TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا - چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا - چور کی حد کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of چور کی حد کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 6 · 7 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۷۵۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَنَ الْلّٰہُ السَّارِقَ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ، وَیَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے، وہ خود چوری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، وہ رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۶۷۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۸۳، ۶۷۹۹، ومسلم: ۱۶۸۷(انظر: ۷۴۳۶)
Explanation
فوائد:… اگر ’’اَلْبَیْضَۃ‘‘ کا معنی انڈا ہو تو انڈے اور رسی کا ذکر کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، مراد یہ ہے کہ آدمی معمولی چیز کے عوض اپنے ہاتھ سے بھی محروم ہو جاتا ہے اور عام معاشرے میں رسوائی کی علامت بھی بن جاتا ہے، الا من رحم ربی۔ چور اور چوری کی قباحت و شناعت بیان کی جا رہی ہے، کتنی مقدار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ اس کی وضاحت اگلی احادیث میں آ رہی ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت سے دوری کو لعنت کہتے ہیں۔ غیر معین نافرمانوں پر لعنت کی جا سکتی ہے، کیونکہیہ جنس پر لعنت ہوتی ہے، نہ کہ خاص فرد پر، جیسے ارشادِ باری تعالی ہے: {الا لعنۃ اللہ علی الظالمین} … ’’خبردار! ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔‘‘ اسی طرح ان لوگوں پر لعنت کرنا درست ہے، جن کے بارے میں انبیائے کرام کی تصدیق کی وجہ سے یہیقین ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں، جیسے ابو جہل، ابو لہب، فرعون و غیرہ۔ جن احادیث میں لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے، ان سے مراد یہ ہے کہ کسی خاص فرد پر لعنت نہ کی جائے۔
6752
Sahih
۔ (۶۷۵۳)۔ عَنْ یَحْیَ بْنَ یَحْیَ الْغَسَّانِیِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَھُوَ عَامِلٌ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: أُتِیْتُ بِسَارِقٍ فاَرْسَلَتْ اِلَیَّ خَالَتِی عَمْرَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنْ لَّا تَعْجَلْ فِی أَمْرِ ھٰذَا الرَّجُلِ حَتّٰی آتِیَکَ فَأُخْبِرَکَ مَاسَمِعْتُ مِنْ عَائِشَۃَ فِی أَمْرِ السَّارِقِ، قَالَ: فَأَتَتْنِی وَأَخْبَرَتْنِی أَنَّہَا سَمِعْتْ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْطَعُوْا فِی رُبُعِ الدِّیْنَارِ، وَلَا تَقْطَعُوْا فِیْمَا ھُوَ أَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ۔)) وَکَانَ رُبُعُ الدِّیْنَارِیَوْمَئِذٍ ثَلَاثَۃَ دَرَاھِمٍ فَالدِّیْنَارُ اِثْنَیْ عَشَرَ دِرْھَمًا، قَالَ: وَکَانَتْ سَرِقَتُہُ دُوْنَ رُبُعِ الدِّیْنَارِ فَلَمْ أَقْطَعْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۲۰)
۔ یحییٰ بن یحییٰ غسانی کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا اور مدینہ کے عامل ابوبکر بن محمد کو ملا، انھوں نے کہا: میرے پاس ایک چور لایا گیا اورمیری خالہ عمرہ بنت عبد الرحمن نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اس آدمی کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کرنا، مجھے آلینے دو تاکہ میں تجھے وہ حدیث بتا سکوں جو میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے چور کے بارے میں سنی ہے، پس وہ میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے چور کے بارے میں سنا ، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حصہ میں کاٹو، اس سے کم میں نہ کاٹو۔ ان دنوں میں دینار کا چوتھا حصہ تین درہم کے برابر ہوتا تھا، تو دینار بارہ درہم کا ہوا، اس چور کی چوری دینار کے چوتھے حصہ سے کم تھی ، لہذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
Takhreej
(۶۷۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۸۴(انظر: ۲۴۵۱۵)
Explanation
فوائد: … دینار کا وزن= 4ماشہ‘ 4رتی (ساڑھے چار ماشے) =4.374گرام دینار کا چوتھائی حصہ: 1ماشہ، 1رتی،یعنی: تقریباً 1.093گرام یاد رہے کہ دینار سونے کے درج بالا وزن کا نام ہے، بہتر ہے کہ 4ماشہ، 4 رتی سونے کے روپے بنا لیے جائیں، پھر جواب کو 4 پر تقسیم کر لیا جائے، چوتھائی دینار کی قیمت معلوم ہو جائے گی، پھر جو چیز چوری کی گئی ہو، اس کی قیمت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے یا نہیں۔ نبی کریمa کے زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت، تین درہم چاندی کی قیمت کے برابر ہوتی تھی، لیکن اس زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت تین درہم سے کافی زیادہ ہے، اور وہ اس طرح کہ اگر ایک تولے سونے کی قیمت (۰۰۰،۵۰) روپے ہو تو چوتھائی دینار کی قیمت پانچ ہزار روپے سے کچھ کم بنتی ہے، جبکہ تین درہم چاندی کی قیمت ایک ہزار روپے سے بھی کم بنتی ہے۔
6753
Sahih
۔ (۶۷۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَاتُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ اِلَّا) فِیْ رُبُعِ دِیْنَارٍ فَصَاعِدًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۱۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، مگر دینار کے چوتھائی حصے میںیااس سے زیادہ میں۔
Takhreej
(۶۷۵۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۸۴ (انظر: ۲۵۳۰۴)
6754
Sahih
۔ (۶۷۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَطَعَ یَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّۃِ النِّسَائِ ثَمَنُہُ ثَلَاثَۃُ دَرَاھِمَ۔ (مسند احمد: ۶۳۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا، اس نے عورتوں کے چبوترے سے ڈھال چوری کی تھی، اس کی قیمت تین درہم تھی۔
Takhreej
(۶۷۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۸۶(انظر: ۶۳۱۷)
Explanation
فوائد:… اور زمانۂ نبوی میں تین درہم ، چوتھائی دینار کے برابر ہوتے تھے، اصل معیار چوتھائی دینار ہے، جیسا کہ گزشتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
6755
Sahih
۔ (۶۷۵۶)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُقْطَعُ الْیَدُ فِی ثَمَنِ الْمِجَنِّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ڈھال کی قیمت کے برابر کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۷۵۶) تخریج: ضعیف، قالہ الالبانی، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۸۶ (انظر: ۱۴۵۵)
6756
Zaeef
۔ (۶۷۵۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ: اَنَّقِیْمَۃَ الْمِجَنِّ کَانَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَۃُ دَرَاھِمَ۔ (مسند احمد: ۶۶۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم تھی۔
Takhreej
(۶۷۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس، وقد عنعن، أخرجہ ابوداود: ۴۳۸۷، والنسائی: ۸/ ۸۴ (انظر: ۶۶۸۷)
6757
Zaeef
۔ (۶۷۵۸)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا قَطْعَ فِیْمَا دُوْنَ عَشَرَۃِ دَرَاھِمَ)) (مسند احمد: ۶۹۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
Takhreej
(۶۷۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ کثیر الخطأ والتدلیس، أخرجہ الدارقطنی: ۳/ ۱۹۲(انظر: ۶۹۰۰)
Explanation
فوائد:… امام ابو حنیفہk نے اسی حدیث کی روشنی میں دس درہم ہاتھ کاٹنے کی حد مقرر کی ہے، لیکنیہ روایت ضعیف ہے۔
6758
Zaeef

Chapters

6
01
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
7 Hadith
02
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
4 Hadith
03
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
1 Hadith
04
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
2 Hadith
05
ان امور کا بیان کہ چوری میں پہلے کون سا ہاتھ کاٹا جائے، کاٹنے کا جگہ، ہاتھ کاٹ کر چور کی گردن میں لٹکانا، بار بار چوری کرنے والے کی سزا اور اس آیت کے بارے میںمفسرین کے اقوال: ’’اور چوری کرنے والا مرد اور عورت،پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
1 Hadith
06
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
3 Hadith
No chapter matched that.