TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان - مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان - مجالس اور ان کے آداب کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of مجالس اور ان کے آداب کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 6 · 7 Hadith
۔ (۹۴۹۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا اِذَا جِئْناَ اِلَیْہِیَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلَسَ اَحَدُنَا حَیْثُیَنْتَھِیْ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۴۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آتے تھے تو جہاں مجلس ختم ہو رہی ہوتی تھی، وہیں بیٹھ جاتے تھے۔
Takhreej
(۹۴۹۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۸۲۵، والترمذی: ۲۷۲۵ (انظر: ۲۰۸۵۵)
Explanation
فوائد:… بعد میں آنے والے وڈیروںیا خیر و بھلائی کی رغبت رکھنے والے صوفی مزاج لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کی بابرکت مجالس میں ایسا نہیں ہوتا تھا، وہاں جس کو جہاں جگہ ملتی تھی، وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: اس حدیث میں عہد ِ نبوی کے ایک ادب ِ مجلس کا ذکر کیا گیا ہے۔ عصر حاضر میں اہل علم سمیت اکثر لوگ اس کو ترک کر چکے ہیں۔ وہ ادب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی کسی مجلس میں پہنچے تو جہاں مجلس ختم ہو رہی ہے، وہیں بیٹھ جائے، اگرچہ اسے دروازے کی دہلیز پر بیٹھنا پڑے، وہ اس چیز کا انتظار نہ کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوںتاکہ وہ آگے جا سکے، جیسا کہ متکبر سرداروں اور بڑائی خور لوگوں کا وطیرہ ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا کرنے سے صراحت کے ساتھ منع کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (( لایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖ ثُمَّ یَجْلِسُ فِیْہِ، وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا )) … کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اس کی مجلس سے کھڑا مت کرے اور پھروہاں خود بیٹھ جائے، (البتہ تم کو چاہئے کہ) کھلے ہو جاؤ اور وسعت پیدا کرو۔ (مسلم) اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: جب کوئی آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے اپنی مجلس سے کھڑا ہوتا تو وہ وہاں نہیں بیٹھتے تھے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرما دیا کہ مجلس میں بیٹھا ہوا آدمی کسی کی خاطر کھڑا ہو۔ دیکھیں صحیحہ: ۲۲۸۔(صحیحہ: ۳۳۰)
9496
Sahih
۔ (۹۴۹۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِہِ، فَیَجْلِسَ فِیْہِ، وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۹)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی مجلس سے کھڑا نہ کرے، اور پھر وہ خود وہاں بیٹھ جائے، البتہ کھلے اور وسیع ہو جایا کرو۔
Takhreej
(۹۴۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۲۷۰، ومسلم: ۲۱۷۷ (انظر: ۴۶۵۹)
9497
Sahih
۔ (۹۴۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِہِ، وَلٰکِنِ افْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۴۴۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی شخص کو اس کی مجلس سے کھڑا نہ کیا کرے، البتہ کھلے ہو جایا کرو، اللہ تعالیٰ بھی وسعت پیدا کر دے گا۔
Takhreej
(۹۴۹۸) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۸۴۶۲)
Explanation
فوائد:… کسی آدمی کو مجلس سے اٹھا کر اس کی جگہ پر بیٹھ جانا انتہائی سوئے ادبی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کیا ہے، کسی مجلس میں بیٹھنے کا قانون پہلے آئیے پہلے پائیے کا ہے۔
9498
Sahih
۔ (۹۴۹۹)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی الْحَسَنِ الْبَصَرِیِّ،یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ، اَنَّہُ دُعِیَ اِلٰی شَھَادَۃٍ مَرَّۃً، فَجَائَ اِلٰی الْبَیْتِ، فَقَامَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِہِ، فَقَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا قَامَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِہِ اَنْ یَجْلِسَ فِیْہِ، وَعَنْ اَنْ یَمْسَحَ الرَّجُلُ یَدَہُ بِثَوْبِ مَنْ لَا یَمْلِکُ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۴)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ان کو گواہی کے لیے بلایا گیا، پس وہ گھر آئے اور ایک آدمی ان کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن انھوں نے کہا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو اس کی جگہ میں بیٹھ جانے سے منع کیا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ آدمی ایسے شخص کے کپڑے سے ہاتھ صاف کرے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔
Takhreej
(۹۴۹۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی عبد اللہ مولی آل ابی موسی الاشعری، أخرجہ ابوداود: ۴۸۲۷ (انظر: ۲۰۴۵۰)
9499
Zaeef
۔ (۹۵۰۰)۔ عَنْ اَبِی الْخَصِیْبِ، قَالَ: کُنْتُ قَاعِدًا، فَجَائَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِہِ لَہُ، فَلَمْ یَجْلِسْ فِیْہِ، وَقَعَدَ فِیْ مَکَانٍ آخَرَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَاکَانَ عَلَیْکَ لَوْ قَعَدْتَ؟ فَقَالَ: لَمْ اَکُنْ اَقْعُدُ فِیْمَقْعَدِکَ وَلَا مَقْعَدِ غَیْرِکَ بَعْدَ شَیْئٍ شَھِدْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِہِ، فَذَھَبَ لِیَجْلِسَ فِیْہِ، فَنَھَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۵۶۷)
۔ ابو خصیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما تشریف لائے، ایک آدمی ان کو جگہ دینے کے لیے اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا، لیکن وہ اس جگہ میں نہیں، بلکہ کسی اور جگہ میں بیٹھ گئے، اس آدمی نے کہا: اگر تم میری جگہ میں بیٹھ جاتے تو تم پر کوئی حرج تو نہیں تھا؟ انھوں نے کہا: نہ میں نے تیری بیٹھک میں بیٹھنا اور نہ کسی اور کی بیٹھکمیں، اس چیز کے بعد میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں دیکھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، تو ایک آدمی اس کی خاطر اپنی مجلس سے کھڑا ہو گیا اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھنے لگا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وہاں بیٹھنے سے منع فرما دیا۔
Takhreej
(۹۵۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال ابی الخصیب، أخرجہ ابوداود: ۴۸۲۸(انظر: ۵۵۶۷)
Explanation
فوائد:… لیکن درج ذیل حدیث اورشرح پر غور کریں۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (( لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِہٖوَلٰکِنِافْسَحُوْایَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ۔)) … کوئی آدمی کسی کے لیے اپنی نشست سے کھڑا نہ ہو، بلکہ مجلس میں گنجائش پیدا کر لیا کرو، اللہ تعالیٰ تمھارے لیے وسعت پیدا کر دے گا۔ (مسند احمد: ۲/ ۴۸۳صحیحہ: ۲۲۸) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دوسروں کی خاطر کھڑے نہیں ہونا چاہئے، ہاں ان کے بیٹھنے کے لیے گنجائش پیدا کر دینی چاہئے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: اس حدیث میں واضح دلالت موجود ہے کہ یہ آداب ِ اسلامیہ میں سے نہیں ہے کہ کوئی آدمی کسی کے احترام کی وجہ سے مجلس سے کھڑا ہو جائے اور وہ اس کی جگہ میں بیٹھ جائے، بلکہ اسے چاہئے کہ آنے والے کے لیے وسعت پیدا کرے۔ جب لوگ زمین پر بیٹھے ہوں تو مجلس میں وسعت پیدا کرنا ممکن ہو گا اور کرسیوں کی صورت میں ناممکن ہے۔ بہرحال کسی کی خاطر کھڑا ہونے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس حدیث کی مخالفت ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ ناپسند کرتے تھے کہ کوئی آدمی اپنی مجلس سے کھڑا ہو اور وہ وہاں بیٹھجائیں۔ مذکورہ بالا حدیث کے الفاظ لَایَقُوْمُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ… (کوئی آدمی کسی کے لیے کھڑا نہ ہو) کم از کم کراہت پر دلالت کرتے ہیں، کیونکہیہاں نفی بمعنی نہی ہے، وگرنہ نہی کا اصل تقاضا تو تحریم ہے۔ واللہ اعلم۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (( لایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖثُمَّیَجْلِسُ فِیْہ)) … کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اس کی جگہ سے کھڑا کر کے اس کی جگہ پر مت بیٹھے۔ (مسلم) ذہن نشین رہے کہ ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ اُس میں دوسرے کو اٹھانے سے اور اِس میں دوسرے کے خود اٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔
9500
Zaeef
۔ (۹۵۰۱)۔ عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ، اَنَّہُ قَالَ لِِاَبِیْ قِلَابۃَ: دَخَلَتُ اَنَا وَاَبُوْکَ عَلَی ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَحَدَّثَنَا اَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَلْقَی لَہُ وِسَادَۃً مِنْ اَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ، فَلَمْ اَقْعُدْ عَلَیْھَا، بَقِیَتْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ۔ (مسند احمد: ۵۷۱۰)
۔ ابو ملیح سے مروی ہے، انھوں نے ابو قلابہ سے کہا: میں اور تمہارے ابو، ہم دو سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس گئے، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لے چمڑے کا تکیہ رکھا، اس کا بھراؤ کھجور کے پتے تھے، لیکن وہ اس پر نہ بیٹھے اور وہ تکیہ ان کے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان پڑا رہا۔
Takhreej
(۹۵۰۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۵۷۱۰)
Explanation
فوائد:… غور کریں کہ سیدا لاولین والآخرین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے تکیہ پیش کر رہے ہیں،یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا احترام کرتے ہوئے اس تکیے پر نہ بیٹھے۔ ایسی احادیث ِ مبارکہ کے بعد ہمیں ادنی و اعلی مہمانوں میں اس طرح فرق کرنے سے باز آ جانا چاہیے کہ اعلی کی پرتکلف ضیافت کی جاتی ہے اور ادنی کو پوچھنے کے لیے تیار کوئی نہیں ہوتا ہے۔
9501
Sahih
۔ (۹۵۰۲)۔ عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ، قَالَ: جَلَسْتُ اِلَی ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَمَعَہُ رَجُلٌ یُحَدِّثُہُ، فَدَخَلْتُ مَعَھُمَا، فَضَرَبَ بِیَدِہِ صَدْرِیْ، وَقَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا تَنَاجَی اثْناَنِ فَـلَا تَجْلِسْ اِلَیْھِمَا حَتّٰی تَسْتَاْذِنَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۵۹۴۹)
۔ سعید مقبری کہتے ہیں: میں آیا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ بیٹھ گیا، جبکہ ان کے ساتھ ایک اور آدمی گفتگو کر رہا تھا، جب میں ان کے ساتھ داخل ہوا تو سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے میری چھاتی پر ہاتھ مارا اور کہا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی سرگوشی کر رہے ہوں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھ،یہاں تک کہ تو ان سے اجازت لے لے۔
Takhreej
(۹۵۰۲) تخریج: حدیث حسن لغیرہ (انظر: ۵۹۴۹)
Explanation
فوائد:… شریعت ِ اسلامیہ کا امتیازی وصف اعتدال ہے۔ جہاں بعض مصلحتوں کی بنا پر اکٹھے تین افراد میں سے دو کو علیحدہ ہو کر صلاح و مشورہ کرنے سے منع کیا گیا ہے، وہاں اگر پہلے ہی سے کسی مقام پر دو افراد رازدارانہ انداز میں گفت و شنید کر رہے ہوں تو بعد میں آنے والے افراد کو بغیر اجازت ان کی مجلس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قارئین ِ کرام! آپ کا ذاتی تجربہ ہو گاکہ بسا اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر آپ بھی نہیں چاہتے ہوں گے کہ کوئی آدمی آپ کی مجلس میں گھس کر آپ کے مخفی سلسلۂ کلام کو منقطع کر دے، اگرچہ آنے والا آپ کا کتنا ہی قریبی اور مخلص دوست کیوں نہ ہو نبی مہربان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلے سے ہی آپ کے حق میںفیصلہ کر دیا ہے ۔ عام دوستوں اور تعلق داروں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ ان آداب کا خیال نہیں رکھتے، آگے سے تعلق کی وجہ سے ٹوکا بھی نہیں جاتا، جبکہ اندر سے کڑتے رہتے ہیں۔
9502
Sahih