TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ - صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ - فضائل و مناقب کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of فضائل و مناقب کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 144 · 8 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۱۱۵۲۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِیَۃِ، فَقَالَ: قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ مَقَامِی فِیکُمْ، فَقَالَ: ((اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِیْ خَیْرًا، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ، ثُمَّ یَفْشُو الْکَذِبُ حَتّٰی إِنَّ الرَّجُلَ لَیَبْتَدِئُ بِالشَّہَادَۃِ قَبْلَ أَنْ یُسْأَلَہَا، فَمَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ بَحْبَحَۃَ الْجَنَّۃِ فَلْیَلْزَمِ الْجَمَاعَۃَ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَہُوَ مِنَ الِاثْنَیْنِ أَبْعَدُ، لَا یَخْلُوَنَّ أَحَدُکُمْ بِامْرَأَۃٍ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ ثَالِثُہُمَا، وَمَنْ سَرَّتْہُ حَسَنَتُہُ وَسَاء َتْہُ سَیِّئَتُہُ فَہُوَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴)
سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: ایک دفعہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے، جیسے میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اپنے صحابہ کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں،اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو ان کے بعد ہوں گے اور ان لوگوں کے بارے میں بھی جو (تابعین) کے بعد ہوں گے، (ان سے حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں)، اس کے بعد جھوٹ اس قدر عام ہو جائے گا کہ ایک آدمی گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دینے لگے گا، پس تم میں سے جو آدمی جنت میںداخل ہونا چاہتا ہے وہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے کا التزام کرے، کیونکہ شیطان ہر اس آدمی کے ساتھ رہتا ہے جو اکیلا ہو اور وہ شیطان دو آدمیوں سے ذرا دور ہو جاتا ہے، تم میں سے کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار نہ کرے، کیونکہ ایسے دو افراد کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس آدمی کو نیکی کرکے خوشی اور گناہ کرکے ناخوشی ہو وہ مومن ہے۔
Takhreej
(۱۱۵۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ الترمذی: ۲۱۶۵ (انظر: ۱۱۴)
Explanation
فوائد:… اس میں صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین کے فضائل و مناقب کا بیان ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وجہ سے ان پاکیزہ ہستیوں کا خیال رکھا جائے۔ ہمیں چاہئے کہ ان مقدس زمانوں کے لوگوں سے بتقاضۂ بشریت ہونے والی لغزشوں کو نظر انداز کر دیں اور ان پر کسی قسم کی نقطہ چینی نہ کریں۔
11522
Sahih
۔ (۱۱۵۲۳)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ بَیْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَبَیْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ کَلَامٌ، فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ: تَسْتَطِیلُونَ عَلَیْنَا بِأَیَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِہَا، فَبَلَغَنَا أَنَّ ذٰلِکَ ذُکِرَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((دَعُوا لِی أَصْحَابِی، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَہَبًا مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۴۸)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ما بین کچھ تلخ کلامی سی ہوگئی، سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم ہمارے اوپر محض اس لیے زبان درازی کرتے ہو کہ تم ہم سے کچھ دن پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ جب اس بات کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے ہی میرے صحابہ کو کچھ نہ کہا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ یا کئی پہاڑوں کے برابر سونا بھی خرچ کردو تم ان کے اعمال یعنی درجوں تک نہیں پہنچ سکتے۔
Takhreej
(۱۱۵۲۳) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۳۸۱۲)
Explanation
فوائد:… صحابۂ کرام جس زمان و مکاں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتھ دیا، اپنا گھر بار چھوڑا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آنکھ کے اشارے پر جان و مال تک قربان کر دیا، بعد والے کسی دور کی قربانیوں کا ایسی نیکیوں سے موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔
11523
Sahih
۔ (۱۱۵۲۴)۔ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسٰی قَالَ: صَلَّیْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتّٰی نُصَلِّیَ مَعَہُ الْعِشَائَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَیْنَا، فَقَالَ: مَا زِلْتُمْ ہَاہُنَا، قُلْنَا: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُلْنَا: نُصَلِّی مَعَکَ الْعِشَائَ، قَالَ: ((أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ۔)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ قَالَ: وَکَانَ کَثِیرًا مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ، فَقَالَ: ((النُّجُومُ أَمَنَۃٌ لِلسَّمَائِ فَإِذَا ذَہَبَتِ النُّجُومُ أَتَی السَّمَائَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَۃٌ لِأَصْحَابِی فَإِذَا ذَہَبْتُ أَتٰی أَصْحَابِی مَا یُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِی أَمَنَۃٌ لِأُمَّتِی فَإِذَا ذَہَبَتْ أَصْحَابِی أَتٰی أُمَّتِیْ مَا یُوعَدُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۵)
سیدنا ابو موسیٰ اشعر ی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہم نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ ہم کچھ انتظار کر لیں اور آپ کی معیت میں عشاء کی نماز ادا کرکے جائیں۔ چنانچہ ہم انتظار کرنے لگے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم یہیں ٹھہرے رہے ؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! بس ہم نے سوچا کہ ہم عشاء کی نماز بھی آپ کی معیت میں ادا کرلیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول بھی تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اکثر آسمان کیطرف سر اٹھایا کرتے تھے،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ ستارے آسمان کے امین (نگران و محافظ)ہیں،جبیہ تارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ کیفیت طاری ہو جائے گی، جس کا اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، یعنی آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ میں بھی اپنے صحابہ کے لیے اسی طرح امین ہوں، جب میں دنیا سے چلا جائوں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے اور آزمائشیں آجائیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ بھی میری امت کے لیے امین اور محافظ ہیں، جب میرے صحابہ اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تو میری امت پر ان فتنوں کا دور شروع ہو جائے گا، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
Takhreej
(۱۱۵۲۴) تخریج: اخرجہ مسلم: ۲۵۳۱(انظر: ۱۹۵۶۶)
Explanation
فوائد:… اگرچہ صحابۂ کرام کے زمانے میں ہی فتنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا، لیکن ان پاکیزہ ہستیوں کا دور گزر جانے کے بعد جن بدعات، خرافات، آزمائشوں اور فتنوں کا سلسلہ شروع ہوا، اس کی دورِ صحابہ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
11524
Sahih
۔ (۱۱۵۲۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہَ اللّٰہَ فِیْ أَصْحَابِیْ، اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِیْ أَصْحَابِیْ لَا تَتَخِذُوْھُمْ غَرَضًا بَعْدِیْ، فَمَنْ أَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّیْ أَحَبَّہُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِیْ أَبْغَضَہُمْ، وَمَنْ أَذَاھُمْ فَقَدْ آذَانِیْ، وَمَنْ آذَانِیْ فَقَدْ آذَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَمَنْ آذَی اللّٰہَ فَیُوْشِکُ أَنْ یَأْخُذَہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۵۴)
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، تم میرے بعد انہیں سب وشتم اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا، پس جس نے ان سے محبت کی، تو دراصل اس نے میری محبت کی بنا پر ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو درحقیقت اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء دی، اس نے دراصل مجھے ایذاء پہنچائی، جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو دکھ پہنچایا تو اللہ عنقریب اس کا مؤاخذہ کرے گا۔
Takhreej
(۱۱۵۲۵) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ عبد الرحمن بن زیاد او عبد الرحمن بن عبد اللہ، اخرجہ الترمذی: ۳۸۶۲(انظر: ۲۰۵۷۸)
11525
Zaeef
۔ (۱۱۵۲۶)۔ عَنْ یُوْسُفَ بَنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّہٗ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَحْنُ خَیْرٌ اَمْ مَنْ بَعْدَنَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُھُمْ أُحُدًا ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِکُمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۳۶)
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا: ہم صحابہ افضل ہیںیا ہم سے بعد میں آنے والے لوگ؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بعد والوں میں سے کوئی آدمی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ تمہارے ایک مد یا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
Takhreej
(۱۱۵۲۶) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۳۸۳۵)
11526
Sahih
۔ (۱۱۵۲۷)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسُبُّوْا أَصْحَابِیْ فَاِنَّ أَحَدَکُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۹۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
Takhreej
(۱۱۵۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۷۳،ومسلم: ۲۵۴۰(انظر: ۱۱۰۷۹)
11527
Sahih
۔ (۱۱۵۲۸)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ اَشْیَمَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بِحَسْبِ أَصْحَابِی الْقَتْلُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۷۱)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرنا، کیونکہ ان کا مقام تو یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی آدمی جبل احد کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان صحابہ کے ایک مدیا نصف مد تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔
Takhreej
(۱۱۵۲۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۹۲، والبزار: ۳۲۶۳ (انظر: ۱۵۸۷۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی صحابی سے خطا ہو جائے اور وہ فتنوں کے دور کے قتال میں شریک ہو جائے اور پھر وہ اس لڑائی میں قتل ہو تو اس کا قتل اس کے لیے کفارہ ہو گا۔ امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے ایک شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں بہت کچھ ہو گا۔ ہم نے کہا:اگر ہم نے یہ زمانہ پایا تو ہم تو ہلاک ہو جائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کے لیے قتل کا فتنہ ہی کافی ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ان فتنوں میں لوگ جلدی جلدی فنا ہوں گے۔ (طبرانی، بزار) (صحیحہ: ۱۳۴۶)
11528
Sahih
۔ (۱۱۵۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ اللّٰہَ نَظَرَ فِی قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَاصْطَفَاہُ لِنَفْسِہِ فَابْتَعَثَہُ بِرِسَالَتِہِ، ثُمَّ نَظَرَ فِی قُلُوبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِہِ خَیْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَہُمْ وُزَرَائَ نَبِیِّہِ یُقَاتِلُونَ عَلٰی دِینِہِ، فَمَا رَأَی الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ، وَمَا رَأَوْا سَیِّئًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ سَیِّئٌ۔ (مسند احمد: ۳۶۰۰)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو اس نے قلب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تمام انسانوں کے قلوب میں بہتر پایا، اس لیے اس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور ان کو رسالت کے ساتھ مبعوث کیا۔ پھر اس نے اس دل کے انتخاب کے بعدباقی بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی اوراصحاب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قلوب کو تمام انسانوں کے قلوب سے بہتر پایا، اس لیے اس نے انہیں اپنے نبی کے وزراء ( اورساتھی) بنا دیا،جو اس کے دین کے لیے قتال کرتے ہیں۔ پس مسلمان جس بات کو بہتر سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بہتر ہی ہوتی ہے اور مسلمان جس بات کو برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہی ہوتی ہے۔ 1
Takhreej
(۱۱۵۲۹) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ البزار: ۱۳۰، والطبرانی فی الکبیر : ۸۵۸۲ (انظر: ۳۶۰۰)
11529
Sahih

Chapters

144
01
صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
8 Hadith
02
انصار کے فضائل و مناقب
24 Hadith
03
انصار کے بہترین گھرانوں کا تذکرہ
2 Hadith
04
انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
05
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
14 Hadith
06
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
7 Hadith
07
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
1 Hadith
08
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
1 Hadith
09
صحابۂ کرام کی ایک جماعت کے بعض خصائص
3 Hadith
10
خواتین صحابہF کی ایک جماعت کے مشترکہ خصائص
3 Hadith
11
عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہ کے فضائل
3 Hadith
12
نُجَبَائ، ابدال اور اصحاب صفہ کاتذکرہ
3 Hadith
13
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
9 Hadith
14
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
10 Hadith
15
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
16
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
17
سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
18
اصیرم بن عبدالاشھل یعنی عمرو بن ثابت بن وقش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
1 Hadith
19
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
9 Hadith
20
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
21
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
22
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
23
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
24
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
25
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
26
سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ
5 Hadith
27
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
28
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پھوپھی زاد سیدنا حارثہ بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
1 Hadith
29
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
30
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی فضیلت اور ان کا واقعہ
3 Hadith
31
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
32
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
33
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
34
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
35
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
36
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
37
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
2 Hadith
38
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
39
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
40
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
41
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
2 Hadith
42
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
43
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
44
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
45
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
46
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
2 Hadith
47
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
48
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
49
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
50
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
8 Hadith
51
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
52
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
10 Hadith
53
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ابو عبدالرحمن سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
54
سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
5 Hadith
55
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
56
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
3 Hadith
57
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
58
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
59
سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
60
سیدنا ضماد ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان
1 Hadith
61
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
62
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
63
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
64
سیدنا عامر بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
65
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
66
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
67
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
68
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
69
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
70
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
71
ذوالبجادین سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
72
سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
73
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
74
سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
75
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
13 Hadith
76
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کی فصل
2 Hadith
77
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
78
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
3 Hadith
79
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
80
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
81
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
82
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
83
سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
84
سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
85
سیدنا عروہ بن ابی جعد بارقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
86
سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
87
سیدنا علاء بن الحضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
88
سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
89
سیدنا عمرو بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
90
نابینا صحابی سیدنا عمر وبن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
91
سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
92
سیدنا عمرو بن جموح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
1 Hadith
93
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
94
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
10 Hadith
95
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
96
سیدنا فرات بن حیان عجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
97
سیدنا قتادہ بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
98
سیدنا معاویہ بن قرہ مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا قرہ بن ایاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
99
سیدنا کعب بن مالک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
100
سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
101
سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
102
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
103
سیدنا معن بن یزید سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
104
سیدنا مقداد بن اسود کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
105
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
106
سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا صدی بن عجلان تھا
1 Hadith
107
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
108
سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
109
سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
110
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
12 Hadith
111
سیدناابوزیدانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
6 Hadith
112
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
8 Hadith
113
سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
114
سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
115
سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
116
سیدنا ابو عامر عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
117
امین الامہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
118
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کابیان
1 Hadith
119
سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
4 Hadith
120
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
7 Hadith
121
سیدنا ابو مالک عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
122
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
123
سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
124
سیدہ اسما بنت ابی بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
125
سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
126
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی سیدہ امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
127
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
128
سیدہ درہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
129
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
10 Hadith
130
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
131
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
132
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
133
سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
134
سیدہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
135
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
3 Hadith
136
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ کی خاتون ہیں اور یہ ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
1 Hadith
137
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
7 Hadith
138
اویس قرنیlکا تذکرہ
2 Hadith
139
سفیان بن عینیہlکا تذکرہ
1 Hadith
140
زید بن عمرو بن نفیل کا تذکرہ
1 Hadith
141
امام مالک بن انسlکا تذکرہ
1 Hadith
142
حبشہ کے بادشاہ نجاشیlکا تذکرہ
2 Hadith
143
ورقہ بن نوفل کا تذکرہ
1 Hadith
144
ابن جریجlکا تذکرہ
1 Hadith
No chapter matched that.