TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان - نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 9 · 3 Hadith
۔ (۸۴۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْرِضُ الْکِتَابَ عَلَی جِبْرِیلَ علیہ السلام فِی کُلِّ رَمَضَانَ، فَإِذَا أَ صْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اللَّیْلَۃِ الَّتِییَعْرِضُ فِیہَا مَا یَعْرِضُ، أَصْبَحَ وَہُوَ أَ جْوَدُ مِنْ الرِّیحِ الْمُرْسَلَۃِ، لَا یُسْأَ لُ عَنْ شَیْئٍ إِلَّا أَعْطَاہُ، فَلَمَّا کَانَ فِی الشَّہْرِ الَّذِی ہَلَکَ بَعْدَہُ عَرَضَ عَلَیْہِ عَرْضَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہر ماہِ رمضان میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام پر پیش کرتے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس رات کے بعد صبح کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے، آپ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عطا کر دیتے، جب رمضان کا وہ مہینہ آ گیا، جس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے تھے، اس مہینے میں دو بار قرآن مجید پیش کیا تھا۔
Takhreej
(۸۴۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶، ۳۲۲۰، ۳۵۵۴، ومسلم: ۲۳۰۸ (انظر: ۲۰۴۲)
Explanation
فوائد:… رمضان، قرآن مجید کا دور اور جبریل علیہ السلام سے ملاقات، ان امور کی برکت سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سخاوت میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ وفات والے سال دو بار دور کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ناسخ و منسوخ اور ہر قسم کی تبدیلی کا اچھی طرح پتہ چلے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حفظ میں مزید جلاء آ جائے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: أَسَرَّ إِلَیَّ أَنَّ جِبْرِیلَ کَانَ یُعَارِضُنِی الْقُرْآنَ کُلَّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَإِنَّہُ عَارَضَنِی الْعَامَ مَرَّتَیْنِ وَلَا أُرَاہُ إِلَّا حَضَرَ أَ جَلِی۔ … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے رازدارانہ انداز میں بات کی کہ جبریل علیہ السلام ہر سال مجھ سے قرآن مجید کا ایک بار دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال دو بار دور کیا ہے، میرایہی خیال ہے کہ میری وفات کا وقت آچکا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۵۳)
8448
Sahih
۔ (۸۴۴۹)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ: أَ یُّ الْقِرَائَتَیْنِ کَانَتْ أَ خِیرًا قِرَائَۃُ عَبْدِاللّٰہِ أَوْ قِرَائَۃُ زَیْدٍ؟ قَالَ: قُلْنَا قِرَائَۃُ زَیْدٍ، قَالَ: لَا إِلَّا1 أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَی جَبْرَائِیلَ کُلَّ عَامٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ فِی الْعَامِ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ عَرَضَہُ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، وَکَانَتْ آخِرَ الْقِرَائَ ۃِ قِرَائَ ۃُ عَبْدِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: دو قراء توں میں سے آخری قراء ت کونسی تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییا سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی؟ مجاہد کہتے ہیں: ہم نے کہا: سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی آخری ہے، انہوں ! بعض نسخوں میں اِلَّا نہیں ہے اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نے کہا: نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام پر ہر سال قرآن مجید پیش کرتے تھے، لیکن جس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر قرآن مجید دو بار پیش کیا اور آخری قرات سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تھی۔
Takhreej
(۸۴۴۹) تخریج: صحیح ۔ أخرجہ البزار: ۲۶۸۳، والحاکم: ۲/ ۲۳۰ (انظر: ۲۴۹۴)
Explanation
فوائد:… اس میںسیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بھی بیان ہے، کیونکہ ان کی قراء ت اِس آخری دور اور پیشی کے مطابق تھی۔
8449
Sahih
۔ (۸۴۴۹م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٖ) عَنْأَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَ یُّ الْقِرَائَتَیْنِ تَعُدُّونَ أَ وَّلَ؟ قَالُوْا: قِرَائَۃُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: لَا بَلْ ہِیَ الْآخِرَۃُ کَانَ یُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُلِّ عَامٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ عُرِضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، فَشَہِدَہُ عَبْدُ اللّٰہِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْہُ وَمَا بُدِّلَ۔ (مسند احمد: ۳۴۲۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: تم دو قراء توں میں سے کونسی قرات پہلی شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی قراء ت؟ انھوں نے کہا: بلکہ یہ آخری ہے، ہر سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایک بار قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا۔ جس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی، اس سال دو بار پیش کیا گیا، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس پیشی کے وقت حاضر تھے، سو انھوں نے جان لیا کہ قرآن مجید کا کونسا حصہ منسوخ ہوا اور کونسا تبدیل ہوا ہے۔
Takhreej
(۸۴۴۹م) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۵۵۹، وابویعلی: ۲۵۶۲، والنسائی فی الکبری : ۷۹۹۴ (انظر: ۳۴۲۲)
Explanation
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ہر سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن مجید پیش کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی، اس سال انھوں نے دو بار پیش کیا تھا۔
8449
Sahih

Chapters

9
01
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
1 Hadith
02
قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کا بیان
3 Hadith
03
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
11 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
3 Hadith
05
قرآن مجید کے نسخ کا بیان
3 Hadith
06
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
11 Hadith
07
قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
6 Hadith
08
قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھنے اور اللہ تعالی کے اس فرمان {فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}کا بیان
2 Hadith
09
قرات سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.