TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان - ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان - شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 3 · 9 Hadith
۔ (۶۶۹۰)۔ عَنْ مُسَاوِرِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا بَرْزَۃَ فَقُلْتُ: ھَلْ رَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجُلًا مِنَّا یُقَالُ لَہُ: مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۳۵)
۔ مسادر بن عبیدکہتے ہیں: میں سیدنا ابوبرزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں،ہم میں سے ایک آدمی کو رجم کیا تھا، اس کا نام ماعز بن مالک تھا۔
Takhreej
(۶۶۹۰) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۷۸، وابو یعلی: ۷۴۳۱ (انظر: ۱۹۷۹۷)
6690
Sahih
۔ (۶۶۹۱)۔ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا ھَلْ رَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجَمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ وَامْرَأَۃً وقَالَ لِلْیَہُوْدِیِّ: ((نَحْکُمُ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۱۸)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کو رجم کیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اسلم قبیلہ کے ایک آدمی کو، ایکیہودی کو اور ایک عورت کو رجم کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی سے فرمایاتھا: ہم آج تمہارا فیصلہ کریں گے۔
Takhreej
(۶۶۹۱) حدیث صحیح دون قولہ: وقال للیھودی: ’’نحن نحکم علیکم الیوم‘‘، وھذا الاسناد ضعیف من اجل عبد اللہ بن لھیعۃ۔ أخرجہ مسلم: ۱۷۰۱ دون لفظۃ: ’’نحن نحکم علیکم الیوم‘‘ (انظر: ۱۵۱۵۱)
6691
Sahih
۔ (۶۶۹۲)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ ثَنَا ھِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِییَزِیْدُ بْنُ نُعَیْمِ بْنِ ھَزَّالٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فِیْ حِجْرِ اَبِیْ فَأَصَابَ جَارِیَۃً مِنَ الْحَیِّی فَقَالَ لَہُ اَبِیْ: إِئْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبِرْہُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّہ یَسْتَغْفِرُ لَکَ، وَإِنَّمَا یُرِیْدُ بِذَالِکَ رَجَائَ أَنْ یَکُوْنَ لَہُ مَخْرَجٌ، فَأَتَاہُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَأَعْرَضَ عنَہُ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکَ قَدْ قُلْتَہَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فِیْمَنْ؟)) قَالَ: بِفُلَانَۃٍ، قَالَ: ((ھَلْ ضَاجَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ بَاشَرْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ جَامَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُرْجَمَ، قَالَ: ((فَأُخْرِجَ بِہِ إِلَی الْحَرَّۃِ۔)) فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ جَزَعَ فَخَرَجَ یَشْتَدُّ فَلَقِیَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَہُ فَنَزَعَ لَہُ بِوَظِیْفِ بَعِیْرٍ فَرَمَاہُ بِہِ فَقَتَلَہُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ َذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: ((ھَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ لَعَلَّہ یَتُوْبُ فَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ ھِشَامٌ: إِئْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبِرْہُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّہ یَسْتَغْفِرُ لَکَ، وَإِنَّمَا یُرِیْدُ بِذَالِکَ رَجَائَ أَنْ یَکُوْنَ لَہُ مَخْرَجٌ، فَأَتَاہُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَأَعْرَضَ عنَہُ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکَ قَدْ قُلْتَہَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فِیْمَنْ؟)) قَالَ: بِفُلَانَۃٍ، قَالَ: ((ھَلْ ضَاجَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ بَاشَرْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ جَامَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُرْجَمَ، قَالَ: ((فَأُخْرِجَ بِہِ إِلَی الْحَرَّۃِ۔)) فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ جَزَعَ فَخَرَجَ یَشْتَدُّ فَلَقِیَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَہُ فَنَزَعَ لَہُ بِوَظِیْفِ بَعِیْرٍ فَرَمَاہُ بِہِ فَقَتَلَہُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ َذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: ((ھَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ لَعَلَّہ یَتُوْبُ فَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ ھِشَامٌ: فَحَدَّثَنِیْیَزِیْدُ بْنُ نُعَیْمِ بْنِ ھَزّالٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِأَبِی حِیْنَ رَأٰہُ: ((وَاللّٰہِ یَاھَزَّالُ! لَوْکُنْتَ سَتَرْتَہُ بِثَوْبِکَ کَانَ خَیْرًا مِمَّا صَنَعْتَ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۵)
۔ نعیم بن ہزال کہتے ہیں: ماعز بن مالک میرے ابا جان کی زیر پرورش تھا، اس نے قبیلہ کی ایک لونڈی سے زنا کر لیا، میرے ابا جان نے اس سے کہا: تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چل اور آپ کو اپنے کیے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے لیے بخشش کی دعا کر دیں، ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید بچائو کی کوئی صورت نکل آئے، چنانچہ ماعز آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض کر لیا، وہ دوسری جانب آ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں زنا کر بیٹھا ہوں، آپ مجھ پراللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رخ پھیر لیا)، وہ تیسری بار سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم نافذ کریں، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اعراض کیا)، پھر چوتھی مرتبہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری کریں، اب کی بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے چار مرتبہ اعتراف کر لیا ہے، اب مجھے بتا کہ تو نے کس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں عورت سے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کے ساتھ لیٹا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’کیا تو نے اس کے ساتھ مباشرت کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا آپ نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ اس کو رجم کردیا جائے، پس اس کو حرّہ کی طرف لے جایا گیا، جب اسے پتھر زنی کی تکلیف ہوئی تو وہ بے سے ہو کر وہاں سے نکل کر بھاگا، آگے سے سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ملے، اُدھر اس کو رجم کرنے والے اب عاجز آ چکے تھے، چنانچہ سیدنا عبد اللہ نے اونٹ کی پنڈلی کی ایک ہڈی لی اور اس کو مار دی، پس وہ فوت ہو گیا، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بھاگ جانے کا واقعہ بیان کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا۔ نعیم بن ہزال نے اپنے ابا جان سے روایت کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: اے ہزال! اگر تم نے اس کی پردہ پوشی کی ہوتی تو بہتر ہوتا، بہ نسبت اس کے جو آپ نے اس کو مشورہ دے کر اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔
Takhreej
(۶۶۹۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ أبوداود: ۴۴۱۹ (انظر: ۲۱۸۹۰)
Explanation
فوائد:… ماعز بن مالک شادی شدہ تھے، انھوں نے زنا کیا اور نبی کریمa نے ان کو رجم کرنے کا حکم دیا اور صحابۂ کرام نے رجم کر دیا۔ اس حدیث میں دو امور غور طلب ہیں: آپ a کا فرمانا کہ ’’تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا‘‘ اس جملے کی وضاحت درج ذیل روایت سے ہو گی: سیدنا جابر بن عبد اللہb سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: أَیْ قَوْمِ! رُدُّوْنِی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ V فَاِنَّ قَوْمِیْ قَتَلُوْنِیْ وَغَرُّوْنِی مِنْ نَفْسِی وَقَالُوْا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ V غَیْرُ قَاتِلِکَ، قَالَ: فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْہُ حَتّٰی فَرَغْنَا مِنْہُ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ V ذَکَرْنَا لَہُ قَوْلَہُ، فَقَالَ: ((اَلَا تَرَکْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُوْنِی بِہِ؟)) اِنَّمَا أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِV أَنْ یَتَثَبَّتَ فِیْ أَمْرِہِ۔… لوگو! مجھے رسول اللہ a کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ a کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپa کو سنائی تو آپ a نے فرمایا: ’’تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیںلے آئے تھے؟‘‘ دراصل آپ a کا ارادہ یہ تھا کہ آپa اس کے معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے، ممکن تھا کہ وہ رجم کا حقدار نہ ہوتا۔ (ابوداود: ۴۴۲۰، مسند احمد: ۱۵۰۸۹، وسیاتی برقم۶۷۱۱) اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ a کے فرمان کا مطلب یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنے اقرار سے انکار کرنا چاہتا ہو، یا اس کی کوئی ایسی تفصیل ہو، جس کی وجہ سے وہ حد سے بچ جاتا۔ چار دفعہ اقرار کرواناصرف تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، وگرنہ آپ a نے ایک دفعہ اقرار کرنے پر بھی حد نافذ کی ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد d کی روایت کے مطابق آپ a نے فرمایا: ((عَلٰی اِبْنِکَ جَلْدُ مِائَۃٍ، وَتَغْرِیْبُ عَامٍ، وَاَمَّا اَنْتَیَا اُنَیْسٌ! فَاغْدُ عَلٰی امْرَأَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا۔))… ’’تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، انیس! تو نے صبح کو اس کی بیوی کے پاس جانا ہے، اگر وہ (زنا کا) اعتراف کرے تو اسے رجم کر دینا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲۳۱۴، ۱۶۹۵) اس حدیث میں اعتراف کا بلا قید ذکر ہے، جس کو ایک دفعہ پر محمول کیا جائے گا، اسی طرح سیدنا لجلاج b کی روایت کے مطابق ایک عورت کو ایک مرتبہ اقرار کرنے پر رجم کروا دیا تھا۔ (ابوداود: ۴۴۳۵) اسی طرح آپa نے ایک دو اور واقعات پر بھی صرف ایک مرتبہ اعتراف کرنے پر حدّ نافذ کی تھی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کی کیفیت کو سامنے رکھ کر اس سے ایکیا زائد بار جرم کا اعتراف کروایا جائے، اسی طرح وہ جس جرم کا اعتراف کر رہا ہو، اس کے بارے میں بھییقین دہانی کر لی جائے کہ کیا اس مجرم کو اپنے جرم کی حقیقت کا علم بھی ہے یا نہیں،مثلا حدیث نمبر (۶۷۰۷) کے مطابق زنا کا اعتراف کرنے والے سے آپ a نے فرمایا کہ’’شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟‘‘ یہی معاملہ چوری، ڈاکہ زنی، تہمت اور دوسرے تعزیر اور حدّ والے جرائم کا ہے۔ حدیث کا آخری جملہ ’’لَوْ سَتَرْتَہُ…‘‘ محتاج وضاحت ہے، کیونکہ اس کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے، امام باجی نے (المنتقی: ۷/ ۱۳۵) میں اس کی تفسیریوں کی: ہزال، جس نے نبی کریمa، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d کو اس کے جرم پر مطلع کیا،کو چاہیے تھا کہ اِس کو توبہ کرنے کی تلقین کرتا اور اس کے گناہ پر پردہ ڈالتا، چادر کا ذکر مبالغہ کے طور پر کیا گیا ہے۔ جس کا معنییہ ہے کہ اگر اس کے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہوتا، سوائے اس کے کہ اس پر چادر کی اوٹ کر لیتا تاکہ گواہوں کی نگاہ اس پر نہ پڑ سکتی، تو اس کو آپ a کے پاس بھیجنے اور اس پر حد کے نفاذ کا سبب بننے سے بہتر تھا۔ حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۲/ ۱۲۵) میںیہی تفسیر نقل کی اور اس کو برقرار رکھا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کو ماعز جیسے لوگوں پر محمول کیا جائے، جو زنا کے عادی نہیں ہوتے اور مرتکب ہونے کی صورت میں نادم و پشیمان ہو جاتے ہیں، ایسے لوگوں کے جرائم پر پردہ ڈالا جائے اور ان کی تشہیر نہ کی جائے۔ لیکن جو آدمی تسلسل اور ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ اِن جرائم کا ارتکاب کر رہا ہو، ایسے آدمی کا کوئی لحاظ نہ کیا جائے اور اس کا معاملہ حاکم تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اس پر حد نافذ کرے، جس کا حکیم شارع نے حکم دیا۔ اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے (المرقاۃ: ۴/ ۷۶) دیکھیں۔
6692
Sahih
۔ (۶۶۹۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ ھَزَّالٍ أَنَّ ھَزَّالًا کَانَ اِسْتَأْجَرَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ وَکَانَتْ لَہُ جَارِیَۃٌ،یُقَالُ لَھَا: فَاطِمَۃُ، قَدْ أَمْلَکَتْ وَکَانَتْ تَرْعٰی غَنَمًا لَھُمْ وَأَنَّ مَاعِزًا وَقَعَ عَلَیْہَا فَأَخْبَرَ ھَزَّالًا فَخَدَعَہُ فَقَالَ: اِنْطَلِقْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبِرْہُ، عَسٰی أَنْ یَنْزِلَ فِیْکَ قُرْآنٌ، فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرُجِمَ، فَلَمَّا عَضَّتْہُ مَسُّ الْحِجَارَۃِ انْطَلَقَ یَسْعٰی فَاسْتَقْبَلَہُ رَجُلٌ بِلَحْیِ جَزُوْرٍ أَوْ سَاقِ بَعِیْرٍ فَضَرَبَہُ بِہِ فَصَرَعَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْلَکَیَاھَزَّالُ! لَوْ کُنْتَ سَتَرْتَہُ بِثَوْبِکَ کَانَ خَیْرًا لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۶)
۔ (دوسری سند) نعیم بن ہزال سے روایت ہے کہ سیدنا ہزال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ماعز بن مالک کو کرائے پر رکھا اور ہزال کی فاطمہ نامی ایک لونڈی تھی،اس نے خاوند سے طلاق لے رکھی تھی اور وہ بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ماعز نے اس سے برائی کر لی اور پھر سیدنا ہزال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی بتا دیا، انھوں نے اس کو دھوکہ دیا اور کہا:تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا اورآپ کو اس وقوعے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ تیرے بارے میں قرآن مجید نازل ہو اور اس طرح کوئی بہتر سبیل نکل آئے، جب اس نے تفصیل بتائی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا،پس اس کو رجم کیا جانے لگا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگ پڑا، آگے سے ایک آدمی اونٹ کے جبڑے کییا پنڈلی کی ایک ہڈی لے کرآ رہا تھا، اس نے اس کو وہ ہڈی مار کر گرا دیا، بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اے ہزال! تیرے لیے ہلاکت ہو، اگر تو نے اپنے کپڑے سے اس پر پردہ کیا ہوتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا۔
Takhreej
(۶۶۹۳) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الاول
6693
Sahih
۔ (۶۶۹۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: أُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٍ قَصِیْرٍ فِیْ إِزَارِہِ، مَا عَلَیْہِ رِدَائٌ قَالَ: وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَّکِیئٌ عَلٰی وِسَادَۃٍ عَلٰییَسَارِہِ، فَکَلَّمَہُ وَمَا أَدْرِیْ مَایُکَلِّمُہُ وَأَنَا بَعِیْدٌ مِنْہُ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ قَوْمٌ، فَقَالَ: ((اذْھَبُوْا بِہِ۔))، ثُمَّ قَالَ: ((رُدُّوْہُ۔)) فَکَلَّمَہُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ: ((اذْھَبُوْا بِہِ فَارْجُمُوْہُ۔))، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا وَأَنَا أَسْمَعُہُ فَقَالَ: ((أَ کُلَّمَا نَفَرْنَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَلَفَ أَحَدُھُمْ لَہُ نَبِیْبٌ کَنَبِیْبِ التَّیْسِیَمْنَحُ إِحْدَاھُنَّ الْکُثْبَۃَ مِنَ اللَّبَنِ، وَاللّٰہِ! لَا اَقْدِرُ عَلٰی اَحَدِھِمْ اِلَّا نَکَّلْتُ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۸۴)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا،یہ ایک چھوٹے قد کا آدمی تھا اور اس نے صرف تہبندباندھا ہوا تھا، اس پر اوپر والی چادر نہیں تھی، اُدھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکیے پر اپنی بائیں جانب سے ٹیک لگائی ہوئی تھی، پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلام کیا، لیکن میں دور تھا اور میرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان لوگ بھی حائل تھے، اس لیے مجھے پتہ نہ چل سکا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: ’اس کو لے جائو۔ پھر فرمایا: اس کو واپس لائو۔ اس نے پھر بات کی اور میں سن رہا تھا، اب کی بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو لے جائو اور سنگسار کر دو۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور فرمایا: جب ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتے ہیں اور لوگوں میں سے ایک آدمی پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی شدت کو پورا کر نے کے لئے بکرے کی سی آواز نکالتا ہے اور معمولی سا دورہ دے کر ایک عورت کو پھنسا لیتا ہے،اللہ کی قسم! جب کسی ایسے شخص پر قدرت پا لوں گا تو اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔
Takhreej
(۶۶۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۶۲(انظر: ۲۰۸۰۳)
6694
Sahih
۔ (۶۶۹۵)۔ ) وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ بِالزِّنَا، قَالَ: فَحَوَّلَ وَجْہَہُ، قَالَ: فَجَائَ فَاعْتَرَفَ مِرَارًا فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ فَرُجِمَ، ثُمَّ أُتِیَ فَأُخْبِرَ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ کُلَّمَا نَفَرْنَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وتَعَالٰی تَخَلَّفَ عِنْدَھُنَّ أَحَدُھُمْ، لَہُ نَبِیْبٌ کَنَبِیْبِ التَّیْسِیَمْنَحُ اِحْدَاھُنَّ الْکُثْبَۃَ، لَئِنْ أَمْکَنَنِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْہُمْ لَأَجْعَلَنَّہُمْ نَکَالًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۸۹)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ ماعز بن مالک ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، لیکن وہ اُس طرف سے آگیا اور پھر زنا کا اعتراف کیا اور پھر بار بار اعتراف کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ اس کو سنگسار کیا جا چکا ہے، پس آپ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اورپھر فرمایا: ان لوگوں کاکیا بنے گا کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتے ہیں تو کوئی آدمی پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی شدت کو پورا کر نے کے لئے بکرے کی سی آواز نکالتا ہے اور تھوڑا سا دورہ دے کر ایک عورت کو پھنسا لیتا ہے،اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے مجھے کسی ایسے شخص پر قدرت دی تو میں اس کو لوگوں کے لیے عبرت بناؤں گا۔
Takhreej
(۶۶۹۵) تخریج: انظر الحدیث السابق۔ أخرجہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… آپa کا اعراض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اس اعتراف سے باز آ جائے اور اس طرح سزا سے بچ جائے۔ معلوم ہوا کہ جو آدمی مجاہدین کے گھر والوں کا لحاظ بھی نہیں کرتا، وہ سخت سزا کا مستحق ہے، غور کیا جائے کہ کسی کو پتھر مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دینابڑی سخت سزا ہے، لیکن نبی کریمa ایسے مجرم کو اس سے بھی سخت سزا دینے کا ارادہ کرتے ہیں۔ اضافی سزا دینے کی بات تو نہیں کی گئی۔ کسی شادی شدہ انسان کو سو کوڑے لگا کر پھر اسے رجم کیا جائے تو یہی بڑی سخت سزا ہے اور لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ (عبداللہ رفیق)
6695
Sahih
۔ (۶۶۹۶)۔ ) عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ قَالَ: أُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ قَصِیْرٍ أَشْعَثَ ذِیْ عَضَلَاتٍ، عَلَیْہِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنٰی فَرَدَّہُ مَرَّتَیْنِ قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ (فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ السَّابِقِ وَنَسِیَ آخِرَہُ) قَالَ: فَحَدَّثَنِیْہِ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ فَقَالَ: إِنَّہُ رَدَّہُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۹۴)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک کوتاہ قد آدمی لایا گیا، اس کی حالت پراگندہ تھی، وہ مضبوط پٹھوں اور گٹے بدن والا تھا، اس نے تہبند پہنا ہوا تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ اس کو ردّ کر دیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا، … سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی…، سعید بن جبیر نے اپنی حدیث میںیہ الفاظ نقل کیے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کوچار مرتبہ ردّ کیا تھا۔
Takhreej
(۶۶۹۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۹۲ (انظر: ۲۰۹۸۳)
Explanation
فوائد:… مقصد چار مرتبہ ان سے اعتراف کرواتا تھا جو چار گواہیوں کے قائمقام ہو جاتا اس لئے لوٹا دیا جب یہ اصول پورا ہوا تو پھر رجم کا حکم دیا۔ یہ آدمی سیدنا ماعز ہی تھے۔ b۔ فوائد کے تحت یہ بات پہلے واضح کر دی گئی ہے کہ چار دفعہ اعتراف و اقرار کرانا ضروری نہیں ہے یہ صرف احتیاط کے پیش نظر ہے۔ ورنہ ایک دفعہ اعتراف پر بھی حد لگائی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
6696
Sahih
۔ (۶۶۹۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ وَلَمْ یَذْکُرْ جَلْدًا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۵۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماعز بن مالک کو رجم کیا، راوی نے کوڑوں کا ذکر نہیں کیا۔
Takhreej
(۶۶۹۷) تخریج: صحیح لغیرہ، وانظر الحدیث رقم (۶۶۹۴)
Explanation
فوائد:… ہم پہلے یہ وضاحت کر آئے ہیں کہ کسی چیز کے عدمِ ذکر کا یہ مفہوم نہیں ہوتا ہے کہ سرے سے اس چیز کا وجود نہیں ہے، حدیث نمبر (۶۶۸۷) میںیہ بات گزر چکی ہے کہ شادی شدہ زانی کو پہلے سو (۱۰۰) کوڑے لگائے جائیں گے، پھر اس کو رجم کیا جائے گا۔
6697
Sahih
۔ (۶۶۹۸)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْلَجْلَاجِ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی السُّوْقِ إِذْ مَرَّتِ امْرَأَۃٌ تَحْمِلُ صَبِیًّا فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ مَعَہُمْ، فَانْتَہَیْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ لَھَا: ((مَنْ اَبُوْ ھٰذَا؟)) فَسَکَتَتْ، فَقَالَ: ((مَنْ اَبُوْ ھٰذَا؟)) فَسَکَتَتْ،فَقَالَ شَابٌّ بِحِذَائِھَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہَا حَدِیْثَۃُ السِّنِّ، حَدِیْثَۃُ عَہْدٍ بِخَزْیَۃٍ، وَاِنَّہَا لَمْ تُخْبِرْکَ وَأَنَا أَبُوْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! فَالْتَفَتَ إِلٰی مَنْ عِنْدَہُ کَأَنَّہُ یَسْأَلُھُمْ عَنْہُ، فَقَالُوْا: مَا عَلِمْنَا اِلَّا خَیْرًا أَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ فَذَھَبْنَا فَحَفَرْنَا لَہُ حَتّٰی أَمْکَنَّا وَرَمَیْنَاہُ بِالْحِجَارَۃِ حَتّٰی ھَدَأَ، ثُمَّ رَجَعْنَا اِلٰی مَجَالِسِنَا فَبَیْنَمَا نَحْنُ کَذَالِکَ اِذَا اَنَا بِشَیْخٍیَسْأَلُ عَنِ الْفَتٰی فَقُمْنَا اِلَیْہِ فَأَخَذْنَا بِتَلَابِیْبِہِ فَجِئْنَا بِہِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ھٰذَا جَائَ یَسْأَلُ عَنِ الْخَبِیْثِ، فَقَالَ: ((مَہْ لَھُوَ أَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہ رِیْحًا مِنَ الْمِسْکِ۔)) قَالَ: فَذَھَبْنَا فَأَعَنَّاہُ عَلٰی غُسْلِہِ وَتَکْفِیْنِہِ وَحَفَرْنَا لَہُ، وَلَمْ أَدْرِ أَذَکَرَ الصَّلَاۃَ أَمْ لَا۔ (مسند احمد: ۱۶۰۳۰)
۔ لجلاج سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم بازار میں تھے، وہاںسے ایک عورت گزری، اس نے ایک بچہ اٹھائے ہوئے تھا، لوگ اس کی طرف کود پڑے اور میں بھی ان کے ساتھ کود پڑا، جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس خاتون سے پوچھ رہے تھے: اس بچے کا باپ کون ہے۔ وہ خاموش رہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: بتا اس کا باپ کون ہے؟ وہ پھر خاموش رہی، اتنے میں اس کے سامنے کھڑے ہوئے ایک نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خاتون نوعمر ہے اور اس کا رسوا کن معاملہ بھی ابھی ابھی پیش آیا ہے، اے اللہ کے رسول! میں اس بچے کا باپ ہوں، مجھ سے اس کے ساتھ برائی ہو گئی ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے، گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے اس کے متعلق مشورہ لے رہے تھے، لوگوں نے کہا: ہم تو اس کے بارے میں صرف خیر و بھلائی کی بات ہی جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں میں شادی شدہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا، پس ہم گئے، اس کے لئے گڑھا کھودا اور جب ہم نے اس پر قدرت پا لی تو اس پر پتھر بر سائے، یہاں تک کہ اس کا دم نکل گیا، پھر ہم واپس آ کر اپنی مجلس میں بیٹھ گئے، اس دوران میں نے ایک بوڑھا آدمی دیکھا، وہ اس نوجوان کے متعلق پوچھ رہا ہے، ہم نے اسے اس کے گریبان سے پکڑ لیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آئے اور ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! یہ بوڑھا اس خبیث نوجوان کے بارے میں پوچھتا پھرتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسی باتوں سے باز آ جاؤ،وہ جوان تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ عمدہ مہک والا ہے۔ جونہی ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات سنی تو ہم گئے اور اس کے غسل اور کفن میں تعاون کیا، پھر اس کے لیے قبر تیار کی،یہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔
Takhreej
(۶۶۹۸) اسنادہ ضعیف، محمد بن عبد اللہ بن علاثۃ مختلف فیہ، قال البخاری: فی حفظہ نظر، وقال ابو حاتم: یکتب حدیثہ ولا یحتج بہ، وقال الدارقطنی: متروک۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۳۵(انظر: ۱۵۹۳۴)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ بات درست ہے کہ جس شخص کو رجم کیا جائے، اس پر طعن نہ کیا جائے، کیونکہ اس کی حدّ اس کے گناہ کا کفارہ بنتی ہے اور جو توبہ تائب ہو کر اپنے آپ کو اس حدّ کے لیے پیش کر دے، وہ بافضیلت آدمی ہو گا۔
6698
Zaeef