TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن مجید کے نسخ کا بیان - قرآن مجید کے نسخ کا بیان - نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 9 · 3 Hadith
۔ (۸۴۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ یَعْرِضُ (یَعْنِیْ: جِبْرِیْلُ) عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِیْ قُبِضَ فِیْہِ عَرَضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۱۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قضا و عدالت کے ماہر ہیں اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم ان کی قراء ت کی کئی آیات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں (کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں)، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ آیات سنی ہیں، سو میں ان کو کسی چیز کی بنا پر نہیں چھوڑوں گا، جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا} … جو آیت ہم منسوخ کریںیا ترک کر دیں تو ہم اس سے بہتر لے آتے ہیںیا اس کی مثل لے آتے ہیں۔
Takhreej
(۸۴۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۹۸ (انظر: ۹۱۹۰)
Explanation
فوائد:… بعض آیات منسوخ ہو چکی تھیں، لیکن سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے نسخ کے قائل نہیں تھے، ممکن ہے کہ ان کو نسخ پر دلالت کرنے والی احادیث نہ ملی ہوں، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے حق میں ایک آیت بھی پیش کر دی کہ قرآن مجید کا بعض حصہ منسوخ ہو سکتا ہے۔ قرآن مجیدمیںنسخ کی درج ذیل صورتیںہیں: (۱)۔ قراء ت کا منسوخ ہو جانا، لیکن حکم کا باقی رہنا، جیسے اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِنْ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ (جب شیخ اور شیخہیعنی شادی شدہ مر دو زن زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والے کمال حکمت والا ہے۔ ) (۲)۔ تلاوت کاباقی رہنا، لیکن حکم کا ختم ہو جانا، جیسے {وَعَلَی الَّذِینَیُطِیقُونَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ} (اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں، مسکین کا فدیہ دینا) (۳)۔ قرائت اور حکم دونوں کا ختم ہو جانا، جیسے عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ (دس بار دودھ پینا حرام کرتا ہے) پہلے دس دفعہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی تھی، پھر ان کو پانچ دفعہ دودھ پینے کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا۔ (مسلم: ۱۴۵۲)
8450
Sahih
۔ (۸۴۵۱)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: عَلِیٌّ أَ قْضَانَا، وَأُبَیٌّ أَ قْرَؤُنَا، وَإِنَّا لَنَدَعُ کَثِیرًا مِنْ لَحْنِ أُبَیٍّ، وَأُبَیٌّیَقُولُ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَخَذْتُ مِنْ فَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَلَا أَ دَعُہُ لِشَیْئٍ، وَاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَییَقُولُ: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا}۔ (مسند احمد: ۲۱۴۰۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔
Takhreej
(۸۴۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۴۸۱(انظر: ۲۱۰۸۴)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سماع کے بعد بھی قرآن مجید کا ایسا حصہ یا حکم نازل ہوا، جس نے ان کی سنی ہوئی چیز کو منسوخ کر دیا تھا، لیکن ان کو اس کا علم نہیں تھا۔
8451
Sahih
۔ (۸۴۵۲)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْفَجْرَ وَتَرَکَ آیَۃً، فَجَائَ أُبَیٌّ وَقَدْ فَاتَہُ بَعْضُ الصَّلَاۃِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نُسِخَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ أَ وْ أُنْسِیتَہَا؟ قَالَ: ((لَا بَلْ أُنْسِیتُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۵۸)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور قراء ت کرتے کرتے ایک آیت چھوڑ دی، جب میں آیا تو نماز کا کچھ مجھ سے چھوٹ گیا تھا، بہرحال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں بھول گیاہوں۔
Takhreej
(۸۴۵۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۶۴۷(انظر: ۲۱۱۴۰)
Explanation
فوائد:… اس باب سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی بعض آیات منسوخ ہو گئیں تھی، بعض صحابہ کو ان کے نسخ کا علم نہیں تھا، لیکن ہمیشہ علم کو عدم علم پر مقدم سمجھا جاتا ہے، یعنی جس کو زائد چیز کا علم ہے، اس کی بات کو ترجیح دی جائے گی۔
8452
Sahih

Chapters

9
01
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
1 Hadith
02
قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کا بیان
3 Hadith
03
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
11 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
3 Hadith
05
قرآن مجید کے نسخ کا بیان
3 Hadith
06
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
11 Hadith
07
قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان
6 Hadith
08
قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھنے اور اللہ تعالی کے اس فرمان {فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}کا بیان
2 Hadith
09
قرات سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھنے اور اس کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.