۔ (۱۲۰۱۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ خَدِیْجَۃَ سَأَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنْ وَرْقَۃَ بْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ: ((قَدْ رَأَیْتُہُ فِی الْمَنَامِ فَرَأَیْتُ عَلَیْہِ ثِیَابَ بَیَاضٍ فَأَحْسِبُہُ لَوْ کَانَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ ثِیَابُ بَیَاضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۱)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو خواب میں دیکھا ہے، اس نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے، میرا خیال ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتا تو اس پر سفید کپڑے نہ ہوتے۔
Takhreej
(۱۲۰۱۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۷۰۹ (انظر: ۲۴۳۶۷)
Explanation
فوائد:… ورقہ بن نوفل، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، یہ بھی زید بن عمرو کی طرح فطرت پر برقرار تھے، لیکن انھوں نے نصرانیت کو پسند کر کے قبول کر لیا اور مختلف پادریوں کو ملے، انھوںنے اسی مذہب کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حوصلہ افزائی کی۔
12016
Zaeef