حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّ نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ فَلَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ تَعْنِي: مِنَ الْغَلَسِ .
It was narrated that 'Aishah said:
The believing women used to perform the Subh prayer with the Prophet, then they would go back to their families and no one would recognize them, meaning of the darkness
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں، پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹتیں، لیکن انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا، یعنی رات کے آخری حصہ کی تاریکی کے سبب ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/المساجد ۴۰ (۶۴۵)، سنن النسائی/المواقیت ۲۴ (۵۴۷)، (تحفة الأشراف: ۱۶۴۴۲)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ۱۳ (۳۷۲)، المواقیت ۲۷ (۵۷۸)، الأذان ۱۶۳ (۷۶۷)، ۱۶۵ (۸۷۲)، سنن ابی داود/الصلاة ۸ (۴۲۳)، سنن الترمذی/الصلاة ۲ (۱۵۳)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ۱ (۴)، مسند احمد (۶/۳۳، ۳۶، ۱۷۹، ۲۴۸، ۲۵۹)، سنن الدارمی/الصلاة ۲۰ (۱۲۵۲)
Explanation
اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنی چاہئے، اور یہی نبی ﷺ کا دائمی طریقہ تھا۔
669
Sahih