TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1160 - مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 15 in this chapter
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
۔ (۱۱۶۰)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا سَمَرَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ یَعْنِی الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ اِلَّا لِأَحَدِ رَجُلَیْنِ مُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ)) (مسند أحمد: ۳۶۰۳)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازِ عشا کے بعد گفتگو کرنا نہیں ہے، ما سوائے دو آدمیوں کے، نمازی اور مسافر۔
1160
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۱۶۰) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابویعلی: ۵۳۷۸، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۵۱۹(انظر: ۳۶۰۳)

Related Chapters

1,439
1
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
3
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
Musnad Ahmad
4
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
(18) CHAPTER. The time of the Maghrib prayer (evening prayer).
مغرب کی نماز کے وقت کا بیان
Sahih Bukhari
6
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
Sahih Muslim
7
Chapter: The Time Of The Maghrib Prayer
نماز مغرب کا وقت
Sunnan Ibn e Maja
8
پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
مسافر کے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
(96)Chapter: What Has Been Related About Al-Mustahadah That She Is To Perform Ghusl For Every Salat
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Time For Maghrib
باب: مغرب کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Time For The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Misses Multiple Prayers And Which Of Them He Begin With
باب: کئی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو آدمی پہلے کون سی پڑھے؟
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Salat Before Maghrib
باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Is Said During The Opening Of The Salat
باب: نماز شروع کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Salat When Sleepy
باب: اونگھتے وقت نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Salat At The (Time Of) Az-Zawal
باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے وقت کی نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Time For The Friday Prayer
باب: نماز جمعہ کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: About It Being Disliked For The People To Wait For The Imam While They Are Standing At The Beginning Of The Prayer
باب: نماز شروع کرنے کے وقت کھڑے ہو کر امام کے انتظار کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Mentioned About Salat After Maghrib Is More Virtuous In The House
باب: مغرب کے بعد کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Pray The Funeral Salat While The Sun Is Rising And While It Is Setting
باب: سورج نکلنے اور اس کے ڈوبنے کے وقت نماز جنازہ پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Not Performing The Salat For The Child Until One Is Sure He Was Alive At Birth
باب: جنین (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی نماز نہ پڑھنے کا بیان جب تک کہ وہ ولادت کے وقت نہ روئے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Where The Imam Is To Stand For the Man And For The Women
باب: مرد اور عورت دونوں ہوں تو امام نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
29
باب: پانچوں نمازوں کی مثال
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Supplication At The Opening Of The Salat At Night
باب: نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
31
بَاب تَعْجِيل الصَّلَوَات
اول وقت نماز پڑھنے کا بیان
Mishkat
32
نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم
Musnad Ahmad
33
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
Musnad Ahmad
34
نماز کی فرضیت اور اس کے فرض ہونے کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
35
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
36
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
37
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
38
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
39
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
40
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
42
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
43
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
44
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
Musnad Ahmad
45
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
Musnad Ahmad
47
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
Musnad Ahmad
48
ظہر اور دوسری نمازوں میں قنوت کا بیان
Musnad Ahmad
49
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
50
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

466
Musnad Ahmad
1078
۔ (۱۰۷۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ أَنَّ الرَّجُلَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَۃَ عَنِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَاکَ الشَّیْطَانُ بَالَ فِیْ أُذُنِہِ، أَوْ فِیْ أُذُنَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۳۵۵۷)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: بیشک فلاں آدمی آج رات نماز سے بھی سویا رہا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: شیطان اس آدمی کے کانوں میں پیشاب کر گیا۔
Musnad Ahmad
1101
۔ (۱۱۰۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْروِ (بْنِ الْعَاصِ)ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَقْتُ الظُّہْرِ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُوْلِہِ مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْمَغْرِبَ مَا لَمْ یَغْرُبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْعِشَائِ اِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَاِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِکْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرَنَیِ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۶۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے سے آدمی کو سایہ اس کے قد کے برابر ہونے تک ہے، یعنی عصر کا وقت شروع ہونے تک، نمازِ عصر کا وقت سورج کے زرد ہونے تک ہے، مغرب کی نماز کا وقت شَفَق کے غروب ہونے تک ہے،عشا کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک ہے، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جا، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوںکے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔
Musnad Ahmad
13059
۔ (۱۳۰۵۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ قَالَ: کَتَبَ اِلَیَّ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ حَمْزَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ بْنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ کَتَبْتُ اِلَیْکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَقَدْ عَرَضْتُہُ وَجَمَعْتُہُ عَلٰی مَا کَتَبْتُ بِہٖاِلَیْکَ، فَحَدِّثْ بِذٰلِکَ عَنِّیْ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ الْحِزَامِیُّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَیَّاشٍ السَّمْعِیُّ الْاَنْصَارِیُّ الْقِبَائِیُّ مِنْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ عَنْ دَلْھَمِ بْنِ الْاَسْوَدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ حَاجِبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ الْعُقَیْلِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَمِّہِ لَقِیْطِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ دَلْھَمٌ: وَحَدَّثَنِیْہِ اَبُوْ الْاَسْوَدِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِیْطٍ اَنَّ لَقِیْطًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَرَجَ وَافِدًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ صَاحِبٌ لَہُ یُقَالُ لَہُ نُہَیْکُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ مَالِکِ ابْنِ الْمُنْتَفِقِ، قَالَ لَقِیْطٌ: فَخَرَجْتُ اَنَا وَصَاحِبِیْ حَتّٰی قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاِنْسِلَاخِ رَجَبَ، فَاَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَافَیْنَاہُ حِیْنَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَقَامَ فِی النَّاسِ خَطِیْبًا فَقَالَ: ((اَیُّہَا النَّاسُ! اَلَا اِنِّی قَدْ خَبَاْتُ لَکُمْ صَوْتِیْ مُنْذُ اَرْبَعَۃَ اَیَّامٍ اَلَا لَاَسْمَعَنَّکُمْ ، اَلَا فَہَلْ مِنَ امْرِیئٍ، بَعَثَہُ قَوْمُہُ۔)) فَقَالُوْا: اِعْلَمْ لَنَا مَا یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ اَلَا ثُمَّ لَعَلَّہُ اَنْ یُّلْہِیَہُ حَدِیْثُ نَفْسِہِ اَوْ حَدِیْثُ صَاحِبِہٖاَوْیُلْہِیْہِ الضَّلاَلُ، اِنِّی مَسْؤُلٌ ھَلْ بَلَّغْتُ، اَلَا اِسْمَعُوْا تَعِیْشُوْا، اَلَا اِجْلِسُوْا، اَلَا اِجْلِسُوْا۔)) قَالَ: فَجَلَسَ النَّاسُ وَقُمْتُ اَنَا وَصَاحِبِیْ حَتّٰی اِذَا فَرَغَ لَنَا فُؤَادُہُ وَبَصَرُہُ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاعِنْدَکَ مِنْ عِلْمِ الْغَیْبِ فَضَحِکَ لَعَمْرُ اللّٰہِ وَھَزَّ رَاْسَہُ وَعَلِمَ اَنِّیْ اَبْتَغِیْ لِسَقَطِہٖفَقَالَ: ((ضَنَّرَبُّکَعَزَّوَجَلَّمَفَاتِیْحَ خَمْسٍ مِّنَ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَا اِلَّا اللّٰہُ وَاَشَارَ بِیَدِہٖ۔)) قُلْتُ: وَمَا ھِیَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عِلْمُ الْمَنِیَّۃِ قَدْ عَلِمَ مَنِیَّۃَ اَحَدِکُمْ وَلَا تَعْلَمُوْنَہُ، وَعَلِمَ الْمَنِیَّ حِیْنَیَکُوْنُ فِی الرَّحْمِ قَدْ عَلِمَہُ وَلَا تَعْلَمُوْنَہُ، وَعَلِمَ مَا فِی غَدٍ وَمَا اَنْتَ طَاعِمٍ غَدًا وَلَاتَعْلَمُہُ، وَعَلِمَ الْیَوْمَ الْغَیْثَیُشْرِفُ عَلَیْکُمْ آزِلِیْنَ آدِلِیْنَ مُشْفِقِیْنَ فَیَظِلُّیَضْحَکُ، قَدْ اَعْلَمُ اَنَّ نَمِیْرَکُمْ اِلٰی قُرْبٍ۔)) قَالَ لَقِیْطٌ: لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ یَضْحَکُ خَیْرًا ، وَعَلِمَ یَوْمَ السَّاعَۃِ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنَا مِمَّا تُعْلِّمُ النَّاسُ وَمَا تَعْلَمُ فَاَنَا مِنْ قَبِیْلٍ لَایُصَدِّقُوْنَ تَصْدِیْقِنَا اَحَدٌ مِنْ مَذْجَحِ الَّتِیْ تَرْبُوْ عَلَیْنَا وَخَثْعَمَ الَّتِیْ تُوَالِیْنَا وَعَشِیْرَتُنَا الَّتِیْ نَحْنُ مِنْہَا ، قَالَ: ((تَلْبَثُوْنَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ یُتَوَفّٰی نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ تَلْبَثُوْنَ مَا لَبِثْتُمْ ثُمَّ تُبْعَثُ الصَّائِحَۃُ لَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَاتَدَعُ عَلٰی ظَہْرِھَا مِنْ شَیْئٍ اِلَّا مَاتَ وَالْمَلَائِکَۃُ الَّذِیْنَ مَعَ رَبِّکَ عَزَّوَجَلَّ، فَاَصْبَحَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ یَطِیْفُ فِی الْاَرْضِ وَخَلَتْ عَلَیْہِ الْبِلَادُ، فَاَرْسَلَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلََّ السَّمَائَ، تَہْضِبُ مِنْ عِنْدِ الْعَرْشِ، فَلَعَمْرُ اِلٰہِکَ مَاتَدَعُ عَلٰی ظَہْرِھَا مِنْ مَصْرَعِ قَتِیْلٍ وَلَا مَدْفَنِ َمیِّتٍ اِلَّاشَقَّتِ الْقَبْرُ عَنْہُ حَتّٰی تَجْعَلَہُ مِنْ عِنْدِ رَاْسِہِ فَیَسْتَوِیْ جَالِسًا فَیَقُوْلُ رَبُّکَ: مَہْیَمْ لِمَا کَانَ فِیْہِ،یَقُوْلُ: یَا رَبِّ اَمْسٰی الْیَوْمُ وَلِعَہْدِہِ بِالْحَیَاۃِیَحْسِبُہُ حَدِیْثًا بِاَھْلِہٖ۔))فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَیَجْمَعُنَا بَعْدَ مَاتَمَزَّقَنَا الرِّیَاحُ وَالْبِلٰی وَالسِّبَاعُ؟ قَالَ: ((اُنَبِّئُکَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ فِیْ آلَائِ اللّٰہِ، اَلْاَرْضُ اَشْرَفْتَ عَلَیْہَا وَھِیَ مَدَرَۃٌ بَالِیَۃٌ، فَقُلْتَ لَاتَحْیَا اَبَدًا، ثُمَّ اَرْسَلَ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہَا السَّمَائَ، فَلَمْ تَلْبَثْ عَلَیْکَ اِلَّا اَیَّامًا حَتّٰی اَشْرَفْتَ عَلَیْہَا وَھِیَ شَرْبَۃٌ وَاحِدَۃٌ وَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ لَھُوَ اَقْدَرُعَلٰی اَنْ یَجْمَعَہُمْ مِنَ الْمَائِ عَلٰی اَنْ یَجْمَعَ نَبَاتَ الْاَرْضِ فَیَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَصْوَائِ اَوْ مِنْ مَصَارِعِہِمْ فَتَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ وَیَنْظُرُ اِلَیْکُمْ۔))قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ نَحْنُ مِلْأُ الْاَرْضِ وَھُوَ شَخْصٌ وَاحِدٌ نَنْظُرُ اِلَیْہِ وَیَنْظُرُ اِلَیْنَا؟ قَالَ: ((اُنَبِّئُکَ بِمِثْلِ ذٰلِکَ فِیْ آلَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آیَۃٌ مِنْہُ صَغِیْرَۃٌ تَرَوْنَہُمَا وَیَرَیَانِکُمْ سَاعَۃً وَاحِدَۃً لَاتُضَارُّوْنَ فِیْ رُؤْیَتِہِمَا، وَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ لَھُوَ اَقْدَرُ عَلٰی اَنْ یَّراکُمْ وَتَرَوْنَہُ مِنْ اَنْ تَرَوْنَہُمَا وَیَرَیَانِکُمْ لَاتُضَارُّوْنَ فِیْ رُوْیَتِہِمَا۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا یَفْعَلُ بِنَا رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ اِذَا لَقِیْنَاہُ قَالَ: ((تُعْرَضُوْنَ عَلَیْہِ بَادِیَۃٌ لَہُ صَفَحَاتُکُمْ، لاَیَخْفٰی عَلَیْہِ مِنْکُمْ خَافِیَۃٌ فَیَاْخُذُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ بِیَدِہٖ غُرْفَۃً مِّنَ الْمَائِ فَیَنْضَحُ قَبِیْلَکُمْ بِہَا فَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَاتُخْطِیُٔ وَجْہَ اَحَدِکُمْ مِنْہَا قَطْرَۃٌ، فَاَمَّا الْمُسْلِمُ فَتَدَعُ وَجْہَہُ مِثْلَ الرَّیْطَۃِ الْبَیْضَائِ وَاَمَّا الْکَافِرُ فَتَخْطِمُہُ مِثْلَ الْحَمِیْمِ الْاَسْوَدِ، اَلَا ثُمَّ یَنْصَرِفُ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَفْتَرِقُ عَلٰی اِثْرِہِ الصَّالِحُوْنَ فَیَسْلُکُوْنَ جَسْرًا مِّنَ النَّارِ، فَیَطَاُ اَحَدُکُمُ الْجَمْرَ فَیَقُوْلُ: حَسٍّ، یَقُوْلُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ: اَوَاَنُہُ، اَلَا فَتَطْلُعُوْنَ عَلٰی حَوْضِ الرَّسُوْلِ عَلٰی اَظْمَاِ وَاللّٰہِ نَاھِلَۃٍ عَلَیْھَا قَطُّ مَا رَأَیْتُھَا فَلَعَمْرُ اِلٰھِکَ مَا یَبْسُطُ وَاحِدٌ مِنْکُمْ یَدَہُ اِلَّا وُضِعَ عَلَیْھَا قَدْحٌ یُطَھِّرُہُ مِنَ الطَّوْفِ وَالْبَوْلِ وَالْاَذٰی وَتُحْبَسُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَلَاتَرَوْنَ مِنْہُمَا وَاحِدًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَبِمَا نَبْصُرُ قَالَ: ((بِمِثْلِ بَصَرِکَ سَاعَتَکَ ہٰذِہٖوَذٰلِکَقَبْلَطُلُوْعِالشَّمْسِفِییَوْمٍاَشْرَقَتْہُ الْاَرْضُ وَاجَہَتْ بِہِ الْجِبَالُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نُجْزٰی مِنْ سَیِّئَاتِنَا وَحَسَنَاتِنَا قَالَ: ((اَلْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا، وَالسَّیِّئَۃُ بِمِثْلِہَا اِلَّا اَنْ یَّعْفُوَ۔)) قَالَ:قُلْتُ: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! اَمَّا الْجَنَّۃُوَاَمَّا النَّارُ؟ قَالَ: ((لَعَمْرُ اِلٰہِکَ اِنَّ لِلنَّارِ لَسَبْعَۃَ اَبْوَابٍ ، مَا مِنْہُنَّ بَابَانِ اِلَّا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ بَیْنَہُمَا سَبْعِیْنَ عَامًا، وَاِنَّ لِلْجَنَّۃِ لَثَمَانِیَۃَ اَبْوَابٍ، مَا مِنْہُمَا بَابَانِ اِلَّا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ بَیْنَہُمَا سَبْعِیْنَ عَامًا۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَعَلٰی مَا نَطَّلِعُ مِنَ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((عَلٰی اَنْہَارٍ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفّٰی وَاَنْہَارٍ مِّنْ کَاْسٍ مَا بِہَا مِنْ صُدَاعٍ وَلَانَدَامَۃٍ، وَاَنْہَارٍ مِّنْ لَبَنٍ لَمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہُ، وَمَائٍ غَیْرِ آسِنٍ، وَبِفَاکِہَۃٍ لَعَمْرُ اِلٰہِکَ مَا تَعْلَمُوْنَ وَخَیْرٌ مِنْ مِثْلِہِ مَعَہُ وَاَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَنَا فِیْہَا اَزْوَاجٌ اَوْ مِنْہُنَّ مُصْلِحَاتٌ؟ قَالَ: ((اَلصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِیْنَ تَلَذُّوْا بِہِنَّ مِثْلَ لَذَّاتِکُمْ فِی الدُّنْیَا وَیَلْذَذْنَ بِکُمْ غَیْرَ اَنْ لَاتَوَالُدَ۔)) قَالَ لَقِیْطٌ: فَقُلْتُ: اَقْصٰی مَا نَحْنُ بَالِغُوْنَ مُنْتَہُوْنَ اِلَیْہِ، فَلَمْ یُجِبْہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلٰیمَا اُبَایِعُکَ قَالَ: فَبَسَطَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَقَالَ: ((عَلٰی اِقَامِ الصَّلَاۃِ وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَزِیَالِ الْمُشْرِکِ وَاَنْ لَاتُشْرِکْ بِاللّٰہِ اٰلِھًا غَیْرَہُ۔)) قُلْتُ: وَاِنَّ لَنَا مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، فَقَبَضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ وَظَنَّ اَنِّیْ مُشْتَرِطُ شَیْئًا لَایُعْطِیْنِیْہِ قَالَ: قُلْتُ: نَحِلُّ مِنْہَا حَیْثُ شِئْنَا وَلَایَجْنِیْ امْرِئٌ اِلَّا عَلٰی نَفْسِہِ، فَبَسَطَ یَدَہُ وَقَالَ: ((ذٰلِکَ لَکَ تَحِلُّ حَیْثُ شِئْتَ وَلَایَجْنِیْ عَلَیْکَ اِلَّا نَفْسُکَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْنَا عَنْہُ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذَیْنِ لَعَمْرُ اِلٰھِکَ مِنْ اَتْقٰی النَّاسِ فِی الْاُوْلٰی وَالْآخِرَۃِ۔)) فَقَالَ لَہُ کَعْبُ بْنُ الْخُدْرِیَّۃِ اَحَدُ بَنِیْ بَکْرٍ مِنْ کِلَابٍ: مَنْ ہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بَنُوْ الْمُنْتَفِقِ اَھْلُ ذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْنَا وَاَقْبَلْتُ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لِاَحَدٍ مِّمَنْ مَضٰی مِنْ خَیْرٍ فِیْ جَاھِلِیَّتِہِمْ قَالَ: ((قَالَ رَجُلٌ مِنْ عُرْضِ قُرَیْشٍ وَاللّٰہِ اِنَّ اَبَاکَ الْمُنْتَفِقَ لَفِی النَّارِ۔)) قَالَ: فَلَکَاَنَّہُ وَقَعَ حَرٌّ بَیْنَ جِلْدِیْ وَوَجْہِیْ وَلَحْمِیْ مِمَّا قَالَ لِاَبِیْ عَلٰی رُؤُوْسِ النَّاسِ، فَہَمَمْتُ اَنْ اَقُوْلَ وَاَبُوْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ اِذَا الْاُخْرٰی اَجْہَلُ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاَھْلُکَ قَالَ: ((وَاَھْلِیْ لَعَمْرُ اللّٰہِ مَا اَتَیْتَ عَلَیْہِ مِنْ قَبْرِعَامِرِیٍّ اَوْ قُرَشِیِّ مِنْ مُشْرِکٍ فَقُلْ اَرْسَلَنِیْ اِلَیْکَ مُحَمَّدٌ فَاُبَشِّرُکَ بِمَا یَسُوْئُ کَ تُجَرُّ عَلٰی وَجْہِکَ وَبَطْنِکَ فِی النَّارِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَافَعَلَ بِہِمْ ذٰلِکَ وَقَدْکَانُوْا عَلٰی عَمَلٍ لَایُحْسِنُوْنَ اِلَّا اِیَّاہُ وَکَانُوْا یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ مُصْلِحُوْنَ، قَالَ: ((ذٰلِکَ لِاَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بَعَثَ فِی آخِرِ کُلِّ سَبْعِ اُمَمٍ یَعْنِیْ نَبِیًّا فَمَنْ عَصٰی نَبِیَّہُ کَانَ مِنَ الضَّالِّیْنَ وَمَنْ اَطَاعَ نَبِیَّہُ کَانَ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۰۷)
عاصم بن لقیط کہتے ہیں: بیشک سیدنا لقیط، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ ان کا ایک ساتھی بھی تھا، اس کا نام نہیک بن عاصم بن مالک بن منتفق تھا، سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میںاور میرا ساتھی رجب کا مہینہ گزرنے کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف روانہ ہوئے، جب ہم جب وہاں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں فرمایا: لوگو! خبردار! میں چار دنوں سے اپنی آواز تم لوگوں سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھا، اب میں ضرور تم سے کچھ باتیں کروں گا۔ خبر دار! کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا آدمی بھی ہے، جسے اس کی قوم نے یہاں بھیجا ہو؟اور کہا ہو کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو کچھ بیان کریں اسے یاد کر لینا؟ خبردار ممکن ہے کہ اس آدمی کو اس کے خیالات یا اس کے ساتھی کی کوئی بات یا گمراہی غافل کر دے۔ خبردار! مجھ سے اس بات کی پوچھ گچھ ہوگی کہ میں نے یہ باتیں تم لوگوں تک پہنچا دی ہیں یا نہیں؟ خبردار! غور سے سنو! تم میرے بعد عرصہ تک زندگی گزار و گے۔ خبردار! بیٹھ جاؤ، خبردار! بیٹھ جاؤ۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں : آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان سن کر لوگ بیٹھ گئے، میں اور میرا ساتھی کھڑے ہوگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دل اور نگاہ ہمارے لیے فارغ ہوگئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر طرف سے فارغ ہو کر مکمل طور پر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو میںنے کہا: اللہ کے رسول ! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس علم غیب میں سے کیا کچھ ہے؟ اللہ کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری بات سن کر مسکرا دئیے، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سر کو حرکت دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جان گئے کہ میں آپ سے کوئی ایسی بات پوچھنا چاہتا ہوں جو آپ کے علم میں نہیں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے رب نے غیب کی پانچ چیزوں کے علم کی چابیاں اپنے پاس رکھی ہیں، ان پانچ چیزوں کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ سے پانچ کا اشارہ کیا، میں نے کہا: وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: (۱) موت کا علم، وہ تمہاری موت کے وقت کو جانتا ہے اور تم اسے نہیں جانتے، (۲) منی کا علم، جب وہ ماں کے رحم میں ہوتی ہے، وہ اس کے مستقبل کے بارے میں ہر بات جانتا ہے، لیکن اسے تم نہیں جانتے، (۳)کل یعنی مستقبل کا علم کہ تم آئندہ کیا کچھ کھاؤ گے، اس کے متعلق تم کچھ نہیں جانتے، (۴) وہ بارش کا علم رکھتا ہے، جب وہ تم پر جھانکتا ہے، جبکہ تم (بارش نہ ہونے کی وجہ سے) محبوس، بوجھ والے اور ڈرنے والے ہوتے ہو، وہ تمہاری یہ حالت دیکھ کر ہنس رہا ہوتا ہے اور جانتا ہوتا ہے کہ تمہاری سیرابی قریب ہے۔ یہ سن کر سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جو رب ہنستا ہے، ہم اس کی رحمتوں سے محروم نہیں رہیں گئے۔ اور(۵) قیامت کا علم۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ لوگوں کو جو تعلیم دیتے ہیں اور خود جو علم رکھتے ہیں، اس میں سے ہمیں بھی سکھائیں، میں ایسے لوگوں میں سے آیا ہوں، جو ہماری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق نہیں کرتے، ایک تو قبیلہ مذ حج ہے، وہ ہم سے بالائی جانب رہتا ہے اور دوسرا قبیلہ خثعم کا ہے، وہ ہمارا حلیف ہے اور اسی طرح ہمارا قبیلہ ہے، جس سے ہم ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو جب تک منظور ہوگا، تم دنیا میں رہو گے، پھر تمہارے نبی کی وفات ہو جائے گی، اس کے بعد تم یہاں اس وقت تک رہو گے، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، اس کے بعد ایک زبردست قسم کی چیخ کی آواز آئے گی، جس کی شدت سے روئے زمین پر موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی، حتیٰ کہ جو فرشتے تمہارے رب کے ساتھ ہیں، وہ بھی مرجائیں گے، تمہارا رب زمین پر گھومے گا، سارے علاقے روح والی اشیاء سے خالی ہوچکے ہوں گے، پھر تمہارا رب آسمان کو ڈھیلا چھوڑ دے گا اور عرش کے قریب سے بارش برسے گی، اس کے نتیجے میں زمین پر جہاں بھی کوئی مقتول گرا ہوگا یا کوئی میت مدفون ہوگی، ان کی قبریں پھٹ جائیں گی، یہاں تک کہ وہ سر کی جانب سے اٹھ کر سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں گے، تمہارا رب ان سے پوچھے گا: کیا ہوا؟ وہ پہلے جس کیفیت میں تھا، اس سے موجودہ حالت میں آنے پر وہ کہے گا:اے میرے رب ! آج میرے لیے یہ دن آیا ہے، وہ چونکہ اس سے پہلے زندگی گزار چکا ہوگا، اس لیے وہ اسے اپنے اہل و عیال کی ملاقات کا ذریعہ سمجھے گا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! ہمارے مرنے کے بعد جب کہ ہوائیں، بوسیدگی اور درندے ہمیں ریزہ ریزہ کر چکے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ہمیں کیسے دوبارہ جمع کر ے گا؟ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ایک مثال کے ذریعے سمجھاتا ہوں، تم زمین کو دیکھتے ہو، یہ سخت اور بنجرہوچکی ہوتی ہے، تم یہ سمجھ رہے ہوتے ہو کہ اب یہ کبھی بھی آباد نہیں ہو سکے گی، پھر تمہارا رب بارش برسا دیتا ہے اور کچھ ہی دنوں بعد تم دیکھتے ہو کہ وہ پودوں کے اگنے سے سر سبزہو چکی ہوتی ہے، تمہارے اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کے لیے زمین کی نباتات کو اگانے اور پیدا کرنے کے مقابلے میں ان لوگوں کو پانی سے پیدا کرنا آسان تر ہے، یہ لوگ ہواؤں اور قبروں کے درمیان سے نکل رہے ہوں گے اور تم اللہ تعالیٰ کو اور وہ تمہیں دیکھ رہا ہوگا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! انسانوں سے تو پوری زمین بھری ہوئی ہوگی اور اللہ تعالیٰ ایک مقام پر ایک وجود ہوگا،اس لیے یہ کیسے ممکن ہو گا کہ بیک وقت ہم اسے دیکھ لیں اور وہ ہمیں دیکھ لے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیںاللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مثال کے ذریعے بتلاتا ہوں، سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی چھوٹی سی نشانیاں ہیں، تم انہیں اور وہ تمہیں بیک وقت دیکھ رہے ہوتے ہو، اور ان کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت بھی پیش نہیں آتی، تمہارے اللہ کی قسم ! جس طرح تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے اور سورج چاند کے تمہیں دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت پیش نہیں آتی، اس دن اللہ تعالیٰ تمہیں اور تم اس کو اس سے بھی زیادہ آسانی سے دیکھنے پر قادر ہو گے۔ سیدنالقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم اپنے رب سے ملاقات کریں گے تو وہ ہمارے ساتھ کیسا برتاؤ کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: تم سب کو اس کے سامنے پیش کیا جائے گا اور تم میں سے کسی کا بھی چہرہ اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکے گا، تب تمہارا رب پانی کا ایک چلو لے کر اسے تمہاری طرف پھینکے گا، تمہارے اللہ کی قسم! اس میں سے ایک قطرہ بھی تمہارے چہروں سے ادھر اُدھر نہیں جائے گا، جس قدرمسلمان ہوں گے، اس پانی کی برکت سے ان کے چہرے نرم ، ملائم اور چمکدار ہوجائیں گے اور وہ پانی کافروں کی ناک کو سیاہ کوئلے کی مانند کر دے گا، اس کے بعد تمہارا نبی ایک طرف کو جائے گا اور نیک لوگ اس کے پیچھے پیچھے جاتے ہوئے آگ کے ایک پل پر چلیں گے، پھر تم میں سے کوئی آگ کے انگاروں کو روندے گا اور ہائے ہائے کی آواز نکالے گا،اس کے بعد تمہیں شدید پیاس لگی ہوگی اور تم اپنے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حوض ِ کوثر پر پہنچو گے، اللہ کی قسم وہاں پینے کے لیے اس قدر وافر پانی ہوگا کہ میںنے آج تک اتنا پانی نہیں دیکھا۔ تمہارے اللہ کی قسم! تم میں سے جو بھی آدمی پانی کے لیے ہاتھ بڑھائے گا، اس پر پانی سے بھر اہوا ایک پیالہ رکھ دیا جائے گا۔ وہ پانی اسے پاخانے، پیشاب ، اور دیگر نجاستوں سے پاک کردے گا، سورج اور چاند کو محبوس کر دیاجائے گا اور تم ان میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھ سکو گے۔ سیدنالقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم دیکھیں گے کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ا س وقت اسی طرح دیکھو گے، جیسے اب دیکھ رہے ہو، و ہ اس قسم کی کیفیت ہوگی جیسے سورج طلوع ہونے سے کچھ دیر قبل سورج کی روشنی پہاڑوں پر پڑے تو زمین جس طرح روشن ہوتی ہے۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں :میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہمارے گناہوں اور نیکیوں کا بدلہ کیسے دیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نیکی کا دس گنا اور ہر گناہ کا اس کے برابر بدلہ ملے گا، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جنت اور جہنم کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اللہ کی قسم! جہنم کے سات دروازے ہیں، ہر دو دروازوں کے درمیان اتنی مسافت ہے کہ ایک سوار ستر سال میں وہ فاصلہ طے کرتا ہے اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اس کے بھی دو دروازوں کے درمیان اس قدر مسافت ہے کہ ایک سوار ستر سال میں اس مسافت کر طے کرتا ہے۔ میںنے کہا: اللہ کے رسول! ہم جنت میں کیا کچھ دیکھیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہاں صاف شفاف شہد کی نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں ایسی عمدہ شراب کی نہریں ہوںگی کہ جس کے پینے کے بعد نہ تو سر درد ہوگا اور نہ ندامت اور وہاں صاف دودھ کی نہریں ہوں گی، وہ ایسا دودھ ہوگا کہ اس کا ذائقہ کبھی بھی تبدیل نہیں ہوگا اور پانی کی نہریں ہوں گی، وہ پانی ایسا ہوگا کہ جو کبھی بھی باسی نہیں ہوگا اور تمہارے اللہ کی قسم! وہاں ایسے پھل ہوں گے جنہیں تم (نام سے) جانتے ہو اور ان کے علاوہ ان سے بھی عمدہ پھل ہوں گے اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ میںنے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا جنت میں ہماری بیویاں ہوں گی یا ان میں سے نیک ہوں گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صالحین کے لیے صالحات ہوگی، تم ان سے وہاں اس طرح لطف اندوز ہوگے، جیسے تم ان سے اس دنیا میں لطف اندوز ہوتے ہو اور وہ بھی تم سے لطف اندوز ہوں گی، البتہ ولادت کا کوئی سلسلہ نہیں ہوگا۔ میں نے کہا: تب تو وہ سب کچھ ہوگا جس کی ہم زیادہ سے زیادہ تمنا کرسکتے ہیں؟ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کچھ جواب نہیں دیا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کن باتوں پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلا کر فرمایا: باقاعدگی سے نماز ادا کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے، مشرک سے جدا رہنے اور اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، ان سب امور پر بیعت کرو۔ میں نے کہا: اس کے نتیجے میں مشرق سے مغرب تک کا سارا علاقہ یعنی روئے زمین ہماری ہوگی۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ واپس کر لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سمجھا کہ شاید میں کوئی ایسی شرط لگانے والا ہوں، جس کا آپ مجھ سے وعدہ نہیں کرسکیں گے، میں نے کہا: ہم پوری زمین پر جہاں چاہیں گے جائیں گے، لیکن ہر کوئی اپنا ذمہ دار خود ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر آدمی جوکچھ کرتا ہے، وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ یہ کہہ کر پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: تمہیں اجازت ہے کہ تم زمین پر جہاں چاہو جاؤ اور کسی کے عمل کی تم پر ذمہ داری نہیں۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:اس کے بعد ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سے واپس آگئے، پھر آپ نے فرمایا: تمہارے اللہ کی قسم! یہ دونوں افراد دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ متقی ہیں۔ یہ سن کر بنو بکر بن کلاب کے ایک شخص کعب بن خدریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو منتفق ہیں اور وہ اس کے اہل ہیں۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں پھر واپس آ گئے اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! جو لوگ ہم سے پہلے دور جاہلیت میں گزر چکے ہیں، کیا ان میں سے کسی کا انجام بہتر بھی ہوگا؟میری اس بات پر ایک عام قریشی آدمی بولا: اللہ کی قسم ، تیرا باپ منتفق تو جہنمی ہی ہے۔ یہ سن کر میرے تن بدن کو آگ لگ گئی کہ اس نے بر سرِ عام میرے والد کے متعلق ایسی بات کہہ دی ہے، میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں کہ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والد کا کیا بنے گا؟ پھر مجھے خیال آیا کہ اس شخص کے بدلے میں کہی گئی یہ بات اس سے بڑی جہالت ہوگی، پھرمیںنے یو ں کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاندان والے کہاںـ ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے خاندان والے، اللہ کی قسم! تم جس قریشی یا بنو عامر کے مشرک آدمی کی قبر کے پاس سے گزرو تو یوں کہنا کہ مجھے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیری طرف بھیجا ہے، میں تجھے ایسی خبر دیتا ہوں کہ جسے سن کر تجھے افسوس اور دکھ ہوگا، تجھے چہرے اور پیٹ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ سیدنا لقیط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ان کا یہ انجام کیوں ہوگا، وہ تو جو کچھ کرتے رہے اچھا ہی سمجھ کرکرتے رہے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر سات امتوں کے آخر میں ایک نبی بھیجا، جس نے اپنے نبی کی نافرمانی کی، وہ گمراہوں میں سے ہوا اور جس نے اپنے نبی کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوا۔
Musnad Ahmad
79
۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)
سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
Musnad Ahmad
768
۔ (۷۶۸)۔عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَمِّہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ) ؓ، أَنَّہُ شَکَا اِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجِدُ الشَّیئَ فِی الصَّلَاۃِ یُخَیَّلُ اِلَیہِ أَنَّہُ قَدْ کَانَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((لَا یَنْفَتِلُ حَتَّی یَجِدَ رِیحًا أَو یَسْمَعَ صَوتًا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۶۴)
سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ شکایت کی ہے کہ وہ نماز کے اندر (وضو توڑ دینے والی) ایسی چیز پاتا ہے کہ اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ واقعی کچھ ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی صورتحال میں وہ جب تک بو نہ پا لے یا آواز نہ سن لے، اس وقت تک نماز سے نہ پھرے۔
Musnad Ahmad
1057
۔ (۱۰۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَلَمْ یَزَلْ قَائِمًا حَتَّی ہَمَمْتُ بِأَمْرٍ سَوْئٍ، قُلْنَا: وَمَا ہَمَمْتَ بِہِ؟ قَالَ: ہَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَہُ۔ (مسند أحمد: ۴۱۹۹)
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ایک رات کو نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میں نے بری چیز کا ارادہ کر لیا۔ ہم نے کہا: تم نے کون سی بری چیز کا ارادہ کیا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو چھوڑ دوں۔
Musnad Ahmad
1228
۔ (۱۲۲۸)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ عَلْقَمَۃَ الثَّقَفِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ: أَنَا، حَتّٰی عَادَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَأَنْتَ اِذًا۔)) فَحَرَسْتُہُمْ حَتّٰی اِذَا کَانَ وَجْہُ الصُّبْحِ أَدْرَکَنِیْ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّکَ تَنَامُ۔)) فَنِمْتُ فَمَا أَیْقَظَنَا اِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِیْ ظُہُوْرِنَا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوْئِ وَرَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوْا وَلٰـکِنْ أَرَادَ أَنْ تَکُوْنُوْا لِمَنْ بَعْدَکُمْ، فَہٰکَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِیَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اِنَّ نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ فَخَرَجَ النَّاسُ فِیْ طَلْبِہَا فَجَاؤُا بِاِبِلِہِمْ اِلَّا نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((خُذْ ہٰہُنَا۔)) فَأَخَذْتُ حَیْثُ قَالَ لِیْ فَوَجَدْتُ زِمَامَہَا قَدِ الْتَوٰی عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَہَا مُلْتَوِیًا عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُوْرَۃُ الْفَتْحِ: {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا}۔ (مسند أحمد: ۳۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ واپس لوٹے (اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جی میں، (لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے ) لیکن جب انھوں نے بار بار یہی بات کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تم ہی سہی۔ پس میں نے ان کا پہرہ دیا، جب صبح سے پہلے کا وقت ہوا تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قول تم تو سو جاؤ گے۔ کا مصداق بن گیا اور میں سو گیا، جب سورج کی گرمی ہماری کمروں پر پڑی تو تب ہمیں جاگ آئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھے اور عادت کے مطابق وضو کیا، فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک اگر اللہ تعالیٰ تمہارا نہ سونا چاہتا تو تم نہ سوتے، لیکن اس کا ارادہ یہ تھا کہ تم بعد والوںکے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاؤ، پس سو جانے والے اور بھول جانے والے کے لیے یہی حکم ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور لوگوں کی اونٹنیاں کہیں نکل گئیں، پس لوگ ان کو تلاش کرنے کے لیے نکلے اور وہ اپنے اپنے اونٹ پکڑ کر لے آئے، ما سوائے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی کے، سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: تم اس طرف جاؤ۔ پس جس طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا، میں اس طرف نکل پڑا اور دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ اس طرح بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتا تھا، پس میں اس کو لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا! میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ یوں بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتاتھا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر سورۂ فتح {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا} نازل ہوئی۔
Musnad Ahmad
1266
۔ (۱۲۶۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ زَیْدِ (بِنْ عَبْدِ رَبَّہِ) قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاقُوْسِ لِیُضْرَبَ بِہٖلِلنَّاسِفِی الْجَمْعِ للِصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَھُو کَارِہٌ لِمَوافَقَتِہِ النَّصَارٰی) طَافَ بِیْ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِیْیَدِہِ ِفَقُلْتُ لَہُ: یَاعَبْدَ اللّٰہِ! أَتَبِیْعُ النَّاقُوَسَ؟ قَالَ: مَاتَصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَدْعُوْا بِہِ إِلَی الصَّلَاۃَ، قَالَ: أَفَـلَا أَدُلُّکَ عَلٰی مَا ھُوَ خَیْرٌ مِنْ ذَالِکَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: بَلٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَیْرَ بَعِیْدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذاَ أُقیمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فأَخْبَرْ تُہُ بِمَا رَأَیْتُ فَقَالَ: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالِ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَارَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ فَإِنَّہُ أَنْدٰی صَوْتاً مِنْکَ۔)) قَالَ: فَقُمْتُ مَعَ بِلَالِ فَجَعَلْتُ أُلْقِیہِ عَلَیْہِ وَیُؤََذِّنُ بِہِ، قَالَ فَسَمِعَ بِذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَفِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ رِدَائَ ہُ یَقُولُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحقِّ! لَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ الَّذِی أُرِیَ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۹۲)
سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دے دیا اور عیسائیوں کی موافقت کی وجہ سے یہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ناپسند بھی تھی، تو میں سویا ہوا تھا، ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے میرے پاس سے گذرا، میں نے اسے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس فروخت کرنا چاہتا ہے؟ تو اس نے جواباً پوچھا: تو اس سے کیا کرے گا؟ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اسے بتایا کہ ہم اس کے ذریعے نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا: کیا میں اس سے بہتر چیز کی طرف تیری راہنمائی نہ کر دوں؟ عبد اللہ بن زیدنے کہا: میں نے اسے کہا کہ کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا کہ تم یہ الفاظ کہا کرو: اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور کہنے لگا کہ جس وقت نماز کھڑی ہونے لگے تو یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنا خواب بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: إن شاء اللہ بلاشک و شبہ یہ سچا خواب ہے، عبد اللہ! بلال کے ساتھ کھڑا ہوجا اور خواب والے کلمات اس کو کہلوا تاکہ وہ ان کے ساتھ اذان کہتا جائے کیونکہ وہ تجھ سے اچھی اور بلند آواز والا ہے۔ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس پر کلمات ڈالتا گیا اور وہ ان کے ساتھ اذان کہتے گئے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ کلمات سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے گھر میں سنے تو اپنی چادر کھینچتے ہوئے جلدی سے باہر آئے اور کہنے لگے: (اے اللہ کے رسول!) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اسی طرح کا خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ (اللہ کا شکر ہے)۔
Musnad Ahmad
1295
۔ (۱۲۹۵)عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّیْ لَعِنْدَ مُعَاوِیَۃَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُہُ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ کَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، حَتّٰی إِذَا قَالَ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، فَلَمّا قَالَ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، قاَلَ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّہَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِکَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۵۶)
عبد اللہ بن علقمہ بن وقاص کہتے ہیں: میں سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، جب ان مؤذن نے اذان کہی تو انھوں نے وہی (کلمات) کہے جو مؤذن کہتا تھا، حتی کہ جب اس نے حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہا تو سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّہَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا اور اس کے بعد وہی کہا جو مؤذن نے کہا ، پھر یہ بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہی کہتے ہوئے سنا تھا۔