TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب - مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب - مجالس اور ان کے آداب کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of مجالس اور ان کے آداب کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 6 · 14 Hadith
۔ (۹۵۰۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَۃً فَـلَا یَتَنَاجَ اثْنَانِ دَوْنَ صَاحِبِھِمَا، فَاِنَّ ذٰلِکَ یُحْزِنُہُ (وَفِیْ لَفْظٍ) لَا یَتَسَارَّ اثْنَانِ دُوْنَ الثَّالِثِ اِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَھُمْ غَیْرُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۳۵۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہیہ چیز اس کو پریشان کرے گی۔ ایک روایت میں ہے: دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر راز دارانہ بات نہ کریں، جب ان کے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔
Takhreej
(۹۵۰۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۸۴ (انظر: ۳۵۶۰)
Explanation
فوائد:… جب تین افراد ایک ساتھ ہوں یا ہم سفر ہوں، تو ایسے موقع و مقام پر تیسرے کو چھوڑ کر صرف دو افراد کا باہم رازدارانہ انداز میں گفتگو کرنا ممنوع ہے، کیونکہ اس سے تیسرے کی دلآزاری ہوتی ہے یا وہ بدگمانی میں مبتلاہو جاتا ہے۔ ہاں جب لوگ زیادہ ہوں تو دو افراد کے آپس میں سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
9503
Sahih
۔ (۹۵۰۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یَتَنَاجَی اثْنَانِ دُوْنَ الثَّالِثِ اِذَا لَمْ یَکُنْ مَعَھُمْ غَیْرُھُمْ۔ قَالَ: وَنَھٰی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُخَالِفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِیْ مَجْلِسِہِ۔ وَقَالَ: ((اِذَا رَجَعَ فھُوَ اَحَقُّ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۴۸۷۴)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی کرنے لگ جائیں، جب ان کے ساتھ اور کوئی نہ ہو، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ اس آدمی کی جگہ میں بیٹھا جائے جو (عارضی طور پر) مجلس سے اٹھ کر جائے، اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ایسا آدمی لوٹے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہو گا۔
Takhreej
(۹۵۰۴) تخریج: صحیح (انظر: ۴۸۷۴)
Explanation
فوائد:… شریعت نے کسی مجلس میں پہلے آنے والوں کا اتنا خیال رکھا ہے کہ اگر وہ بعض وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر وہاں سے اٹھ بھی جاتے ہیں، تب بھی کسی کو ان کے مقام پر قبضہ جمانے کی اجازت نہیں۔
9504
Sahih
۔ (۹۵۰۵)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا کُنْتُمْ ثَلَاثَۃً فَـلَا یَنْتَجِیْ اثْنَانِ دُوْنَ صَاحِبِھِمَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: فَاِنْ کَانُوْا اَرْبَعًا؟ قَالَ: فَـلَا یَضُرُّ۔ (مسند احمد: ۴۶۸۵)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کیا کریں۔ ابو صالح راوی نے کہا: اگر چار افراد ہوں تو؟ انھوں نے کہا: تو پھر یہ چیز نقصان نہیں دے گی (یعنی پھر کوئی حرج نہیں ہو گا)۔
Takhreej
(۹۵۰۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۴۸۵۲ (انظر: ۴۶۸۵)
9505
Sahih
۔ (۹۵۰۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ حَدَّثَ فِیْ مَجْلِسٍ بِحَدِیْثٍ ثُمَّ الْتَفَتَ فَھِیَ اَمَانَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس بندے نے مجلس میں کوئی بات کی اور پھر وہ اِدھر اُدھر متوجہ ہوا تو وہ بات امانت ہو گی۔
Takhreej
(۹۵۰۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۸۶۸، والترمذی: ۱۹۵۹(انظر: ۱۴۴۷۴)
Explanation
فوائد:… امام مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث ِ مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے لکھا: اگر کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کے ساتھ گفتگو کر رہا ہو اور وہ گفتگو کے دوران دائیں بائیں دیکھے، تو اس سے یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ ہ راز کی بات کرنا چاہتا ہے اور اسے دوسرے لوگوں سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔ ایسی گفتگو امانت ہو گی اور اس کو راز رکھنا واجب ہو گا۔ ابن ارسلان نے کہا: متکلم کے ادھر ادھر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا خطرہ ہے کہ کوئی اس کی بات سن نہ لے، وہ صرف اپنے ہم مجلس تک اپنے راز کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ دراصل وہ ادھر ادھر دیکھ کر اپنے مخاطَب کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ اس کی گفتگو سنے، اس کو راز اور امانت سمجھے۔ (تحفۃ الاحوذی)
9506
Sahih
۔ (۹۵۰۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ مِنْ مَجْلِسِہِ ثُمَّ رَجَعَ اِلَیْہِ فَھُوَ اَحَقُّ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۳۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنی مجلس سے چلا جائے اور پھر واپس آ جائے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہو گا۔
Takhreej
(۹۵۰۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۷۹ (انظر: ۱۰۸۲۳)
Explanation
فوائد:… بعض نمازیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مسواک، وضو اور استنجاء کی صورت میں نماز کی تیاری کرنے سے پہلے مسجد میں آ کر پہلی صف میں کوئی کپڑا وغیرہ رکھ کر چلے جاتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو اس جگہ کا مستحق سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ انداز درست نہیں ہے، کیونکہ جو آدمی مکمل تیاری کر کے آ کر ایک بار بیٹھ جائے گا، وہ جگہ اس کا حق ہو گی، تیاری کرکے آنے کے بغیر علامت وغیرہ رکھنے کا کوئی تک نہیں ہے۔
9507
Sahih
۔ (۹۵۰۸)۔ عَنْ وَھْبِ بْنِ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ مِنْ مَجْلِسِہِ فَرَجَعَ اِلَیْہِ فَھُوَ اَحَقُّ بِہٖ،وَاِنْکَانَتْلَہُحَاجَۃٌ فَقَامَ اِلَیْھَا ثُمَّ رَجَعَ فَھُوَ اَحَقُّ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۵۵۶۵)
۔ سیدنا وہب بن حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنی مجلس سے چلا جائے اور پھر واپس لوٹ آئے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، اگر ایسا آدمی کسی ضرورت کی وجہ سے مجلس سے چلا جاتا ہے اور پھر واپس آجاتا ہے تو وہی اس مقام پر بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو گا۔
Takhreej
(۹۵۰۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۷۵۱ (انظر: ۱۵۴۸۴)
9508
Sahih
۔ (۹۵۰۹)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ خَرَجَ عَلٰی اَصْحَابِہٖ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَھُمْ حِلَقٌ) فَقَالَ: ((مَالِیْ اَرَاکُمْ عِزِیْنَ؟)) وَھُمْ قُعُوْدٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۶۶)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کے پاس گئے، ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور وہ حلقوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم مجھے مختلف گروہوں کی صورت میں نظر آ رہے ہو۔ جبکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے۔
Takhreej
(۹۵۰۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۳۰ (انظر: ۲۰۸۷۴)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ میں گروہ بندی سے منع کیا گیا ہے اور اکٹھا ہونے، پہلی صفوں کو مکمل کرنے اور صفوں میںملنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (شرح النووی لمسلم: ۴/ ۱۵۳) بہتریہ ہے کہ اس حدیث کو درج ذیل حدیث کے مفہوم پر محمول کیا جائے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: وَنَھٰی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّحَلُّقِ قَبْلَ الصَّلَاۃِیَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ … نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقے بنانے سے منع کیا ہے۔ (ابو داود: ۹۹۱، نسائی: ۷۰۷) اسی طرح نماز سے پہلے حلقے بنانا بھی منع ہو گا۔ اگر ان دو صورتوں کے علاوہ تعلیم و تربیت کے لیے مختلف حلقوں اور مجلسوں میں بیٹھنا پڑے تو جائز ہو گا۔
9509
Sahih
۔ (۹۵۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ مِجْلَزٍ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، فِی الَّذِیْیَقْعُدُ فِیْ وَسْطِ الْحَلْقَۃِ قَالَ: مَلْعُوْنٌ عَلٰی لِسَانِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْلِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۲)
۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حلقے کے وسط میں بیٹھنے والے آدمی کے بارے میں کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان کے مطابق ایسے شخص پر لعنت کی گئی ہے۔
Takhreej
(۹۵۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو مجلز لم یدرک حذیفۃ، أخرجہ ابوداود: ۴۸۲۶، والترمذی: ۲۷۵۳ (انظر: ۲۳۲۶۳)
9510
Zaeef
۔ (۹۵۱۱)۔ عَنْ حَرْمَلَۃَ الْعَنْبَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْصِنِیْ؟ قَالَ: ((اِتَّقِ اللّٰہَ، وَاِذَا کُنْتَ فِیْ مَجْلِسٍ فَقُمْتَ مِنْہُ فَسَمِعْتَھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا یُعْجِبُکَ فَاْتِہِ، وَاِذَا سَمِعْتَھُمْیَقُوْلُوْنَ مَاتَکْرَہُ فَاتْرُکْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۲۷)
۔ سیدنا حرملہ عنبری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور جب تو کسی مجلس میں بیٹھا ہوا ہو اور پھر ا س سے اٹھنے لگے، لیکن جب تو سنے کہ وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں جو تجھے پسند ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھا رہ، اور جب تو ان کو ایسی باتیں کرتے ہوئے سنے، جو تجھے ناپسند ہوں تو اس مجلس کو چھوڑ دے۔
Takhreej
(۹۵۱۱) تخریج:حدیث حسن، أخرجہ الطیالسی: ۱۲۰۶، ۱۲۰۷، والطبرانی فی الکبیر : ۳۴۷۶(انظر: ۱۸۷۲۰)
Explanation
فوائد:… خیر والی مجلس سے بلا عذر نہیں اٹھنا چاہیے تاکہ آدمی اس مجلس میں بیٹھے رہنے کے اجر و ثواب سے محروم نہ ہو، بیان کرنے والے اور شرکت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو اور دوسرے لوگوں میں بھی اٹھ جانے کی ترغیب پیدا نہ ہو۔ شرّ والی مجلس میں نہ بیٹھنے کا حکم تو واضح ہے۔
9511
Sahih
۔ (۹۵۱۲)۔ عَنِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ، قَالَ: مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا جَاِلسٌ ھٰکَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ یَدِیْ الْیُسْرٰی خَلْفَ ظَھْرِیْ وَاتَّکَاْتُ عَلٰی اَلْیَۃِیَدِیْ، فَقَالَ: ((اَتَقْعُدُ قِعْدَۃَ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۸۳)
۔ سیدنا شرید بن سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے، جبکہ میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے پیٹھ کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور میں نے اپنے ہاتھ کے نرم حصے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو ان لوگوں کی طرح بیٹھک بیٹھتا ہے، جن پر غضب کیا گیا۔
Takhreej
(۹۵۱۲) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۴۸۴۸ (انظر: ۱۹۴۵۴)
Explanation
فوائد:… کمر کے پیچھے زمین پر ہاتھ کی ٹیک لگا کر بیٹھنا مکروہ ہے۔ جن لوگوں پر غضب ہوا، ان سے مراد عام کافر اور فاجر ہیں، جو اپنی اٹھک بیٹھک اور چلن پھرن میں تکبر اور عجب پسندی کو اختیار کرتے ہیں، سورۂ فاتحہ میں {اَلْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ} سے مراد یہودی ہیں۔
9512
Sahih
۔ (۹۵۱۳)۔ عَنْ جَابِرٍ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلَتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہِ، فَرَاَیْتُہُ مُتَّکِئًا عَلٰی وِسَادَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۸۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔
Takhreej
(۹۵۱۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۱۴۳، والترمزی: ۲۷۷۱ (انظر: ۲۰۹۷۵)
9513
Sahih
۔ (۹۵۱۴)۔ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا جَلَسَ (أَوْ اِذَا اسْتَلَقٰی) اَحَدُکُمْ فَـلَا یَضَعْ رِجْلَیْہِ اِحْدَاھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۴۷)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی چت لیٹے تو وہ ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر نہ رکھے۔
Takhreej
(۹۵۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۹۹ (انظر: ۱۴۱۹۸)
Explanation
فوائد:… دیکھیں حدیث نمبر (۹۵۱۶)
9514
Sahih
۔ (۹۵۱۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نَعْتَدِلَ فِی الْجُلُوْسِ، وَاَنْ لَّانَسْتَوْفِزَ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۷۲)
۔ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اعتدال سے بیٹھیں اور جلدی نہ کریں۔
Takhreej
(۹۵۱۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۶۸۸۴، والحاکم: ۱/ ۲۷۱(انظر: ۲۰۱۱۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا تعلق نماز سے ہے، جیسا کہ دوسری احادیث میں نماز میں اعتدال اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
9515
Sahih
۔ (۹۵۱۶)۔ (عَنْ اَبِی النَّضْرِ) اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ کَانَیَشْتَکِیْ رِجْلَیْہِ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ اَخُوْہُ وَقَدْ جَعَلَ اِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلَی الْاُخْرَی وَھُوَ مُضْطَجِعٌ، فَضَرَبَہُ بِیَدِہِ عَلٰی رِجْلِہِ الْوَجِیْعَۃِ فَاَوْجَعَہُ، فَقَالَ: اَوْجَعْتَنِیْ، اَوَ لَمْ تَعْلَمْ اَنَّ رِجْلِیْ وَجِعَۃٌ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَمَا حَمَلَکَ عَلٰی ذٰلِکَ؟ قَالَ: اَوَلَمْ تَسْمَعْ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَھٰی عَنْ ھٰذِہِ (مسند احمد: ۱۱۳۹۵)
۔ ابو نضر کہتے ہیں: سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک ٹانگ میں کوئی تکلیف تھی، انھوں نے لیٹ کر ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ان کا بھائی ان کے پاس آیا اور ان کی تکلیف زدہ ٹانگ پر ان کو مارا، جس سے ان کو تکلیف ہوئی، پس انھوں نے کہا: تو نے مجھے تکلیف دی ہے، کیا تو نہیں جانتا کہ میری ٹانگ میں تکلیف ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: اچھا تو ایسے کیا کیوں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو نے سنا نہیں ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھنے سے منع کیا ہے۔
Takhreej
(۹۵۱۶) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، أخرجہ بنحوہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۸(انظر: ۱۱۳۷۵)
Explanation
فوائد:… ٹانگ پر ٹانگ رکھنا اس وقت منع ہے، جب بے پردگی ہو رہی ہو، یا اس کا واضح طور پر خطرہ ہو، ان احادیث میں اسی صورت سے منع کیا گیا ہے۔ جب بے پردگی کا خطرہ نہ ہو تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود چت لیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ لیاکرتے تھے۔
9516
Sahih