حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا، وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ .
Abu Najashi said:
I heard Rafi' bin Khadij say: 'We used to perform the Maghrib at the time of the Messenger of Allah, and one of us would be able to see the places where his arrows would land when shot from his bow.' (Sahih)Another chain with similar wording.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ہم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ کر واپس ہوتا، اور وہ اپنے تیر گرنے کے مقام کو دیکھ لیتا ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/المواقیت ۱۸ (۵۵۹)، صحیح مسلم/المساجد ۳۸ (۶۳۷)، (تحفة الأشراف: ۳۵۷۲)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلا ة ۶ (۴۱۶)، سنن النسائی/المواقیت ۱۳ (۵۲۱)، مسند احمد (۳/۳۷۰، ۴/۱۴۱)
Explanation
یعنی سورج ڈوبتے ہی نماز پڑھ لیا کرتے تھے، بلاوجہ احتیاط کے نام پر تاخیر نہیں کرتے تھے، اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔
687
Sahih