TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12438 - یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان
۔ (۱۲۴۳۸)۔ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتٰی أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ، فَقَالَ: یَا أَبَا سَعِیدٍ! أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ بَایَعْتَ أَمِیرَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلٰی أَمِیرٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَایَعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ فَجَائَ اَھْلُ الشَّامِ فَسَاقُوْنِیْ إِلَی جَیْشِ بْنِ دَلَحَۃَ فَبَایَعْتُہُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِیَّاہَا کُنْتُ أَخَافُ إِیَّاہَا کُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِہَا حَمَّادٌ صَوْتَہُ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا یَنَامَ نَوْمًا، وَلَا یُصْبِحَ صَبَاحًا، وَلَا یُمْسِیَ مَسَائً إِلَّا وَعَلَیْہِ أَمِیرٌ۔))؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلٰکِنِّی أَکْرَہُ أَنْ أُبَایِعَ أَمِیرَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلٰی أَمِیرٍ وَاحِدٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۷)
بشر بن حرب سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور ان سے کہا: مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ کہ لوگوں کے ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے ہی آپ نے دو امیروں کی بیعت کر لی ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں، میں سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکا تھا کہ شامی آگئے اوروہ مجھے ابن دلحہ کے لشکر کی طرف لے گئے، میں نے اس کی بیعت بھی کرلی، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اس بات کا اندیشہ تھا، میں اسی سے ڈرتا تھا، ان الفاظ کو ادا کرتے ہوئے حماد بن سلمہ نے اپنی آواز کو لمبا کر کے کھینچا،ابو سعید نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ نے نہیں سنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے اگر کوئی آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کسی امیر کی امارت کے نہ ہوتے ہوئے نہ صبح کرے اور نہ شام کرے تو اسے ضرورکسی کی امارت میں چلے جانا چاہیے۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کے کسی ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے میں دوامیروں کی بیعت کروں۔
12438
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۲۴۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف بشر بن حرب (انظر: ۱۱۲۴۷)

Related Chapters

332
1
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
Musnad Ahmad
2
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
Musnad Ahmad
3
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
4
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
Musnad Ahmad
5
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
Musnad Ahmad
6
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
7
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
Musnad Ahmad
8
سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
Musnad Ahmad
9
غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
Musnad Ahmad
10
کدید کے مقام پر بنو لموح کے ساتھ سیدنا غالب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سریہ کا بیان
Musnad Ahmad
11
ارضِ فلسطین میں موتہ کے مقام پر سریہ زید بن حارثہ کا بیان، اسی غزوہ کو غزوۂ موتہ بھی کہتے ہیں، نیز سیدنا زید، سیدنا جعفر بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کا بیان
Musnad Ahmad
12
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
13
ذوالخلصہ نامی بت خانہ کو منہدم کرنے کے لیے سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مہم کا بیان
Musnad Ahmad
14
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کی طرف روانہ کئے جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
15
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
Musnad Ahmad
16
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
17
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
18
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
Musnad Ahmad
19
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
20
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
21
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
22
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
23
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
ذوالبجادین سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
25
سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
26
سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
27
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
28
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کی فصل
Musnad Ahmad
29
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
30
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
Musnad Ahmad
31
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
32
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
33
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
34
سیدنا معاویہ بن قرہ مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا قرہ بن ایاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
35
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
36
سیدنا معن بن یزید سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
37
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
38
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
Musnad Ahmad
39
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
Musnad Ahmad
40
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
Musnad Ahmad
42
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
Musnad Ahmad
43
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرنا
Musnad Ahmad
44
فصل پنجم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تاریخ شہادت، ان کی جنازہ، دفن اور مدتِ خلافت کا بیان
Musnad Ahmad
45
باب اول: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس طرف اشارہ کرنا
Musnad Ahmad
46
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
Musnad Ahmad
47
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
Musnad Ahmad
48
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
Musnad Ahmad
49
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
Musnad Ahmad
50
ٔٔفصل: عہد خلافت ِمعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک اہم واقعہ غزوۂ قسطنطنیہ ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
6784
۔ (۶۷۸۴)۔ عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ عَنْ اَبِی الْوَدَّاکِ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِیْذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ، قَالَ: جِیْئَ بِرَجُلٍ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالُوْا: إِنَّہُ نَشْوَانُ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِیْبًاوَتَمْرًا فِی دُبَّائَۃٍ، قَالَ: فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُہِزَ بِالْأَیْدِی، وَنَہٰی عَنِ الدُّبَّائِ وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ اَنْ یُخْلَطَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۱۷)
۔ ابو وداک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس وقت سے نبیذ نہیں پی، جب سے سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ حدیث سنی، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے نشہ کر رکھا ہے، اس نے کہا: میں نے تو کدو کے برتن میں منقّی اور کھجور ڈال کر پی ہے، بہرحال جوتوں سے اس کی پٹائی کی گئی اور ہاتھوں سے اس کو دھکے دئیے گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کدو والے برتن اور منقّی اور کھجور ملا کر پینے سے منع فرما دیا۔
Musnad Ahmad
10808
۔ (۱۰۸۰۸)۔ عَنْ إِیَاسٍ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی: قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْحُدَیْبِیَۃَ، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ مِائَۃً وَعَلَیْہَا خَمْسُونَ شَاۃً لَا تُرْوِیہَا، فَقَعَدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی جَبَاہَا، فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَسَقَ، فَجَاشَتْ فَسَقَیْنَا وَاسْتَقَیْنَا، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا بِالْبَیْعَۃِ فِی أَصْلِ الشَّجَرَۃِ فَبَایَعْتُہُ أَوَّلَ النَّاسِ، وَبَایَعَ وَبَایَعَ حَتّٰی إِذَا کَانَ فِی وَسَطٍ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: یَا سَلَمَۃُ! بَایِعْنِی، قَالَ: قَدْ بَایَعْتُکَ فِی أَوَّلِ النَّاسِ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَأَیْضًا فَبَایِعْ۔)) وَرَآنِی أَعْزَلًا فَأَعْطَانِی حَجَفَۃً أَوْ دَرَقَۃً، ثُمَّ بَایَعَ وَبَایَعَ حَتّٰی إِذَا کَانَ فِی آخِرِ النَّاسِ، قَالَ: ((أَلَا تُبَایِعُنِی؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَدْ بَایَعْتُ أَوَّلَ النَّاسِ وَأَوْسَطَہُمْ وَآخِرَہُمْ، قَالَ: ((وَأَیْضًا فَبَایِعْ۔)) فَبَایَعْتُہُ، ثُمَّ قَالَ: ((أَیْنَ دَرَقَتُکَ أَوْ حَجَفَتُکَ الَّتِی أَعْطَیْتُکَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَقِیَنِی عَمِّی عَامِرٌ أَعْزَلًا فَأَعْطَیْتُہُ إِیَّاہَا، قَالَ: فَقَالَ: ((إِنَّکَ کَالَّذِی قَالَ اللَّہُمَّ ابْغِنِی حَبِیبًا ہُوَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِی۔)) وَضَحِکَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِکِینَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتّٰی مَشَی بَعْضُنَا إِلٰی بَعْضٍ، قَالَ: وَکُنْتُ تَبِیعًا لِطَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، أَحُسُّ فَرَسَہُ وَأَسْقِیہِ وَآکُلُ مِنْ طَعَامِہِ وَتَرَکْتُ أَہْلِی وَمَالِی مُہَاجِرًا إِلَی اللّٰہِ وَرَسُولِہِ، فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَہْلُ مَکَّۃَ، وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ، أَتَیْتُ الشَّجَرَۃَ فَکَسَحْتُ شَوْکَہَا وَاضْطَجَعْتُ فِی ظِلِّہَا، فَأَتَانِی أَرْبَعَۃٌ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ فَجَعَلُوا وَہُمْ مُشْرِکُونَ یَقَعُونَ فِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَحَوَّلْتُ عَنْہُمْ إِلٰی شَجَرَۃٍ أُخْرٰی وَعَلَّقُوا سِلَاحَہُمْ وَاضْطَجَعُوا، فَبَیْنَمَا ہُمْ کَذٰلِکَ إِذْ نَادٰی مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِی: یَا آلَ الْمُہَاجِرِینَ! قُتِلَ ابْنُ زُنَیْمٍ، فَاخْتَرَطْتُ سَیْفِی فَشَدَدْتُ عَلَی الْأَرْبَعَۃِ، فَأَخَذْتُ سِلَاحَہُمْ فَجَعَلْتُہُ ضِغْثًا، ثُمَّ قُلْتُ: وَالَّذِی أَکْرَمَ مُحَمَّدًا! لَایَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْکُمْ رَأْسَہُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِییَعْنِی فِیہِ عَیْنَاہُ، فَجِئْتُ أَسُوقُہُمْ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجَائَ عَمِّی عَامِرٌ بِابْنِ مِکْرَزٍ یَقُودُ بِہِ فَرَسَہُ یَقُودُ سَبْعِینَ حَتّٰی وَقَفْنَاہُمْ فَنَظَرَ إِلَیْہِمْ، فَقَالَ: ((دَعُوہُمْ یَکُونُ لَہُمْ بُدُوُّ الْفُجُورِ۔)) وَعَفَا عَنْہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأُنْزِلَتْ: {وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ} ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا یُقَالُ لَہُ: لَحْیُ جَمَلٍ، فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِمَنْ رَقِیَ الْجَبَلَ فِی تِلْکَ اللَّیْلَۃِ، کَانَ طَلِیعَۃً لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابِہِ، فَرَقِیتُ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً، ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِظَہْرِہِ مَعَ غُلَامِہِ رَبَاحٍ وَأَنَا مَعَہُ، وَخَرَجْتُ بِفَرَسِ طَلْحَۃَ أُنَدِّیہِ عَلٰی ظَہْرِہِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عُیَیْنَۃَ الْفَزَارِیُّ قَدْ أَغَارَ عَلٰی ظَہْرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَاقَہُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِیَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۳۳)
ایاس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیںمیرے والد سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حدیبیہ کے مقام پر پہنچے، ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے، وہاں پچاس بکریاں تھیں اور وہاں کا پانی ان کے لیے بھی نا کافی تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یا تو دعا کییا اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالا، پس کنواں تو جوش مارنے لگا۔ ہم نے پانی خود پیا اور جانوروں کو بھی پلایا، بعدازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک درخت کے نیچے سب لوگوں کو بیعت کے لیے پکارا، سب سے پہلے سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے بیعت لیتے رہے، یہاں تک کہ جب آدھے لوگ بیعت کر چکے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلمہ! تم بیعت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو سب سے پہلے بیعت کر چکا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوبارہ بیعت کرو۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بغیر اسلحہ کے یعنی خالی ہاتھ دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ڈھال عطا فرمائی اور پھر لوگوں سے بیعت لیتے رہے۔ یہاں تک کہ جب آخری لوگ بیعت کر رہے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: ابن اکوع! کیا تم میری بیعت نہیں کر و گے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو سب سے پہلے بھی اور لوگوں کے وسط میں بھی بیعت کر چکا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر بیعت کرو۔ چنانچہ میں نے سہ بارہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں جو ڈھال دی ہے، وہ کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرا چچا عامر بغیر اسلحہ کے یعنی خالی ہاتھ ملے تو میں نے وہ ڈھال ان کو دے دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم تو اس آدمی کی مانند ہو، جس نے کہا تھا یا اللہ مجھے ایسے دوست مہیا کر جو مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرما کر مسکرا دئیے، اس کے بعد مشرکین ہمارے ساتھ صلح کی کوششیں کرتے رہے، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض ایک دوسرے کی طرف بھی گئے۔ میں اس وقت سیدنا طلحہ بن عبیداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خدمت گزار تھا، میں ان کے گھوڑے کو سہلاتا، اسے پانی پلاتا اور میں ان کے کھانے میں سے کھانا کھاتا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے اپنے اہل وعیال اور اموال کو چھوڑ کر ان سے لا تعلق ہو چکا تھا۔ جب ہماری اہل مکہ سے صلح ہوئی اور ہم ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے، ایک درخت کے نیچے جا کر میں نے اس کے کانٹے صاف کئے اور اس کے سائے میں لیٹ گیا،مکہ کے باشندوں میں سے چار مشرک میرے پاس آگئے اور وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ کہنے لگے،میں ان کو چھوڑ کر ایک اور درخت کے نیچے چلا گیا، انہوں نے اپنے ہتھیار درخت کے ساتھ لٹکائے اور لیٹ گئے، وہ ابھی اسی حال میں تھے کہ وادی کے پست حصے کی جانب سے ایک پکارنے والے نے پکارا: اے مہاجرین! ابن زُنیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ میں اپنی تلوار سونت کر ان چاروں کی طرف دوڑا، میں نے ان کے ہتھیار اپنے قبضہ میں لے لئے اور میں نے ان سے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عزت سے نوازا ہے! اگر تم میں سے کسی نے اپنا سر اوپر کو اُٹھایا تو میں اسے قتل کر دوں گا، میں ان کو ہانک کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آیا اور میرے چچا عامر نے ابن مکرز کو گرفتار کر لیا، وہ اسے اپنے گھوڑے پر کر رہا تھا، ان کے ساتھ مزید ستر مشرکین تھے، یہاں تک کہ ہم سب آکر رک گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا: ان کو چھوڑ دو، گناہ کا آغاز انہی کے ذمہ ہے۔ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے در گزر فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی: {وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ}… اور وہ ذات ہے جس نے ان کے ہاتھوں کوتم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکا۔ (سورۂ فتح: ۲۴) اس کے بعد ہم مدینہ منورہ کی طرف واپس چل دئیے، ہم واپسی پر لحی جمل نامی ایک مقام پر ٹھہرے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اس آدمی کے حق میں مغفرت کی دعا کی جو اس رات پہاڑ پر چڑھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کا پہرہ دے، پس میں اس رات دو یا تین مرتبہ پہاڑ پر چڑھا، پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا اونٹ دوسرے اونٹوں میں پہنچانے کے لیے اپنے غلام رباح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ بھیجا، میں بھی سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھوڑے پر سوار اسے دوڑاتا ہوا، رباح کے ہمراہ تھا، صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ عبدالرحمن بن عیینہ فرازی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر ان سب کو لے گیا اور اونٹوں کے چرواہے کو قتل کر گیا ہے۔
Musnad Ahmad
12644
۔ (۱۲۶۴۴)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ، قَالَ: تُوُفِّیَ أَخِی وَأَتَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا سَعِیدٍ! إِنَّ أَخِی تُوُفِّیَ وَتَرَکَ عِیَالًا وَلِی عِیَالٌ وَلَیْسَ لَنَا مَالٌ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ بِعِیَالِی، وَعِیَالِ أَخِی حَتّٰی نَنْزِلَ بَعْضَ ہٰذِہِ الْأَمْصَارِ، فَیَکُونَ أَرْفَقَ عَلَیْنَا فِی مَعِیشَتِنَا، قَالَ: وَیْحَکَ لَا تَخْرُجْ فَإِنِّی سَمِعْتُہُ یَقُولُیَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَبَرَ عَلٰی لَأْوَائِہَا وَشِدَّتِہَا کُنْتُ لَہُ شَفِیعًا أَوْ شَہِیدًایَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۶۶)
مولائے مہری ابو سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میرے بھائی کا انتقال ہوگیا، میں سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، میں نے کہا: ابو سعید! میرے بھائی کا انتقال ہوگیاہے، وہ اہل و عیال چھوڑ گیا ہے، میرے اپنے بھی بال بچے ہیں، ہمارے پاس کچھ زیادہ مال بھی نہیں ہے، میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنے اور بھائی کے اہل وعیال کو لے کر کسی دوسرے علاقہ میں چلا جاؤں تاکہ وہاں ہمارے معاشی حالات کچھ بہتر ہوجائیں، انہوں نے کہا: تجھ پر افسوس، مدینہ چھوڑ کر مت جانا، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ منورہ میں آنے والے مصائب و شدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔
Silsila Sahih
2049
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ (وَفِي رِوَايَة: حَقٌّ). عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ. ( )ورد من حدیث ابی سعید الخدری، و ابی امامة و طارق بن شہاب، و جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھم والزھری مرسلا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف (اور ایک روایت میں ہے: حق)کا کلمہ کہنا ہے ۔ یہ حدیث سیدنا ابوسعید خدری، ابوامامہ، طارق بن شہاب اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے اور امام زھری سے مرسلا مروی ہے۔