سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ - سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ - فضائل و مناقب کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 120 of فضائل و مناقب کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن قیسیعنی ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اورفرمایا: اسے تو اللہ کے نبی دائود علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔
فوائد:… سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں، ان کا اصل نام عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار ہے، کتب حدیث میں عام طور پر ان کا تذکرہ کنیت سے ہوا ہے، ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ جا کر دولت اسلام سے بہرہ ور ہوئے، پھر حبشہ کی طرف ہجرت کی، بعد ازاں حبشہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا شرف حاصل ہوا، آپ کی حبشہ سے مدینہ منورہ آمد فتح خیبر کے بعد ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں زبید، عدن اور سواحل یمن پر عامل مقرر کیا تھا اور امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں کوفہ، بصرہ، اہواز اور اصبہان وغیرہ کے علاقوں کا عامل مقرر کیا تھا، تریسٹھ سال کی عمر میں (۴۴) سن ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: ابو موسیٰ کو تو آل دائود کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔
Takhreej
(۱۱۹۵۵) تخریج: أخرجہ النسائی: ۲/۱۸۱(انظر: ۲۵۳۴۳)
Explanation
فوائد:… مَزَامِیْر کے معانی بانسریوں کے ہیں، لیکن اس سے مراد آواز کا خوبصورت اور سریلا ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے دائود علیہ السلام کو انتہائی خوبصورت اور دل کش آواز عطا کی گئی تھی،سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا دائود علیہ السلام ستر لہجوں میں زبور کی تلاوت کیا کرتے تھے اور وہ اس قدر سریلی اور دل کش آواز سے تلاوت کیا کرتے تھے کہ بخار میں مبتلا آدمی بھی جھومنے لگتا، جب رونے لگتے تو خشکی اور سمندر کا ہر جانور صامت و ساکت ہو کر آپ کی تلاوت کو غور سے سننے لگتا اور رونے لگ جاتا۔
آواز کی اس خوبصورتی کا کچھ حصہ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو بھی عطا کیا گیا۔
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عشا کے وقت باہر گئے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور مسجد میں لے گئے، وہاں تلاوت کرتے ہوئے ایک آدمی کی آوازسنی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ دکھلاوا کر رہا ہے؟ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے، پھر اس آدمی نے یوں دعا کی: اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ بِأنّی اَشْہَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ الَّذِی لَا اِلٰہ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗکُفُوَاًاَحَدٌ۔ (یا اللہ! میں یہ واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی وہ اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تو ایسا بے نیاز ہے، جس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں۔) یہ دعا سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کیقسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ سے اس کے اس سب سے با عظمت نام لے کر دعا کی ہے کہ جب بھی اللہ سے اس کا یہ نام لے کر کچھ مانگا جائے تو وہ عنایت کرتا ہے اور جو بھی دعا کی جائے، وہ قبول کرتا ہے۔ بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دوسری رات ہوئی تو میں عشاء کے وقت باہر نکلا، اس دن بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور مسجد میں لے گئے تو اسی آدمی کی تلاوت کی آواز آرہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو سمجھتا ہے کہ یہ دکھلاوا کر رہا ہے؟ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ دکھلاوا کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دکھلاوا کرنے والا نہیں ہے، بلکہ مخلص مومن ہے، یہ دکھلاوا کرنے والا نہیں، بلکہ مخلص مومن ہے۔ میں (بریدہ) نے دیکھا تو وہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے، جو مسجد کے ایک کونے میں بلند آواز سے قرأت کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کو دائود علیہ السلام کیسی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان کو اس بات سے با خبر کردوں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں اور ان کو بتلا دو۔ جب میں نے ان کو اس کی خبر دی تو انہوںنے مجھ سے فرمایا: تم میرے مخلص دوست ہو، کیونکہ تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیایک خاص بات سے باخبر کیا ہے۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ایک آدمی سے کہا:آئو ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کر یں، اللہ کی قسم یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے ساتھ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کیا اور کہا: بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو دوسروں سے کہتے ہیں کہ آئو ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اس قدر تکرار سے ارشاد فرمائی کہ میں نے تمنا کی کاش کہ زمین مجھے اپنے اندر دھنسا لے۔
Takhreej
(۱۱۹۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام من روی عنہ ثابت، اخرجہ البزار: ۳۵۷۷(انظر: ۱۹۷۵۶)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی تمنا سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس بات اور عمل کو پسند نہیںکیا، ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کا ہر دن اس اعتدال سے گزارا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کیا جائے، اس کے احکام بھی پورے کیے جائیں اور دنیا کی ضرورتیں بھی پوری کی جائیں۔
حدیث ضعیف ہونے کی وجہ سے کسی توجیہ کی ضرورت نہیں۔
شعبی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میںلکھا تھا کہ میرا مقرر کردہ کوئی عامل ایک سال سے زیادہ عرصہ تک اپنی ذمہ داری پر بحال نہ رکھا جائے، البتہ تم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو چار سال تک ان کی ذمہ داری پر برقرار رکھو۔
Takhreej
(۱۱۹۵۸) تخریج: اثر ضعیف الاسناد لضعف مجالد، وھشیمُ بن بشیر مدلس وقد عنعنہ، والشعبی لم یدرک عمر (انظر: ۱۹۴۹۰)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یااللہ! اپنے بندے عبید ابو عامر کو قیامت کے دن اکثر لوگوں سے بلند مرتبہ پر فائز فرمانا۔ سیدنا عبید رضی اللہ عنہ غزوۂ اوطاس میں شہید ہوئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبید رضی اللہ عنہ کے قاتل کو قتل کرکے جہنم رسید کیا تھا۔ راویٔ حدیث عاصم کہتے ہیں: میرے شیخ ابو وائل نے بیان کیا: مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید رضی اللہ عنہ کے قاتل اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو جہنم میں اکٹھے نہیں کرے گا۔
Takhreej
(۱۱۹۵۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۹۶۹۳)
Explanation
فوائد:… فَقُتِلَ عُبَیْدٌ کی ترکیب سے معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا ابو عامر عبید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے بعد شہید ہوئے تھے، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ پہلے شہید ہوئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی وسیت کے مطابق ان کے لیے دعا کی، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۹۴۱)اور اس کے فوائد میں مذکورہ حدیث۔ آخری جملے میں دراصل سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے حق میں شہادت دی گئی ہے کہ وہ جہنم میں نہیں جائیں گے۔ (ان شاء اللہ تعالی)
ابو بردہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے وصیت کرتے ہوئے کہا: جب تم میرا جنازہ لے کر چلو تو ذرا تیز تیز چلنا اور کوئی آدمی آگ کے کوئلوں پر خوشبو ڈال کر جنازے کے ساتھ نہ چلے اور میری قبر میں کوئی ایسی چیز بھی نہ رکھنا جو میرے اور مٹی کے درمیان حائل ہو، نیز تم میری قبر پر کوئی عمارت کھڑی نہ کرنا اور میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں کسی کی وفات پر سر کے بال مونڈنے والی، چیخنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی ہر عورت سے بری اور لا تعلق ہوں۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا آپ نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوںنے کہا: جی ہاں۔