TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10955 - سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قیادت میں حج کی ادائیگی اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اہلِ مکہ کی طرف اعلانِ براء ت کے لیے روانہ کئے جانے کا بیان - سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قیادت میں حج کی ادائیگی اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اہلِ مکہ کی طرف اعلانِ براء ت کے لیے روانہ کئے جانے کا بیان
۔ (۱۰۹۵۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آیَاتٍ مِنْ بَرَائَ ۃٍ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَبَعَثَہُ بِہَا لِیَقْرَأَہَا عَلٰی أَہْلِ مَکَّۃَ، ثُمَّ دَعَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی: ((أَدْرِکْ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَحَیْثُمَا لَحِقْتَہُ فَخُذِ الْکِتَابَ مِنْہُ، فَاذْہَبْ بِہِ إِلٰی أَہْلِ مَکَّۃَ فَاقْرَأْہُ عَلَیْہِمْ۔)) فَلَحِقْتُہُ بِالْجُحْفَۃِ فَأَخَذْتُ الْکِتَابَ مِنْہُ، وَرَجَعَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَزَلَ فِیَّ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّ جِبْرِیلَ جَائَ نِیْ فَقَالَ: لَنْ یُؤَدِّیَ عَنْکَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۷)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سورۂ براء ت کی دس آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا کہ وہ مکہ والوں کے سامنے ان کی تلاوت کریں، پھر میں (علی) کو بلایا اور فرمایا: ابو بکر کو جا ملو، جہاں بھی تم ان کو ملو، ان سے یہ پیغام لے لینا اور پھر اہل مکہ کے سامنے جا کر پڑھ دینا۔ پس میں نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حجفہ میں جا ملا اور ان سے خط لے لیا۔ پھر جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹے تو پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، کوئی حکم نہیں ہے، بس جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ پیغامیا تو آپ خود پہنچائیںیا آپ کے خاندان کا کوئی آدمی پہنچائے۔
10955
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۰۹۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف محمد بن جابر الحنفی، وحنش بن المعتمر الکنانی لیس بالقوی (انظر: ۱۲۹۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:…اس اعلان کی درست صورت درج ذیل ہے: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَعَثَنِی أَبُو بَکْرٍ فِی تِلْکَ الْحَجَّۃِ فِی مُؤَذِّنِینَیَوْمَ النَّحْرِ نُؤَذِّنُ بِمِنًی أَنْ لَا یَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفَ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ قَالَ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ثُمَّ أَرْدَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیًّا فَأَمَرَہُ أَنْ یُؤَذِّنَ بِبَرَاء َۃ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِیٌّ فِی أَہْل مِنًییَوْمَ النَّحْرِ لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَان۔)) … سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اس حج میں نحر والے دن اعلان کرنے والوں میں بھیجا، سو ہم نے مِنٰی میں اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی آدمی ننگی حالت میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتا۔ حمید بن عبد الرحمن نے کہا: پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ سورۂ براء ۃ والا اعلان کریں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پس انھوں نے بھی مِنٰی میں نحر والے دن ہمارے ساتھ اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گااور کوئی ننگا آدمی طواف نہیں کرے گا۔ (صحیح بخاری: ۴۶۵۵)

Related Chapters

322
1
بنو فزارہ کی طرف سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سربراہی میں بھیجے گئے دستہ کا بیان
Musnad Ahmad
2
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
3
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
4
صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کا اثر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
5
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
6
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
7
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
8
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
Musnad Ahmad
9
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
Musnad Ahmad
10
فصل: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بد خواہی کے الزام کی براء ت
Musnad Ahmad
11
فصل: حرّہ میں لڑنے والے لشکر کو یزید کا مکہ کی طرف سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنے اور جا کر کعبہ کو جلانے کا بیان
Musnad Ahmad
12
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
Musnad Ahmad
14
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
15
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
Musnad Ahmad
16
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
17
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
18
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
19
حج کے بعض اعمال کے اسباب کا بیان حج کے بعض اعمال کے اسباب سے متعلقہ روایت، جو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ابو طفیل نے روایت کی
Musnad Ahmad
20
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
Musnad Ahmad
21
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
22
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
Musnad Ahmad
23
لعان کے سبب، تہمت والی آیات کی تفسیر، لعان اور سیدنا ہلال بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
24
شراب کے مفاسد اور شراب کی حرمت سے قبل سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو اونٹنیوں کے متعلق واقعہ
Musnad Ahmad
25
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
Musnad Ahmad
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں تالیف قرآن کا بیان
Musnad Ahmad
28
سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
Musnad Ahmad
29
مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے
Musnad Ahmad
30
سورۂ منافقون سورۂ منافقون کے شانِ نزول اور سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کابیان
Musnad Ahmad
31
{لَمْ یَکُنْ…} یعنی سورۃ البینہ کی تفسیر سورۃ البیّنہ کی تفسیر اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
32
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میںسے نہیںہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
33
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
34
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
Musnad Ahmad
35
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
Musnad Ahmad
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
Musnad Ahmad
37
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
Musnad Ahmad
39
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
Musnad Ahmad
40
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
Musnad Ahmad
41
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
Musnad Ahmad
42
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
44
سیدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قبولِ اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
45
سریہ عاصم بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کا بیان
Musnad Ahmad
46
غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
Musnad Ahmad
47
یہود کے پہلوان مرحب یہودی کے قتل اور اس کے قاتل کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وَکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗکی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
48
فتح خیبر کے بعد سیدنا حجاج بن علاط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مکہ مکرمہ جا کر کفار قریش سے حیلہ بازی کر کے اپنا مال حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
Musnad Ahmad
50
کدید کے مقام پر بنو لموح کے ساتھ سیدنا غالب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سریہ کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

2
Musnad Ahmad
8616
۔ (۸۶۱۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آیَاتٍ مِنْ بَرَائَ ۃٍ عَلٰی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، دَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ بَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَبَعَثَہُ بِہَا لِیَقْرَأَ ہَا عَلَی أَ ہْلِ مَکَّۃَ، ثُمَّ دَعَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی: ((أَ دْرِکْ أَ بَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَحَیْثُمَا لَحِقْتَہُ فَخُذِ الْکِتَابَ مِنْہُ، فَاذْہَبْ بِہِ إِلٰی أَ ہْلِ مَکَّۃَ فَاقْرَأْہُ عَلَیْہِمْ۔)) فَلَحِقْتُہُ بِالْجُحْفَۃِ فَأَخَذْتُ الْکِتَابَ مِنْہُ، وَرَجَعَ أَ بُوبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَزَلَ فِیَّشَیْئٌ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّ جِبْرِیلَ جَائَ نِیْ فَقَالَ: لَنْ یُؤَدِّیَ عَنْکَ إِلَّا أَ نْتَ أَ وْ رَجُلٌ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۷)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سورۂ براء ت کی دس آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا کہ وہ مکہ والوں کے سامنے ان کی تلاوت کریں، پھر مجھے (علی کو) کو بلایا اور فرمایا: ابو بکر کو جا ملو، جہاں بھی تم ان کو ملو، ان سے یہ پیغام لے لینا اور پھر اہل مکہ کے سامنے جا کر پڑھ دینا۔ پس میں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حجفہ میں جا ملا اور ان سے خط لے لیا۔ پھر جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹے تو پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، کوئی حکم نہیں ہے، بس جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ پیغامیا تو آپ خود پہنچائیںیا آپ کے خاندان کا کوئی آدمی پہنچائے۔
Musnad Ahmad
10540
۔ (۱۰۵۴۰)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْحٰرِثِ بْنِ ھِشَامٍ الْمَخْزُوْمِیِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ابْنَۃِ أَبِیْ أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمَّا نَزَلْنَا أَرْضَ الْحَبَشَۃَ جَاوَرْنَا بِھَا خَیْرَ جَارِ النَّجَاشِیِّ، أَمِنَّا عَلٰی دِیْنِنَا وَعَبَدْنَا اللّٰہَ لَا نُؤْذَیٰ وَلَا نَسْمَعُ شَیْئًا نَکْرَھُہُ، فَلَمَّا بَلَغَ ذٰلِکَ قُرَیْشًا،اِئْتَمَرُوْا أَنْ یَبْعَثُوْا اِلَی الْنَّجَاشِیِّ فِیْنَا رَجُلَیْنِ جَلْدَیْنِ، وَاَنْ یُھْدُوْا لِلنَّجَاشِیِّ ھَدَایَا مِمَّا یُسْتَطْرَفُ مِنْ مَتَاعِ مَکَّۃَ، وَکَانَ مِنْ أَعْجَبِ مَا یَأْتِیْہِ مِنْھَا اِلَیْہِ الْأَدَمُ، فَجَمَعُوْا لَہُ اَدَمًا کَثِیْرًا، وَلَمْ یَتْرُکُوْا مِنْ بَطَارِقَتِہِ بِطْرِیْقًا اِلَّا أَھْدَوْا لَہُ ھَدِیَّۃً، ثُمَّّ بَعَثُوْا بِذٰلِکَ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْمَخْزُوْمِیِّ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّھَمِیَّ، وَاَمَرُوْھُمَا أَمْرَھُمْ، وَقَالُوْا لَھُمَا: ادْفَعُوْا اِلَی کُلِّ بِطْرِیْقٍ ھَدِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ تُکَلِّمُوْا النَّجَاشِیَّ فِیْھِمْ، ثُمَّّ قَدِّمُوْا لِلنَّجَاشِیِّ ھَدَایَاہُ، ثُمَّّ سَلُوْہُ أَنْ یُسْلِمَھُمْ اِلَیْکُمْ قَبْلَ أَنْ یُکَلِّمَھُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَقَدِمْنَا عَلَی النَّجَاشِیِّ، وَنَحْنُ عِنْدَہُ بِخَیْرِ دَارٍ وَعِنْدَ خَیْرِ جَارٍ، فَلَمْ یَبْقَ مِنْ بَطَارِقَتِہِ بِطْرِیْقٌ اِلَّا دَفْعَا اِلَیْہِ ھَدِیَّتَہُ قَبْلَ أَنْ یُکَلِّمَا النَّجَاشِیَّ، ثُمَّّ قَالَا لِکُلِّ بِطْرِیْقٍ مِنْھُمْ: إِنَّہُ قَدَ صَبَأَ اِلَی بَلَدِ الْمَلَکِ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَھَائُ، وَفَارَقُوْا دِیْنَ قَوْمِھِمْ وَلَمْ یَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَجَاؤُا بِدِیْنٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُہُ نَحْنُ وَلَا أَنْتُمْ، وَقَدْ بَعَثَنَا اِلَی الْمَلِکِ فِیْھِمْ أَشْرَافُ قَوْمِھِمْ لِیَرُدَّھُمْ اِلَیْھِمْ، فَاِذَا کَلَّمْنَا الْمَلِکَ فِیْھِمْ فَتُشِیْرُوْا عَلَیْہِ بِأَنْ یُسْلِمَھُمْ اِلَیْنَا وَلَا یُکَلِّمُھُمْ، فَاِنَّ قَوْمَھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ، فَقَالُوْا لَھُمَا: نَعَمْ، ثُمَّّ اِنَّھُمَا قَرَّبَا ھَدَایَا ھُمْ اِلَی النَّجَاشِیِّ فَقَبِلَھَا مِنْھُمَا، ثُمَّّ کَلَّمَاہُ فَقَالَا لَہُ: أَیُّھَا الْمَلِکُ! اِنَّہُ قَدْ صَبَأَ اِلٰی بَلَدِکَ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفْھَائُ، فَارَقُوْا دِیْنَ قَوْمِھِمْ وَلَمْ یَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِکَ وَجَائُ وْا بِدِیْنٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُہُ نَحْنُ وَلَا أَنْتَ، وَقَدَ بَعَثَنَا اِلَیْکَ فِیْھِمْ أَشْرَافُ قَوْمِھِمْ حَتّٰی آبَاؤِھِمْ وَأَعْمَامِھِمْ وَعَشَائِرِھِمْ لِتَرُدَّھُمْ اِلَیْھِمْ فَھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ وَعَاتَبُوْھُمْ فِیْہِ، قَالَتْ: وَلَمْ یَکُنْ شَیْئٌ أَبْغَضَ اِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ أَنْ یَسْمَعَ النَّجَاشِیُّ کَلَامَھُمْ، فَقَالَتْ بَطَارِقَتُہُ حَوْلَہُ: صَدَقُوْا أَیُّھَا الْمَلِکُ! قَوْمُھُمْ أَعْلٰی بِھِمْ عَیْنًا وَاَعْلَمُ بِمَا عَابُوْا عَلَیْھِمْ، فَأَسْلِمْھُمْ اِلَیْھِمَا فَلْیَرُدَّاھُمْ اِلٰی بِلَادِھِمْ وَقَوْمِھِمْ، قَالَ: فَغَضِبَ النَّجَاشِیّ،ُ ثُمَّّ قَالَ: لَاھَا اللّٰہِ! اَیْمُ اللّٰہِ! اِذًا لَا أُسْلِمُھُمْ اِلَیْھِمَا وَلَا أَکَادُ قَوْمًا جَاوَرُوْنِیْ وَنَزَلُوْا بِلَادِیْ، اِخْتَارُوْنِیْ عَلٰی مَنْ سِوَایَ حَتّٰی أَدْعُوَھُمْ فَأَسْئَلَھُمْ مَایَقُوْلُ ھٰذَانِ فِیْ أَمْرِھِمْ، فَاِنْ کَانُوْا کَمَا یَقُوْلُوْنَ أَسْلَمْتُھُمْ اِلَیْھِمَا وَرَدَدْتُھُمْ اِلٰی قَوْمِھِمْ، وَاِنْ کَانُوْا عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ مَنَعْتُھُمْ مِنْھُمَا وَأَحْسَنْتُ جِوَارَھُمْ مَا جَاوَرُوْنِیْ، قَالَتْ: ثُمَّّ أَرْسَلَ اِلَی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَاھُمْ، فَلَمَّا جَائَ ھُمْ رَسُوْلُہُ اجْتَمَعُوْا، ثُمَّّ قَالَ بَعْضُھْمُ لِبَعْضٍ: مَاتَقُوْلُوْنَ لِلرَجُلٍ اِذَا جِئْتُمُوْہُ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ وَاللّٰہِ! مَا عَلِمْنَا، وَمَا أَمَرَنَا بِہٖنَبِیُّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَائِنٌ فِیْ ذٰلِکَ مَاھُوْ کَائِنٌ، فَلَمَّا جَائُ وْہُ وَقَدْ دَعَا النَّجَاشِیُّ اَسَاقِفَتَہُ فَنَشَرُوْا مَصَاحِفَھُمْ حَوْلَہُ سَأَلَھُمْ فَقَالَ: مَا ھٰذَا الدِّیْنُ الَّذِیْ فَارَقْتُمْ فِیْہِ قَوْمَکُمْ وَلَمْ تَدْخُلُوْا فِیْ دِیْنِیْ وَلَا فِیْ دِیْنِ أَحَدٍ مِنْ ھٰذِہِ الْأُمُمِ؟ قَالَتْ: فَکَانَ الَّذِیْ کَلَّمَہُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ فَقَالَ لَہُ: أَیُّھَا الْمَلِکُ! کُنَّا قَوْمًا أَھْلَ جَاھِلِیَّۃٍ، نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ، وَنَأکُلُ الْمَیْتَۃَ، وَنَأْتِی الْفَوَاحِشَ، وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ، وَنُسِیْیئُ الْجِوَارَ، یَأْکُلُ الْقَوِیُّ مِنَّا الضَّعِیْفَ، فَکُنَّا عَلٰی ذٰلِکَ حَتّٰی بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْنَا رَسُوْلًا مِنَّا، نَعْرِفُ نَسَبَہُ وَصِدْقَہُ، وَأَمَانَتَہُ وَعِفَافَہُ، فَدَعَانَا اِلَی اللّٰہِ لِنُوَحِّدَہُ وَنَعْبُدَہُ وَنَخْلَعَ مَا کُنَّا نَحْنُ نَعْبُدُ وَأَبَاؤُنَا مِنْ دَوْنِہِ مِنَ الْحِجَارَۃِ وَالْأَوْثَانِ، وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدَیْثِ وَأَدَائِ الْأَمَانَۃِ وَصِلَۃِ الرَّحِمِ وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْکَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَائِ، وَنَھَانَا عَنِ الْفَوَاحِشِ وَقَوْلِ الزُّوْرِ وَأَکْلِ مَالِ الْیَتِیْمِ وَقَذْفِ الْمُحْصَنَۃِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَانُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَالصِّیَامِ، قَالَ: فَعَدَّدَ عَلَیْہِ أُمُوْرَ الْاِسْلَامِ، فَصَدَّقْنَاہُ وَآمَنَّا بِہٖوَاَتْبَعْنَاہُعَلٰی مَا جَائَ بِہٖوَعَبَدْنَااللّٰہَوَحْدَہُفَلَمْنُشْرِکْبِہٖشَیْئًا، وَحَرَّمْنَا مَا حَرَّمَ عَلَیْنَا وَأَحْلَلْنَا مَا أَحَلَّ لَنَا، فَعَدَا عَلَیْنَا قَوْمَنَا فَعَذَّبُوْنَا وَفَتَنُوْنَا عَنْ دِیْنِنَا لِیَرُدُّوْنَا اِلٰی عِبَادَۃِ الْأَوْثَانِ مِنْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ، وَأَنْ نَسْتَحِلَّ مَا کُنَّا نَسْتَحِلُّ مِنَ الْخَبَائِثِ، فَلَمَّا قَھَرُوْنَا وَظَلَمُوْنَا وَشَقُّوْا عَلَیْنَا وََحَالُوْا بَیْنَنَا وَبَیْنَ دِیْنِنَا خَرَجْنَا اِلٰی بَلَدِکَ وَاخْتَرْنَاکَ عَلَی مَنْ سِوَاکَ وَرَغِبْنَا فِیْ جِوَارِکَ وَرَجَوْنَا أَنْ لَا نُظْلَمَ عِنْدَکَ أَیُّھَا الْمَلِکُ!، قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ النَّجَاشِیُّ: ھَلْ مَعَکَ مِمَّا جَائَ بِہٖعَنِاللّٰہِشَیْئٌ؟ قَالَتْ: فَقَالَ لَہُ: جَعْفَرٌ: نَعَمْ، فَقَالَ لَہُ النَّجَاشِیُّ: فَاقْرَأْہُ عَلَیَّ! فَقَرَأَ عَلَیْہِ صَدْرًا مِنْ {کٓھٰیٰعٓصٓ} قَالَتْ: فَبَکٰی وَاللّٰہِ! النَّجَاشِیُّ حَتّٰی أَخْضَلَ لِحْیَتَہُ، وَبَکَتْ اَسَاقِفَتُہُ حَتّٰی اَخْضَلُوْا مَصَاحِفَھُمْ حِیْنَ سَمِعُوْا مَا تَلَاہُ عَلَیْھِمْ، ثُمَّّ قَالَ النَّجَاشِیُّ: اِنَّ ھٰذَا وَاللّٰہِ! وَالَّذِیْ جَائَ بِہٖمُوْسٰی لَیَخْرُجُ مِنْ مِشْکَاۃٍ وَاحِدَۃٍ، اِنْطَلِقَا فَوَاللّٰہِ! لَا اُسْلِمُھُمْ اِلَیْکُمْ أَبَدًا وَلَا أَکَادُ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: وَاللّٰہِ! لَأُنَبِّئَنَّھُمْ غَدًا عَیْبَھُمْ عِنْدَھُمْ، ثُمَّّ أَسْتَأْصِلُ بِہٖخَضْرَائَھُمْ،قَالَتْ: فَقَالَلَہُعَبْدُاللّٰہِبْنُأَبِیْ رَبِیْعَۃَ: وَکَانَ أَتْقَی الرَّجُلَیْنِ فِیْنَا: لَا تَفْعَلْ فِاِنَّ لَھُمْ أَرْحَامًا وَاِنْ کَانُوْا قَدْ خَالَفُوْنَا، قَالَ: وَاللّٰہِ! لَأُخْبِرَنَّہُ أَنَّھُمْ یَزْعُمُوْنُ أَنَّ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَبْدٌ، قَالَتْ: غَدَا عَلَیْہِ الْغَدَ، فَقَالَ: أَیُّھَا الْمَلِکُ: اِنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ قَوْلًا عَظِیْمًا فَأَرْسَلَ اِلَیْھِمْ فَاسْأَلْھُمْ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ فِیْہِ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ اِلَیْھِمْیَسْأَلُھُمْ عَنْہُ، قَالَتْ: وَلَمْ یَنْزِلْ بِنَا مِثْلُہُ، فَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ: مَاذَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسٰی اِذَا سَأَلَکُمْ عَنْہُ؟ قَالُوْا: نَقُوْلُ وَاللّٰہِ! فِیْہِ مَا قَالَ اللّٰہُ وَمَا جَائَ بِہٖنَبِیُّنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَائِنًا فِیْ ذٰلِکَ مَا ھُوَ کَائِنٌ، فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْہِ قَالَ لَھُمْ: مَاتَقُوْلُوْنَ فِیْ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ؟ فَقَالَ لَہُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ: نَقُوْلُ فِیْہِ الَّذِیْ جَائَ بِہٖنَبِیُّنُا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ وَرُوْحُہُ وَکَلِمَتُہُ اَلْقَاھَا اِلَی مَرْیَمَ الْعَذْرَائِ الْبَتُوْلِ، قَالَتْ: فَضَرَبَ النَّجَاشِیُّ بِیَدِہِ اِلَی الْأَرْضِ فَاَخَذَ مِنْھَا عُوْدًا ثُمَّّ قَالَ: مَا عَدَا عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ مَا قُلْتَ ھٰذَا الْعُوْدَ، فَتَنَاخَرَتْ بَطَارِقَتُہُ حَوْلَہُ حِیْنَ قَالَ مَا قَالَ، فَقَالَ: وَاِنْ نَخَرْتُمْ وَاللّٰہِ! اذْھَبُوْا فَأَنْتُمْ سَیُوْمٌ بِاَرْضِیْ وَالسَّیُوْمُ الْآمِنُوْنَ) مَنْ سَبَّکُمْ غُرِّمَ ثُمَّّ مَنْ سَبَّکُمْ غُرِّمَ فَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِیْ دَبْرًا ذَھَبًا وَأَنَّیْ أَذَیْتُ رَجُلًا مِنْکُمْ، (وَالدَّبَرُ بِلِسَانِ الْحَبْشَۃِ: اَلْجَبَلُ) رُدُّوْا عَلَیْھِمَا ھَدَایَا ھُمَا فَـلَا حَاجَۃَ لَنَا بِھَا، فَوَاللّٰہِ! مَا أَخَذَ اللّٰہُ مِنِّی الرِّشْوَۃَ حِیْنَ رَدَّ عَلَیَّ مُلْکِیْ فَآخُذُ الرِّشْوَۃَ فِیْہِ، وَمَا أَطَاعَ النَّاسَ فِیَّ فَأُطِیْعَھُمْ فِیْہِ، قَالَتْ: فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِہِ مَقْبُوْحَیْنِ مَرْدُوْدًا عَلَیْھِمَا مَا جَائَ ا بِہٖ،وَأَقَمْنَاعِنْدَہُبِخَیْرِ دَارٍ مَعَ خَیْرِ جَارٍ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! اَنَا عَلٰی ذٰلِکَ اِذْ نَزَلَ بِہٖیَعْنِیْ مَنْ یُنَازِعُہُ فِیْ مُلْکِہِ، قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا عَلِمْنَا حُزْنًا قَطُّ کَانَ أَشَدَّ مِنْ حُزْنٍ حَزِنَّاہُ عِنْدَ ذٰلِکَ تَخَوُّفًا أَنْ یَظْھَرَ ذٰلِکَ عَلَی النَّجَاشِیِّ فَیَأْتِیَ رَجُلٌ لَا یَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا کَانَ النَّجَاشِیُّیَعْرِفُ مِنْہُ، قَالَتْ: وَسَارَ النَّجَاشِیُّ وَبَیْنَھُمَا عُرْضُ النِّیْلِ، قَالَتْ: فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ رَجُلٌ یَخْرُجُ حَتّٰییَحْضُرَ وَقْعَۃَ الْقَوْمِ، یَأْتِیَنَا بِالْخَبْرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ: أَنَا، قَالَتْ: وَکَانَ مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَتْ: فَنَفَخُوْا لَہُ قِرْبَۃًفَجَعَلَھَا فِیْ صَدْرِہِ ثُمَّّ سَبَحَ عَلَیْھَا حَتّٰی خَرَجَ اِلٰی نَاحِیَۃِ النِّیْلِ الَّتِیْ بِھَا مُلْتَقَی الْقَوْمِ، ثُمَّّ انْطَلَقَ حَتّٰی حَضَرَھُمْ، قَالَتْ: وَدَعَوْنَا اللّٰہَ لِلنَّجَاشِیِّ بِالظُّھُوْرِ عَلٰی عَدُوِّہِ وَالتَّمْکِیْنِ لَہُ فِیْ بِلَادِہِ، وَاسْتَوْسَقَ عَلَیْہِ أَمْرُ الْحَبَشَۃِ، فَکُنَّا عِنْدَہُ فِیْ خَیْرِ مَنْزِلٍ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ وَھُوَ بِمَکَّۃَ۔(مسند احمد: ۱۷۴۰)
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم حبشہ کی سرزمین میں اترے اور نجاشی کو بہترین پڑوسی پایا، ہم اپنے دین پر پر امن ہو گئے اور ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، ہمیں نہ کوئی تکلیف دی جاتی تھی اور نہ ہم کوئی ناپسند بات سنتے تھے، جب قریشیوں کو اس چیز کا علم ہوا تو انھوں نے مشورہ کیا اور یہ طے پایا کہ دو قوی افراد کو نجاشی کے پاس بھیجا جائے اور نجاشی کے لیے ایسے تحائف کا انتخاب کیا جائے، جن کو مکہ کا عمدہ مال سمجھا جاتا ہے اور مکہ سے سب سے پسندیدہ چیز سالن تھی، لہٰذا انھوں بڑی مقدار میں سالن جمع کیا اور انھوں نے حبشہ کے ہر بڑے پادری کے لیے تحفہ ارسال کرنے کا فیصلہ کیا، پھر انھوں عبد اللہ بن ابی ربیعہ مخزومی اور عمرو بن عاص بن وائل سہمی کو تحائف دے کر بھیجا اور ان کو ساری باتیں سمجھا دیں، انھوں نے اِن دو افراد سے کہا: نجاشی سے بات کرنے سے پہلے ہر بڑے پادری کو اس کا حصہ دو اور پھر نجاشی کے سامنے اس کے تحائف پیش کر دو اور اس سے مطالبہ کرو کہ وہ ان افراد کو تمہارے سپرد کر دے اور اس کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہ دو۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم لوگ نکلے، نجاشی کے پاس پہنچے اور ہم اس کے پاس بہترین گھر میں اور بہترین پڑوسی کے پڑوس میں تھے۔ اتنے میں اِدھر سے قریشیوں کا وفد پہنچ گیا، انھوں نے نجاشی سے بات کرنے سے پہلے کوئی بڑا پادری نہیں چھوڑا ، مگر اس کو اس کا تحفہ پیش کیا، پھر انھوں نے ہر بڑے پادری سے کہا: ہماری قوم کے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر نجاشی بادشاہ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور وہ تمہارے دین میں داخل نہیں ہوئے، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین گھڑ لیا ہے، اس دین کو ہم جانتے ہیں نہ تم جانتے ہو، ہماری قوم کے اشراف نے ہمیں اس بادشاہ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ وہ ان کو واپس کر دے، لہٰذا جب ہم بادشاہ سے بات کریں تو تم نے یہی مشورہ دینا ہے کہ وہ ان کو ہمارے سپرد کر دیں اور بادشاہ کو پہلے بات کرنے کا موقع ہی نہیں دینا، پس بیشک ان لوگوں کی قوم کے لوگ ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، پادریوں نے کہا: بالکل ٹھیک ہے، بعد ازاں قریشیوں کے ان دو قاصدوں نے نجاشی کو تحائف پیش کیے اور اس نے ان سے قبول کیے، پھر انھوں نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہمارے کچھ بیوقوف لڑکے بے دین ہو کر آپ کے ملک میں پہنچ گئے ہیں، انھوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور انھوں نے تم لوگوں کا دین بھی اختیار نہیں کیا ، بلکہ انھوں نے ایک نیا دین ایجاد کر لیا ہے، نہ ہم اس کو جانتے ہیں اور نہ تم، ان کی قوم کے اشراف،یہاں تک کہ ان کے آبائ، چچوں اور قبیلوں کے دوسرے افراد نے ہمیں آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ ان کو ہماری طرف لوٹا دیں، ہم ہی بہترین انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ وہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں اور کس چیز کی وجہ سے ان کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، عبد اللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن عاص کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ بات یہ تھی کہ نجاشی اُن صحابہ کی بات سنے، اتنے میں اس کے ارد گرد والے پادریوں نے کہا: اے بادشاہ! یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں، ان کی ہی بہتر انداز میں اس چیز کو دیکھ سکتی ہے اور جان سکتی ہے کہ یہ ان کی کس چیز کو معیوب سمجھتے ہیں، لہٰذا آپ اِن لوگوں کو ان کے سپرد کر دیں تاکہ یہ دو افراد اِن کو اپنے وطن اور قوم کی طرف واپس لے جائیں،یہ بات سن کر نجاشی غضبناک ہو گیا اور اس نے کہا: مخلوق کے خالق کی قسم! اللہ کی قسم! میں اِن کو اُن کے سپرد نہیں کروں گا اور قریب نہیں ہے کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے، اِن لوگوں نے میرا پڑوس اختیار کیا ہے، میرے ملک میں آئے ہیں اور مجھے دوسرے بادشاہوں پر ترجیح دی ہے، لہٰذا میں ان کو بلا کر اس بارے میں ان سے پوچھوں گا کہ یہ دو آدمی کیا کہتے ہیں، اگر تو معاملہ ایسے ہی ہوا، جیسےیہ کہہ رہے ہیں تو میں اِن کے سپرد کر دوں گا اور اُن کو اُن کی قوم کی طرف لوٹا دوں گا، لیکن اگر کوئی اور معاملہ ہوا تو اُن کو روک لوں گا اور انھوں نے جو پڑوس اختیار کیا ہے، میں اس کو اچھا ثابت کروں گا۔ پھر نجاشی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان کو بلایا، جب اس کا قاصد آیا تو وہ جمع ہو گئے، پھر ان میں سے بعض نے بعض سے کہا: جب تم اس آدمی کے پاس جاؤ گے تو کیا کہو گے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے جو ہمیں علم ہے اور جو کچھ ہمارے نبی نے ہمیں حکم دیا ہے، اس کی وجہ سے جو کچھ ہونا ہے، وہ ہو جائے (ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں)، جب وہ صحابہ اس کے پاس پہنچ گئے اور اس نجاشی نے پادریوں کو بلایا، وہ اس کے ارد گرد مصاحف کھول کر بیٹھ گئے، نجاشی نے کہا: اس دین کی کیا حقیقت ہے کہ جس کی بنا پر تم اپنی قوم سے الگ ہو گئے ہو اور میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے، بلکہ تم نے موجودہ امتوں میں سے کسی امت کے دین کو نہیں اپنایا؟ سیدنا جعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی اور کہا: اے بادشاہ! ہم جاہل قوم تھے، بتوں کی پرستش کرتے تھے، مردار کھاتے تھے، برے کام کرتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے اور ہمارا قوی آدمی ضعیف کو کھا رہا تھا، ہمارے یہی حالات تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول مبعوث فرمایا، ہم اس کے نسب، صدق، امانت اور پاکدامنی کو جانتے تھے، اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی کہ اس کو ایک تسلیم کریں، اس کی عبادت کریں اور ان پتھروں اور بتوں سے باز آ جائیں کہ جن کی ہم اور ہمارے آباء عبادت کرتے تھے، نیز اس نبی نے ہمیں سچی بات، ادائے امانت، صلہ رحمی اور بہترین پڑوس اختیار کرنے کا اور حرام کاموں سے اور قتل سے رکنے کا حکم دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں برے امور، جھوٹ بات، یتیم کا مال کھانے سے اور پاکدامن خاتون پر تہمت لگانے سے منع کیا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نماز اور زکاۃ ادا کریں اور روزے رکھیں، اس طرح سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نجاشی کے سامنے امورِ اسلام کا ذکر کیا اور پھر کہا: پس ہم نے اس رسول کی تصدیق کی، اس کے ساتھ ایمان لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کی، اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، جس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم پر حرام قرار دیا، ہم نے اس کو حرام سمجھا اور جس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے لیے حلال قرار دیا، ہم نے اس کو حلال سمجھا۔ ان وجوہات کی بنا پر ہماری قوم نے ہم پر زیادتی کی، ہمیں ایذا پہنچائی، ہمارے دین کے بارے میں ہمیں فتنے میں ڈالا تاکہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی بجائے بتوں کی عبادت کی طرف لے جائیں اور ان خبیث چیزوں کو حلال سمجھیں، جن کو ہم جاہلیت میں حلال سمجھتے تھے، پھر جب ان لوگوں نے ہم پر سختی کی، ہم پر ظلم کیا، ہمیں مشقت میں ڈالا اور ہمارے اور ہمارے دین کے مابین حائل ہونا چاہا تو ہم آپ کے ملک کی طرف آ گئے، آپ کو دوسروں پر ترجیح دی، ہمیں آپ کے پڑوس میں رہنے کی ترغیب ہوئی اور ہمیں امید تھی کہ اے بادشاہ سلامت! آپ کے ہاں ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، نجاشی نے یہ تقریر سن کر کہا: تمہارے نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیز لائے ہیں، کیا اس کا کوئی حصہ تیرے پاس ہے؟ سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، نجاشی نے کہا: تو پھر اس کی تلاوت کر کے مجھے سناؤ، سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سورۂ مریم کے ابتدائی حصے کی تلاوت کی، اللہ کی قسم! نجاشی نے رونا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی اور پادریوں نے بھییہ تلاوت سن کر رونا شروع کر دیا، حتی کہ ان کے سامنے پڑے ہوئے مصاحف تر ہو گئے، پھر نجاشی نے کہا: اللہ کی قسم! بیشک اس کلام کا اور موسی علیہ السلام کے لائے ہوئے کلام کا سرچشمہ ایک ہے، تم دونوں چلے جاؤ یہاں سے، اللہ کی قسم! میں ان لوگوں کو کبھی بھی تمہارے سپرد نہیں کروں گا اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اس معاملے میں میرے ساتھ کوئی مکر کیا جائے۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: جب ہم اس کے پاس سے نکلے تو عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! کل میں نجاشی اور اس کے ماتحت لوگوں کو اِن کا ایک عیب بتاؤں گا اور اس کے ذریعے ان کی اصل کو جڑ سے مٹا دوں گا۔ عبد اللہ بن ابی ربیعہ، جو کہ ان دو افراد میں اچھا تھا، نے اس سے کہا: اس طرح نہ کر، آخر یہ ہمارے ہی رشتہ دار ہیں، اگرچہ ہماری مخالفت کر رہے ہیں، لیکن عمرو بن عاص نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کو ضرور ضرور بتاؤں گا کہ یہ لوگ عیسی بن مریم کو بندہ کہتے ہیں، پس وہ دوسرے دن بادشاہ کے پاس گیا اور کہا: اے بادشاہ سلامت! یہ لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں بڑی عجیب بات کرتے ہیں، پس آپ ان کو دوبارہ بلائیں اور اس بارے میں ان سے پوچھیں، پس اس نے اس بات کی تحقیق کرنے کے لیے ان کو بلا بھیجا،یہ ہمارے حق میں سب سے بڑی مصیبت تھی، پس صحابہ جمع ہو گئے اورایک دوسرے سے کہنے لگے: جب وہ تم سے سوال کرے گا تو تم حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں کیا کہو گے؟ بعض نے جواب دیتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم وہی کچھ کہیں گے، جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے اور ہمارے نبی کی لائی ہوئی شریعت نے کہا ہے، جس چیز نے ہونا ہے، وہ ہوجائے، جب وہ داخل ہوئے تو نجاشی نے کہا: تم لوگ عیسی بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ سیدنا جعفر بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم ان کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں، جو ہمارے نبی نے ہمیں تعلیم دی ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے، رسول، روح اور کلمہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو کنواری مریم بتول کی طرف ڈالا،یہ سن کر نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، وہاں سے ایک لکڑی اٹھائی اور کہا: تو نے عیسی بن مریم کے بارے میں جو کچھ کہا، ان کی حیثیت اس لکڑی کے بقدر بھی اس سے زیادہ نہیں ہے، نجاشی کا یہ تبصرہ سن کر پادریوں نے (غصے کے ساتھ) باتیں کی، لیکن نجاشی نے کہا: بیشک تم غصے سے باتیں کرو، اللہ کی قسم! صحابہ! تم جاؤ، تم میری زمین میں امن والے ہو، جس نے تم کو برا بھلا کہا، اس کو چٹی پڑے گی، پھر جس نے تم کو گالی گلوچ کیا، اس کو چٹی پڑے گی، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم میں سے کسی بندے کو تکلیف دوں اور مجھے پہاڑ کے برابر سونا دیا جائے، حبشہ کی زبان میں پہاڑ کو دَبَر کہتے ہیں، پھر نجاشی نے کہا: قریش کے ان دو افراد کے تحائف ان کو واپس کر دو، ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے میری بادشاہت مجھے عطا کی تھی تو اس نے مجھ سے رشوت نہیں لی تھی، تو پھر میں اس معاملے میں رشوت کیوں لوں، لوگوں نے جب تک میری اطاعت کی، میں بھی ان کی اطاعت کروں گا۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: اب یہ دو قریشی بدنما اور معیوب ہو کر وہاں سے نکلے، ان کے لائے ہوئے ہدیے ان کو واپس کر دیئے گئے اور ہم نجاشی کے علاقے میں اس طرح رہے، جیسے ہم بہترین پڑوسی کے پاس بہترین گھر میں ہیں۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم وہیں مقیم تھے کہ نجاشی سے ایسے لوگوں نے مقابلہ کرنا شروع کر دیا جو اس سے یہ بادشاہت چھیننا چاہتے تھے، اللہ کی قسم! اس وقت جو شدید غم ہمیں لاحق ہوا تھا، ہم نہیں جانتے کہ اس سے بڑا بھی غم ہوتا ہے، ہمیںیہ ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نجاشی پر ایسا بادشاہ غالب آ جائے کہ جس کو ہمارے حق کی اس طرح معرفت نہ ہو، جیسے نجاشی کو تھی، نجاشی بھی مقابلے کے لیے چل پڑا، جبکہ دونوں کے درمیان نیل حائل تھا، یہ صورت حال دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے کہا: کون آدمی ہے، جو لوگوں کے میدان جنگ کی طرف جائے اور ہمیں صورتحال سے آگاہ کرے؟ سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں جاتا ہوں، اس جماعت میں نئی عمر والے یہی تھے، بہرحال لوگوں نے ایک مشکیزے میں ہوا بھر کر اس کو ان کے سینے میں ڈالا اور انھوں نے اس پر تیرنا شروع کر دیا،یہاںتک کہ نیل کی اس طرف نکل گئے، جہاں دونوںلشکروں کا مقابلہ ہونا تھا، پس وہ چلتے گئے، یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گئے۔ سیدہ کہتی ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ نجاشی اپنے دشمن پر غالب آجائے اور اللہ تعالیٰ اسی کو اس کے علاقے میں برقرار رکھے اور یوں ہی ہوا کہ حبشیوںکا معاملہ نجاشی سے متفق ہو گیا، اس طرح ہم اس کے پاس بہترین انداز میں رہے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آ گئے۔