۔ (۸۴۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ یَعْرِضُ (یَعْنِیْ: جِبْرِیْلُ) عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِیْ قُبِضَ فِیْہِ عَرَضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۱۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قضا و عدالت کے ماہر ہیں اور سیدنا ابی رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم ان کی قراء ت کی کئی آیات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں (کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں)، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی ہیں، سو میں ان کو کسی چیز کی بنا پر نہیں چھوڑوں گا، جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا} … جو آیت ہم منسوخ کریںیا ترک کر دیں تو ہم اس سے بہتر لے آتے ہیںیا اس کی مثل لے آتے ہیں۔
Takhreej
(۸۴۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۹۸ (انظر: ۹۱۹۰)
Explanation
فوائد:… بعض آیات منسوخ ہو چکی تھیں، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان کے نسخ کے قائل نہیں تھے، ممکن ہے کہ ان کو نسخ پر دلالت کرنے والی احادیث نہ ملی ہوں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے حق میں ایک آیت بھی پیش کر دی کہ قرآن مجید کا بعض حصہ منسوخ ہو سکتا ہے۔ قرآن مجیدمیںنسخ کی درج ذیل صورتیںہیں: (۱)۔ قراء ت کا منسوخ ہو جانا، لیکن حکم کا باقی رہنا، جیسے اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِنْ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ (جب شیخ اور شیخہیعنی شادی شدہ مر دو زن زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والے کمال حکمت والا ہے۔ ) (۲)۔ تلاوت کاباقی رہنا، لیکن حکم کا ختم ہو جانا، جیسے {وَعَلَی الَّذِینَیُطِیقُونَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ} (اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں، مسکین کا فدیہ دینا) (۳)۔ قرائت اور حکم دونوں کا ختم ہو جانا، جیسے عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ (دس بار دودھ پینا حرام کرتا ہے)
پہلے دس دفعہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی تھی، پھر ان کو پانچ دفعہ دودھ پینے کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا۔ (مسلم: ۱۴۵۲)
8450
Sahih