TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1291 - آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے - اذان اور اقامت کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 16 in this chapter
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
۔ (۱۲۹۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِتَلَعَاتِ الْیَمَنِ فَقَامَ بِلَالٌ یُنَادِیْ فَلَمَّا سَکَتَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ھَذَا یَقِیْنًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۰۹)
سیّدنا ابوہریرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ یمن کے بلند ٹیلوں پر تھے، سیّدنابلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہو کر اذان کہنے لگے، جب وہ اذان سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یقین کے ساتھ اسی طرح (یہ کلمات) کہے، جو اس (بلال) نے کہے تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
1291
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۹۱) تخر یـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۲۴، وابن حبان: ۱۶۶۷، والحاکم: ۱/ ۲۰۴ (انظر: ۸۶۲۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤذن کے کلمات کا جواب صدقِ دل اور توجہ کے ساتھ دینا چاہیے۔

Related Chapters

362
1
(24) CHAPTER. Can one go out of the mosque (after the Adhan, or the Iqama) if there is a genuine excuse?
کیا مسجد سے کسی ضرورت کی وجہ سے اذان یا اقامت کے بعد بھی کوئی شخص نکل سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
2
CHAPTER: What A Person Should Say When He Enters The Area Wherein He Relieves Himself.
باب: پاخانہ میں جاتے وقت آدمی کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
3
CHAPTER: What Should Be Said Upon Hearing The Iqamah.
باب: آدمی جب اقامت ( تکبیر ) سنے تو کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
4
CHAPTER: What Should Be Said For The Maghrib Adhan.
باب: مغرب کی اذان کے وقت کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
5
Chapter: What Has Been Related About Whoever Calls The Adhan, He Is To Call The Iqamah
باب: جو اذان دے وہی اقامت کہے
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About What Is Said [by A Man] When the Mu'adh-dhin Calls The Adhan
باب: مؤذن کی اذان کے جواب میں آدمی کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Something Else
باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
8
اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
Musnad Ahmad
9
(35) CHAPTER. The Adhan for the Salat (prayer) after its stated time is over.
وقت نکل جانے کے بعد نماز پڑھتے وقت اذان دینا
Sahih Bukhari
10
(11) CHAPTER. The Adhan pronounced by a blind man (is permissible) when there is a person to inform him about the time of the Salat (prayer).
اس بیان میں کہ نابینا شخص اذان دے سکتا ہے اگر اسے کوئی وقت بتانے والا آدمی موجود ہو
Sahih Bukhari
11
(19) CHAPTER. Should the Muadh-dhin turn his mouth (face) and look from side to side during the Adhan?
کیا مؤذن اذان میں اپنا منہ ادھر ادھر ( دائیں بائیں ) پھرائے اور کیا اذان کہتے وقت ادھر ادھر دیکھ سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
12
Chapter: What should be said when returning from Hajj and other journeys
جب کوئی آدمی حج یا دوسرے سفر سے لوٹے تو کیا کہے
Sahih Muslim
13
CHAPTER: Returning Salam While Urinating?
باب: کیا پیشاب کرتے وقت آدمی سلام کا جواب دے ؟
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: What Should One Say After Finishing Wudu’.
باب: وضو کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے ؟
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: What A Person Should Say When He Enters The Masjid.
باب: آدمی جب مسجد میں داخل ہو تو کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
16
CHAPTER: One Person Calling The Adhan And Another Calling The Iqamah.
باب: ایک شخص اذان دے اور دوسرا اقامت ( تکبیر ) کہے یہ جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: What Should Be Said When One Hears The Mu’adhdhin.
باب: آدمی جب مؤذن کی آواز سنے تو کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
18
CHAPTER: Calling The Adhan Before Its Time.
باب: وقت سے پہلے اذان دیدے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
19
CHAPTER: What Should Be Said When One Raises His Head From The Ruku’.
باب: جب آدمی رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: What A Person Should Say In His Ruku’ And Prostration.
باب: آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: What Should Be Said After The Tashah-hud.
باب: تشہد کے بعد آدمی کیا پڑھے ؟
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: A Man Who Hears The Call While A Vessel Is In His Hand.
باب: آدمی اذان فجر اس حال میں سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: What A Man Should Say When Setting Out On A Journey.
باب: سفر کے وقت آدمی کیا دعا پڑھے ؟
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: What a man should say when he sees the new crescent.
باب: آدمی نیا چاند دیکھے تو کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER
باب: آدمی کا یہ کہنا کہ فلاں تمہیں سلام کہہ رہا ہے تو جواب میں کیا کہے ؟
Sunnan Abu Dawood
26
کیا دونوں مؤذن ایک ساتھ اذان دیتے تھے یا یکے بعد دیگرے ؟
Sunnan Nisai
27
اذان دیتے وقت مؤذن کیا کرے ؟
Sunnan Nisai
28
Chapter: What Has Been Related About Putting The Fingers In The Ears For The Adhan
باب: اذان کے وقت شہادت کی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Exiting The Masjid After The Adhan
باب: اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Supplication Made Between Adhan and Iqamah Is Not Rejected
باب: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
31
Chapter: [What Has Been Related] About The Salat For The Two Eid Is Without An Adhan Nor An Iqamah
باب: عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے ہے
Jam e Tirmazi
32
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
34
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
35
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
Musnad Ahmad
37
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
Musnad Ahmad
38
اقامت کے بعد فرضی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
39
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
Musnad Ahmad
41
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
42
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
Musnad Ahmad
43
کعبہ کے ساتھ چمٹنے اور اس سے برکت حاصل کرنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ کعبہ کے اندر داخل ہونے والا آدمی کیا کچھ پڑھے اور کرے؟
Musnad Ahmad
44
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
Musnad Ahmad
45
(31) CHAPTER. (What is said regarding the superiority of) a person who embraces Islam sincerely. .
آدمی کے اسلام کی خوبی ( کے درجات کیا ہیں )
Sahih Bukhari
46
CHAPTER. If the clothes of a praying person in prostration touched his wife [would that make his Salat (prayer) invalid]?
جب سجدے میں آدمی کا کپڑا اس کی عورت سے لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
47
(3) CHAPTER. To pronounce the wording of Iqama once (in singles) except Qad-qamat-is-Salat.
اس بارے میں کہ سوائے قد قامت الصلٰوۃ کے اقامت کے کلمات ایک ایک دفعہ کہے جائیں
Sahih Bukhari
48
(12) CHAPTER. The Adhan after Al-Fajr (dawn).
صبح ہونے کے بعد اذان دینا
Sahih Bukhari
49
(17) CHAPTER. Whoever said that there should be one Muadh-dhin in the journey.
جو یہ کہے کہ سفر میں ایک ہی شخص اذان دے
Sahih Bukhari
50
(26) CHAPTER. The saying of a man to the Prophet , “We have not prayed.”
آدمی یوں کہے کہ ہم نے نماز نہیں پڑھی تو اس طرح کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

71
Musnad Ahmad
6321
۔ (۶۳۲۱)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْخَیْرِ سَبْعِیْنَ سَنَۃً فَاِذَا أَوْصٰی حَافَ فِیْ وَصِیَّتِہٖ فَیُخْتَمُ لَہُ بِشَّرِ عَمَلِہِ فَیَدْخُلُ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الشَّرِّ سَبْعِیْنَ سَنَۃً فَیَعْدِلُ فِیْ وَصِیَّتِہِ فَیُخْتَمُ لَہُ بِخَیْرِ عَمَلِہِ فَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُوْہُرَیْرَۃَ: وَاقْرَئُ وْا إِنْ شِتْمُ: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ} اِلٰی قَوْلِہِ: {وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ} (مسند احمد: ۷۷۲۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ستر برس تک نیکوکار لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر جب وہ وصیت کرتا ہے اوراس میں ظلم کر جاتا ہے تواس کا خاتمہ بدتر عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میںداخل ہو جاتا ہے اورایک آدمی ستر برس تک برے لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر وہ وصیت کرنے میں عدل کر جاتا ہے، تو اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا وَذَالِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗوَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗیُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ۔} یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ (سورۂ نسائ: ۱۳، ۱۴)
Musnad Ahmad
8998
۔ (۸۹۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلاھُمَا عِنْدَہُ الْکِبْرُ لَمْ یُدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِیْ لَفْظٍ) فَلَمْ یُدْخِلَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۳۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو جائے، ناک خاک آلود ہو جائے، اس کا ناک خاک آلود ہو جائے جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت پایا، لیکن انھوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔
Musnad Ahmad
9141
۔ (۹۱۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:((کَانَتْ شَجَرَۃٌ تُؤْذِیْ اَھْلَ الطَّرِیْقِ، فَقَطَعَھَا رَجُلٌ فَنَحَّاھَا عَنْ الطَّرِیْقِ، فَاُدْخِلَ بِھَا الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۲۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک درخت سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی نے اس کو کاٹ کر راستے سے دور کر دیا اور اس وجہ سے اس کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔
Musnad Ahmad
9414
۔ (۹۴۱۴)۔ عَنْ اَبِیْ حَسَّانَ، قَالَ: تُوُفِّیَ ابْنَانِ لِیْ فَقُلْتُ لِاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا تُحَدِّثُنَاہُ یُطَیِّبُ بِاَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ، ((صِغَارُھُمْ دَعَامِیْصُ الْجَنَّۃِیَلْقٰی اَحَدُھُمْ اَبَاہُ اَوْ قَالَ: اَبَوَیْہِ، فَیَاْخُذُ بِنَاحِیَۃِ ثَوْبِہٖاَوْیَدِہِ کَمَا آخُذُ بِصَنَفَۃِ ثَوْبِکَ ھٰذَا، فَلا یُفَارِقُہُ حَتَّییُدْخِلَہُ اللّٰہُ وَاَبَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۳۶)
۔ ابو حسان کہتے ہیں: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے، پس میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو ہمارے نفسوں کو ہمارے مردوں کے بارے میں خوش کر دے، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے، اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔
Musnad Ahmad
9569
۔ (۹۵۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا وَاَدّٰی زَکَاۃَ مَالِہِ طَیِّبًا بِھَا نَفْسُہُ مُحْتَسِبًا، وَسَمِعَ وَاَطَاعَ فَلَہُ الْجَنَّۃُ اَوْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۲۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس نے کسی چیز کو اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا، ثواب کی نیت سے اور دل کی خوشی کے ساتھ زکوۃ ادا کی ہو گی اور حکمران کی بات سن کر اس کی اطاعت کی ہو گی، پس اس کے لیے جنت ہو گییا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Musnad Ahmad
10604
۔ (۱۰۶۰۴)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَکَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَ سِنِیْنَیَتْبَعُ النَّاسَ فِیْ مَنَازِلِھِمْ بِعُکَاظٍ وَمَجَنَّۃَ، وَ فِیْ الْمَوَاسِمِ بِمِنًییَقُوْلُ: ((مَنْ یُؤْوِیْنِیْ؟ مَنْ یَنْصُرُنِیْ؟ حَتّٰی أُبَلِّغَ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَلَہُ الْجَنَّۃُ۔)) حَتّٰی اِنَّ الرَجُلَ لَیَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ فَیَأْتِیْہِ قَوْمُہُ فَیَقُوْلُوْنَ: احْذِرْ مِنْ غُلَامِ قُرَیْشٍ لَا یَفْتِنُکَ، وَیَمْشِیْ بَیْنَ رِحَالِھِمْ وَھُمْ یُشِیْرُوْنَ اِلَیْہِ بِالْأَصَابِعِ حَتّٰی بَعَثَنَا اللّٰہُ اِلَیْہِ مِنْ یَثْرِبَ فَآوَیْنَاہُ وَصَدَّقْنَاہُ، فَیَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَیُؤْمِنُ بِہٖیُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ، فَیَنْقَلِبُ اِلٰی أَھْلِہِ فَیُسْلِمُوْنَ بِاِسْلَامِہِ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ دَارٌ مِنْ دُوْرِ الْأَنْصَارِ اِلَّا وَفِیْھَا رَھْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَیُظْھِرُوْنَ الْاِسْلَامَ، ثُمَّّ ائْتَمَرُوْا جَمِیْعًا، فَقُلْنَا حَتّٰی مَتٰی نَتْرُکُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُطْرَدُ فِیْ جِبَالِ مَکَّۃَ وَیَخَافُ؟ فَرَحَلَ اِلَیْہِ مِنَّا سَبْعُوْنَ رَجُلًا حَتّٰی قَدِمُوْا عَلَیْہِ فِی الْمَوْسَمِ فَوَاعَدْنَاہُ شِعْبَ الْعَقَبَۃَ فَاجْتَمَعْنَا عَلَیْہِ مِنْ رَجُلٍ ورَجُلَیْنِ حَتّٰی تَوَافَیْنَا، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُبَایِعُکَ؟ قَالَ: ((تُبَایِعُوْنِیْ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِیْ النَّشَاطِ وَالْکَسْلِ وَالنَّفَقَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَعَلَی الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ، وأَنْ تَقُوْلُوْا فِیْ اللّٰہِ لَاتَخَافُوْنَ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَعَلٰی أَنْ تَنْصُرُوْنِیْ فَتَمْنَعُوْنِیْ اِذَا قَدِمْتُ عَلَیْکُمْ مِمَّا تَمْنَعُوْنَ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ وَأَزْوَاجَکُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ وَلَکُمُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: فَقُمْنَا اِلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ وَأَخَذَ بِیَدِہِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ وَھُوَ مِنْ أَصْغَرِھِمْ، فَقَالَ: رُوَیْدًایَاأھَلَیَثْرِبِ! فَاِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَکْبَادَ الْاِبِلِ اِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنَّ اِخْرَاجَہُ الْیَوْمَ مُفَارِقَۃُ الْعَرْبِ کَافَّۃً وَقَتْلُ خِیَارِکُمْ، وَاَنْ تَعَضَّکُمُ السُّیُوْفُ، فَاِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُوْنَ عَلٰی ذٰلِکَ وَأَجْرُکُمْ عَلَیاللّٰہِ، وَاِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُوْنَ مِنْ أَنْفُسِکُمْ جَبِنَۃً فَبَیِّنُوْا ذٰلِکَ فَھُوَ عُذْرٌ لَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ، قَالُوْا: أَمِطْ عَنَّا یَااَسْعَدُ، فَوَاللّٰہِ! لَا نَدَعُ ھٰذِہِ الْبَیْعَۃَ أَبَدًا وَلَا نَسْلُبُھَا أَبَدًا، قَالَ: فَقُمْنَا اِلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ فَأَخَذَ عَلَیْنَا وَشَرَطَ یُعْطِیْنَا عَلَی ذٰلِکَ الْجَنَّۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ أَجْمَعِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۱۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دس برس تک مکہ میں رہے، عکاظ اور مجنہ میں لوگوں کے ڈیروں پر جاتے اور مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں جاتے اور فرماتے: کون مجھے جگہ فراہم کرے گا؟ کون میری مدد کرے گا؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچاؤں اور اس شخص کو جنت ملے گی۔ حتی کہ ایک آدمییمن سے یا مضر سے مکہ کے لیے نکلتا اور اس کی قوم اس کے پاس آتی اور کہتی: قریشی آدمی سے بچ کر رہنا، کہیں وہ تجھے فتنے میں نہ ڈال دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے گھروں کے درمیان چلتے اور وہ انگلیوں سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اشارہ کرتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیںیثرت سے بھیجا، پس ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جگہ دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی، پس ہم میں سے آدمی نکلتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے، پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتا اور وہ بھی اس کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہو جاتے، یہاں تک کہ انصاری محلوں میں سے کوئی محلہ نہ بچا، مگر اس میں مسلمانوں کی ایک جماعت نے وجود پکڑ لیا، جو اسلام کا اظہار کرتے تھے، پھر اِن سب لوگوں نے اکٹھا ہو کر مشورہ کیا اور ہم نے کہا: ہم کب تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چھوڑے رکھیں گے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں جگہ نہ دی جائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں ڈرتے رہیں، پس ہم میں سے ستر افراد روانہ ہوئے، یہاں تک کہ حج کے موسم کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے، پہلے ہی ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عقبہ گھاٹی میں ملاقات کرنے کا طے کر لیا تھا، پس ہم ایک دو دو افراد کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچتے گئے، یہاں تک کہ ہم سارے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جمع ہو گئے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میری بات کرو، اس بات پر کہ سنو گے اور اطاعت کرو گے، مستعدی میں اور سستیمیں (یعنی ہر حال میں)، بدحالی اور خوشحالی میں خرچ کرو گے، نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے منع کرو گے، اللہ تعالیٰ کے حق میں بات کرو گے اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے اور اس چیز پر بیعت کرو کہ تم میری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے پاس آ جاؤں تو مجھے بھی ان (مکروہات سے) بچاؤ گے، جن سے تم اپنے آپ کو، اپنی بیویوں کو اور اپنے بیٹوں کو بچاتے ہو، ان امور کے عوض تم کو جنت ملے گی۔ پس ہم کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی اور سیدنا اسعد بن زرارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جوکہ سب سے کم سن تھے، نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے یثرب والو! ذرا ٹھیرو، ہم اسی لیے دور دراز کا سفر کرکے آئے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، لیکنیاد رکھو کہ آج آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہاں سے لے جانا سارے عربوں کی دشمنی مول لینے کے، اپنے پسندیدہ افراد کو قتل کروانے اور تلواروں سے کٹنے کے مترادف ہے، اب یا تو تم ان آزمائشوں پر صبر کرو اور تمہارا اجر اللہ تعالیٰ پر ہو گا اور اگر تمہیں بزدلی کا ڈر ہو تو ابھی وضاحت کر دو، یہ تمہارا اللہ تعالیٰ کے ہاں عذر ہو گا۔ باقی انصاریوں نے سیدنا اسعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے اسعد! ہٹ جاہمارے سامنے سے،اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی اس بیعت کو نہیں چھوڑیں گے اور نہ اس کو واپس لیں گے، پھر ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے بیعت لی اور ہم پر شرطیں لگائیں اور اس عمل کے عوض اللہ تعالیٰ ہم کو جنت دے گا، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے۔
Musnad Ahmad
11303
۔ (۱۱۳۰۳)۔ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ غَزْوَۃٍ غَزَاھَا، فَأَرْمَلَ فِیْہَا الْمُسْلِمُوْنَ وَاحْتَاجُوْا إِلَی الطَّعَامِ، فَاسْتَأْذَنُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ نَحْرِ الْإِبِلِ فَأَذِنَ لَھُمْ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: فَجَائَ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِبِلُہُمْ تَحْمِلُہُمْ وَتُبَلِّغُہُمْ عَدُوَّھُمْ یَنْحَرُوْنَہَا؟ بَلِ ادْعُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَادْعُ اللّٰہَ عَزَّوَجََلَّ فِیْہَا بِالْبَرَکَۃِ، قَالَ: ((أَجَلْ۔)) قَالَ: فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ، فَجَائَ النَّاسُ بِمَا بَقِیَ مَعَہُمْ فَجَمَعَہُ ثُمَّ دَعَا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ بِالْبَرَکَۃِ، وَدَعَا بِأَوْعِیَتِہِمْ فَمَلَأَھَا وَفَضَلَ فَضْلٌ کَثِیْرٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ،وَمَنْلَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ بِہِمَا غَیْرَ شَاکٍّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۴۷)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے۔ اس دوران مسلمانوں کا زاد راہ ختم ہو گیا اور وہ کھانے کے سلسلہ میں محتاج ہوگئے۔ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اس کی اجازت مرحمت فرما دی۔ اس کی اطلاع عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوہوئی تو انہوں نے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! یہ اونٹ مسلمانوں کو اپنے اوپرسوار کرکے دشمن تک پہنچاتے ہیںتو کیایہ ان کو ذبح کر لیں؟ اللہ کے رسول! آپ اس کی بجائے لوگوں کے پاس جو بچا کھچا زاد راہ ہے وہ منگوا کر اللہ عزوجل سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں (تو زیادہ مناسب ہوگا)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ٹھیک ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوںسے ان کے پاس بچا ہوا زاد راہ طلب فرمایا۔ لوگوں کے پاس جو جو چیزیں بچی ہوئی تھیںوہ لے آئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سب کو ایک جگہ جمع کرکے اللہ عزوجل سے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے برتن (اور تھیلے وغیرہ) منگوا کر ان کو کھانے سے بھر دیااور بہت سا کھانا بچ رہا۔ اس موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ جو کوئی صدق دل سے ان دو باتوں کی گواہی دیتا ہوا اللہ سے جا ملے اور اسے ان میں کسی قسم کا تردد نہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
Musnad Ahmad
13278
۔ (۱۳۲۷۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ لَشَجَرَۃًیَسِیْرُ الرَّاکِبُ الْجَوَّادُ فِیْ ظِلِّہَا مِائَۃَ سَنَۃٍ وَاِنَّ وَرَقَہَا لَیَخْمِرُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، تیز رفتار گھوڑ سوار سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہتا ہے، اس کا ایک پتہ پورے باغ کو ڈھانپ لیتا ہے۔
Musnad Ahmad
13336
۔ (۱۳۳۳۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِی ثَنَا عَبْْدُ الرَّزَّاقِ اَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ فِیْ قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ {کُلُّاُمَّۃٍ تُدْعٰی اِلٰی کِتَابِہَا} عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیْدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ النَّاسُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ نَرٰی رَبَّنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلْ تُضَارُّوْنَ فِی الشَّمْسِ لَیْسَ دُوْنَہَا سَحَابٌ؟)) قَالُوْا: لَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَاِنَّکُمْ تَرَوْنَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَذٰلِکَ یَجْمَعُ اللّٰہُ النَّاسَ فَیَقُوْلُ: مَنْ کَانَ یَعْبُدُ شَیْئًا فَلْیَتَّبِعْہُ، فَیَتَّبِعُ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ وَیَتَّبِعُ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ الطَّوَاغِیْتَ الطَّوَاغِیْتَ وَتَبْقٰی ہٰذِہِ الْاُمَّۃُ، فِیْہَا مُنَافِقُوْھَا فَیَاْتِیْہِمِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ غَیْرِالصُّوْرَۃِ الَّتِیْ تَعْرِفُوْنَ، فَیَقُوْلُ: اَنَا رَبُّکُمْ، فَیَقُوْلُوْنَ: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْکَ ہٰذَا مَکَانُنَا حَتّٰییَاتِیَنَا رَبُّنَا، فَاِذَا جَائَ رَبُّنَا عَرَفْنَاہُ، قَالَ: فَیَاْتِیْہِمُ اللّٰہُ فِی الصُّوْرَۃِ الَّتِیْیَعْرِفُوْنَ، فَیَقُوْلُ: اَنَا رَبُّکُمْ، فَیَقُوْلُوْنَ: اَنْتَ رَبُّنَا فَیَتَّبِعُوْنَہُ، قَالَ: وَیُضْرَبُ جَسْرٌعَلٰی جَہَنَّمَ۔)) قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاَکُوْنُ اَوَّلَ مَنْ یُّجِیْزُ وَدَعْوَی الرُّسُلِ یَوْمَئِذٍ اَللّٰھُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَبِہَا کَلَالِیْبُ مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ، ھَلْ رَاَیْتُمْ شَوْکَ السَّعْدَانِ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَاِنَّہَا مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ غَیْرَ اَنَّہُ لَایَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِھَا اِلَّا اللّٰہُ تَعَالٰی، فَتَخْطِفُ النَّاسَ بِاَعْمَالِھِمْ فَمِنْہُمُ الْمُوْبَقُ بِعَمَلِہٖوَمِنْہُمُالْمُخَرْدَلُثُمَّیَنْجُوا حَتّٰی اِذَا فَرَغَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْقَضَائِ بَیْنَ الْعِبَادِ وَاَرَادَ اَنْ یُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ اَرَادَ اَنْ یَّرْحَمَ مِمَّنْ کَانَ یَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَمَرَ الْمَلَائِکَۃَیُخْرِجُوْھُمْ فَیَعْرِفُوْنَہُمْ بِعَلَامَۃِ آثَارِ السُّجُوْدِ وَحَرَّمَ اللّٰہُ عَلٰی النَّارِ اَنْ تَاْکُلَ مِنِ ابْنِ آدَمَ اَثَرَ السُّجُوْدِ فَیُخْرِجُوْنَہُمْ قَدِ امْتُحِشُوْا، فَیُصَبُّ عَلَیْہِمْ مِنْ مَائٍ یُقَالُ لَہُ: مَائُ الْحَیَاۃِ، فَیَنْبُتُوْنَ نَبَاتَ الْحَبَّۃِ فِیْ حَمِیْلِ السَّیْلِ وَیَبْقٰی رَجُلٌ یُقْبِلُ بِوَجْْہِہٖاِلَی النَّارِ فَیَقُوْلُ: اَیْ رَبِّ قَدْ قَشَبَنِیْ رِیْحُہَا وَاَحْْرَقَنِیْ ذَکَاؤُھَا، فَاصْرِفْ وَجْہِیْ عَنِ النَّارِ فَلَایَزَالُیَدْعُوْ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰییَقُوْلَ: فَلَعَلِّیْ اِنْ اَعْطَیْتُکَ ذٰلِکَ اَنْ تَسْاَلَنِیْ غَیْْرَہُ، فَیَقُوْلُ: لَا وَعِزَّتِکَ! لَااَسْاَلُکَ غَیْرَہُ، فَیَصْرِفُ وَجْہَہُ عَنِ النَّارِ، فَیَقُوْلُ بَعْدَ ذٰلِکَ: یَارَبِّ! قَرِّبْنِیْ اِلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ، فَیَقُوْلُ: اَوَلَیْسَ قَدْ زَعَمْتَ اَنْ لَّاتَسْاَلَنِیْ غَیْرَہُ وَیْلَکَیَا ابْنَ آدَمَ! مَا اَغْدَرَکَ، فَلَا یَزَالُیَدْعُوْ حَتّٰییَقُوْلَ: فَلَعَلِّیْ اِنْ اَعْطَیْتُکَ ذٰلِکَ اَنْ تَسْاَلَنِیْ غَیْرَہُ، فَیَقُوْلُ: لَا، وَعِزَّتِکَ! لَااَسْاَلُکَ غَیْرَہُ وَیُعْطِیْ مِنْ عُہُوْدِہِ وَمَوَاثِیْقِہِ اَنْ لَایَسْاَلَ غَیْرَہُ، فَیُقَرِّبُہُ اِلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ، فَاِذَا دَنَا مِنْہَا اِنْفَہَقَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ، فَاِذَا رَاٰی مَا فِیْہَا مِنَ الْحَبْرَۃِ وَالسُّرُوْرِ سَکَتَ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّسْکُتَ، ثُمَّ یَقُوْلُ: یَارَبِّ اَدْخِلْنِیَ الْجَنَّۃَ، فَیَقُوْلُ: اَوَلَیْسَ قَدْ زَعَمْتَ اَنْ لَّاتَسْاَلَ غَیْرَہُ فَقَدْ اَعْطَیْتَ عُہُوْدَکَ وَمَوَاثِیْقَکَ اَنْ لَاتَسْاَلَنِیْ غَیْرَہُ، فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! لَاتَجْعَلْنِیْ اَشْقٰی خَلْقِکَ، فَلَایَزَالُیَدْعُو اللّٰہَ حَتّٰییَضْحَکَ اللّٰہُ فَاِذَا ضَحِکَ مِنْہُ اَذِنَ لَہُ بِالدُّخُوْلِ فِیْہَا، فَاِذَا دَخَلَ قِیْلَ لَہُ: تَمَنَّ مِنْ کَذَا فَیَتَمَنّٰی، ثُمَّ یُقَالُ لَہُ: تَمَنَّ مِنْ کَذَا فَیَتَمَنّٰی، حَتّٰی تَنْقَطِعَ بِہِ الْاَمَانِیُّ، فَیُقَالُ لَہُ: ہٰذَا لَکَ وَمِثْلُہُ مَعَہُ۔)) قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((ہٰذَا لَکَ وَعَشْرَۃُ اَمْثَالِہٖمَعَہُ۔)) قَالَاَبُوْھُرَیْرَۃَ: حَفِظْتُ مِثْلَہُ مَعَہُ، قَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: وَذٰلِکَ الرَّجُلُ آخِرُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ دُخُوْلًا الْجَنَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۰۹۱۹)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد {کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعِی اِلٰی کِتاَبھَا}( ہر گروہ کو اس کے نامہ ٔ اعمال کی طرف بلایاجائے گا۔) کی تفسیر میں امام زہری، عطاء بن یزید لیثی سے اور وہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آیا قیامت کے دن ہم اپنے ربّ کا دیدار کریں گے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا چودھویں شب کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت پیش آتی ہے، جبکہ اس کے سامنے بادل بھی نہ ہوں؟ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! بالکل نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ کا دیدار کرو گے، اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو جمع کر ے گا اور کہے گا: تم دنیامیں جس جس کی عبادت کرتے تھے، اس کے پیچھے چلے جاؤ، چنانچہ چاند کی عبادت کرنے والے چاند کے پیچھے ، سورج کی پوجا کرنے والے سورج کے پیچھے اور دوسرے طاغوتوں کی پوجا پاٹ کرنے والے ان کے پیچھے چل پڑیں گے، اس امت کے لوگ کھڑے رہ جائیںگے، ان میں منافقین بھی ہوںگے، تم اللہ تعالیٰ کی جو صور ت پہچانتے ہو، وہ اس کے علاوہ کسی اور صورت میں تمہارے پاس آکر کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں، وہ کہیں گے: ہم تو تیرے شرّ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، ہم تو یہیں ٹھہرے رہیں گے تاآنکہ ہمارا ربّ ہمارے پاس آ جائے، جب ہمارا ربّ ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا، جسے وہ پہچانتے ہوںگے، وہ کہے گا: میں تمہارا ربّ ہوں۔ وہ کہیں گے: واقعی تو ہمارا ربّ ہے، سو وہ اس کے پیچھے چل پڑیں گے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا، سب سے پہلے میں اسے عبور کروں گا، اس دن تمام انبیاء و رسل بھی خوف اور ڈر کے مارے یہ کہہ رہے ہوں گے: اے اللہ بچانا، اے اللہ محفوظ رکھنا، اس پل پر سعدان کے کانٹوں کی طرح خمدار کانٹے ہوں گے، کیا تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بات ضرور ہے کہ ان کانٹوں کی ضخامت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے،لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب سے اچک لیاجائے گا،کوئی تو یوں ہی ہلاک ہو جائے گا اور کسی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہلاک کیا جائے گا،یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے کر کے فارغ ہوگا اور وہ توحید کی گواہی دینے والے اہل جہنم میں سے بعض پر رحم کرتے ہوئے ان کو جہنم سے نکالنے کا ارادہ کرے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ان کو جہنم سے نکال لائیں، فرشتے ان اہل توحید کو سجدوں کے نشانات کی وجہ سے پہچان لیں گے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشانات کو کھائے، بہرحال فرشتے ان کو نکال کر لائیں گے، وہ جل جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے، ان پر مائُ الحیاۃ ڈالا جائے گا، اس سے وہ یوں اگیں گے جیسے سیلاب کی جھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، ایسے لوگوں میں سے ایک آدمی باقی رہ جائے گا، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جہنم کی ہوا نے تکلیف دی ہے اور اس کی گرمی کی شدت نے مجھے جلا کر رکھ دیا ہے، لہذا تو میرے چہرے کو آگ سے پھیر دے، وہ مسلسل دعائیں کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو کیا تواس کے علاوہ کوئی سوال تو نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! مجھے تیری عزت کی قسم ہے کہ میں تجھ سے مزید کوئی مطالبہ نہیں کروں گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو آگ سے پھیر دے گا، لیکن اس کے بعد وہ پھر کہے گا: اے میرے ربّ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مزید کوئی مطالبہ نہیں کرے گا؟ اے ابن آدم! تجھ پر بڑا افسوس ہے، تو کس قدر وعدہ خلاف ہے، لیکن وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا اور اس سے دعائیں کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اگر میں تیری یہ بات قبول کر لوں تو تو مزید تو کچھ نہیں مانگے گا؟ وہ کہے گا: اے اللہ! تیری عزت کی قسم! میں تجھ سے مزید کوئی مطالبہ نہیں کروں گا، وہ اس پر اللہ تعالیٰ سے پختہ وعدہ کرے گا، پس اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا، پھر جب وہ جنت کے دروازے کے قریب پہنچ جائے گا، تو جنت اس کے لیے نمایاں اور وسیع ہوجائے گی، جب وہ جنت کے اندر کی راحتیںاور خوشیاں ملاحظہ کرے گا تو کچھ دیر تو خاموش رہے گا، لیکن بالآخر یوں بول پڑے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مزید کوئی مطالبہ نہیں کرے گا؟ جبکہ تو اس سلسلہ میں میرے ساتھ پختہ وعدے کر چکا ہے، وہ کہے گا: اے رب! تو اپنی مخلوق میں سے مجھے اپنی نعمتوں سے محروم نہیں رکھ، چنانچہ وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کو پکارتا اور دعائیں کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی باتوں پر ہنس دے گا، جب اللہ تعالیٰ اس کی باتوں پر ہنسے گا تو اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت بھی دے دے گا، جب وہ جنت میں جائے گا تو اس سے کہا جائے گا: تو جو تمنا کر سکتا ہے کر لے، یعنی جو مانگ سکتا ہے مانگ لے، چنانچہ وہ خوب مانگے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ تو مزید مانگ لے چنانچہ وہ مزید مانگے گا، یہاں تک کہ اس کی خواہشات ختم ہوجائیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے کہاجائے گا: تو نے جو کچھ مانگا ہے، یہ سب اور اتنا مزید تجھے دیا جاتا ہے۔ جب سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ حدیث بیان کی تو سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان کے قریب تشریف فرما تھے، انھوں نے ان کی بیان کردہ کسی بھی بات میں کوئی تبدیلی نہیں کی، البتہ آخری بات کے بارے میں سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: میںنے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا تھا: تو نے جو کچھ مانگا، تجھے وہ بھی ملے گا اور اس سے مزید دس گنا دیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے تو اسی طرح یاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تو نے جو کچھ مانگا تجھے یہ اور اتنا مزید دیا جاتا ہے، ساتھ ہی سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:جنت میں جانے والا سب سے آخری آدمی یہ ہوگا۔