أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَتْ: وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَصْعَدَ هَذَا .
It was narrated that 'Aishah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Bilal calls the Adhan during the night, so eat and drink until Ibn Umm Maktum calls the Adhan. She said: And there was no more between then than the time it takes for one to come down and the other to go up.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بلال اذان دیں تو کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں ، ان دونوں کے درمیان صرف اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ یہ اتر رہے ہوتے اور وہ چڑھ رہے ہوتے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۱۳ (۶۲۲، ۶۲۳)، مختصراً الصوم ۱۷ (۱۹۱۸، ۱۹۱۹)، صحیح مسلم/الصیام ۸ (۱۰۹۲)، (تحفة الأشراف: ۱۷۵۳۵)، مسند احمد ۶/۴۴، ۴۵، ۱۸۵، ۱۸۶، سنن الدارمی/الصلاة ۴ (۱۲۲۷) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: مبالغہ کے طور پر ایسا کہا ہے، ورنہ صحیح بخاری میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ تہجد پڑھنے والوں کو اور سونے والوں کی متنبہ کرنے کے لیے اذان دیتے تھے کہ جا کر سحری کھا لو، یا غسل وغیرہ کی ضرورت ہو تو فارغ ہو لو،(دیکھئیے حدیث نمبر ۶۴۲)۔
640
Sahih