TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10047 - عورتوں کی مذمت کا بیان - تعریف اور مذمت کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 7 in this chapter
عورتوں کی مذمت کا بیان
۔ (۱۰۰۴۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِطَّلَعْتُ فِیْ النَّارِ فَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَائَ، وَاطَّلَعْتُ فِیْ الْجَنَّۃِ فَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا الْفُقَرَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۹۲)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم میں جھانکا اور دیکھا کہ اس کی اکثریت عورتوں پر مشتمل تھی اور پھر میں نے جنت میں جھانکا اور دیکھا کہ اس میں فقیر لوگوں کی اکثریت تھی۔
10047
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۰۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۹۸، ۶۵۴۶ (انظر: ۱۹۸۵۲)

Related Chapters

253
1
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
2
Chapter: About The Women Going Out For The Two Eid
باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: (What Has Been Related) About Women Going Out To The Masjid
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: About Prayer In A Woman's Cover Being Disliked
باب: عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Severity Of Neglecting Hajj
باب: حج ترک کرنے کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Weak Departing Early From Jam During The Night
باب: مزدلفہ سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو رات ہی میں بھیج دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For Women To Shave
باب: عورتوں کے بال مونڈانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Women's Dowries
باب: عورتوں کی مہر کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What has been mentioned about it being disliked to enter women in their behinds
باب: عورتوں کی دبر میں صحبت کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What has been related about it being disliked for women to go out while wearing their adornments
باب: بناؤ سنگار کر کے عورتوں کے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: The warning about that due to the Shaitan flowing (through the body) like the flow of blood
باب: غیر محرم عورتوں سے خلوت کی حرمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
14
Chapter: The Shaitan seeks to tempt the woman when she goes out
باب: عورتوں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What has been related about the women who seek a Khul'
باب: خلع لینے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What has been related about treating women kindly
باب: عورتوں کی خاطر داری کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Have Intercourse With Pregnant Female Prisoners
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Women Going Out For War
باب: جنگ میں عورتوں کے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Women's Pledge
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About (Dragging) Women's Hems
باب: عورتوں کے دامن لٹکانے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Hatred
باب: آپس میں بغض رکھنے کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Stinginess
باب: بخیل کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Al-Fuhsh(Obscenity) [And At-Tafahhush(Uttering Obscenities)]
باب: بےحیائی اور بد زبانی کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Vilification
باب: گالی گلوچ کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Verbally Abusing The Muslim Is Disobedience, And Fighting Him Is Disbelief
باب: گالی گلوچ کی مذمت سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Arguing
باب: تکرار کرنے اور لڑائی جھگڑے کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: ولاء میں سے عورتوں کی میراث کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
باب: جنتیوں کی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: جہنم میں اکثریت عورتوں کی ہو گی
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Concealing Knowledge
باب: علم چھپانے کی مذمت
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam to Women
باب: عورتوں کو سلام کرنا
Jam e Tirmazi
34
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
35
باب: عورتوں کے فتنے سے بچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
باب: مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
37
بَاب الْإِنْفَاق وكراهية الْإِمْسَاك
سخاوت کی فضیلت اور بخل کی مذمت کا بیان
Mishkat
38
بغیر ضرورت کے علم کے بارے میں کثرت ِ سوال کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
39
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
40
وسوسے کی مذمت اور وضو کے پانی میں اسراف کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
41
نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
42
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
عورتوں کو مسجد میں جانے کے لیے اجازت کا بیان
Musnad Ahmad
44
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
45
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
46
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
Musnad Ahmad
47
مردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کے کھڑے ہونے کے مقام کا بیان
Musnad Ahmad
48
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
49
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
نماز کسوف کی طوالت اور اس نماز کے لیے عورتوں کی مسجد میں جماعت کے لیے حاضری کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

10
Musnad Ahmad
8508
۔ (۸۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی حَفْصَۃَ ابْنَۃِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ: إِنِّی سَائِلُکِ عَنْ أَ مْرٍ وَأَ نَا أَ سْتَحْیِی أَ نْ أَ سْأَ لَکِ عَنْہُ، فَقَالَتْ: لَا تَسْتَحْیِییَا ابْنَ أَ خِی، قَالَ: عَنْ إِتْیَانِ النِّسَائِ فِی أَدْبَارِہِنَّ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِی أُمُّ سَلَمَۃَ أَ نَّ الْأَ نْصَارَ کَانُوْا لَا یُجِبُّونَ النِّسَائَ، وَکَانَتِ الْیَہُودُ تَقُولُ: إِنَّہُ مَنْ جَبَّی امْرَأَ تَہُ کَانَ وَلَدُہُ أَ حْوَلَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُونَ الْمَدِینَۃَ، نَکَحُوْا فِی نِسَائِ الْأَ نْصَارِ فَجَبُّوہُنَّ فَأَ بَتْ امْرَأَۃٌ أَ نْ تُطِیعَ زَوْجَہَا، فَقَالَتْ لِزَوْجِہَا: لَنْ تَفْعَلَ ذٰلِکَ حَتّٰی آتِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَدَخَلَتْ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہَا، فَقَالَتْ: اِجْلِسِی حَتّٰییَأْتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَحْیَتِ الْأَ نْصَارِیَّۃُ أَ نْ تَسْأَ لَہُ فَخَرَجَتْ، فَحَدَّثَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُدْعِی الْأَ نْصَارِیَّۃَ۔)) فَدُعِیَتْ فَتَلَا عَلَیْہَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَنّٰی شِئْتُمْ} صِمَامًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۲۷۱۳۶)
۔ عبدالرحمن بن سابط کہتے ہیں: میں سیدنا حفصہ بنت عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا اور کہا: میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، لیکن حیاء مانع ہے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے شرم مت کیجئے، میں نے کہا، عورتوں کے ساتھ ان کی دبر کی طرف سے جماع کرنے کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا:سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بیان کیا کہ انصاری لوگ جماع کے دوران عورتوں کو اوندھے منہ نہیں لٹاتے تھے، کیونکہیہودیوں کا کہنا تھا کہ عورت کو اوندھا کر کے جماع کیا جائے تو اس سے بھینگا بچہ پیدا ہوتا ہے، جب مہاجرین مدینہ میں آئے اور انہوں نے انصار کی عورتوں سے شادیاں کیں اوران کو اوندھا کر کے جماع کرنا چاہا تو آگے سے ایک انصاری عورت نے اپنے خاوند کییہ بات ماننے سے انکار کر ددیا اور کہا:تم ایسا ہر گز نہ کر سکو گے، جب تک کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں پوچھ نہ لوں۔ پس وہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس بات کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: بیٹھ جائو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تشریف آوری تک اِدھر ہی ٹھہرو، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو انصاری عورت آپ سے پوچھنے سے شرما گئی اور باہر نکل گئی، جب سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس انصاری خاتون کو بلائو۔ پس جب اس کو بلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر یہ آیت تلاوت کی : {نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ}(سورۂ بقرہ: ۲۲۳) … تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھتیوں میں جس طرح چاہو آؤ۔ لیکن سوراخ ایک ہی استعمال کرنا چاہیے۔
Musnad Ahmad
8905
۔ (۸۹۰۵)۔ حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَمُغِیْرَۃَ الضَّبِّیِّ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: زَوَّجَنِیْ اَبِیْ امْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیَّ جَعَلْتُ لَا اَنْحَاشُ لَھَا عَمَّا بِیْ مِنَ الْقُوَّۃِ عَلَی الْعِبَادَۃِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلاۃِ، فَجَائَ عَمْرُوبْنُ الْعَاصِ اِلٰی کَنَّتِہِ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْھَا، فَقَالَ لَھَا: کَیْفَ وَجَدْتِّ بَعْلَکِ؟ قَالَتْ: خَیْرُ الرِّجَالِ، اَوْ کَخَیْرِ الْبُعُوْلَۃِ، مِنْ رَجُلٍ، لَمْ یُفَتِّشْ لَنَا کَنَفًا، وَلَمْ یَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا، فَاَقْبَلَ عَلَیَّ، فَعَذَمَنِیْ، وَعَضَّنِیْ بِلِسَانِہٖ،فَقَالَ: اَنْکَحْتُکَامْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَھَا، وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ! ثُمَّ انْطَلَقَ اِلَّی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَانِیْ، فَاَرْسَلَ اِلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتَیْتُہُ، فَقَالَ لِیْ: ((اَتَصُوْمُ النَّھَارَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّیْ وَاَنَامُ، وَاَمَسُّ النِّسَائَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔)) قَالَ: ((اقْرَاِ الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ عَشَرَۃِ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ اَحَدُھُمَا اِمَّا حُصِیْنٌ وَاِمَّا مُغِیْرَۃُ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ ثَلاثٍ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ سَبْعٍ لَا تُزِیْدَنَّ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: (( صُمْ فِیْ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمْ یَزَلْیَرْفَعُنِیْ، حَتّٰی قَالَ: ((صُمْ یَوْمًا وَاَفْطِرْ یَوْمًا فَاِنَّہُ اَفْضَلُ الصِّیَامِ، وَھُوَ صِیَامُ اَخِیْ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالَ: حُصَیْنٌ فِیْ حَدِیْثِہِ ثُمَّ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( فَاِنَّ لِکُلِّ عَابِدٍ شِرَّۃً، وَلِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃٌ، فَاِمَّا اِلٰی سُنَّۃٍ، وَاِمَّا اِلٰی بِدْعَۃٍ، فَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی سُنَّۃٍ فَقَدِ اھْتَدٰی، وَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ فَقَدْ ھَلَکَ۔)) قَالَ مُجَاھِدٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، حَیْثُ قَدْ ضَعُفَ وَکَبِرَ، یَصُوْمُ الْاَیَّامَ کَذٰلِکَ،یَصِلُ بَعْضَھَا اِلٰی بَعْضٍ، لِیَتَقَوّٰی بِذٰلِکَ، ثُمَّ یُفْطِرُ بَعْدَ تِلْکَ الْاَیَّامِ، قَالَ: وَکَانَ یَقْرُاُ فِیْ کِلِّ حِزْبٍ کَذٰلِکَ، یَزِیْدُ اَحْیَانًا، وَیَنْقُصُ اَحْیَانًا، غَیْرَ اَنَّہٗیُوفِی الْعَدَدَ، اِمَّا فِیْ سَبْعٍ، وَاِمَّا فِیْ ثَلاثٍ، قَالَ: ثُمَّ کَانَ یَقُوْلُ بَعْدَ ذٰلِکَ: لَاَنْ اَکُوْنَ قَبِلْتُ رُخْصَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا عُدِلَ بِہٖ (اَوْعَدَلَ)،لٰکِنِّیْ فَارَقْتُہُ عَلٰی اَمْرٍ اَکْرَہُ اَنْ اُخَالِفَہُ اِلیٰ غَیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۶۴۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے ایک قریشی عورت سے میری شادی کر دی، جب میں اس پر داخل ہوا تو میں نے اس کا کوئی اہتمام نہ کیا اور نہ اس کو وقت دیا، کیونکہ مجھے روزے اور نماز کی صورت میں عبادت کرنے کی بڑی قوت دی گئی تھی، جب سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تو نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہترین آدمی ہے، یا وہ بہترین خاوند ہے، اس نے نہ میرا پہلو تلاش کیا اور نہ میرے بچھونے کو پہچانا (یعنی وہ عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنی بیوی کے قریب تک نہیں گیا )۔ یہ کچھ سن کر میرا باپ میری طرف متوجہ ہوا اور میری خوب ملامت کی اور مجھے برا بھلا کہا اور کہا: میں نے حسب و نسب والی قریشی خاتون سے تیری شادی کی ہے اور تو اس سے الگ تھلگ ہو گیا اور تو نے ایسے ایسے کیا ہے، پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور حق زوجیت بھی ادا کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایک ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کیا کر۔ میںنے کہا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتاہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو۔ میں نے کہا: جی میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوت والا سمجھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تین دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو سات دنوں میں تلاوت مکمل کر لیا کر اور ہر گز اس سے زیادہ تلاوت نہ کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: جی میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کر اور ایک دن افطار کر لیا کر، یہ افضل روزے ہیں اور یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہو تی ہے، اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ امام مجاہد کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کمزور اور بوڑھے ہو گئے تو وہ اسی مقدار کے مطابق روزے رکھتے تھے، بسا اوقات چند روزے لگاتار رکھ لیتے، پھر اتنے ہی دن لگاتار افطار کر لیتے، اس سے ان کا مقصد قوت حاصل کرنا ہوتا تھا، اسی طرح کا معاملہ اپنے حزب میں کرتے تھے، کسی رات کو زیادہ حصہ تلاوت کر لیتے اور کسی رات کو کم کر لیتے، البتہ ان کی مقدار وہی ہوتی تھی،یا تو سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیتے،یا تین دنوں میں۔ اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بعد میں کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو وہ مجھے دنیا کی ہر اس چیز سے محبوب ہوتی، جس کا بھی اس سے موازنہ کیا جاتا، لیکن میں عمل کی جس روٹین پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدا ہوا تھا، اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی مخالفت کروں۔
Musnad Ahmad
8925
۔ (۸۹۲۵)۔ وَعَنْہَا اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَیَّ خُوَیْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمِ بْنِ اُمَیَّۃَ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ الْاَوْقَصِ السُّلَمِیِّۃُ، وَکَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ، قَالَتْ: فَرَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَذَاذَۃَ ھَیْئَتِھَا، فَقَالَ لِیْ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَا اَبَذَّ ھَیْئَۃَ خُوَیْلَۃَ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِمْرَاَۃٌ لا زَوْجَ لَھَا، یَصُوْمُ النَّھَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ، فَہِیَ کَمَنْ لَا زَوْجَ لَھَا، فَتَرَکَتْ نَفْسَھَا وَاَضَاعَتْھَا، قَالَتْ: فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ، فَجَائَ ہُ فَقَالَ: ((یَاعُثْمَانُ، اَرَغْبَۃً عَنْ سُنَّتِیْ؟)) قَالَ: فَقَالَ: لا، وَاللّٰہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلٰکِنْ سُنَّتَکَ اَطْلُبُ، قَالَ: ((فَاِنِّیْ اَنَامُ وَاُصَلِّیْ، وَاَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاَنْکِحُ النِّسَائَ، فَاتَّقِ اللّٰہَ یَاعُثْمَانُ! فَاِنَّ لِاَھْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، فَصُمْ وَاَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدہ خویلہ بنت حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میرے پاس آئیں، وہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی پراگندہ حالت دیکھی تو فرمایا: عائشہ! کس چیز نے خویلہ کی حالت کو اتنا بگاڑ دیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس عورت کا کوئی خاوند نہیں، اس بات کی تفصیلیہ ہے کہ اس کا خاوند دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نماز پڑھتا ہے اور (اپنی بیوی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا) تو یہ ایسی ہی ہو گئی کہ ا س کا کوئی خاوند ہی نہیں ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کو چھوڑ دیا ہے اور اس کو ضائع کر دیا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا، پس جب وہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عثمان! کیا میری سنت سے اعراض کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلکہ میں آپ کی سنت کا ہی طلبگار ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ اے عثمان! اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس بیشک تجھ پر تیرے اہل کا بھی حق ہے، اس لیے روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور سویا بھی کر۔
Musnad Ahmad
8927
۔ (۸۹۲۷)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنْ نَفَرًا مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَعْضُھُمْ: لَا اَتَزَوَّجُ ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: اُصَلِّیْ وَلَا اَنَامُ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ: اَصُوْمُ وَلَا اُفْطِرُ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ:((مَا بَالُ اَقْوَامٍ قَالُوْا کَذَا وَکَذَا، لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّیْ وَاَنَامُ، وَاَتَزَوَّجُ النِّسَائَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۶۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام کا ایک گروہ آیا، ان میں سے کسی نے کہا: میں شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا: میں نماز پڑھوں گا اور سوؤں گا نہیں، کسی نے کہا: میں روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
9237
۔ (۹۲۳۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ: یَاابْنَ آدَمَ، حَمَلْتُکَ عَلَی الْخَیْلِ وَالْاِبِلِ، وَزَوَّجْتُکَ النِّسَائَ، وَجَعَلْتُکَ تَرْبَعُ وَتَرْاَسُ، فَاَیْنَ شُکْرُ ذٰلِکَ؟)) (مسند احمد: ۱۰۳۸۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑے اور اونٹ پر سوار کیا اور عورتوں سے تیری شادی کروائی، پھر تجھے ایسا بنا دیا کہ تو خوشحال ہوا اور بلند رتبے والا بنا، پس اب ان چیزوں کا شکر کہاں ہے؟
Musnad Ahmad
10043
۔ (۱۰۰۴۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ الدُّنْیَا فَقَالَ: ((اِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ فَاتَّقُوْھَا وَاتَّقُوْا النِّسَائَ، ثُمَّ ذَکَرَ نِسْوَۃً ثَلَاثًا مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ امْرَاَتَیْنِ طَوَیْلَتَیْنِتُعْرَفَانِ وَاِمْرَاَۃٌ قَصِیْرَۃٌ لَا تُعْرَفُ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَیْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْہُ مِنْ اَطْیَبِ الطِّیْبِ الْمِسْکِ، وَجَعَلَتْ لَہُ غَلَقًا، فَاِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَائِ اَوِ الْمَجْلِسِ قَالَتْ بِہٖفَفَتَحَتْہُفَفَاحَرِیْحُہُ، قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِہِ الْیُسْرٰی فَاَشْخَصَھَا دُوْنَ اَصَابِعِہِ الثَّلَاثِ شَیْئًا وَقَبَضَ الثَّلَاثَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۴۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا کا ذکر کیا اور فرمایا: بیشک دنیا سرسبز وشاداب (پرکشش) اور میٹھی ہے، پس تم اس سے بھی بچو اور عورتوں سے بھی بچو، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل میں تین عورتیں تھیں، دو کو دراز قد ہونے کی وجہ سے پہچان لیا جاتا تھا اور ایک کو کوتاہ قد ہونے کی وجہ سے نہیں پہچانا جاتا تھا، پس اس نے کھڑاؤں (لکڑی کے جوتے) بنوا لیے اور ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں سب سے بہترین خوشبو کستوری بھری اور اس کا ایک ڈھکن بنوایا، پھر جب وہ کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو ڈھکن کو کھولتی، پس خوشبو پھیل جاتی تھی۔ مستمر راوی نے کہا کہ وہ انگوٹھی اس بائیں چھنگلی انگلی میں ہوتی، پس وہ اس کو باقی تین انگلیوں کی طرف جھکاتی اور باقی تینوں کو بند کر لیتی۔
Musnad Ahmad
10051
۔ (۱۰۰۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ شَھِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَاہُ بَشِیْرٌیُبَشِّرُہُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَہُ عَلٰی عَدُوِّھِمْ، وَرَاْسُہُ فِیْ حِجْرِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا، فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ اَنْشَاَ یُسَائِلُ الْبَشِیْرَ، فَاَخْبَرَہُ فِیْمَا اَخْبَرَہُ اَنَّہُ وَلِیَ اَمْرَھُمُ امْرَاَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْآنَ ھَلَــکَتِ الرِّجَالُ اِذَا اَطَاعَتِ النِّسَائَ، ھَلَـکَتِ الرِّجَالُ اِذَا اَطَاعَتِ النِّسَائَ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۹)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ خوشخبری دینے والا ایک آدمییہ خوشخبری دینے کے لیے آیا کہ وہ دشمن پر کامیاب ہو گئے ہیں، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی گودی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، سجدہ کیا اور پھر خوشخبری دینے والے سے سوال جواب کرنے لگے، اس نے ایک بات یہ بھی بتلائی کہ اُن لوگوں کی ذمہ دار خاتون تھی، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے، اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے۔ تین بار ارشاد فرمایا۔
Musnad Ahmad
11086
۔ (۱۱۰۸۶)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَۃً بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَی مُغَیْرِبَانِ الشَّمْسِ، حَفِظَہَا مِنَّا مَنْ حَفِظَہَا، وَنَسِیَہَا مِنَّا مَنْ نَسِیَہَا، فَحَمِدَ اللّٰہَ، قَالَ عَفَّانُ: وَقَالَ حَمَّادٌ: وَأَکْثَرُ حِفْظِی أَنَّہُ قَالَ بِمَا ہُوَ کَائِنٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّ الدُّنْیَا خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ، وَإِنَّ اللّٰہَ مُسْتَخْلِفُکُمْ فِیہَا فَنَاظِرٌ کَیْفَ تَعْمَلُونَ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْیَا وَاتَّقُوا النِّسَائَ، أَلَا إِنَّ بَنِی آدَمَ خُلِقُوا عَلٰی طَبَقَاتٍ شَتّٰی، مِنْہُمْ مَنْ یُولَدُ مُؤْمِنًا وَیَحْیَا مُؤْمِنًا وَیَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْہُمْ مَنْ یُولَدُ کَافِرًا وَیَحْیَا کَافِرًا وَیَمُوتُ کَافِرًا، وَمِنْہُمْ مَنْ یُولَدُ مُؤْمِنًا وَیَحْیَا مُؤْمِنًا وَیَمُوتُ کَافِرًا، وَمِنْہُمْ مَنْ یُولَدُ کَافِرًا وَیَحْیَا کَافِرًا وَیَمُوتُ مُؤْمِنًا، أَلَا إِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَۃٌ تُوقَدُ فِی جَوْفِ ابْنِ آدَمَ، أَلَا تَرَوْنَ إِلٰی حُمْرَۃِ عَیْنَیْہِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِہِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ فَالْأَرْضَ الْأَرْضَ، أَلَا إِنَّ خَیْرَ الرِّجَالِ مَنْ کَانَ بَطِیئَ الْغَضَبِ سَرِیعَ الرِّضَا، وَشَرَّ الرِّجَالِ مَنْ کَانَ سَرِیعَ الْغَضَبِ بَطِیئَ الرِّضَا، فَإِذَا کَانَ الرَّجُلُ بَطِیئَ الْغَضَبِ بَطِیئَ الْفَیْئِ، وَسَرِیعَ الْغَضَبِ وَسَرِیعَ الْفَیْئِ فَإِنَّہَا بِہَا، أَلَا إِنَّ خَیْرَ التُّجَّارِ مَنْ کَانَ حَسَنَ الْقَضَائِ حَسَنَ الطَّلَبََََِ، وَشَرَّ التُّجَّارِ مَنْ کَانَ سَیِّئَ الْقَضَائِ سَیِّئَ الطَّلَبِ، فَإِذَا کَانَ الرَّجُلُ حَسَنَ الْقَضَائِ سَیِّئَ الطَّلَبِ أَوْ کَانَ سَیِّئَ الْقَضَائِ حَسَنَ الطَّلَبِ فَإِنَّہَا بِہَا، أَلَا إِنَّ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقَدْرِ غَدْرَتِہِ، أَلَا وَأَکْبَرُ الْغَدْرِ غَدْرُ أَمِیرِ عَامَّۃٍ، أَلَا لَا یَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَہَابَۃُ النَّاسِ أَنْ یَتَکَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا عَلِمَہُ، أَلَا إِنَّ أَفْضَلَ الْجِہَادِ کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ۔)) فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ مُغَیْرِبَانِ الشَّمْسِ قَالَ: ((أَلَا إِنَّ مِثْلَ مَا بَقِیَ مِنَ الدُّنْیَا فِیمَا مَضٰی مِنْہَا مِثْلُ مَا بَقِیَ مِنْ یَوْمِکُمْ ہٰذَا فِیمَا مَضٰی مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۶۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں عصر کے بعد غروب آفتاب کے قریب تک خطبہ ارشاد فرمایا، ہم میں سے کسی نے اسے یاد رکھا اور کسی نے اسے بھلا دیا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خطبہ میں قیامت تک رونما ہونے والے اہم اہم امور کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دنیا سر سبز یعنی خوش نما، میٹھی اور دل پسند ہے، اللہ اس دنیا میں تمہیں ایک دوسرے کا خلیفہ بناتا ہے، یعنی ایک نسل جاتی ہے تو دوسری نسل اس کی جگہ آجاتی ہے، وہ دیکھتا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو؟ خبردار! تم دنیا کو جمع کرنے سے اور عورتوں کے ساتھ زیادہ دل لگانے سے بچو۔ خبردار ! اولاد آدم کو مختلف طبقات میں پیدا کیا گیا ہے، ان میں سے بعض ایمان کی حالت میں پیدا ہوتے ہیں، ایمان کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں اور ایما ن کی حالت ہی میں انہیں موت آتی ہے اور بعض کفر کی حالت میں پیدا ہوتے، کفر کی حالت میں زندگی گزارتے اور کفر پر ہی ان کو موت آتی ہے۔ اور ان میں سے بعض کفر کی حالت میں پیدا ہوتے، کفر پر زندگی گزارتے ہیں اور ان کو موت ایمان پر آتی ہے۔ اور ان میں سے بعض ایمان کی حالت میں پیدا ہوتے، ایمان پر زندگی گزارتے ہیں اور ان کو موت کفر پر آتی ہے۔ خبردار! غصہ ایک انگار اہے، جو انسان کے پیٹ میں جلتا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ غصے کے وقت آدمی کی آنکھیں سرخ اور رگیں پھول جاتی ہیں، جب تم میں سے کسی پر ایسی کیفیت طاری ہو تو وہ زمین پر لیٹ جائے۔ خبردار! لوگوں میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جسے غصہ دیر سے آئے اور وہ جلد راضی ہو جائے اور بدترین آدمی وہ ہے جسے غصہ جلد آئے اور دیر سے ختم ہو اور جس آدمی کو دیر سے غصہ آئے اور دیر سے ختم ہو یا جسے جلد غصہ آئے اور جلد ختم ہو جائے تو یہ صفات ایک دوسری کے بالمقابل ہیںیعنی اچھی صفت بری صفت کی برائی کا ازالہ کر دیتی ہے۔ تاجروں میں سے اچھا وہ ہے ادائیگی اچھی طرح کرے اور اپنے حق کا مطالبہ بھی اچھی طرح کرے۔ اور بدترین تاجر وہ ہے جس کا ادائیگی کا انداز بھی بھونڈا اور اپنے حق کا مطالبہ بھی بھونڈے انداز سے کرے۔ اور جو کوئی ادائیگی اچھی کرے اور مطالبہ کا انداز غلط ہو یا ادائیگی کا انداز برا اور مطالبہ کا انداز اچھا ہو تو اچھی صفت بری صفت کی تلافی کر دیتی ہے۔ خبردار! ہر دھوکہ باز کے لیے قیامت کے دن بطورِ علامت ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، اس کا دھوکہ جس قدر ہو گا اس کا جھنڈا بھی اسی حساب سے بلند ہو گا سب سے بڑا دھوکا عام لوگوں کے حاکم کا ہوتا ہے۔ خبردار!جو کوئی حق بات کو جانتا ہو اسے لوگوں کا ڈر حق بات کے کہنے سے نہیں روکے۔ خبردار! یاد رکھو کہ ظالم حکم ران کے سامنے کلمۂ حق کہنا افضل جہاد ہے۔ اور جب سورج غروب ہونے کے قریب پہنچا تو فرمایا گزری ہوئی مدتِ دنیا اور باقی مدت دنیا کی مثال ایسے ہی ہے جیسے گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں دن کاباقی حصہ۔
Musnad Ahmad
11812
۔ (۱۱۸۱۲)۔ حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَمُغِیْرَۃَ الضَّبِّیِّ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: زَوَّجَنِیْ اَبِیْ امْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیَّ جَعَلْتُ لَا اَنْحَاشُ لَھَا عَمَّا بِیْ مِنَ الْقُوَّۃِ عَلَی الْعِبَادَۃِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلاۃِ، فَجَائَ عَمْرُوبْنُ الْعَاصِ اِلٰی کَنَّتِہِ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْھَا، فَقَالَ لَھَا: کَیْفَ وَجَدْتِّ بَعْلَکِ؟ قَالَتْ: خَیْرُ الرِّجَالِ، اَوْ کَخَیْرِ الْبُعُوْلَۃِ، مِنْ رَجُلٍ، لَمْ یُفَتِّشْ لَنَا کَنَفًا، وَلَمْ یَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا، فَاَقْبَلَ عَلَیَّ، فَعَذَمَنِیْ، وَعَضَّنِیْ بِلِسَانِہٖ، فَقَالَ: اَنْکَحْتُکَ امْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَھَا، وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ! ثُمَّ انْطَلَقَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَانِیْ، فَاَرْسَلَ اِلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتَیْتُہُ، فَقَالَ لِیْ: ((اَتَصُوْمُ النَّھَارَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّیْ وَاَنَامُ، وَاَمَسُّ النِّسَائَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔)) قَالَ: ((اقْرَاِ الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ عَشَرَۃِ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ اَحَدُھُمَا اَمَّا حُصِیْنٌ وَاَمَّا مُغِیْرَۃُ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ ثَلاثٍ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِیْدَنَّ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: (( صُمْ فِیْ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمْ یَزَلْ یَرْفَعُنِیْ، حَتّٰی قَالَ: ((صُمْ یَوْمًا وَاَفْطِرْ یَوْمًا فَاِنَّہُ اَفْضَلُ الصَّیَامِ، وَھُوَ صِیَامُ اَخَیْ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالَ: حُصَیْنٌ فِیْ حَدَیْثِہِ ثُمَّ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( فَاِنَّ لِکُلِّ عَابِدٍ شِرَّۃً، وَلِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃٌ، فَاِمَّا اِلٰی سُنَّۃٍ، وَاِمَّا اِلٰی بِدْعَۃٍ، فَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی سُنَّۃٍ فَقَدِ اھْتَدٰی، وَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ فَقَدْ ھَلَکَ۔)) قَالَ مُجَاھِدٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، حَیْثُ قَدْ ضَعُفَ وَکَبِرَ، یَصُوْمُ الْاَیَّامَ کَذٰلِکَ، یَصِلُ بَعْضَھَا اِلٰی بَعْضٍ، لِیَتَقَوّٰی بِذٰلِکَ، ثُمَّ یُفْطِرُ بَعْدَ تِلْکَ الْاَیَّامِ، قَالَ: وَکَانَ یَقْرُاُ فِیْ کِلِّ حِزْبٍ کَذٰلِکَ، یَزِیْدُ اَحْیَانًا، وَیَنْقُصُ اَحْیَانًا، غَیْرَ اَنَّہٗ یُوفِی الْعَدَدَ، اِمَّا فِیْ سَبْعٍ، وَاِمَّا فِیْ ثَلاثٍ، قَالَ: ثُمَّ کَانَ یَقُوْلُ بَعْدَ ذٰلِکَ: لَاَنْ اَکُوْنَ قَبِلْتُ رُخْصَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا عُدِلَ بِہٖ (اَوْ عَدَلَ)، لٰکِنِّیْ فَارَقْتُہُ عَلٰی اَمْرٍ اَکْرَہُ اَنْ اُخَالِفَہُ اِلیٰ غَیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۶۴۷۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے ایک قریشی عورت سے میری شادی کر ! جو چیز آدمی کے پاس نہ ہو اس کو بیچنا جائز نہیں۔ اسی طرح کچے پھل کی بیع بھی درست نہیں البتہ بیع سلم میں معاملہ طے کرتے وقت بائع کے پاس چیز کا موجود ہونا شرط نہیں امام بخاری نے اس حوالہ سے باب قائم کیا ہے۔ تفصیل دیکھیں، صحیح بخاری: ۲۲۴۴ اور اس کا باب۔ (عبداللہ رفیق) دی، جب میں اس پر داخل ہوا تو میں نے اس کا کوئی اہتمام نہ کیا اور نہ اس کو وقت دیا، کیونکہ مجھے روزے اور نماز کی صورت میں عبادت کرنے کی بڑی قوت دی گئی تھی، جب سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تو نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہترین آدمی ہے، یا وہ بہترین خاوند ہے، اس نے نہ میرا پہلو تلاش کیا اور نہ میرے بچھونے کو پہچانا (یعنی وہ عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنی بیوی کے قریب تک نہیں گیا )۔ یہ کچھ سن کر میرا باپ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھے بہت ملامت کی اور برا بھلا کہا اور کہا: میں نے حسب و نسب والی قریشی خاتون سے تیری شادی کی ہے اور تو اس سے الگ تھلگ ہو گیا اور تو نے ایسے ایسے کیا ہے، پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور حق زوجیت بھی ادا کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایک ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کیا کر۔ میںنے کہا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتاہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو۔ میں نے کہا: جی میںاپنے آپ کو اس سے زیادہ قوت والا سمجھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تین دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو سات دنوں میں تلاوت مکمل کر لیا کر اور ہر گز اس سے زیادہ تلاوت نہ کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: جی میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کر اور ایک دن افطار کر لیا کر، یہ افضل روزے ہیں اور یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہو تی ہے، اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ امام مجاہد کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کمزور اور بوڑھے ہو گئے تو وہ اسی مقدار کے مطابق روزے رکھتے تھے، بسا اوقات چند روزے لگاتار رکھ لیتے، پھر اتنے ہی دن لگاتار افطار کر لیتے، اس سے ان کا مقصد قوت حاصل کرنا ہوتا تھا، اسی طرح کا معاملہ اپنے قرآنی حزب میں کرتے تھے، کسی رات کو زیادہ حصہ تلاوت کر لیتے اور کسی رات کو کم کر لیتے، البتہ ان کی مقدار وہی ہوتی تھی،یا تو سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیتے،یا تین دنوں میں۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بعد میں کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو وہ مجھے دنیا کی ہر اس چیز سے محبوب ہوتی، جس کا بھی اس سے موازنہ کیا جاتا، لیکن میں عمل کی جس روٹین پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدا ہوا تھا، اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی مخالفت کروں۔