أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَقَالَ: إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا .
It was narrated that Malik bin Al-Huwairith said:
I came to the Prophet (ﷺ) with a cousin of mine - on an another occasion he said: with a companion of mine - and he said: 'When the two of you travel, call the Adhan and the Iqamah, and let the older of you lead the prayer.'
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ایک چچا زاد بھائی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( دوسری بار انہوں نے کہا کہ میں اور میرے ایک ساتھی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دونوں سفر کرو تو دونوں اذان کہو ۱؎ اور دونوں اقامت کہو، اور جو تم دونوں میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۱۸ (۶۳۰)، الجھاد ۴۲ (۲۸۴۸)، صحیح مسلم/المساجد ۵۳ (۶۷۴)، سنن الترمذی/الصلاة ۳۷ (۲۰۵)، سنن ابن ماجہ/إقامة ۴۶ (۹۷۹)، (تحفة الأشراف: ۱۱۱۸۲)، مسند احمد ۳/۴۳۶، ۵/۵۳، سنن الدارمی/الصلاة ۴۲ (۱۲۸۸)، ویأتي عند المؤلف: ۷۸۲ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک اذان کہے اور دوسرا جواب دے، یا یہ کہا جائے کہ دونوں کی طرف اسناد مجازی ہے، مطلب یہ ہے کہ تم دونوں کے درمیان اذان اور اقامت ہونی چاہیئے، جو بھی کہے، اذان اور اقامت کا معاملہ چھوٹے یا بڑے کے ساتھ خاص نہیں، البتہ امامت جو بڑا ہو وہ کرے۔
635
Sahih