۔ (۹۵۰۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَۃً فَـلَا یَتَنَاجَ اثْنَانِ دَوْنَ صَاحِبِھِمَا، فَاِنَّ ذٰلِکَ یُحْزِنُہُ
(وَفِیْ لَفْظٍ) لَا یَتَسَارَّ اثْنَانِ دُوْنَ الثَّالِثِ اِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَھُمْ غَیْرُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہیہ چیز اس کو پریشان کرے گی۔ ایک روایت میں ہے: دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر راز دارانہ بات نہ کریں، جب ان کے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔
Takhreej
(۹۵۰۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۸۴ (انظر: ۳۵۶۰)
Explanation
فوائد:… جب تین افراد ایک ساتھ ہوں یا ہم سفر ہوں، تو ایسے موقع و مقام پر تیسرے کو چھوڑ کر صرف دو افراد کا باہم رازدارانہ انداز میں گفتگو کرنا ممنوع ہے، کیونکہ اس سے تیسرے کی دلآزاری ہوتی ہے یا وہ بدگمانی میں مبتلاہو جاتا ہے۔
ہاں جب لوگ زیادہ ہوں تو دو افراد کے آپس میں سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
9503
Sahih