حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ .
It was narrated from Anas bin Malik that:
The Messenger of Allah used to pray 'Asr when the sun was still hot and high, and if a person were to go to the suburbs (of Al-Madinah) he would be able to reach it while the sun was still hot and high.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج اونچا اور زندہ ہوتا تھا، چنانچہ ( نماز پڑھ کر ) کوئی شخص عوالی ۱؎ میں جاتا تو سورج بلند ہی ہوتا تھا۔
Takhreej
صحیح مسلم/المساجد ۳۴ (۶۲۱)، سنن ابی داود/ الصلاة ۵ (۴۰۴)، سنن النسائی/المواقیت ۷ (۵۰۸)، (تحفة الأشراف: ۱۵۲۲)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ۱۳ (۵۵۰)، الاعتصام ۱۶ (۷۳۲۹)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ۱ (۱۱)، مسند احمد (۳/۲۲۳)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۵ (۱۲۴۴)
Explanation
مدینہ کے جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
682
Sahih