TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس چیز کا بیان کہ ماں کے بعد پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے - اس چیز کا بیان کہ ماں کے بعد پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے - بچوں کی پرورش کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of بچوں کی پرورش کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 3 · 2 Hadith
۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم مکہ سے نکلے، حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے چل پڑی اور آواز دی: میرے چچا جان! میرے چچا جان! سو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حوالے کرتے ہوئے کہا: یہ تیرے چچا کی بیٹی ہے، اس کو اپنی نگہداشت میں رکھ۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو اس کے بارے میں، زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تینوں جھگڑنے لگے۔ میں نے کہا: میں اس کو لے کر آیا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ زیدنے کہا: یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے اور جعفر نے کہا : یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (فیصلہ کرتے ہوئے) جعفر سے فرمایا: تو پیدائشی اور اخلاقی اوصاف میں میرے مشابہ ہے۔ زید سے فرمایا: تو ہمارا بھائی اور دوست ہے۔ اور مجھ (علی) کو فرمایا: تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ اس طرح کرو کہ یہ بچی اس کی خالہ کے حوالے کر دو، کیونکہ خالہ ماں ہی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے شادی کیوں نہیں کرلیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔
Takhreej
(۷۲۷۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الحاکم: ۳/ ۱۲۰، وابویعلی: ۵۲۶، والبزار: ۷۴۴، وأخرجہ ابوداود دون ذکر فضائل الثلاثۃ: ۲۲۸۰ (انظر: ۷۷۰)
Explanation
فوائد: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماں کے بعد بچے کی سب سے زیادہ حقدار اس کی خالہ ہے، جیسا کہ شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچے یا بچی کی پرورش کے سلسلہ میں اس کی خالہ، اس کی ماں کے قائم مقام ہے۔ اس بات پر تو اجماع ہو چکا ہے کہ اس سلسلے میں ماں سب سے زیادہ مستحق ہے اور اس حدیث میں دی گئی تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی خالہ، اس کے باپ، نانیوں اور پھوپھیوں سے زیادہ مستحق ہے۔ (عون المعبود)
7279
Sahih
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیدنا حمزہ کی بیٹی کو بھی ساتھ لے گئے، پھر اس کے بارے میں سیدنا علی، سیدنا جعفر اور سیدنا زید کا آپس میں جھگڑا ہو گیا، پس جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ میری بھتیجی ہے اور میں اسے لے کر نکلا ہوں، سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ میری بھتیجی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے، سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ میری بھتیجی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ما بین بھائی چارہ قائم کیا تھا، (اس وجہ سے انھوں نے سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھائی کہا)، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کرتے ہوئے سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم میرے اور اس بچی کے دوست ہو۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم میرے ساتھی اور بھائی ہو۔ اور سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم پیدائشی اور اخلاقی اوصاف میں میرے مشابہ ہو، اب یہ بیٹی اپنی خالہ کے ہاں پرورش پائے گی۔
Takhreej
(۷۲۸۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۲۳۷۹، وابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۸۶(انظر: ۲۰۴۰)
7280
Sahih