اطلاع نہ دے دوں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، …۔ الحدیث
Takhreej
(۶۴۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن ابی ھریرۃ ولضعف خداش بن عیاش العبدی البصری۔ أخرجہ الطیالسی: ۲۵۹۴(انظر: ۱۰۶۱۷)
Explanation
فوائد:… قابل غور بات ہے کہ آپ a نے شرک اور والدین نافرمانی کا ذکر ایک بار کیا اور جھوٹی گواہی کی مذمت کو واضح کرنے کے لیے اس کا بار بار ذکر کیا۔
6436
Sahih
۔ (۶۴۳۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْکَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنْ الْکَبَائِر فَقَالَ: ((اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَقَتْلُ النَّفْسِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ۔)) وَقَالَ: ((اَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟)) قَالَ: ((قَوْلُ الزُّوْرِ۔))أَوْ قَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: أَکْبَرُ ظَنِّیْ أَنَّہُ قَالَ: ((شَھَادَۃُ الزُّوْرِ۔))۔ (مسند احمد: ۱۲۳۶۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کبیرہ گناہوں کاذکر کیایا کسی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کر دوں اور وہ ہے جھوٹی بات کرنا یا جھوٹی گواہی دینا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میرا زیادہ خیالیہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جھوٹی گواہی کی بات کی تھی۔
Takhreej
(۶۴۳۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۹۷۷، ومسلم: ۸۸(انظر: ۱۲۳۳۶)
6437
Sahih
۔ (۶۴۳۸)۔ عَنْ أَیْمَنَ بْنِ خُرَیْمٍ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا فَقَالَ: ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ! عُدِلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ إِشْرَاکًا بِاللّٰہِ۔)) ثَلَاثًا ثُمَّ قَرَأَ: {فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ} (الحج: ۳۰)۔ (مسند احمد: ۱۸۲۰۸)
۔ ایمن بن خریم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے سامنے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو!جھوٹی گواہی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہ جملہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ دہرایا اور پھریہ آیت تلاوت فرمائی: بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔
Takhreej
(۶۴۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، ایمن بن خریم مخلتف فی صحبتہ، وفاتک بن فضالۃ مجھول۔ أخرجہ الترمذی: ۲۲۹۹(انظر: ۱۸۰۴۴)
6438
Zaeef
۔ (۶۴۳۹)۔ عَنْ خُرَیْمِ بْنِ فَاتِکٍ الْاَسَدِیِّ قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ: ((عَدَلَتْ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ الْاِشْرَاکَ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَلَا ھٰذہِ الْآیَۃَ: {وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَائَ لِلّٰہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہِ} (الحج: ۳۰) (مسند احمد: ۱۹۱۰۵)
۔ سیدنا خریم بن فاتک اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، پس جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر فرمایا: جھوٹی گواہی کو اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: جھوٹی بات سے بچو، اللہ تعالیٰ کے لئے یکطرفہ ہوجائو اور اس کے ساتھ شرک کرنے والے نہ بن جائو۔
Takhreej
(۶۴۳۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ والد سفیان العصفری وحبیب بن النعمان الاسدی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۹۹، والترمذی: ۲۳۰۰، وابن ماجہ: ۲۳۷۲ (انظر: ۱۸۸۹۸)
6439
Zaeef