TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک جلاوطن کرنے کا بیان - شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک جلاوطن کرنے کا بیان - شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 3 · 5 Hadith
۔ (۶۶۸۵)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ھُرَیْرَۃَ وَزَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ وَشَبْلًا قَالَ سُفْیَانُ: قَالَ بَعْضُ النَّاسِ: اِبْنَ مَعْبَدٍ وَالَّذِیْ حَفِظْتُ: شِبْلًا، قَالُوْا: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنْشُدُکَ اللّٰہَ اِلَّا قَضَیْتَ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللّٰہِ، فَقَامَ خَصْمُہُ وَکَانَ أَفْقَہَ مِنْہُ فَقَالَ: صَدَقَ، اِقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَائْذَنْ لِی فَأَتَکَلَّمَ، قَالَ: ((قُلْ۔)) قَالَ: إِنَّ ابْنِی کَانَ عَسِیْفًا عَلٰی ھٰذَا وَإِنَّہُ زَنٰی بِاِمْرَأَتِہِ فَافْتَدَیْتُ مِنْہُ بِمِائَۃِ شَاۃٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَھْلِ الْعِلْمِ فَاَخْبَرُوْنِیْ أَنَّ عَلَی ابْنِی جَلْدَ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبَ عَامٍ وَعَلَی امْرَأَۃِ ھٰذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، الْمِائَۃُ شَاۃٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَیْکَ، وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبُ عَامٍ، وَاغْدُ یَا أُنَیْسُ! (رَجُلٌ مِنْ اَسْلَمَ) عَلَی امْرَأَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْہَا۔))، فَغَدَا عَلَیْہَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَہَا۔ (مسند احمد: ۱۷۱۶۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد جہنی اور سیدنا شبل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں، اس کا مد مقابل بھی کھڑا ہوا جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا اور اس نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، آپ ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے گفتگو کرنے کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کرو بات۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا، اُس نے اِس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا، میں نے اس سے ایک سو بکریاں اور خادم فدیہ کے طور پر دیئے ہیں، پھر جب میں نے اہل علم سے دریافت کیا ہے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی ہو گی اور اس آدمی کی بیوی کو سنگسار کر دیا جائے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تجھ کو لوٹا دیئے جائیں گے اور تیرے بیٹے پر ایک سال کی جلاوطنی اور اس کو سو کوڑے بھی لگائیں جائیں گے، اور اے انیس! تو اس کی بیوی کے پاس جا،اگر وہ زنا کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دینا۔ جب سیدنا انیس اس عورت کے پاس گئے تو اس نے اعتراف کرلیا ، پس انھوں اسے رجم کر دیا۔ سیدنا انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بنواسلم قبیلہ کے آدمی تھے۔
Takhreej
(۶۶۸۵) أخرجہ البخاری: ۶۸۲۷، ۶۸۲۸، ومسلم: ۱۶۹۷، وابوداود!: ۴۴۴۵(انظر: ۱۷۰۴۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کنوارے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور شادی شدہ کی سزا یہ ہے کہ اس کو سنگسار کر دیا جائے، یعنی پتھر مار مار اس کی زندگی ختم کر دی جائے، ان معاملات میں فدیے نفع مند ثابت نہیں ہوتے۔ قارئین کرام! آپ غور کریں کہ آپ a نے اپنے فیصلے میں ان چیزوں کا ذکر کیا: سو بکریوں اور خادم کا لوٹا دیا جانا، بیٹے پر ایک سال کی جلا وطنی اور سو کوڑے، اعتراف کی صورت میں خاتون کو رجم کرنا۔ ان چیزوں میں سے قرآن مجید میں صرف سو کوڑوں کا ذکر ہے، لیکن آپ aتمام امور کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ ’’میں تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ a کے فیصلے دراصل قرآن مجید کی تفسیر ہیں اور ان کے بارے میںیہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلے کتاب اللہ کے مطابق ہیں۔ جو لوگ احادیث ِ مبارکہ کی حجیت پر طعن کرتے ہیں،یا ان کے ذریعے قرآن مجید پر زیادتی قبول نہیں کرتے، ان کو ایسی احادیث ِ نبویہ پر غور کرنا چاہیے، اللہ تعالی نے نبی کریمa کے قول و فعل کو حجت اور آپ a کو اپنی کتاب کا مفسِّر اور شارح قرار دیا۔
6685
Sahih
۔ (۶۶۸۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّہُ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا نَزَلَ الْوَحْیُ عَلَیْہِ کَرَبَ لِذَالِکَ وَتَرَبَّدَ، فَأَوْحٰی إِلَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ فَلَقِیَ کَذَالِکَ فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا عَنِّیْ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا، اَلثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ وَالْبِکْرُ بِالْبِکْرِ، الثَّیِّبُ جَلْدُ مِائَۃٍ ثُمَّ رُجِمَ بِالْحِجَارَۃِ، وَالْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ ثُمَّ نَفْیُ سَنَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱۴)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرب و اذیت کا سامنا کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رنگت تبدیل ہو جاتی، ایک دن جب آپ پر وحی کا نزول ہواتو آپ پر یہی کیفیت طاری ہو گئی، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد اور کنواری عورت کے ساتھ کنوارا مرد زنا کرے گا تو شادی شدہ کو سو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے گا اور کنواروں کو سو کوڑے لگا کر ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۶۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۹۰ (انظر: ۲۲۷۳۴)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث دراصل اس آیت کی تفسیر تھی: {وَالّٰتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰییَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلَا}… ’’تمہاری عورتوں میں جو بے حیائی کا کام کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اورراستہ نکالے۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۱۵) اس حدیث میں آپa زانیوں کی سزائیں بیان کر کے اسی راستے کی وضاحت کررہے ہیں۔
6686
Sahih
۔ (۶۶۸۷)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا عَنِّیْ خُذُوْا عَنِّیْ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلَا، الْبِکْرُ بِا لْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَالرَّجْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۰۵)
۔ سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کی جلا وطنی ہو گی اور جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد برائی کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگا کر سنگسار کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۶۸۷) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۱۷، وأخرجہ مسلم (۱۶۹۰) عن عبادۃ بن الصامت، وقال ابو حاتم: ھذا الحدیث عن سلمۃ بن المحبق خطأ، والصحیح عن عبادۃ بن الصامت (انظر: ۱۵۹۱۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں ایک زائد حکم کا ذکر ہے، اور وہ ہے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے سے پہلے سو کوڑے لگانا، عام احادیث میں اس شادی شدہ کے لیے صرف رجم کا ذکر ہے، امام احمد، امام اسحاق اور امام داود ظاہری کی رائے یہی ہے کہ پہلے کوڑے لگائے جائیں، کیونکہ اس حدیث میں رجم کے ساتھ کوڑے لگانے کا ذکر موجود ہے، یہی مسلک راجح ہے، جن احادیث میں کوڑے لگانے کا ذکر نہیں ہے تو ان کے بارے میں گزارش ہے کہ کسی چیز کا عدم ذکر، اس کے معدوم ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔ امام مالک اور امام شافعی سمیت جمہور اہل علم ایسے زانی کے لیے سو کوڑوں کے قائل نہیں ہے، لیکن درج بالا حدیث میں ان کا ذکر موجود ہے۔ کنوارے مرد وزن، دونوں کے لیے سوکوڑوں اور جلا وطنی کا حکم ہے، عورت کو جلاوطن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا انتظام بھی کیا جائے گا، عورت کو جلاوطنی سے مستثنی قرار دینا بلا دلیل ہے۔ اگر بعض احادیث میں کوڑوں کا ذکر نہیں تو کئی ثابت، صحیح احادیث میں ان کا ذکر ہے، وہ ایک زائد بات ہے لہٰذا زائد بات کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ مطلق کو مفید پر محمول کرنے کا قاعدہ بھی معروف ہے۔ اس کا تقاضا بھییہی ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا دو طرح کی ہے، سو کوڑے اور پھر رجم۔ (عبداللہ رفیق)
6687
Sahih
۔ (۶۶۸۸)۔ عَنِ الْشَّعْبِیِّ قَالَ: أُتِیَ عَلَیٌّ بِزَانٍ مُحْصَنٍ فَجَلَدَہُ یَوْمَ الْخَمِیْسِ مِائَۃَ جَلَدَۃٍ ثُمَّ رَجَمَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقِیْلَ لَہُ: جَمَعْتَ عَلَیْہِ حَدَّیْنِ، فَقَالَ: جَلَدْتُہُ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَرَجَمْتُہُ بِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۹۴۱)
۔ امام شعبی کہتے ہیں کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک شادی شدہ زانی کو لایا گیا،انھوں نے اس کو جمعرات کے دن سو کوڑے لگائے اور پھر جمعہ کے دن اس کو رجم کر دیا، کسی نے ان سے کہا: آپ نے تو اس پر دو حدّیں جمع کر دیں ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے مارے ہیں اور سنت ِ رسول کی روشنی میں رجم کیا ہے۔
Takhreej
(۶۶۸۸) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابویعلی: ۲۹۰، والدارقطنی: ۳/ ۱۲۳ (انظر: ۹۴۱)
Explanation
فوائد:… الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سیدنا علیb کا اجتہاد تھا، لیکن سابق حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنا رسول اللہa کی سنت ہے۔
6688
Sahih
۔ (۶۶۸۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَضٰی فِیْمَنْ زَنٰی وَلَمْ یُحْصِنْ أَنْ یُّنْفٰی عَامًا مَعَ الْحَدِّ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۹۸۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کے بارے میںیہ فیصلہ کیا اسے حد کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لئے جلاوطن بھی کیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۶۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۸۳۳(انظر: ۹۸۵۶)
6689
Sahih